Aalu imali bacchon ke ke liye

Aalu imali bacchon ke ke liye

Share

mudasarali

04/03/2022

16 peace
60.Rs
Bumper offer

18/10/2021

Joining group

04/12/2019

علم دراصل انسان کے انفرادی اعمال کے نتائج کو کہتے ہیں جبکہ تعلیم کسی دوسرے انسان کے مشاہدات و تجربات کے بیان کا نام ہے انسان جب کوئی عمل سرانجام دیتا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا ہے، قطع نظر اِس سے کہ وہ مثبت ہو یا منفی بہرحال نتیجہ ضرور نکلتا ہے، پس اسی نتیجے کا نام علم ہے اور اگر ہم اپنے ان نتائج کو یکجا کرکے الفاظ میں بیان کر دیں تو وہ دوسرے انسانوں کے لئے تعلیم کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ پس علم اور تعلیم میں یہی بنیادی فرق ہے۔ تعلیم دراصل معلومات کے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں جو انسان کے انفرادی تجربات سے منزہ ہو، اگر انسان خود عمل کرکے نتائج حاصل کرلے تو وہ عالم کہلاتا ہے۔ معلومات کے اجتماع کے حامل کو عالم نہیں کہا جا سکتا، پس خالص علم عامہ کے لئے ضروری نہیں جس قدر کہ تعلیم ضروری ہے کیونکہ ہر انسان کو ہر قسم کے تجربات کی بھٹی سے نہیں گزارا جا سکتا۔ اس لئے اسے دوسروں کے تجربات کا خلاصہ دے دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے رویے کو مزین کر لے۔

ضرور پڑھیں: لبنانی وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد امریکہ نے لبنانی عوام کو خوشخبری سنادی، اعلان کردیا

انسانی رویے اور تاریخ پر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ انسانی سوچ کبھی جامد نہیں رہی گوکہ انسان اسے حتی الوسع منجمد و مطلق کرنے کی کوشش ضرور کرتا رہا ہے مگر آج تک اس سرتوڑ کاوش میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انسان کو ایسا محسوس ہوا کہ جو شعور آج اس کے پاس ہے ویسا شعور آنے والے کل میں انسان کے پاس نہیں رہے گا، چنانچہ انسان نظریات و اخلاقی اقدار کو جامد کرتا چلا گیا علم کی حقیقت و غایت کی تلاش میں سرگرداں انسان شعور کی روشنی سے بہرہ مند ہونے کے بعد سے سوچنے اور سمجھنے کا اہل ہو چکا تھا چنانچہ سب سے پہلے انسان نے مظاہرِ فطرت پر غور کیا اور پھر بہت سی خود ساختہ تعبیرات متعین کیں جن کو شعور کی بہتری کے ساتھ ساتھ مزید متشرح و منطقی کرتا چلا گیا۔ چنانچہ علم کی ابتدا مظاہرِ فطرت پر غور کرنے سے ہوئی۔ ابتدا میں انسان نے مظاہرِ فطرت کے متعلق عجیب و غریب اور موجودہ شعور کے مطابق تخریب الحواس آرا قائم کی تھیں جنہیں موجودہ شعور ایک ایک کرکے نہ صرف رد کر چکا ہے بلکہ اسکی جگہ عملی تجربات کی بنیاد پر تازہ ترین سائنسی و تکنیکی علوم حاصل کر چکا ہے۔ علم کی حقیقت فی نفسہ نہیں بلکہ اضافی ہے جیسا کہ ماہرِ طبعیات آئن سٹائن نے اپنے نظ

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Hondo Ki
Lahore