PP 157

Call Directions Website Contact the organization

PP 157 News & Updates PP-157
Media Incharge (Aziz Bhatti Town)
Malik Faisal Awan

   پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ چہارم)تعلیم، صحت اور نوجوان — ملک کا اصل سرمایہ کہ...
01/09/2026





پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ چہارم)
تعلیم، صحت اور نوجوان — ملک کا اصل سرمایہ کہاں جا رہا ہے؟

کسی بھی ملک کی اصل دولت اس کی عمارتیں، موٹر ویز یا بڑے بڑے منصوبے نہیں ہوتے۔ اصل دولت اس کے انسان ہوتے ہیں۔ اگر انسان تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنرمند، باکردار اور معاشی طور پر فعال ہوں تو محدود وسائل رکھنے والا ملک بھی ترقی کر سکتا ہے، لیکن اگر ایک ملک اپنے انسانوں کو معیاری تعلیم، صحت اور روزگار فراہم نہ کر سکے تو اس کے پاس کتنے ہی منصوبے کیوں نہ ہوں، ترقی کا سفر ادھورا رہتا ہے۔

ہماری تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف مہنگے نجی اسکولوں کا نظام ہے اور دوسری طرف بہت سے سرکاری اسکول بنیادی معیار اور سہولیات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ غریب والدین اپنے بچے کو بہتر تعلیم دینے کے لیے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرتے ہیں۔ فیس، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ، ٹیوشن اور دیگر اخراجات ایک ایسے خاندان پر مسلسل بوجھ بنتے ہیں جس کی آمدنی پہلے ہی محدود ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایسے سرکاری اسکول کیوں نہیں بنا سکتے جہاں ایک غریب آدمی اپنے بچے کو بھیجتے ہوئے یہ محسوس کرے کہ اسے کسی دوسرے درجے کی تعلیم نہیں مل رہی؟

سرکاری اسکول کی عمارت بنا دینا کافی نہیں۔ وہاں بہترین استاد، مسلسل teacher training، سائنس لیبارٹری، لائبریری، کھیل، ٹیکنالوجی، صاف پانی، واش روم، محفوظ ماحول اور جدید نصاب بھی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل بنا رہا ہے یا زندگی اور معیشت کے لیے تیار کر رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کی حالت بھی الگ سوال ہے۔ ایک نوجوان بارہ، چودہ یا سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی تک پہنچتا ہے اور فیس اس کے سامنے دیوار بن جاتی ہے۔ پھر بڑی مشکل سے ڈگری حاصل کر بھی لے تو روزگار کی ضمانت نہیں۔ ہمیں ایسی یونیورسٹیاں چاہیے جو صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی، artificial intelligence، engineering، agriculture، entrepreneurship اور global markets سے جڑی ہوں۔ ڈگری کے ساتھ ہنر، تحقیق کے ساتھ روزگار اور تعلیم کے ساتھ معاشی مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔

یہاں پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے: نوجوانوں کی بڑی تعداد اور ان کے لیے محدود معاشی مواقع۔ پاکستان کی معیشت کو ہر سال بڑی تعداد میں نئے کارکنوں کو absorb کرنا ہوگا۔ Pakistan Bureau of Statistics کے Labour Force Survey جیسے سرکاری ذرائع اسی لیے labour force participation، employment اور unemployment کو قومی planning کے لیے بنیادی indicators قرار دیتے ہیں۔

اگر ہم نوجوان کو تعلیم دیں مگر روزگار نہ دیں، ڈگری دیں مگر ہنر نہ دیں، موبائل اور انٹرنیٹ دیں مگر productive digital economy نہ دیں تو ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہوں گے جس کے پاس خواہشات بہت ہوں گی مگر مواقع کم۔

صحت کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے کیونکہ یہاں تاخیر کا مطلب کبھی کبھی موت ہوتا ہے۔ کہیں ہسپتال موجود ہے مگر ڈاکٹر نہیں، کہیں ڈاکٹر ہے مگر بستر نہیں، کہیں بستر ہے مگر مشین خراب ہے، کہیں مشین موجود ہے مگر trained staff نہیں، کہیں علاج موجود ہے مگر دوا نہیں، اور کہیں علاج موجود ہونے کے باوجود غریب مریض اسے afford نہیں کر سکتا۔

ہمیں ہسپتالوں کی تعداد گننے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے ہسپتال واقعی functional ہیں، کتنے مریضوں کو بروقت علاج مل رہا ہے، emergency response کتنا مؤثر ہے، ادویات کتنی دستیاب ہیں، diagnostic facilities کتنی فعال ہیں اور بنیادی صحت مراکز لوگوں کو بڑے ہسپتال پہنچنے سے پہلے کتنا سہارا دے رہے ہیں۔

اور اس پورے نظام میں ایک اور مسئلہ ہے جس پر کم بات ہوتی ہے: آبادی میں اضافہ اور انسانی ترقی کی رفتار۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے اور تعلیم، صحت، روزگار، پانی، خوراک اور شہری سہولیات اسی رفتار سے نہ بڑھیں تو فی کس وسائل کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔ World Bank بھی پاکستان کے لیے بلند آبادی میں اضافے، محدود fiscal space اور poverty reduction کے چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکومت نے کتنے اسکول اور ہسپتال بنائے۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اگلے بیس سال میں پاکستانی بچے، نوجوان اور خاندان کس معیارِ زندگی کے ساتھ زندہ ہوں گے؟

اور جب تعلیم، صحت اور روزگار کمزور ہوں تو اگلا بحران خود بخود سامنے آتا ہے:

غربت، مہنگائی، قرض، ٹیکس اور روزگار کا بحران۔

#اعوانیات

   پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ سوم)بجلی، سولر اور IPPs — عوام کو صرف بل نہیں، مکم...
31/08/2026





پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ سوم)
بجلی، سولر اور IPPs — عوام کو صرف بل نہیں، مکمل حساب چاہیے
تحریر فیصل مقصود

ایک وقت تھا جب پاکستان بجلی کے شدید بحران سے گزر رہا تھا۔ لوڈشیڈنگ نے گھروں، دکانوں، کارخانوں، کاروبار اور زراعت سب کو متاثر کیا۔ عوام کو بتایا گیا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے۔ پھر ایک بڑی تعداد نے ریاست کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت حل تلاش کیا۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی سے سولر پینل خریدے، انورٹر خریدے، بیٹریاں خریدیں، تاریں، بریکر، اسٹینڈ اور تنصیب کے اخراجات برداشت کیے۔ کسی نے قرض لے کر سولر لگایا، کسی نے کئی سال کی بچت خرچ کر دی۔

یہ صرف سولر خریدنے کی کہانی نہیں تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ پاکستانی شہری مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے اور اگر اسے موقع ملے تو اپنی جیب سے بھی قومی توانائی کے مسئلے کا حصہ حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لاکھوں صارفین اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی طرف جا رہے تھے تو کیا ہماری قومی توانائی پالیسی نے اس تبدیلی کو بروقت سمجھا؟ کیا transmission، distribution، storage، grid management اور prosumer framework کو اسی رفتار سے تبدیل کیا گیا؟ کیا rooftop solar کو قومی energy mix کا باقاعدہ حصہ سمجھ کر طویل المدتی منصوبہ بنایا گیا؟ یا ہم ایک ایسے نظام میں پھنسے رہے جہاں بجلی پیدا کرنے، خریدنے، منتقل کرنے اور صارف تک پہنچانے کے الگ الگ مسائل ایک دوسرے پر بوجھ ڈالتے رہے؟

عوام کا ایک اور بنیادی سوال بجلی کی قیمت کے بارے میں ہے۔ اگر بجلی کے بل میں صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت شامل نہیں بلکہ power purchase، capacity-related charges، transmission، distribution، losses، taxes اور مختلف adjustments بھی شامل ہیں تو عام شہری کو اس پورے نظام کی سادہ زبان میں وضاحت کیوں نہیں دی جاتی؟ NEPRA کے موجودہ tariff اور power-sector records میں بجلی کی قیمت کے مختلف components اور periodic adjustments باقاعدگی سے سامنے آتے ہیں۔

اسی طرح IPPs کا مسئلہ بھی صرف یہ کہہ دینے سے حل نہیں ہوتا کہ "حکومت مہنگی بجلی خریدتی ہے"۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ مختلف power purchase agreements کیسے بنے، capacity payments کی ضرورت اور لاگت کیا ہے، کن شرائط پر معاہدے ہوئے، ان معاہدوں نے قومی خزانے اور صارف پر کیا اثر ڈالا، کون سے معاہدے تبدیل یا ختم ہو سکتے ہیں، اور مستقبل میں ایسی planning کیسے کی جائے کہ بجلی کی قیمت قابلِ برداشت رہے۔ NEPRA کی اپنی تاریخی رپورٹس میں بھی capacity payments اور power-sector کے دیرینہ مسائل زیرِ بحث رہے ہیں۔

عوام کو کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نعرہ نہیں چاہیے۔ عوام کو ایک یونٹ بجلی کا مکمل حساب چاہیے۔

یہ بجلی کہاں پیدا ہوئی؟ کس قیمت پر پیدا ہوئی؟ کس قیمت پر خریدی گئی؟ transmission میں کیا خرچ آیا؟ distribution میں کیا خرچ آیا؟ losses کتنے ہوئے؟ capacity charges کتنے ہیں؟ taxes اور surcharges کتنے ہیں؟ اور آخرکار صارف کے بل تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت اتنی کیوں بن گئی؟

اگر حکومت یہ حساب شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھ دے تو شاید بہت سے سیاسی تنازعات خود ختم ہو جائیں۔

اور سولر کے بارے میں بھی ہمیں جذبات کے بجائے عقل سے کام لینا ہوگا۔ سولر صارف کو ریاست کا دشمن نہیں بلکہ energy transition کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اگر عوام نے اپنی جیب سے rooftop solar میں سرمایہ کاری کی ہے تو حکومت کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو grid stability، consumer fairness اور renewable investment تینوں کو متوازن کرے۔ مستقبل کی generation planning میں بھی renewable sources، demand، storage اور grid requirements کو ایک مربوط انداز میں دیکھنا ہوگا؛ NEPRA کا 2025-35 IGCEP اسی نوعیت کی indicative planning کا ایک بنیادی دستاویز ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سولر اچھا ہے یا برا، IPPs اچھے ہیں یا برے، سرکاری بجلی اچھی ہے یا نجی بجلی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پورا نظام عوام کے لیے سستا، قابلِ اعتماد، شفاف اور طویل المدتی طور پر پائیدار بنایا جا رہا ہے؟

اور یہی سوال تعلیم اور صحت کے بارے میں بھی اٹھتا ہے۔

کیونکہ بجلی کا بل انسان کی جیب خالی کرتا ہے، مگر ناقص تعلیم اور ناقص صحت انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔

#اعوانیات

   پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ دوم)پانی — آج کا ضائع کیا ہوا قطرہ کل کی پیاس بن س...
30/08/2026





پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ دوم)
پانی — آج کا ضائع کیا ہوا قطرہ کل کی پیاس بن سکتا ہے
تحریر فیصل مقصود

ہم بجلی کے بحران پر بات کرتے ہیں، مہنگائی پر بات کرتے ہیں، پٹرول پر بات کرتے ہیں، ڈالر پر بات کرتے ہیں، مگر ایک ایسا بحران ہماری طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات ان تمام بحرانوں سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں، اور وہ ہے پانی کا بحران۔

پاکستان میں پانی کا مسئلہ اب مستقبل کی کہانی نہیں رہا۔ سرکاری منصوبہ بندی کے ادارے نے بھی حالیہ برسوں میں groundwater depletion، آبادی میں اضافے، تیز شہری پھیلاؤ، غیر یقینی بارشوں اور climate stress کو پاکستان کی water security کے لیے سنجیدہ خطرات قرار دیا ہے۔ اپریل 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بھی واضح کیا کہ پاکستان کو صرف water crisis management سے آگے بڑھ کر water security planning کی طرف جانا ہوگا۔

مگر ہمارا المیہ دیکھیے۔ بارش آتی ہے تو ہم اسے مصیبت سمجھتے ہیں، پانی کم ہوتا ہے تو بحران کہتے ہیں، اور جو پانی چند گھنٹوں میں شہروں، نالوں اور دریاؤں سے بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اسے ہم قومی دولت کے طور پر محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی بہت کم کرتے ہیں۔

ہر سال بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں پانی جمع ہوتا ہے، سڑکیں ڈوبتی ہیں، گلیاں ندیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، گھروں اور کاروباروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ پھر چند ماہ بعد یہی معاشرہ زیرِ زمین پانی کی گرتی سطح، خشک ٹیوب ویل، پانی کے مہنگے ذرائع اور پینے کے پانی کی قلت کی شکایت کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم بارش کے پانی کو صرف نکاسیٔ آب کا مسئلہ کیوں سمجھتے ہیں؟ اسے قومی آبی ذخیرے کے طور پر کیوں نہیں دیکھتے؟

ہمیں بڑے ڈیم ضرور چاہئیں۔ ہمیں بڑے آبی ذخائر، hydropower اور قومی سطح کے water infrastructure کی بھی ضرورت ہے، لیکن صرف بڑے ڈیموں کے انتظار میں ہر بارش کا پانی ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہر، ہر قصبے، ہر گاؤں، ہر مسجد، ہر اسکول، ہر کالج، ہر یونیورسٹی، ہر ہسپتال، ہر سرکاری عمارت اور ہر نئی ہاؤسنگ اسکیم میں rainwater harvesting اور groundwater recharge کو لازمی کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ سرکاری منصوبہ بندی کی دستاویزات میں خود rainwater harvesting، runoff harvesting اور groundwater recharge جیسے طریقوں کی ضرورت تسلیم کی جا چکی ہے۔

سوچیے، اگر کسی شہر میں بارش کا پانی نالی میں بہہ کر ضائع ہونے کے بجائے مناسب filtration کے بعد زمین میں اتارا جائے، اگر اسکول کی چھت کا پانی محفوظ کیا جائے، اگر مسجد کے صحن اور چھت سے آنے والے پانی کو ذخیرہ کیا جائے، اگر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کو اجازت ہی اس شرط پر ملے کہ وہ بارش کے پانی کو ضائع نہیں کرے گی، اگر صنعتوں میں wastewater recycling لازمی ہو، تو ہم صرف آج کا پانی نہیں بچا رہے ہوں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے زیرِ زمین ذخیرہ بھی بنا رہے ہوں گے۔

اور یہاں ایک سوال ہمارے بااثر اور مالدار طبقے سے بھی ہے۔ جن لوگوں کے پاس انتخابات لڑنے، مہم چلانے، جلسے کرنے، اثر و رسوخ قائم رکھنے اور سیاست پر خطیر رقم خرچ کرنے کی استطاعت موجود ہے، کیا وہ اپنے علاقے میں ایسا منصوبہ نہیں بنا سکتے جس سے ہزاروں لوگوں کو مستقل پانی ملے؟ کسی چوک پر اپنا نام لکھوانے، کسی تقریب کی تشہیر کرنے یا سیاسی بینر لگانے سے کہیں بڑی عوامی خدمت یہ ہے کہ کسی علاقے میں پانی کا ذخیرہ بنا دیا جائے جو کئی نسلوں تک لوگوں کے کام آئے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پانی صرف پینے کا مسئلہ نہیں۔ پانی زراعت ہے، خوراک ہے، صنعت ہے، بجلی ہے، روزگار ہے، صحت ہے اور قومی سلامتی ہے۔ اگر پانی کم ہوگا تو کسان متاثر ہوگا، خوراک مہنگی ہوگی، صنعت متاثر ہوگی، شہروں پر دباؤ بڑھے گا اور بالآخر غریب سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

یہ مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں۔ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔

لیکن اگر ہم نے آج اس مسئلے پر سنجیدہ قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ کیا تو آنے والے وقت میں شاید ہمارے پاس ہر چیز کی قیمت معلوم کرنے کے لیے پیسہ ہو، مگر پانی خریدنے کے لیے پانی ہی نہ ہو۔

اور پانی کے بعد ہماری توانائی کی کہانی بھی کم تلخ نہیں۔

کیونکہ جس عوام کو کبھی بجلی کے بحران سے نکالنے کے لیے سولر کی طرف بھیجا گیا، اسی عوام نے اپنی جیب سے توانائی کے نظام میں اربوں روپے لگا دیے۔

اب سوال یہ ہے کہ ریاست نے اس عوامی سرمایہ کاری کو قومی توانائی پالیسی کا حصہ کتنا بنایا؟

#اعوانیات

   پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ اول)ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف منصوبے بنا رہے ہیں؟ت...
29/08/2026





پاکستان کہاں جا رہا ہے؟ — ایک قوم، کئی بحران اور ایک تلخ سوال (حصہ اول)
ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف منصوبے بنا رہے ہیں؟
تحریر فیصل مقصود

کبھی ایک لمحے کے لیے اپنے سیاسی تعصبات، جماعتی وابستگیوں، پسندیدہ لیڈروں، سوشل میڈیا کی لڑائیوں اور ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی مسلسل کوشش سے باہر نکل کر پاکستان کو ایک عام پاکستانی کی آنکھ سے دیکھیں۔ اس شخص کی آنکھ سے جو صبح گھر سے نکلتا ہے، سارا دن محنت کرتا ہے، مہینے کے آخر میں بجلی، گیس، پٹرول، موبائل، اشیائے خورونوش اور نہ جانے کتنی چیزوں پر براہِ راست یا بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن جب وہ ریاست سے اپنے حصے کی بنیادی سہولت مانگتا ہے تو اسے مہنگی تعلیم، مہنگا علاج، بجلی کے بھاری بل، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، نکاسیٔ آب کے مسائل، صاف پانی کی کمی، بے روزگاری، سفارش اور انصاف کے لیے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر اسی شخص کو بتایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں منصوبے بن رہے ہیں یا نہیں۔ یقیناً منصوبے بنتے ہیں، سڑکیں بنتی ہیں، پل بنتے ہیں، عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں، بجلی کے منصوبے لگتے ہیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں کا نتیجہ عام آدمی کی زندگی میں کتنا ظاہر ہوتا ہے؟ اگر ایک خوبصورت سڑک کے ساتھ چند گلیاں ہر بارش میں ندی بن جائیں، اگر ہسپتال کی عمارت موجود ہو مگر ڈاکٹر، نرس، بستر، مشین یا دوا دستیاب نہ ہو، اگر اسکول کی عمارت موجود ہو مگر وہاں ایسی تعلیم نہ ملے جو بچے کو مستقبل کے مقابلے کے قابل بنا سکے، تو ہمیں منصوبے کی تصویر سے زیادہ اس کے نتیجے پر سوال کرنا چاہیے۔

ترقی صرف یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے ارب روپے خرچ کیے۔ ترقی یہ ہے کہ اس خرچ کے بعد کتنے بچے بہتر تعلیم حاصل کر سکے، کتنے مریض بروقت علاج سے صحت یاب ہوئے، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا، کتنے کسانوں کی پیداوار بڑھی، کتنے گھروں کو صاف پانی ملا، کتنے علاقوں میں سیوریج بہتر ہوا اور کتنے خاندانوں کی زندگی آسان ہوئی۔ اگر سرکاری بجٹ بڑھتا رہے مگر عام آدمی کی بنیادی مشکلات اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو ہمیں یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ہماری ترجیحات درست ہیں یا نہیں؟

پاکستان کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم پانچ سالہ سیاسی ادوار میں پچاس سال کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت بدلتی ہے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں، منصوبوں کے نام بدل جاتے ہیں، تختیاں بدل جاتی ہیں اور بعض اوقات پہلے سے جاری منصوبے بھی سیاسی وابستگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اب ایسے قومی منصوبوں کی ضرورت ہے جو حکومتوں سے بڑے ہوں؛ پانی، تعلیم، صحت، توانائی، زراعت، صنعت، برآمدات، آبادی، ماحول اور نوجوانوں کے لیے ایسی پالیسی جو کسی ایک حکومت کے آنے یا جانے سے ختم نہ ہو۔

دنیا میں وہ قومیں آگے نکل گئیں جنہوں نے اپنی سیاست سے اوپر اپنے قومی مفادات کو رکھا۔ ہم نے اکثر سیاست کو قومی ترجیحات پر فوقیت دے دی۔ ہم اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ کس لیڈر نے کیا کہا، کس جماعت نے کس کے خلاف بیان دیا، کس نے کس کو شکست دی، مگر اس دوران ہماری اصل بحث پیچھے رہ جاتی ہے کہ پاکستان کو اگلے دس، بیس اور پچاس سال میں کہاں کھڑا ہونا ہے۔

آج بھی ہمارے سامنے موقع موجود ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، زراعت، صنعت، سمندر، معدنی وسائل، انسانی صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت سب کچھ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان وسائل کو مستقل، شفاف اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت ابھی تک ہماری سب سے بڑی طاقت نہیں بن سکی۔

اور شاید ہماری سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم ان تمام مسائل کے بیچ ایک ایسے بحران کو نظرانداز کر رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں ہماری معیشت، زراعت، خوراک، شہروں اور گھروں تک کو متاثر کر سکتا ہے۔

وہ بحران ہے پانی کا۔

یہ صرف پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں، یہ آنے والی نسلوں کے وجود کا سوال ہے۔

#اعوانیات

 #نوجوان   سیاسی کارکن، نوجوان اور خوابوں کی سیاستتحریر فیصل مقصودسیاست کا مقصد اگر عوامی خدمت، میرٹ اور انصاف کا قیام ہ...
24/06/2026

#نوجوان




سیاسی کارکن، نوجوان اور خوابوں کی سیاست
تحریر فیصل مقصود

سیاست کا مقصد اگر عوامی خدمت، میرٹ اور انصاف کا قیام ہو تو یہ معاشروں کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن جب سیاست ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اقتدار کی ہوس کے گرد گھومنے لگے تو سب سے زیادہ نقصان عام کارکن اور نوجوان طبقہ اٹھاتا ہے۔

سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں میرٹ، روزگار، نوجوانوں کے حقوق اور مساوی مواقع کے دلکش نعرے پیش کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو بہتر مستقبل، روزگار اور ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ اگر فلاں جماعت اقتدار میں آئی تو تعلیم، روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے۔ انہی امیدوں کے سہارے ہزاروں نوجوان سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، جلسوں میں جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر دفاع کرتے ہیں اور اپنی توانائیاں جماعتی مفادات کے لیے صرف کرتے ہیں۔

لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو مختلف وعدوں اور آسروں کے ذریعے متحرک رکھا جاتا ہے۔ کہیں نوکریوں کی امید دلائی جاتی ہے، کہیں مستقبل میں عہدوں اور مراعات کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور کہیں وفاداری کے صلے میں خصوصی فوائد کی توقع پیدا کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی اصل ترجیحات کو پسِ پشت ڈال کر برسوں سیاسی سرگرمیوں میں کھپ جاتے ہیں۔

دوسری طرف جب نوکریوں، ترقیوں یا مراعات کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو اکثر میرٹ کے بجائے سفارش، تعلقات، خاندانی اثر و رسوخ اور مالی طاقت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کئی مواقع پر وہ لوگ آگے نکل جاتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں کے قریب ہوتے ہیں، جبکہ برسوں محنت کرنے والے کارکن صرف وعدوں اور تسلیوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ یوں نوجوانوں کے خواب ٹوٹتے ہیں اور ان کی قیمتی عمر واپس نہیں آتی۔

اسی طرح عوامی خدمت اور تنظیمی سرگرمیوں کے نام پر جمع ہونے والے وسائل اور فنڈز کے بارے میں بھی شفافیت کا فقدان اکثر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ نچلی سطح کا کارکن قربانیاں دیتا ہے، وقت دیتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ وسائل کہاں اور کس طرح استعمال ہو رہے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں سب سے اہم چیز سیاسی شعور ہے۔ ایک کارکن کو کسی جماعت یا رہنما سے وابستگی رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن اسے اپنی عقل، سوچ اور تنقیدی صلاحیت کو کبھی گروی نہیں رکھنا چاہیے۔ باشعور انسان اپنے پسندیدہ رہنما کے درست فیصلوں کی حمایت کرتا ہے اور غلط فیصلوں پر تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کسی بھی معاشرے کو ترقی نہیں دیتی، بلکہ اصولوں، میرٹ اور جوابدہی کا نظام ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔

بحیثیت نوجوان میری نصیحت یہ ہے کہ اپنی زندگی کا محور کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کو نہ بنائیں۔ سیاست میں دلچسپی ضرور رکھیں، ملکی معاملات سے باخبر رہیں، اپنے ووٹ اور رائے کا حق استعمال کریں، لیکن اپنی تعلیم، ہنر، کاروبار اور روزگار کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔ جو وقت آپ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر لگائیں گے، وہی وقت آپ کے مستقبل کی ضمانت بنے گا۔

یاد رکھیں، ایک مضبوط معاشرہ نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، خوددار اور معاشی طور پر مستحکم نوجوانوں سے بنتا ہے۔ لہٰذا کسی کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے اپنے علم، اپنے ہنر اور اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو حقیقی آزادی، عزت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

#اعوانیات

 #مہنگائی  #غربت  #عوام  #انصاف    #مظلوم  #حکمران  #احتساب  #صبر  #اللہایسے بدترین حالات کے تناظر میں انسان جئے بھی تو ...
17/06/2026

#مہنگائی #غربت #عوام #انصاف #مظلوم #حکمران #احتساب #صبر #اللہ

ایسے بدترین حالات کے تناظر میں انسان جئے بھی تو کیسے؟
تحریر فیصل مقصود
گھر کے اخراجات، خوراک، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، مہمان داری، بیماریوں کے خرچے، سواری کے مسائل اور روزمرہ زندگی کی بے شمار ذمہ داریاں جب ایک ہی شخص کے کندھوں پر آ پڑیں تو وہ اپنے دکھ کا اظہار کرے بھی تو کس سے؟ اپنی فریاد سنائے بھی تو کہاں؟ اور اگر کوئی سن بھی لے تو کیا ان مسائل کا کوئی حل نکل آئے گا؟
یہی وہ سوالات ہیں جو انسان کے ذہن میں اضطراب، بے چینی اور انتشار پیدا کر دیتے ہیں۔ آج مہنگائی کے اس طوفان نے تقریباً ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میں ہر اس شخص کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں جو حلال روزی کمانے کے باوجود اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی پریشانیاں دل میں دفن کیے ہوئے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے آنسوؤں اور آہوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں۔
ایسے حالات میں انسان کی نگاہ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھتی ہے، کیونکہ اسی کی ذات غریب، مجبور، لاچار، مظلوم اور بے سہارا لوگوں کی حقیقی مددگار ہے۔ جب زمین والوں سے امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں تو آسمان والے رب کی رحمت ہی دل کو سہارا دیتی ہے۔
لوگ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں اور کردار کے قصے تو بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں، مگر جب انصاف، دیانت، ایثار اور حق گوئی کا وقت آتا ہے تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ آج بہت سے سیاست دان اقتدار حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کرتے ہیں، لیکن جب انہیں اختیار مل جاتا ہے تو وہ اپنی رعایا کے مسائل اور تکالیف سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی پالیسیوں اور غفلت کا بوجھ عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے۔
آخر ایک دن وہ بھی آئے گا جب نہ کوئی منصب کام آئے گا، نہ دولت، نہ طاقت اور نہ ہی ظاہری شان و شوکت۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جسے اختیار، طاقت اور ذمہ داری دی گئی تھی، اس نے اپنی رعایا، اپنے ماتحتوں اور اپنے معاشرے کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
کیا عبادتیں، حج، عمرے اور دیگر نیک اعمال اس وقت کافی ہوں گے اگر بندوں کے حقوق پامال کیے گئے ہوں؟ یہ فیصلہ تو اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، مگر اتنا ضرور ہے کہ اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اور ظلم، ناانصافی اور غفلت ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں انسان کو ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے، مظلوموں کی مدد فرمائے اور ہر صاحبِ اختیار کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس عطا فرمائے۔ آمین۔

#اعوانیات

"میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیرگواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا"تحریر ملک فیصل اعوانآج پاکستان کا عام شہری ایک...
05/06/2026

"میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا"

تحریر
ملک فیصل اعوان

آج پاکستان کا عام شہری ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں جینا دن بدن مشکل اور زندگی ایک مسلسل آزمائش بنتی جا رہی ہے۔ ہر نیا دن ایک نئی مہنگائی، ایک نئے ٹیکس اور ایک نئے معاشی بوجھ کی خبر لے کر آتا ہے۔ بجلی کے بل، گیس کے بل، پانی کے بل، سیوریج کے اخراجات، کچرے کی فیس، پیٹرول پر ٹیکس، اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور روزمرہ زندگی کے بے شمار اخراجات نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ریاست کو ہمیشہ ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ماں اپنے بچوں کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتی ہے اور مشکل وقت میں ان کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھتی ہے۔ مگر آج ایک غریب پاکستانی یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں ہے تو پھر یہ ماں اپنے ہی بچوں پر اتنی سخت کیوں ہو گئی ہے؟ کیا اسے ان گھروں سے اٹھنے والی آہیں سنائی نہیں دیتیں جہاں رات کو والدین اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکنے کے باعث پریشان سو جاتے ہیں؟ کیا اسے وہ آنسو نظر نہیں آتے جو مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے عوام کی آنکھوں سے بہہ رہے ہیں؟

آج ایک عام مزدور، ایک پرائیویٹ ملازم، ایک چھوٹا دکاندار یا ایک کلرک اگر 30 یا 40 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے اور روزانہ صرف 500 روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے تو مہینے کے تقریباً 15 ہزار روپے صرف آمدورفت پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد بچنے والی رقم سے وہ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، دوائیاں، راشن اور دیگر ضروریات کیسے پوری کرے؟ یہ سوال کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کی مشترکہ فریاد ہے۔

مہنگائی کا یہ طوفان صرف بازاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر گھر کی دہلیز عبور کر چکا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، دودھ، گوشت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ تنخواہیں وہیں کھڑی ہیں لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ متوسط طبقہ غریب بنتا جا رہا ہے اور غریب طبقہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔

جس شخص نے بجلی کے مہنگے بلوں سے بچنے کے لیے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کیا، وہ بھی اب مختلف قسم کے اضافی چارجز اور پالیسیوں کے خدشات کا شکار ہے۔ عوام کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بچت کا جو راستہ وہ اختیار کرتے ہیں، کچھ عرصے بعد اسی راستے پر بھی نئے بوجھ ڈال دیے جاتے ہیں۔

عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں کہ قربانی صرف عام آدمی ہی کیوں دے؟ جب بجٹ خسارے کی بات ہوتی ہے، جب معاشی مشکلات کا ذکر ہوتا ہے، تو بوجھ ہمیشہ عوام پر ہی کیوں منتقل کیا جاتا ہے؟ کیا حکمران طبقہ، وزراء، مشیران، اعلیٰ بیوروکریسی اور مراعات یافتہ حلقے بھی اسی طرح قربانی دیتے ہیں؟

عوام کے ذہن میں یہ سوال شدت سے موجود ہے کہ منتخب نمائندوں، وزراء اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو حاصل مراعات، سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، رہائش گاہیں، ایندھن، سفری سہولتیں اور دیگر اخراجات میں کمی کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر واقعی کفایت شعاری وقت کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے، نیچے سے نہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے نظام میں بعض مراعات اور سہولتوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ قومی وسائل کا زیادہ حصہ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے تاکہ ہر شہری کو محسوس ہو کہ اس کے دیے گئے ٹیکس کا فائدہ اسے بھی پہنچ رہا ہے۔

انتخابی مہمات میں عوام کو بڑے بڑے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ سستی بجلی، روزگار، ریلیف، ترقی اور خوشحالی کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ بعض وعدے ایسے بھی کیے گئے جن میں عوام کو بجلی کے حوالے سے خصوصی ریلیف دینے کی بات کی گئی، لیکن آج عام آدمی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان وعدوں کا کیا ہوا؟ وہ وعدے جو عوام کی امید بنے تھے، وہ عملی شکل کیوں اختیار نہ کر سکے؟

غریب آدمی کتنی امیدوں کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ وہ جلسوں میں جاتا ہے، انتخابی نعروں پر یقین کرتا ہے، بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، اپنے پسندیدہ امیدواروں کے لیے وقت اور وسائل صرف کرتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار اس کے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن انتخابات کے بعد جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے، جب بل کم ہونے کے بجائے مزید زیادہ آنے لگیں اور جب زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے تو مایوسی جنم لینا فطری بات ہے۔

ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کی بنیاد پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام نے تبدیلی کی امید میں نئے فیصلے کیے، نئی قیادتوں کو موقع دیا اور نئے وعدوں پر اعتماد کیا۔ لیکن آج بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مہنگائی، پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہو رہے ہیں اور وہ اپنی مشکلات کے حل کے منتظر ہیں۔

ایک جمہوری معاشرے میں شہریوں کا حق ہے کہ وہ سوال کریں، اپنی رائے کا اظہار کریں اور اپنے مسائل حکمرانوں تک پہنچائیں۔ عوام کی آواز سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ہی مضبوط ریاستوں کی پہچان ہوتا ہے۔ جب عوام خود کو سنا ہوا محسوس کرتے ہیں تو ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت اس کے محلات، پروٹوکول یا سرکاری قافلے نہیں بلکہ اس کے کروڑوں محنت کش شہری ہیں۔ یہی مزدور، کسان، اساتذہ، دکاندار، ملازمین اور کاروباری افراد ملک کا پہیہ چلاتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ پریشان اور مایوس ہو جائے تو معاشی ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

عوام کسی عیاشی کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں عزت کے ساتھ جینے دیا جائے، ان کی محنت کا مناسب صلہ ملے، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو، ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور ان کی کمائی صرف بلوں اور ٹیکسوں کی نذر نہ ہو جائے۔

آخر کب تک عوام ہی ہر معاشی بحران کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟آخر کب تک قربانی کا مطالبہ صرف عام آدمی سے کیا جاتا رہے گا؟آخر کبھفجفجفج وہ وقت آئے گا جب ریاست اپنے شہریوں کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھے گی؟

یہ سوال صرف ایک فرد کے نہیں، بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی آواز ہیں۔

#اعوانیات

Address

Lahore
54800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PP 157 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PP 157:

Shortcuts

Share