Pakistan Trade Union Federation - PTUF

Pakistan Trade Union Federation - PTUF

Share

PTUF is a Pakistan-based progressive trade union federation.

02/12/2022
23/11/2022

.













05/04/2020

پریس ریلیز
5 اپریل 2020، لاہور
پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن(پی ٹی یو ایف) کے مرکزی جنرل سیکریٹری صفدر حسین سندھو, عابد حسین صدر ایمپلائز یونین سی بی اے اتحاد کیمیکل کا لا شاہ کاکو محسن ملہی, محمد اسلم, ملک عظمت صدر پاکستان مائنرز ورکرز یونین, راؤ اصغر علی, عنائت بی بی, غلام دستگیر محبوب اور نصرت بشیر ظفر و راجا غلام مصطفی, رف ایاز, مشتاق کشفی نے اپنے مشترکہ بیان میں کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سےصنعتی مذدوروں, دیہاڑی دار مزدوروں کی امداد کے لیے بنائ گئ ٹاسک فورس جو صرف دو وزیروں اور سرکاری افسران پر مشتمل ہے کو مسترد کرتے ہوۓ مطالبہ کیا کہ ہر سطح پر مزدو لیڈروں کو نمائندگی دیا جانا لازمی قرار دیا جاۓ اور ملک کے بدترین معاشی حالات کے پیش نظر فوری طور پہ سہہ فریقی لیبر کانفرنس بلائ جاۓ۔ بصورت دیگر ملک بھر کے محنت کش بھر پور احتجاج کریں گے۔

منجانب صفدر سندھو(پی ٹی یو ایف)

29/03/2020

پریس ریلیز
کوورونا وباء سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کا سارابوجھ محنت کش طبقے پر نہ ڈالا جائے۔ ملازمتوں سے برطرفیوں پر فوری پابندی لگائی جائے، اور سرکار سہہ فریقی لیبر کانفرنس بلائے۔ پاکستان ٹریڈ یونین فیدڑیشن
(پریس ریلیز، لاہور، 29 مارچ 2020): ہم پاکستان ٹریڈ یونین فیدڑیشن کے ممبران کورونا وباء کے آنے کے بعد لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کارخانوں اور کاروبا سے محنت کشوں کیجاری جبری برطرفیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس عالمی وباء نے عالمی سرمایہ دارنہ نظام کی مزدوردشمن پالیسیوں کو بُری طرح بے نقاب کیا ہے۔ سب سے پہلے تو منافع خوری اور لوٹ کھسوٹ جاری رکھنے کے لئے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی،جس کے نتیجے میں آج دنیا بھر میں انسانی بقاء خطرے میں ہے، بشمولِ پاکستان۔ اور پھر سرمایہ دار اور کاروباری حلقے مزدروں پر پل پڑے، اور انکی جبری برطرفیاں شروع کر دیں۔ پاکستان میں درآمدی اور برآمدی آڈرز کی منسوخی کی وجہ سے آج صرف ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری میں تقریباََ 50 لاکھ محنت کش صرف فیصل آباد ریجن میں جبر ی طور پر نوکریوں سے نکالے گئے، اور پنجاب میں 10 لاکھ مزدور بھٹہ خشت سیکٹر سے نکالے گئے، اسی طرح بلوچستان میں مائنز سے تقریباََ آدھے مزدور فارغ کر دئے گئے ہیں۔نیشنل شپنگ کارپویشن سے 30,000 سی پورٹ ورکرز بھی جبری برطرفیوں کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال محنت کش طبقے کے لئے فاقوں کے متراف ہے۔ آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کی گئی جبری برطرفیوں کی مکمل صورتحال واضح ہو جائے گی، تو ہم تفصیلات جاری کریں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس وباء کے نتیجے میں بڑھنے والا معاشی بحران ریاست کے لئے ایک بہت بڑا موقع ہے کہ مزدور دوست پالیسیوں کے ذریعے اس گلے سڑے نظام میں بنیادی تبدیلی کا آغاز کرے۔مگرہماری اطلاعات کے مطابق سرمایہ کار اور کارخانہ دار اپنے لئے کارپوریٹ بیل آوٹ پیکیج ا ور ٹیکس بریک کے لئے سرکار سے مذاکرات کر رہی ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس بحران کا، اور کارپوریٹ بیل آوٹ پیکیج ا ور ٹیکس بریکس (عمران خان ایکسپورٹرزکو 100 بلین روپے کا ٹیکس ری فنڈ کا اعلان کر چکا ہے) کا بوجھ بھی مزدور طبقے اور عام عوام پر پڑے گا۔ اس بحران میں اگر کسی کو پیکیج کی ضرورت ہے، تو وہ صرف اور صرف غربت زدہ اورمحنت کش عوام ہیں۔ ہم محنت کش طبقے کے قیمت پر سرکار اور سرمایہ کاروں / سرمایہ داروں کے درمیان منافع اور ٹیکس بریک کے لئے گٹھ جوڑ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں, اور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
٭ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن فوری طور پر کارخارنہ داروں،مالکان اور یکسپوٹرزسے مذاکرات کے لئے سہہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد کرے، اور کانفرنس میں ملک بھر کی لیبر فیڈریشز کو دعوت دے،جس میں برطرفیوں، معاوضہ، اور ہیلتھ اورسیفٹی کے بارے میں فیصلے ہوں۔
٭ سندھ حکومت کی طرح، باقی صوبائی حکومتیں بھی رسمی اور غیر رسمی س شعبے میں برطرفی پرپابندی لگانے کا اعلان کریں۔ اور تمام صوبوں میں ہاٹ لائن کا قیام کیا جائے جس میں ایمپلائرز کے خلاف جبری بر طرفی رپورٹ کی جا سکے۔
٭ تمام محنت کش خاندان، جو کہ اس بحران میں بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، کی سرکاری لسٹوں میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے، تاکہ انکو بحران کے دوران سرکاری پیکیج کے مطابق کیش اور خوراک ملے۔ اور پیکیج کو کُل 12,000 (Rs.3000/month for 4 months)سے بڑھا کر 30,000 مہینہ کیا جائے۔
٭ تمام ورکرز کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کو یقینی بنایا جائے، خاص طور پر صحت کے شعبے میں کام کرنے والے سٹاف کو فوری طور پر حفاظتی کِٹس فراہم کئے جائیں۔ اورسرکار انکی ہیلتھ انشورنش بھی کرے۔
٭ مزید غیر ملکی قرضے لینے کے بجائے، ملکی غیر پیدارواری اخراجات کو کا ٹ کرصحت اور تعلیم کے شعبوں پر خرچہ بڑھایا جائے، اور فوری نیشنلائز کیا جائے۔

پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک اور محنت کش عوام کی نمائندہ ترقی پسند قوتوں کو اس بحران کے عوام ووست حل کے لئے مشترکہ جدوجہدکی کال دیتی ہے۔

جاری کردہ: صفدر سندھو (جنرل سیکریٹری)
پاکستان ٹریڈ یونین فیڈر یشن

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


5-Mcleod Road
Lahore
54000