01/06/2026
Bloody__Love(خونی عشق)
از_واحبہ_فاطمہ
Episode 14...
فانیہ خاموشی سے بیڈ کی جانب آئی
جب بہت زور سے دوبارہ سر چکرایا.. وہ لڑکھڑائی...
راسم نے فوراً آگے بڑھ کر اسے تھاما...
مگر فانیہ نے خود کی جانب بڑھتے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے
راسم کو پھر آگ لگی..
وہ بھناتا اس کی جانب بڑھا اور اس کے پیچھے ہٹنے کے باوجود اسے بازوؤں میں بھر لیا..
لا کر نرمی سے بیڈ پر لٹایا..
دنیا کی کوئی طاقت تمھیں مجھ سے دور نہیں کر سکتی جان... تم خود بھی نہیں اسی لئے کوشش بھی مت کرنا..
نرم گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کے اوپر جھکا.
وہ سسک پڑی...اور ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا..
اے خبردار جو ایک آنسو بھی گرا تمھارا تو..نہیں تو.. راسم نے نرمی سے ہاتھ ہٹا کر بیڈ سے لگائے.
نہیں تو کیا پھر سے ہاتھ اٹھائے گے؟ فانیہ کے آنسو تواتر سے بہے.
راسم جھکا اور اپنے لبوں سے وہ آنسو چنے.. پھر عقیدت سے دونوں بھیگی پلکوں کو چوما.
وعدہ کرتا ہوں جان.... دوبارہ کبھی یہ گستاخی نہیں کروں گا.. بس ایک مرتبہ معاف کر دو.حکم کرو ابجی اس ہاتھ کو سزا دیتا ہوں ... وہ بارہ باری اس کے گلابی گالوں پر جھکا..
پر حدت سا لمس تھا..
اس کی قربت میں تو فانیہ اور پگھل رہی تھی.. اور رونا آ رہا تھا.. یا شاید وہ اسے اور سننا چاہتی تھی.
اس کے ہر عمل میں سکون حاصل کر رہی تھی.
اسی لئے اس کے سینے میں چہرہ چھپایا اور سسکی..
راسم نے اسے سینے میں بھینچا...
مگر وہ زیادہ دیر اس کے آنسو برداشت نہیں کر سکا..
اس کا چہرہ سینے سے ہٹا کر ہاتھوں میں بھرا.
جھک کر عقیدت سے محبت کا جام پینے لگا...
وہ اس کی باتوں کی وضاحت چاہتی تھی.. اس سے بات کرنا چاہتی تھی.
مگر راسم کے پاگل پن اور جنون بھری شدت نے اسے موقع کہاں دیا...
وہ پھر اسے اپنے آپ میں اپنے وجود میں بری طرح گم کر چکا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وائٹ پیلس میں جشن کا سا سماں تھا..
سب لاؤنج میں اکٹھے بیٹھے تھے.
انھیں میں فانیہ شرمائی لجائی سی سرخ چہرہ لیے سمٹی بیٹھی تھی...
پہلی خوشخبری فانیہ کی جانب سے ملنے پر سب بے حد خوش تھے
رحاب اور روحا ریشماں کے دائیں بائیں بیٹھیں تھیں..
میں تو چاہتی تھی روح.... یہ خوشخبری سب سے پہلے مجھے تم سناؤ پر کوئی بات نہیں.. وہ وقت بھی جلد آئے گا.... آنے والا ہے سوہم خان بھی....
ریشماں نے ایک ادا سے روحا کو چھیڑا تو مارے خفت کے وہ لال ٹماٹر ہو گئی..
رحاب! اس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھ کر پیٹ پکڑے بری طرح ہنس دی..روح نے رحاب کو گھورا
ریشماں نے اس کی جانب دیکھا.
کوئی بات بچی.. تمھارا بھی وقت جلد ہی آئے گا.. ریشماں معنی خیز سی بولی..
جی نہیں... ابھی نہیں...رحاب نے اشارہ کیا.. ریشماں کے چہرے پر ذومعنی سی مسکان تھی.
خبری کو کام پر لگا دیا تھا..سب کو بول دیا تھا کہ کس کو کیا کیا کرنا ہے
ریشماں کا حکم تھا کسی کو ٹالنے کی جرات نہیں تھا..
گارڈز بھی سخت وارننگ دے دی تھی اب بس پاشا کا انتظار تھا..
سب ہلے گلے میں مصروف رہے... جب خبری نے فون پر ایک خاص اطلاع دی..
ریشماں فوراً رحاب کی جانب مڑی..
بچی گارڈ نے بتایا کہ تمھارے پیرٹس کے پنجرے کے پاس رات اور اب بھی بلی گھوم رہی تھی.. زرا جا کر دیکھو کہیں کھا وا تو نہیں گئی ان معصوم جانوں کو..
رحاب بے تحاشا گھبرا کر اٹھی.. میں جاتی ہوں.. اس نے اشارہ کیا اور تیزی سے پچھلے دروازے باہر لپکی.
ریشماں کے لبوں پر معنی خیز سی مسکراہٹ تھی اب اسے پتہ تھا کہ وہ اس کے پلین کے کامیاب ہونے تک اندر نہیں آنے والی..
تبھی پاشا وائٹ پیلس میں داخل ہوا تھا
تیز میوزک کی آواز میں سب ہلے گلے میں مصروف تھے
سبھی لاؤنج میں تھے.
جسے دیکھنے آیا تھا اسکی تو ایک جھلک بھی نظر نہیں آئی تھی..
پتا نہیں کہاں چپھی تھی
ٹھیک تو تھی... وہ بے چین ہوا.
جب بے چینی حد سے سوا ہوئی تو سب سے نظر بچا کر اٹھا.
مگر ریشماں کی نظر میں تھا.
بڑی مشکل سے اپنی ذومعنی مسکراہٹ دبائی ہوئی تھی ریشماں نے.
پھر بہانے سے اس نے وائٹ پیلس گھوم گھام کر دیکھا
وہ کہیں نہیں تھی.
حتی کے اس کے روم میں بھی دیکھ آیا.. تن بدن میں آگ لگی.. رگوں میں شعلہ بھڑکے
لاؤنج میں موجود کسی فرد سے پوچھنا نہیں چاہتا تھا اسی لئے..
اب دماغ گھوما تھا... لاؤنج کے دروازے پر کھڑے گارڈز تک گیا.
رحاب کدھر ہے.. خطرناک تیوروں سے پوچھا.
گارڈز کے پیچھے کھائی(ریشماں) تھی تو آگے کنواں (پاشا)
مرتے کیا نا کرتے.. گھگھیاتے بولے
سر وہ تو صبح چلیں گئیں...
کدھر؟میری اجازت کے بغیر جانے کیوں دیا.... وہ دھاڑا
سر وہ ریشماں جی کا حکم تھا کہ ان کو جانے دیا جائے..
یو باسٹرڈز......... میں لایا تھا اسے مجھ سے پوچھنا گوارا نہیں کیا... اس کو کھو دینے کے ڈر سے پاشا کی روح فنا ہوئی.. پیروں نیچے سے زمین کھسکی
وہ چلا رہا تھا جب ریشماں نے اشارہ کر کے میوزک بند کروایا.
سب پاشا کی طرف متوجہ ہوئے..
وہ تن فن کرتا پنکی کی طرف آیا... شدید طیش اور اندر اٹھتے اشتعال کے طوفان کے ہوتے ہوئے ریشماں سے ہر گز مخاطب نہیں ہونا چاہتا تھا..
وہ کہاں ہے؟ پاشا پنکی کی جانب دیکھ کر دھاڑا.. غصے کو قابو میں نہیں کر پا رہا تھا اسی لئے ریشماں کو مخاطب نہیں کر رہا تھا
وہ کون، ریشماں اطمینان سے بولی.
اگر آپ لوگ میرے منہ سے اس کا نام سننے چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے.. رحاب کہاں ہے؟ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا.. مگر رخ پنکی کی جانب ہی تھا.
ارے بھئی.. خود ہی تو کہا تھا دارالامان چھوڑ آؤ... اب بھیج دیا ہے تو مسئلہ کیا ہے... ویسے بھی اس نے کہا وہ جانا چاہتی ہے...
اس نے کہا... وہ کہہ سکتی ہے.. وہ غرایا..
اشارہ تو کر سکتی ہے ناں.. ریشماں لاپروائی سے بولی
میں پورے وائٹ پیلس کو آگ لگا دوں.. سب جلا کر راکھ کر دوں گا بولیں کدھر ہے وہ..
اور تم لوگ گھاس چرنے بیٹھے ہو گیٹ پر.. کوئی آئے جائے گا.. آنکھیں بند رکھو گے... بولو کدھر ہے وہ... کھال ادھیڑ کر چیل کووں کو کھلا دوں گا..
وہ اب اپنی بیلٹ سے گارڈز کو دھنک رہا تھا.
سب کو سانپ سونگھ گیا تھا..
ریشماں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ روکا... کیا لگتی ہے وہ تمھاری.. کیا حق ہے اس پر تمھارا... جو یوں آگ لگی اس کے جانے سے... ہااااااں..... پاشا.... بولو... جواب دو.
ریشماں... محبت کرتا ہوں میں اس سے.... پاشا کی آواز وائٹ پیلس میں گونجی... ایک پل بھی نہیں رہ سکتا اس کے بغیر... سنا آپ نے... مجھے وہ چاہیے.. اپنی آنکھوں کے سامنے... ابھی اور اسی وقت...
کیوں چاہیے پاشا.. بغیر حق کے، بغیر کسی رشتے کے کیوں چاہیے؟ رکھیل بنانا چاہتے ہو اسے... ریما پھنکاری
شٹ اپ یو بچ....... نکاح کروں گا ابھی اور اسی وقت سنا سب نے...وہ صرف اور صرف پاشا کی ملکیت ہے..ڈھونڈنے جا رہا ہوں اسے.. نکاح خوان کا بندوبست کر کے رکھیں..
یہ کہتا وہ بھسم کرنے والے انداز میں باہر نکلا تھا..
گیٹ پر ہی گارڈ منمنایا...
سس... سر وہ میم پچھلے گارڈن میں ہیں... ریشماں جی کے کہنے پر جھ... جھوٹ بولا آپ سے...
تم لوگوں کو تو میں بعد میں دیکھوں گا... اس نے دانت پیستے خونخوار نظروں سے انھیں دیکھا..
اور گارڈن کی طرف گیا...
رحاب پنجرے تک آئی تو پیرٹس بلکل سیو تھے.. اس نے سکھ کا سانس لیا.
پھر واپس سٹور روم تک گئی..
ان کے لئے دانہ لے کر آئی.... پنجرے کے قریب بیٹھ کر ان کے کٹوروں میں دانیہ ڈال کر اٹھی اور تازہ پانی لے کر آئی
پھر پانی بھی چینج کیا..
جاں نثار کرنے والی نظروں سے ان رنگ برنگی ننھی جانوں کو دیکھا.. جو اس سے کافی مانوس ہو گئے تھے..
اب وہ بیٹھی گہری مسکان سے انکی شرارتیں دیکھ رہی تھی
جب اپنے پیچھے بھاری بوٹوں کی مخصوص دھمک سنائی دی تو سانس حلق میں اٹکا. ..
یہ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں...
ابھی وہ کچھ اور سوچتی..
جب اچانک پیچھے سے پاشا نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف گھما کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا.
بس اتنی سی دیر میں یہ چھوٹی سی لڑکی
پاشا کی
Deadly Pasha
کی جان پر بنا گئی تھی.....
وہ سخت تلملایا ہوا تھا.
وہ اس کے بازو کی گرفت میں گھبرائی اور مچلی...
وائٹ پیلس سے قدم باہر نکالنے کی جرات بھی کیسے کی تم نے.. پاشا نے دانت پیسے..
مگر بے قرار نگاہیں اس کے معصوم چہرے کا طواف کر رہی تھیں...
جبکہ وہ مسلسل اس کے بازو کی گرفت میں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی..
مگر پاشا نے ایک جھٹکے سے اسے مزید قریب کیا.. میں جانتا ہوں تم پر کوئی حق نہیں رکھتا.. مگر میں یہ حق حاصل کرنا چاہتا ہوں.. نکاح کرو گی مجھ سے؟ ابھی اور اسی وقت.....؟
پاشا نے سنجیدگی سے کہا.. جبکہ رحاب کہ اس کی بات پر رونگٹے کھڑے ہو گئے..
چہرہ لال ٹماٹر ہوا...
وہ جی جان سے لرزی..
پاشا نے اس کی حالت کے پیش نظر نرمی سے چھوڑا
اور بازو سے پکڑ کر اسے اندر کی جانب لے کر جانے لگا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کبیر اپنے خاص آدمیوں سے اہم بریفنگ لے رہا تھا جب قادر گھبرایا سا اندر داخل ہوا.
کبیر نے دانت پیسے...
واٹ دا ہیل.... قادر یہ کیا بدتمیزی ہے... وہ یوں بھی آج کل انگارے چبائے پھرتا تھا..
سر ضروری بات ہے میم سے متعلق.... قدر نے آہستگی سے کہا.
کبیر کی رگیں مزید تنی
آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا...
وہ چلے گئے تو قادر کی طرف متوجہ ہوا
بولو؟
سر وہ.... میم... قادر جھجھکا...
اب بول بھی چکو قادر.....کہ مرنا ہے میرے ہاتھوں... اس نے دانت پیسے.
وہ سر میم نے وکیل کو بلوایا ہے آج... خلع کے پیپرز بنوانے کے لئے.... پیپرز پر سائن کرنے والی ہیں.. پھر کیس عدالت میں جائے گا.
قادر نے کبیر کے سر پر بم پھوڑا..
واٹ... کبیر کے تلووں پر لگی اور سر پر بجھی...اٹھ کر کھڑا ہوا..
سر وکیل پہنچ گیا ہے...
کبیر بھسم کرنے والے انداز میں باہر نکل کر سامنے والے گھر میں داخل ہوا تھا..
ڈرائینگ روم سے ہلکی باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں..
بابا اس وقت اپنے کمرے میں سو رہے تھے... اور وہ یقیناً یہ کارنامہ ان کے علم میں لائے بغیر سر انجام دے رہی تھی..
وہ تن فن کرتا ڈرائینگ روم میں داخل ہوا.
سامنے ہی وہ سفید چادر میں لپٹی پیپر ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی..
سامنے ہی ایک وکیل بیٹھا پرشوق نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا..
کبیر آگے بڑھا
اس کے ہاتھوں سے پیپر چھین کر پڑھے...
خلع کے ہی تھے.... سیکنڈوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اچھالے...
یہ کیا کر رہے ہیں آپ...وہ چلائی
مگر وہ وکیل کی جانب بڑھا تھا.. اسے یہ پیپر بنانے اور اس کی بیوی کی طرف دیکھنے کا انعام جو دینا تھا..
کبیر نے اسے دھنک کر رکھ دیا تھا... زمل چلاتی رہی.. وہ وکیل بھی گھگھیا گیا مگر کبیر کے سر پر خون سوار تھا..
گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور پینٹ سے پسٹل نکال کر اس کے سر پر تانی.
مم. معاف کر دو.. ....معاف کر دو... اب ادھر کا رخ بھی نہیں کروں گا... جان بخش دو میری...
کبیر نے اسے پرے پٹخا... تو وہ دم دبا کر اپنا سامان اٹھا کر سر پٹ بھاگا....
یہ پسٹل دکھا کر اور یہ تماشا کر کے اگر تم سمجھتے ہو کہ مجھے میرے ارادوں سے باز رکھ سکتے ہو تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے تمھاری...
وہ ہتھے سے اکھڑی اور رونے لگی.
یہ نکاح سیفی کے ملنے کی شرط پر ہوا تھا... سیفی ختم تو یہ نکاح کیوں باقی رہے یہ بھی ختم ہوگا...
مجھے ان دو ٹکے کے کاغذ کے ٹکڑوں کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں..
وہ بول رہی تھی.. زہر اگل رہی تھی.. چیخ چلا رہی تھی.. مگر کبیر سکون سے کھڑا رہا.. وہ چاہتا تھا زمل یہ بھڑاس نکال دے....
مجھے نفرت ہے تم سے شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تمھاری.. نکل جاؤ میری زندگی سے..
کبیر کو آگ لگی...
تمھاری زندگی سے تو تب ہی نکلوں گا میری جان... جب یہ تمھاری سانسیں تمھارے جسم سے نکلیں گی..
مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو نکال دوں یہ جان....
کبیر نے اس کی چن پر پسٹل رکھ کر اس کا چہرہ زرا سا اونچا کیا.
اونہہہ... یہ دھمکیاں کسی اور کو جا کر دینا.. میں نہیں ڈرتی مرنے سے.. اور ویسے بھی یہ قتل و غارت کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہو تم.. اس نے تمسخر اڑایا.
جب کبیر نے اچانک اسے بازوؤں سے تھام کر دیوار سے لگایا.. اس کے نرم و نازک لبوں کو اپنے لبوں کی سخت اور شدت بھری گرفت میں لیا..
زمل کے اوسان خطا ہوئے.. بری طرح مزاحمت کی.. مگر اس چٹانی گرفت سے نکلنا ناممکن تھا..
وہ ایک ماہ کی اپنی بے چینی اور بے قراری شمار کر رہا تھا. کافی دیر خود کو سیراب کرتا رہا.
بند ہوتی سانسوں سے وہ نڈھال ہوئی اور سختی سے اس کے سینے سے اس کی شرٹ دبوچی.
کبیر نے نرمی سے اسے آزادی بخشی تو لال انگارہ لبوں سے وہ پھنکاری..
تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی یہ بے ہودہ حرکت کرنے کی..چھچھورے انسان...
جان تم ہی پوچھ رہی تھی کہ قتل و غارت کے علاوہ مجھے کیا کیا کرنا آتا ہے تو ڈیمو دکھا رہا تھا تمھیں...
یہ حرکت کی ہے تو ابھی تو کچھ دیر کے لئے سانسیں بند کر کے سزا دی تمہیں آئندہ ایسا سوچا بھی تو بابا کی بھی پرواہ نہیں کروں گا... اٹھا کر لے جاؤں گا.. ڈائریکٹ رخصتی...پھر شکوہ مت کرنا..
وہ بھی دانت پیس کر بولا...
اور اسے وہیں چھوڑ کر اطمینان سے باہر نکلا..کہ وہ اس کی دھمکی سے ڈر جائے گی
مگر پیچھے زمل غلط ارادے باندھتی اپنے کمرے میں آئی... اور لاک لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی...
01/06/2026
Bloody__Love(خونی عشق)
از_واحبہ_فاطمہ
Episode. 13
اگلے دن راسم کی آنکھ کھلی..
وہ اس کے سینے سے لپٹی گہری نیند میں تھی.بال آبشار کی طرح سینے پر پھیلے ہوئے تھے..
وہ مسکرا اٹھا..
برسوں کے تڑپتے بھڑکتے دل کو اس چھوٹی سی لڑکی کی قربت سے بہت سکون ملا تھا..
راسم نے اس کے بکھرے بال سمیٹے...
فانیہ... میری جان... اٹھو آنٹی انتظار کر رہی ہوں گی. تم نے پیکنگ بھی کرنی ہے.. راسم نے جھک اس کی کان کی لو کو لبوں سے کاٹا اور سرگوشی کی..
وہ کسمسائی.. اور بری طرح جھلاتی کڑوا سا منہ بنایا..
راسم سونے دیں ناں... میری نیند پوری نہیں ہوئی..
کیوں... کیوں پوری نہیں ہوئی... وہ انجان بنا.
مجھے نہیں پتا.. وہ روہانسی ہوئی.. اور کروٹ بدل کر اس سے دور کھسکنے کی کوشش کی.
جو کہ اس نے ناکام بنا دی..
پھر سے اس نازک سے وجود کو خود میں سمیٹا..
مگر وہ آنکھیں موندے گہری نیند میں تھی..
راسم کو شرارت سوجھی.
او آنٹی ہم آ ہی رہے تھے.. راسم نے اچانک شوشا چھوڑا... فانیہ کی نیند بھک سے اڑی تھی.. ہڑبڑا کر اٹھی.
مگر وہ اتنا بے وقوف نہیں تھا.. ڈور لاکڈ تھا..
ہاہاہا ہاہاہا.. وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا
فانیہ اپنی جھلاہٹ بھلائے مبہوت سی اسے پہلی مرتبہ ہنستے ہوئے دیکھے گئی..
کیا ہوا بیوی... زیادہ پیار آ رہا ہے تو پھر کیا خیال ہے ایک مرتبہ پھر........وہ قریب کھسکا.
فانیہ گھبرا کر اٹھی.. اور واش روم میں گھس گئی.. پیچھے پھر وہ زور سے ہنسا..
فانیہ نے ناشتہ بنایا.. ناشتہ کر کے اس نے پیکنگ کی.. راسم نے نسیمہ بیگم کو بھی بہت کہا کہ ساتھ چلیں.. مگر انھوں نے منع کر دیا.
وہ تقریباً گیارہ بجے نکلے تھے..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وائٹ پیلس میں رونقیں اور ہنگامے جون کی توں برقرار تھیں.
راسم فانیہ کو لے کر پہنچا تو روحا اور رحاب کو دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی.
وہ تینوں فرینڈ بھی بن گئیں تھیں..
روحا نے وائٹ ہاؤس میں آئے بلکہ پھینکے گئے بہت کم عمر خواجہ سرا بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا.
سوہم ساؤتھ افریقہ گیا تھا.. اس لئے روحا سکون میں تھی.
ریشماں بہت مہربان تھیں.
بی جان اور بڑی ماں سے بھی روز بات ہو جاتی تھی..
رحاب نے بھی اپنی دلچسپی کے مطابق وائٹ پیلس کی بیک سائیڈ پر موجود کافی بڑے سے باغیچے کی دیکھ بھال کرنا شروع کر دی تھی.
ریشماں نے اسکی فرمائش پر وہاں آسٹریلین پیرٹ کا بڑا سا پنجرا بنوا کر اسے ڈھیر سارے پیرٹس بھی لا کر دئیے تھے
وہ شام کا سارا وقت وہیں گزارتی تھی.
ایک ماہ ہو گیا تھا.. وہاں رہتے...
سب ایک دوسرے سے مانوس ہو چکے تھے.
فانیہ سب سے زیادہ شرارتی تھی.
اس کی شرارتوں سے وائٹ پیلس میں رونق لگی رہتی.
ریشماں، پنکی، ڈولی، منی سب ان پر وارے صدقے جاتیں
ایک ماہ سے پاشا اور سوہم وائٹ پیلس نہیں آئے تھے.
پتہ نہیں کیا مصروفیات تھیں ان کی
کہ راسم بھی صرف مہینے میں دو چار مرتبہ ہی آ پایا
فانیہ سخت ناراض تھی اس سے..
روحا سخت جھنجھلائی.. ہوئی تھی اسے وہاں لا کر خود جناب سوہم خان غائب تھے.. نا اتا لیا نا پتہ
رحاب بھی لاشعوری طور پر اس کا انتظار کرتی رہی.. ریما اس دن کے بعد رحاب کے سامنے ہی نہیں آئی. رجا اور کومل اپنے کمروں میں دبکی رہتی
صرف کام کے وقت بیسمنٹ چلی جاتی تھیں .
یا پاشا سے دوسرے ٹھکانے پر ملاقات ہوتی تھی..
دن یونہی عجیب بے کل سے تھے.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
زمل پورے ایک ماہ سے اپنے کمرے میں بند تھی باہر نکلی ہی نہیں..
کبیر آتا اور باہر سے ہی بابا سے اس کی خیر خیریت معلوم کر کے چلا جاتا.
اس کی حالت کے پیشِ نظر کبیر نے ایک فل ٹائم ملازمہ رکھ دی تھی جو سارے کام کرتی بابا کی دیکھ بھال کرتی.
زمل کے پاس کھانا لے جاتی تو وہ نس زندہ رہنے کے لئے یا بابا کو دکھانے کے لئے چند نوالے زہر مار کر لیتی.
سارا سارا دن پڑی چھت کو گھورتی رہتی.
عجیب ابتر حالت ہو گئی تھی اس کی..
کبیر بے آب مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا.. مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا..
کیسے سامنا کرتا اس کا...
خود کو اس کا مجرم سمجھ رہا تھا..
مگر بے بس تھا.
لیکن بادشاہ کو ڈھونڈنے میں وہ سر دھڑ کی بازی ضرور لگا رہا تھا.
اس نے اندرون ملک اور سوہم نے بیرون ممالک میں کئی جگہوں کو چھلنی کی طرح چھانا تھا..
مگر وہ بزدل جانے کدھر دم دبا کر دبکا بیٹھا تھا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پورے ایک ماہ....... تیس دن
بہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہت تھے..
پل پل اذیت سے دوچار ہوتے.پل پل تڑپتے
آج خود بخود رات کے اس پہر تقریباً ایک بجے کے قریب پاشا اپنے قدموں کو وائٹ پیلس میں آنے سے بلکل نہیں روک پایا تھا.
وہ دھیمے قدموں سے بلکل خاموشی سے وائٹ پیلس میں داخل ہوا.
طویل کوریڈور سے گزرتے اس کی منزل اوپر کے پورشن پر تھی...
ادھر رحاب اپنی کیفیت سے فل بیزار تھی.
بے چینی ہی بے چینی تھی.. کسی کروٹ نیند نہیں آ رہی تھی.. تیس دن ہو گئے تھے چھوٹی سی جان کو سولی پر لٹکے..
آخر جھنجھلا کر اٹھی..
سکون کہاں تھا.
ریشماں کے کمرے...... ایک تصویر تھی.. شاید اس تصویر میں..
رحاب خود سے جھنجھلاتی دبے قدموں سے اٹھی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی. ریشماں کے کمرے میں آئی.. خاموشی سے تصویر دیوار سے اتاری اور اتنی ہی خاموشی سے واپس پلٹی..
جبکہ ریشماں اسے یہ حرکت کرتے دیکھ چکی تھی..
مگر سوتی بنی رہی.
ابھی دروازہ کھول کر باہر راہداری میں نکلی ہی تھی کہ کسی کے چوڑے چٹانی سینے سے بری طرح ٹکرائی..
اگر مقابل کمر سے تھام کر خود سے نا لگاتا تو فرش پر ڈھیر ہو چکی ہوتی.
ملگجے اندھیرے میں سر اٹھا کر دیکھا اور خو کو جس کی بانہوں میں پایا تو حلق خشک ہو گیا.
جلدی سے تصویر والا ہاتھ کمر کے پیچھے چھپایا.
دل کی مراد یوں بر آئے گی پاشا نے سوچا بھی نا تھا.. رگ و پہ میں سکون اترا. بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی..نظر نے بے قراری سے معصوم چہرے کاطواف کیا. دل چھوٹی سی ناک کے چھوٹے سے چمکتے لونگ میں اٹکا..
اتنی رات کو ریشماں کے کمرے میں اس طرح کیوں گئیں تھیں.. اس نے سنجیدگی سے پوچھا.. مگر چھوڑا نہیں..
اس نے زور سے نفی میں سر ہلایا...
ہاتھ میں کیا چھپایا..دکھاؤ مجھے...؟
وہ بےتحاشا گھبرائی.. زور سے نہیں میں سر ہلایا..
پاشا نے جو کمر کے گرد ہاتھ لپیٹے ہوئے تھے.. ایک ہاتھ سے چھپایا گیا ہاتھ پکڑ کر سامنے کرنے لگا.
جب وہ چوری پکڑے جانے کے ڈر سے مچلی..
پاشا کو پیچھے دھکیل کر بھاگنے لگی..جب اچانک پاشا نے اس کے بازو کو گرفت میں لے کر اپنی جانب کینچھا تھا.
وہ توازن برقرار نہیں رکھ سکی..
ایک مرتبہ پھر خوشبوؤں میں بھرا نرم و نازک گداز وجود پاشا کے وجود میں سمٹا..
پاشا کا بھی توازن بگڑا.. اور دیوار سے لگا..
رحاب کے ہاتھ سے تصویر چھوٹی..
وہ پھر مچلی.. اور تیزی سے تصویر اٹھا کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی..
پاشا شل ہوئے وجود کے ساتھ وہیں کھڑا رہا جیسے وہ اس چھو کر پتھر کا بنا گئی تھی..
اس کے ہاتھ میں موجود وہ چیز بھی اچھی طرح دیکھ چکا تھا..
وہ بے تحاشا چونکا تھا.. اس کا چھپ چھپ کر دیکھنا تو اگنور کر چکا تھا.
مگر اتنی رات کو اس کا یوں پاشا کی تصویر چرانا معنی رکھتا تھا..یعنی
دونوں طرف آتشِ عشق برابر بھڑکی ہوئی تھی..
لبوں پر مبہم سی مسکان سجی.
فوراً واپسی کے لیے قدم بڑھائے...
ریشماں جو یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی.. مبہم سا مسکرائی..
تو پلین پر عمل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے...
پاشا اپنے اسی منہ سے چیخ چیخ کر بتاؤ گے کہ
ہاں پاشا ابراہیم کو محبت ہے.
وہ با آواز بلند کہتی اپنے کمرے میں جا چکی تھیں
رحاب کمرے میں آ کر بیڈ پر اوندھے منہ گری تھی..
اب بھی پوری جان سے لرز رہی تھی..
پہلے تو اس ستمگر کی لو دیتی آنکھیں، پھر پر حدت پگھلاتا لمس اور پھر اس کے پکڑے جانے کو خوف.
اسے جھر جھری آئی..
لال ٹماٹر چہرہ تکیہ میں دیا.
افففف. آج تو مر ہی جاتی اگر وہ دیکھ لیتے...
اپنے آپ کو اور اپنی بے اختیاری کو کوسا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
فانیہ بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی.
جانے وہ کہاں تھا.
ادھر راسم کو جب پورا یقین ہو گیا کہ فانیہ سو چکی ہو گی..
تب خون سے لت پت شرٹ کے ساتھ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوا تھا.
آج بادشاہ کے کچھ آدمیوں سے نمٹ کر آیا تھا.
انھیں دردناک موت دہ کر آ رہا تھا... چاہتا تو بیسمنٹ جا سکتا تھا یا کہیں اور...
مگر سکون حاصل کرنے اپنے کمرے میں آیا تھا..
یہ جانے بغیر کہ آج پیروں نیچے سے زمین کھسک جائے گی.
کیونکہ فانیہ اسے ایسی حالت میں دیکھ لے گی..
آہٹ پاتے ہی فانیہ اٹھ کر بیٹھی تھی
اور اسے اس حالت میں دیکھ کر شدید ہراساں ہوئی تھی
بیڈ سے اتر کر اس کی جانب لپکی
یہ... یہ... کک.. کیا ہوا ہے آپ کو... آپ ٹھیک ےو ہیں ناں.. یہ اتنا سارا خون
فانیہ.. میں بلکل ٹھیک ہوں.. کچھ نہیں ہوا ہے... وہ گڑبڑایا اور فوراً واش روم گھس گیا...
فریش ہو کر باہر نکلا.ٹراؤزر اور بنیان پہن رکھی تھی.. وہ کپڑے فولڈ کر کے باہر لایا...
یہ کیا... آپ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے... فانیہ کے اب بھی اوسان خطا تھے.
میں ابھی آیا.. راسم نے پھر اسے اگنور کیا.. باہر گیا.. اور مخصوص جگہ وہ کپڑے پھینک آیا..
کمرے میں داخل ہوا تو اب بھی بت بنی کھڑی تھی
راسم یہ سب کیا ہے... جلدی بتائیں مجھے..
کچھ نہیں جان... آرام کرو تم بس
نہیں وہ ہتھے سے اکھڑی.. مجھے..... مجھے حقیقت جاننی ہے راسم.. مجھے بتائیں آپ کیا کام کرتے ہیں؟
اب راسم کے ماتھے پر بل پڑے تھے... فانیہ آرام کرو... اس نے سنجیدگی سے کہتے دوسرے کمرے میں جانا چاہا جب وہ دیوار بنی سامنے آئی تھی
راسم میں نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں...فانیہ سسکی
فانیہ اپنے کام سے کام رکھو . یہ جاننا تمھارے لئے ضروری نہیں.. راسم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
نہیں مجھے جاننا ہے...وہ ضدی ہوئی..
بزنس کرتا ہوں...
کون سا.........
امپورٹ ایکسپورٹ کا....
کیا امپورٹ ایکسپورٹ کرتے ہیں؟
فانیہ ہٹو راستے سے.. زیادہ انویسٹیگیشن کی ضرورت نہیں.. راسم نے دانت پیسے...اسے پیچھے دھکیلا
راسم آپ میری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے..فانیہ نے پھر اس کا بازو دبوچا.. آپ کی خون میں لت پت شرٹ تو کوئی اور کہانی بیان کر رہی ہے...
کون ہیں آپ...
فانیہ میرا ضبط مت آزماؤ... ہٹ جاؤ سامنے سے
کیوں نہیں تو مجھے بھی مار ڈالے گے؟ قتل کریں گے مجھے بھی... وہ بپھری
چٹاخ........
ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا فانیہ کو... وہ تیورا کر بیڈ پر گری..
راسم بغیر دیکھے دوسرے کمرے میں گیا تھا.
جبکہ فانیہ بے ہوش ہو چکی تھی.
کافی دیر تک بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے اشتعال کا طوفان ضبط کرتا ادھر ادھر چکر لگاتا رہا.
مگر جب دل کو سکون نا آیا اور اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا تو کمرے میں آیا.
وہ اسی طرح اوندھے منہ بیڈ پر گری ہوئی تھی...
وہ سمجھا رو رہی ہے.
فانیہ دیکھو.... پلیز میری جان مجھے سمجھو... فانیہ
کچھ غیر معمولی لگا تو راسم نے اس کا کندھا ہلایا..
پھر اس نے اسے سیدھا کیا.. وہ کٹی پتنگ کی طرح اس کے بازوؤں میں جھول گئی..
پھٹے نازک لب سے خون کی بوند نکل کر لکیر سی بن گئی تھی..
راسم کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی... فانیہ.... فانیہ... میری جان اٹھو...
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی..
راسم کی جان پر بن آئی یوں بھی ریشماں یا کوئی اعر اسے اس حالت میں دیکھ لیتا تو جو زلالت ہوتی وہ الگ
نرمی سے بازوؤں میں بھرا.
باہر آ کر گاڑی میں لٹایا..
رومال سے چہرہ صاف کیا..
زن سے گاڑی بھگائی...
وائٹ پیلس میں اتنی رات کو آنا جانا ایک نارمل بات تھی. سو اس طرف سے اسے کوئی ٹینشن نہیں تھی.
مگر فانیہ کی حالت دیکھ کر دل بیٹھا جا رہا تھا.
ہوسپیٹل پہنچا... فورا چیک اپ کروایا.....
کافی دیر انتظار کرتا رہا...
ڈاکٹر باہر آئیں... بے چینی سے ڈاکٹر کی جانب لپکا.
ڈاکٹر کیا ہوا میری مسز ٹھیک تو ہیں ناں.. اسے ہوش کیوں نہیں آ رہا..
اٹس اوکے مسٹر راسم ایسی حالت میں ایسا ہو جاتا ہے.. گھبرانے کی بات نہیں...
کیسی حالت میں ڈاکٹر... راسم الجھا ڈاکٹر مسکرائی.
آپ پاپا بننے والے ہیں مسٹر راسم... شی از اسپیکٹنگ....
کونگریٹس...
راسم کے چہرے پر گہری مساکن نے احاطہ کیا.
تھینکس ڈاکٹر.... اسے ہوش آیا.
یس آ گیا ہے.. مگر وہ کم عمر ہیں ویک ہیں.. زیادہ خیال رکھنا ہوگا..
جی ڈاکٹر... شیور...
وہ کمرے میں آیا تھا مگر فانیہ نے اسے دیکھا تک نہیں.. راسم کے دل میں سوئی سی چبھی.. وہ خاموشی سے اٹھی
آہستگی سے قدم اٹھاتی باہر آئی اور چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ کر آنکھیں موند لیں
راسم نے بھی نا چھیڑا
پتہ تھا ہاتھ اٹھا کر سنگین غلطی کر بیٹھا تھا اور اب اسے بھگتنا تھا.
وائٹ پیلس آ کر وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آئی..
راسم بھی اس کے پیچھے آیا...
30/05/2026
Bloody__Love(خونی عشق)
از_واحبہ_فاطمہ
Episode 12.Rasim_Fania_special
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تھی..
جانے کیوں مگر ہر دستک پر فانیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو جایا کرتی تھی.
مما تو اپنے کمرے میں نیم دراز تھی..
اب بھی لرزتے قدموں سے دروازے تک آئی..
کون... پوچھا..
نایاب ہوں.... دروازہ کھولو... لہجہ تحکمانہ سا تھا.
اس نے دروازہ کھول دیا..مگر دروازے سے نا ہٹی
اوہ.... تم واپس آ گئی حالانکہ یقین کرو کوئی ایسا پل نہیں رہا جب میں نے دعا نا کی ہو کہ تمھارے ساتھ کوئی ایسا حادثہ ہو جائے کہ یہ تمھارا خوبصورت چہرہ بلکل مسخ ہو جائے.. اس نے اطمینان سے زہر اگلا.
حاسدوں کی دعائیں کبھی پوری نہیں ہوتیں.. فانیہ نے بھی اطمینان سے کہا.. نایاب کو آگ لگی.
منہ میں زبان بھی آ گئی.. امپریسیو...
کیا کام ہے...
ہٹو تمھاری مان سے ملنا ہے مجھے.. وہ فانیہ کو بدتمیزی سے دھکیلتی اندر کی جانب بڑھی.
نسیمہ کا اسے دیکھ کر بری طرح موڈ خراب ہوا.
پاپا نے بھیجا ہے مجھے.. دیکھنے آئی تھی وہ کونسا قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے کہ مکان بھی لے کر بیٹھ گئی ہو اور سارے خرچے بھی پورے ہو رہے ہیں..وہ نسیمہ سے بوولی
تم سے مطلب.. نایاب اپنی منحوس شکل لے کر دفاع ہو جاؤ.. اور اپنے باپ سے کہو طلاق دے دے مجھے.. ورنہ عدالت گئی تو مکان سے بھی نا ہاتھ دھونا پڑ جائے تم دونوں بھکاری باپ بیٹی کو.....
راسم اسلام آباد پہنچ چکا تھا.
اور اب اطمینان سے اس گھر میں داخل ہوا تھا جہاں سے پہلے ہی اونچی آوازیں سنائی دے رہی تھیں..
مجھے تو پہلے ہی لگتا تھا پاپا کو پہلے ہی کہا تھا کے ان ماں بیٹی کے چال چلن....
چٹاخ......... ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا.. نایاب کو فانیہ سے
نایاب حیرت سے پھٹی آنکھوں سے گال پر ہاتھ رکھے اس کی جرات دیکھنے لگی.
یہ ہمت اسے ریشماں کی بخشی ہوئی تھی جس کی برین واشنگ نے اسے بزدل اور ڈرپوک سے بہادر اور دبنگ بنا دیا تھا
خبردار نایاب... اتنے سال تمھارا ہر ظلم ہر زیادتی اور بکواس برداشت کی ہے مگر اب نہیں... اور ہمارے کردار کے بارے میں اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گی.. ہمیں کچھ کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا.. اور اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے.. فانیہ دھاڑی..
تمھیں تو میں دیکھ لوں گی.. یہ تمھارا خوبصورت چہرہ تیزاب سے نا جلایا تو مجھے نایاب نا کہنا.. چاہے اس کے بعد مجھے جیل میں کیوں نا سڑنا پڑے..
گیٹ لاسٹ نایاب... جو کرنا ہے کر لو.. میں نہیں ڈرتی..
نایاب تن فن کرتی نسیمہ کے کمرے سے باہر نکلی.
سامنے ہی ایک بے تحاشا ہینڈسم، ٹال اور ڈیشنگ بندہ بلیک تھری پیس پہنے سن گلاسز لگائے... پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے کھڑا اسے اندر تک ہلا گیا تھا.
یہ اس کے خوابوں کا شہزادہ آج کہاں سے خیالوں سے مکل کر سامنے آ گیا تھا؟
کون ہیں آپ....نایاب نے پرشوق نگاہوں سے پوچھا..
آپ سے مطلب...
جی بلکل ہے.. کیونکہ یہ ہمارا گھر ہے.. وہ ڈھٹائی سے بولی.
بلکل نہیں یہ میری بیوی فانیہ اور اس کی ماں کا گھر ہے.
نایاب کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی...مگر اس نے ہار ماننا کب سیکھی تھی.
تم جانتے ہو تمھاری بیوی کیسی ہے.... تمھاری بیوی کے کمرے سے رنگے ہاتھوں.......
تم نایاب ہو ناں.. راسم کے کانوں میں فانیہ کی پہلی ملاقات کی آوازیں گونجیں...
ہاں لیکن تمھیں کیسے پتہ...
تم نے میری بیوی کی بات کی.. وہ جیسی بھی ہو مگر تم اپنی بات کرو کیونکہ تم اس کی جوتی کے برابر بھی نہیں..
وہ کہتا نایاب کو بھسم کرتا.. اندر جا چکا تھا.
وہ تن فن کرتی فانیہ کو برباد کرنے کے ارادے باندھتی وہاں سے نکلی...
راسم ہلکی ناک کر کے اندر داخل ہوا..
نایاب میں نے کہا گو ٹو ہ.....وہ کہتی بھناتی پیچھے مڑی تھی... جب لفظ منہ میں ہی رہ گئے..
میرون فراک اور پاجامے میں وہ چاندی کی طرح دمک رہی تھی..
سامنے والے کو دیکھ کر خوف سے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے.. ماں کی طرف لپکی..
مما... یہ..... و...... وہ... ماں کے پیچھے بیٹھی دبکی وہ تھر تھر کانپ رہی تھی.
اس کے تو فرشتے بھی نہیں سوچ پائے تھے کہ وہ اتنی جلدی اس تک پہنچ جائے گا..
نسیمہ نے حیرت سے بیٹی کی حالت اور اس گبھرو جوان اجنبی کو دیکھا جو غصے سے فانیہ کو گھور رہا تھا.
کیا بات ہے بیٹا... کون ہو تم..
اسلام و علیکم آنٹی میں راسم ہوں... فانیہ نے بتایا ہوگا.. راسم سن گلاسز اتار کر نسیمہ کے آگے جھکا.
نسیمہ صدقے واری گئی.. آخر داماد آیا تھا.وہ داماد جس نے بیٹی کو اتنی حفاظت سے اپنے پاس رکھا تھا. نسیمہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا..
پھر وہ ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے.. نسیمہ نے اسے کچن میں کھانے میں خاص اہتمام کرنے کے لیے بھیجا تو اس کی گلو خلاصی ہوئی
کیونکہ وہ نسیمہ کا بھی لحاظ کیے بغیر ہر منٹ بعد اسے ایک گھوری سے نواز رہا تھا..
پھر وہ سوفٹ ڈرنک پی کر ضروری کام کا بول کر باہر جانے لگا..
بیٹا کھانا تو کھا لو..
ابھی بھوک نہیں آنٹی بس ڈنر ہی کروں گا..
ٹھیک ہے بیٹا... نسیمہ مسکرائی..
وہ گیا تو نسیمہ نے کچن میں آ کر فانیہ کے لتے لیے..
فانیہ کتنی جھوٹی ہو... تم تو کہتی تھیں اسے تمھاری پرواہ نہیں اور دیکھو کیسے چار پانچ دنوں میں پتہ لگوا کر پہنچ بھی گیا تم تک..حالانکہ اس بیچارے کو نا کچھ بتا کر آئی تھی.. نا اتا پتا دے کر آئی تھیں...
مگر مما.. وہ روہانسی ہوئی.
اب کوئی اگر مگر نہیں یہ سر جھاڑ منہ پھاڑ والا حلیہ درست کرو.. اور شوہر کی خدمت کرو بس...
نسیمہ نے فیصلہ سنایا..
اونہہہہ... کچھ زیادہ ہی شرافت کا مظاہرہ کر رہے ہیں... فانیہ نے دل میں دانت کچکچائے
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ گھر سے نکلا..
بادشاہ کی واپسی کا پتا لگوانا تھا
ہر حال میں...اسلام آباد سے بھی آنے کے چانسز تھے اس بزدل کہ
وہ ضروری کام نمٹا کر رات 9 بجے گھر پہنچا.. نسیمہ اسی کا انتظار کر رہی تھی..
وہ فریش ہو کر آیا.
فانیہ نے کچن میں چھوٹے سے ٹیبل پر کھانا لگایا..
نسیمہ کی درگت کے بعد اب اس نے میرون سوٹ کے اوپر ہلکا میک اپ کر رکھا تھا.
راسم نے خاموشی سے کھانا کھایا.
مگر فانیہ جانتی تھی یہ طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی ہے وہ دل میں جل تو جلال تو کا ورد کرتی اس بلا سے حفاظت کی دعا مانگ رہی تھی..
بیٹا تم ناراض ہو فانیہ سے... نسیمہ بیگم نے راسم کی غیر معمولی سنجیدگی نوٹ کی.. فانیہ نے پہلو بدلہ.
آنٹی اس نے بتایا نہیں اپنا کارنامہ... بغیر مجھے بتائے وہاں سے آئی. اگر رستے میں کچھ ہو جاتا تو پھر.. مجھے بتاتی تو میں خود آپ سے ملانے لے آتا..
مجھے امید ہے صبح آپ آفیشیلی طور پر رخصتی دے دیں گی.. کیونکہ مجھے صبح ہی نکلنا ہے...
وہ بغیر اس کی جانب دیکھے اس پر بجلیاں گرا رہا تھا.
مگر مما...
چپ کرو فانیہ... نسیمہ نے جھڑکا... تمھارے لیے فیصلے لینے کہ لئے ابھی میں زندہ ہوں مری نہیں... انھیں فانیہ کی اس بچگانہ حرکت پر اب جی بھر کر تاؤ آ رہا تھا. واقعی کچھ ہو جاتا تو پھر.
جاؤ جا کر پیکنگ کرو........
مگر مما.
فانیہ جاؤ.......
کھانا کھایا گیا... آنٹی میں آرام کروں گا..
وہ کہہ کر اپنے لئے سیٹ کیے گئے کمرے میں آ گیا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
فانیہ گئے رات تک ماں کے پاس دبکی رہی جب اچھی طرح یقین ہو گیا کہ وہ بلا سو چکی ہو گی.
تب چپکے سے دبے پاؤں اپنے کمرے میں آئی...زیرو پاور بلب کی نیلی روشنی میں پیچھے مڑ کر دروازہ لاک کیا اور سکھ کا سانس لیا..
بیڈ پر آئی... دوپٹہ اتار کر تکیہ کے پاس رکھا.. اور ذہنی تھکن سے چور بیڈ پر ڈھے سی گئی..
کھڑوس.... سڑیل......زیرِ لب کوسا اور کنپٹیاں سہلائیں
مگر تبھی.. پیٹ پر کچھ سرسراتا سا لمس محسوس ہوا.. ہوش آیا کہ بے حد قریب سے جانی پہچانی مردانہ کلون کی خوشبو آ رہی ہے..
وہ بوکھلا کر سیکنڈوں میں اٹھی جب پیٹ پر رکھا وہی ہاتھ اس کے گرد لپٹا اور اسے واپس بیڈ پر ایک پر حدت سی آغوش میں کھینچ لیا گیا.
آہہہہہہہ... اس نے چلانا چاہا جب مقابل اس پر بری طرح حاوی ہوا...ہاتھ پکڑ کر تکیہ سے لگائے..
خبردار... زرا بھی آواز آئی تو حشر بگاڑ دوں گا...
آ......... آپ... یہ....... یہ.. کک... کیا.. کر... رہے......
چھوٹی بچی ہو کیا جو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سمجھاؤں کہ کیا کر رہا ہوں... تمھیں نہیں پتہ کہ کیا کر رہا ہوں.. ہاتھوں میں جکڑے اس کے ہاتھوں پر گرفت اور مضبوط کی.
چھ... چھوڑیں مجھے...
نہیں... سب سے پہلے تو مجھے یہ بتاؤ کہ تمھاری جرات کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر میرے کمرے سے وائٹ پیلس سے قدم باہر نکالنے کی...
آئم... سس... سوری... پلیز... مم... معاف کر دیں.. فانیہ نے جان چھڑانی چاہی... مگر
نہیں.. اس گستاخی کی تو سزا ملے گی.. جو آج ساری رات تمھیں بھگتنی پڑے گی..
فانیہ کے رونگٹے کھڑے ہوئے..
یہ کہہ کر وہ مدہوش سا اس کی گردن پر جھکا تھا.. وہ بے حد قریب ہوا تو فانیہ کو اندازہ ہوا کہ وہ شرٹ لیس ہے..
نن.. نہیں.. چھوڑیں مجھے.....
مگر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا.. دہکتے لب شہہ رگ پر رکھے..
وہ مچلی... مم.. میں نے کہا.. چھ......راسم نے بات مکمل نہیں ہونے دی تھی...
لمحے کافی فسوں خیز تھے.
وہ شدت سے اس کے نازک لبوں پر جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا..
جب آزادی بخشی تو وہ نڈھال ہو چکی تھی..
راسم نے کروٹ لی اور اسے خود پر گرایا..
پپ... پلیز مم. میں نے کہا ناں... آئم سوری... وہ روہانسی ہوئی.. پلکیں بھیگ چکی تھیں..
مگر تڑپی تو تب جب کمر پہ سے زپ کھل کر شرٹ کھسکتی محسوس ہوئی..
راسم... وہ بوکھلائی... پلیز...
نو...... کوئی مزاحمت نہیں... اور اب کوئی آواز نہیں سنوں میں تمھاری..مجھ سے دور جا کر یہ سزا تو خود ہی تم نے اپنے لئے طے کی ہے کہ اب اتنا قریب آنا پڑے گا کہ دوبارہ دور جانے کا سوچ بھی نا پاؤ...
جزبات سے بوجھل گھمبیر آواز میں وہ سرگوشی فانیہ کی روح فنا کر چکی تھی..
مم. مگر... آپ..... مجھ... سے محبت.. نن.. نہیں کک... کرتے..
واٹ...... راسم کو آگ لگی.. تمام جزبات بھک سے اڑے... تو تمھارا خیال یہ ہے کہ میں بغیر محبت کے تمھارے قریب آ کر صرف اپنی ہوس مٹانا چاہتا ہوں..
راسم نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر ایک جھٹکا دیا..
وہ بولی نہیں مگر سسک پڑی.
اگر ایسی ہی بات ہوتی...یو ایڈیٹ.... دماغ سے پیدل لڑکی... تو پہلی ہی رات نا چھوڑتا تمھیں... تبھی ہر حد پار کر لیتا.اظہار نہیں کیا.. مگر کیا تمھیں میری آنکھوں میں نظر نہیں آتا کہ میں کتنی محبت کرتا ہوں تم سے...
پاگل... الو کا پٹھا ہوں جو تمھارے پیچھے خوار ہوتا یہاں تک آیا ہوں.
راسم نے شدید غصے میں دانت پیسے. .وہ اسے خود سے دور پٹخ کر اٹھ کر جانے لگا..
دروازے تک پہنچا تھا کہ وہ تڑپ کر اٹھی اور کمر سے اس سے لپٹ کر سسک پڑی..آئم سوری.. مجھے معاف کر دیں.. مم. مگر پھر.. سے ناراض مت ہوں مجھ سے....
راسم بے تحاشا چونکا..پہلو سے بازو سے اسے کھینچ کر سینے میں بھینچا.. میں کب ناراض ہوا تم سے ہاں بولو..
آپ شروع سے مجھ سے ناراض تھے.. آپ کے ساتھ زبردستی کی گئی..
راسم کو اس کے شوشے پر بے تحاشا ہنسی آئی.. پاگل لڑکی مرد سے بھی کوئی زبردستی کچھ کروا سکتا ہے.. میری مرضی تھی تو تمھیں اٹھا کر لے کر گیا.. جانے وہ کونسی کشش تھی... جس نے مجھے تمھاری جانب کھینچا.. میری مرضی تھی تو یہ نکاح ہوا...
تو پھر آپ مجھے ڈانٹتے کیوں تھے ہر وقت.... وہ اس سے اسی کی شکایتیں لگا رہی تھی.
اگر پہلی رات کی بات کر رہی ہو تو حلیہ دیکھا تھا اپنا..
وہ شرمندہ ہوئی.. مزید اس کے بازو میں منہ چھپایا
تب مجھے بھی نہیں معلوم تھا کہ میں تم سے اتنی طوفانی محبت کرتا ہوں... یہ تو تمھارے جانے کے بعد پتا چلا..
فانیہ نے اپنا سر اس کے چوڑے کسرتی سینے سے نکال کر اسے بے حد شرارت سے دیکھا..
تو پھر میں نے ٹھیک کیا نا آپ کو چھوڑ کر آئی کم از کم آپ کو پتا تو چلا کہ آپ کو میری کتنی پرواہ ہے..
آہاں.... راسم نے اسے بازوؤں میں بھرا.. ابھی بتاتا ہوں جان کے کتنی پرواہ ہے... فانیہ بے تحاشا گھبرائی.. کیونکہ ابھی وہ کچھ دیر پہلے والی خطرناک ٹون میں واپس آ چکا تھا.
راسم نے اسے لا کر بیڈ پر لٹایا...اور اس پر جھکا
راسم............
اششششششش... اس کی گردن میں منہ دیا..
فانیہ اس کی بانہوں میں پگھلی... مگر آج گریز ناممکن تھا..
وہ کندھے سے شرٹ کھسکاتا اپنے دہکتے لب رکھ چکا تھا.
لمحہ لمحہ گزرتی رات کے ساتھ راسم نے اپنے ہر عمل سے اسے بتایا تھا کہ اسے اس کی کتنی پرواہ ہے یا وہ اس پاگل سی لڑکی سے کتنی محبت کرتا ہے...
فانیہ کو اپنی شدتوں سے دنیا بھلا دی تھی اس نے....
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رحاب جب بھاگ کر نیچے آ رہی تھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے ریما نے اسے پاشا کے پیچھے بھاگتے دیکھا تھا....
وہ جل کر خاکستر ہوئی تھی..
اور اسی آگ میں رحاب کو جلانا چاہتی تھی
وہ تن فن کرتی اس کے پیچھے آئی تھی.
وہ پلر کے پیچھے سے جھانک کر اسے جاتا دیکھ رہی تھی.
ریما نے بازو سے دبوچ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا..
کیا دیکھ رہی ہو ہاں.... کیا لگتا ہے وہ تمھارا.. جو اسپیشل بھاگ کر آ رہی ہو.. جلدی بتاؤ مجھے..
ریما نے اسے گردن سے دبوچ کر پلر سے لگایا...
رحاب اس کی آہنی اور کسرتی ہاتھ کی گرفت میں مچل کر رہ گئی.. آنسو بہت تیزی سے رواں تھے..
بولو... بولتی کیوں نہیں.. کیوں کر رہی تھی پاشا کا پیچھا.. کیوں دیکھ رہیں تھیں اسے.. پھانسنا چاہتی ہو اسے یا رکھیل بننا چاہتی ہو اس کی... ریما مغلظات بکتی پھنکاری
اور اس سے پہلے وہ شدید غصے میں رحاب کی گردن کی ہڈیاں چٹخا دیتی.
کسی نے پیچھے سے اسے کھینچ کر اپنی طرف گھمایا تھا.
اور اس قدر زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا اسے کہ وہ چکرا کر پیچھے گری تھی..
گارڈز ... پاشا دھاڑا... گارڈز بھی بوکھلائے ادھر لپکے.
لے جاؤ اسے.... ونڈر لینڈ.. روم نمبر 25
پاشا نے کورڈ ورڈ میں اپنے ٹارچر سیل کے اس کمرے کا نام لیا جس میں ڈھیر سارے موذی کیڑے مکوڑے چھوڑ رکھے تھے.
. مم.. معاف کردو. پاشا... نن.. نہیں ریما کی روح فنا ہوئی..
اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی پاشا نے خونخوار نظروں سے اپنے آدمیوں کو گھورا وہ اس کا منہ دبوچے.، تاکہ وہ کچھ اور نا بول سکے
اسے وہاں سے لے جا چکے تھے...
وہ جو لمبے لمبے سانس لیتی اپنا سانس بحال کر رہی تھی پاشا بھسم کرنے والے انداز میں اس کی جانب بڑھا
بازوؤں سے دبوچ کر اسے پھر پلر سے لگایا.
مسئلہ کیا ہے تمھارے ساتھ..... ہاں... ریشماں کو یا کسی کو آواز نہیں دے سکتی تھیں.. ابھی کچھ ہو جاتا تو؟ وہ دھاڑا
میرا ضبط مت آزماؤ..... بولو.... میں نے آج تمھاری آواز سننی ہے..Spaek quickly now.......
رحاب نے بھیگی آنکھوں سے بازوؤں سے اس کے ہاتھ ہٹائے.
میں بول نہیں سکتی..وہ اشارہ کرتی پھر بے تحاشا رو دی.
وہ ہاتھوں کا اشارہ نہیں تھا.. آسمانی بجلی تھی جو پاشا کے دل و دماغ پر گری تھی..
شاید ہی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہو جس سے اسے اتنی تکلیف پہنچی ہو...
وہ حیرت سے اسے دیکھے گیا.
وہ سرخ چہرہ لال انگارہ آنکھیں اور تنے اعصابوں سے اس کے گرتے آنسو دیکھتا رہا..
پھر بلکل بے اختیار وہ معصوم چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر انگوٹھوں سے روانی سے بہتے آنسو صاف کیے..
پاشا کی نظر اس کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں سے چھو رہی تھی... کہ بھٹکتی نظر ان لرزتے نرم و گداز گلابی لبوں پر ٹھہری.
اور اس سے پہلے کہ کسی حق کے بغیر وہ کوئی گستاخی کر بیٹھتا..
اپنے لب کچلتا پیچھے ہٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا.
اپنی بے اختیاری پر پھر جی بھر کر لعنت بھیجی خود پر....
کیوں میں اتنا بے اختیا ہوں اس کے معاملے میں.
وہ بول نہیں سکتی... اس بات سے مجھے اس قدر تکلیف کیوں ہوئی..
مجھے کیا ہو جاتا ہے آخر.....
اففف...یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے..ششششٹ
میں اب وائٹ ہاؤس میں آؤں گا ہی نہیں....
یہ ٹھیک ہے..... وہ کنپٹیان سہلاتا.. گاڑی تک آیا.
فون ملایا..
ہاں کیا کیا ریما کا....
سر پھینک دیا اس روم میں...
نکال لو.... پاشا کی حکم عدولی کے لئے اتنی سی ڈوذ ہی کافی ہے اس کے لئے.
کہتا فون بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر زن سے گاڑی بھگائی.
جیسے کوئی آسیب کوئی بھوت ہو اس کے پیچھے....
پیچھے ریشماں جو یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی.. اسے پتہ چل چکا تھا کہ پاشا کہ کسے بل کیسے نکالنے ہیں.. وہ معنی خیز سی مسکراتی رحاب کے پاس آئی جو پلر سے لگی بیٹھی اب بھی سوں سوں کرنے میں مصروف تھی..
مگر دونوں ہاتھ دونوں گالوں پر رکھے ہوئے تھے....
ریشماں اسے اندر لے گئی...
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺