20/03/2026
خانہ فرہنگ ایران کا دورہ اور تعزیت
متحدہ طلبہ محاذ پاکستان کے صدر رانا محمد عثمان کی قیادت میں وفد نے خانہ فرہنگ ایران کا دورہ کیا، جس میں جمعیت طلباء اسلام کی نمائندگی محمد عمار کشمیری (صدر ضلع لاہور) نے کی۔
وفد نے ایران میں حالیہ دہشتگردانہ حملے میں شہید ہونے والے رہنماؤں بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اور گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دہشتگردی کے اس بزدلانہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے واقعات امتِ مسلمہ کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
وفد نے خانہ فرہنگ ایران کے ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔
میڈیا سیل جمعیت طلباء اسلام ضلع لاہور
16/03/2026
لاہور
*متحدہ طلبہ محاذ پاکستان* کے صدر *رانا محمد عثمان* کی قیادت میں وفد نے ایرانی قونصلیٹ جنرل لاہورکا دورہ کیا۔ وفدمیں *جمعیت طلبہ اسلام* کی نمائندگی *محمدعمار کشمیری* صدرجمعیت طلباءاسلام ضلع لاہورنےکی۔
وفدنے ایران پرہونےوالےدہشت گردانہ حملے میں شہیدسپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای اورانکےرفقاءکی شہادت پرکونسل جنرل مہران مواحد سےگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس موقع پر وفد نے ایران کی قیادت پر دلی تعزیت کی اور ایران سےیکجہتی کا اظہار کیا۔
*منجانب:میڈیاسیل جمعیت طلباءاسلام ضلع لاہور*
15/03/2026
لاہور۔۔۔
متحدہ طلباء محاذ پاکستان کے صدر رانا محمد عثمان - جے ٹی آئ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات جناب حافظ عظیم - جےٹی آئ پنجاب کے سنئیر نائب صدر حافظ محمد آبشار - ڈپٹی مالیات حافظ محمد فرحت کی جامعہ رحمانیہ آمد
جے یوآئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان صاحب سے انکی ہمشیرہ اور جے ٹی آئ لاہور کے سابق رہنما جناب اسدمنظور سے انکی والدہ کی وفات پر تعزیت کی اور مرحومہ کی درجات بلندی کے دعا کی۔
18/09/2025
پاکستان- سعودی عرب کے Strategic Mutual Defence Agreement (SMDA) کا بریف تجزیہ — تاریخی پسِ منظر، مفاد، امکانات، اورسمیت:
• پاکستان اور سعودی عرب نے ایک باقاعدہ Strategic Mutual Defence Agreement پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت:
“کسی بھی جارحیت جو ایک ملک کے خلاف ہو، وہ دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔”
• معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون کو بڑھانا، عسکری صلاحیتوں کی ہم آہنگی (defence cooperation)، اور مشترکہ بازدارندگی (joint deterrence) کو مضبوط کرنا ہے۔
• یہ تعلقات تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں تیل، مالی تعاون، فوجی تربیت، اثاثہ جات، اور علاقائی و عالمی سکیورٹی کے امور شامل ہیں۔
پسِ منظر / وجوہات …………………..
یہ معاہدہ اچانک نہیں آیا، بلکہ چند اہم تناظر ہیں جنہوں نے اس کو ممکن بنایا:
1. خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ — اسرائیل کی کارروائیاں، خاص طور پر قطر پر حملے، عرب ممالک میں تحفظ کی خواہش کو بڑھا رہی ہیں۔
2. امریکہ کی سکیورٹی گارنٹی پر اعتماد میں کمی — خلیجی ریاستیں (Saudi Arabia بھی) چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر مکمل طور پر انحصار نہ کریں، اور دوسرا آپشن محفوظ ہو۔
3. پاکستان کے مفادات — پاکستان کو سعودی عرب سے سیاسی، اقتصادی، اور دفاعی سطح پر قریبی تعلقات کی ضرورت ہے، اور اس طرح کا معاہدہ اسے زیادہ تحفظ اور اثر و رسوخ دے سکتا ہے۔
امکانات اور فوائد ………………………..
• مشترکہ بازدارندگی (Deterrence): دشمن یا کسی بیرونی طاقت کی تلاش میں کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں دونوں ملکوں کو مل کر ردعمل کرنا ہوگا، جس سے ممکنہ حملہ آور کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
• حفاظتی تعاون: فوجی تربیت، اسلحہ سازو سامان، انٹیلیجنس شیئرنگ، ممکنہ طور پر مشترکہ فوجی اقدامات اگر ضروری ہوں۔
• علاقائی اثر و رسوخ کا اضافہ: سعودی عرب کے لیے پاکستان کا دفاعی تعاون ایک اہم سیاسی اور اسٹریٹیجک اثاثہ ہے، جبکہ پاکستان کو سعودی کی سلامتی اور عالمی اثر و رسوخ کے فائدے مل سکتے ہیں۔
• مذہبی و ثقافتی تعلقات کی مضبوطی: مقدس مقامات کے تحفظ اور اسلامی بھائی چارہ کا عنصر بھی اہم ہے۔
نتیجہ (Conclusion)…………………….
یہ معاہدہ ایک واضح قدم ہے پاکستان-سعودی عرب تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا، خاص طور پر خطرات کے اس دور میں جب خطے میں سکیورٹی کی راہیں غیر یقینی ہیں۔ تاہم، اس کی کامیابی کا دارومدار مکمل اور شفاف نفاذ، داخلی صلاحیت پر اعتماد، متوازن بیرونی پالیسی، اور علاقائی ردعمل کو بروقت اور دانشمندی سے سنبھالنے پر ہوگا۔
Rana Muhammad Usmaan
Preident Mutahidda Talba Mahaz (MTM)