I.T City

I.T City

Share

I.T City School ( English Medium ( is located in Ravi Park, Ravi Road, Lahore,

Photos from I.T City's post 06/09/2025

Mukhtar Bajwa sahib . Answer Bajwa sahib today meeting.

Photos from I.T City's post 26/03/2023
26/03/2023

ماں بچے کا رشتہ پہلے ہی بہت مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سی مائیں اپنے بچوں کو دودھ ہی نہیں پلا پاتیں کیونکہ ان کے کام کرنے کے اداروں میں ڈے کیئر موجود نہیں ۔ معدودے چند جن اداروں میں ہیں ان کے احوال چند ایک کو چھوڑ کر ناگفتہ بہ ہیں۔

گھر پر بچہ چھوڑ کر جانے والی ماں کا دل کیسا بے چین ہوتا ہے یہ ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ گھر پر موجود ملازمہ یا رشتے دار جو بچے کو سنبھالتے ہیں ان کے نخرے تو خیر کیا کہنے ۔

اس پر یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ کیسی ماں ہے بچے کو چھوڑ سرخی پاوڈر لگا کر ، باہر نکل گئی ۔ باہر نکلنے والی یہ عورت کبھی بچے کو چھوڑ کر نہ نکلتی اگر اس کے کام کی جگہ پر اس کے بچے کے لیے بھی گنجائش ہوتی۔

ہمارے تمام اداروں ، ان گھروں میں جہاں گھر کے کام کاج میں مدد کرنے والی خواتین آتی ہیں ، دفتروں ، انتظار گاہوں ، شاپنگ پلازوں اور دیگر جگہوں پر جہاں ان ماؤں کو جانا پڑتا ہے ، بچوں کے لیے بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے۔

ایسے کمرے ہونے چاہئیں جہاں مائیں شیر خوار بچوں کو لے جا سکیں ، کچھ دیر چھوڑ کر اپنا کام بھی کر سکیں ۔ بونیر کی اس ماں کا درد کم سے کم مائیں تو محسوس کر سکتیں۔

آج سیاست میں ہی نہیں اقتدار میں بھی کتنی ہی خواتین ہیں ۔ کیا ممکن ہے کہ آج عورت کو ماں کے روپ میں بھی تحفظ ملے ؟ وہ اپنے شیرخوار کے ساتھ کہیں چھپنے کی بجائے ایک محفوظ ماحول میں بیٹھ سکے ؟

26/03/2023

’آنکھیں پھاڑ کر دودھ پلاتی ماں کو دیکھنے کے بجائے مسئلے کو سمجھیں‘

1.

پچھلے سل بونیر یونیورسٹی کی ایک طالبہ اپنے شیر خوار بچے سمیت ادارے کے جنریٹر روم میں دم گھٹنے کے باعث وفات پا گئی ۔ یہ خاتون وہاں اس لیے موجود تھیں کہ اپنے شیر خوار بچے کو لوگوں کی کھوجتی نظروں سے بچا کے دودھ پلا سکے۔

یہ خبر ، چیختی چنگھاڑتی سرخیوں کے جنگل میں کہیں کھو گئی ۔ کسی کو احساس نہ ہوا کہ مردوں کی گھورتی نظروں کا شکار ان ماں بچے کا صرف یہ ہی قصور تھا کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہو گئے جہاں عورت کے جسم کو کبھی ماں کا جسم نہیں سمجھا گیا۔

ہر بات پر ماں کی گالی دینے والے ہر دوسری عورت کو جھٹ بہن کہہ کے سر پر ہاتھ بھی رکھتے ہیں مگر یہ بھی ایک سچ ہے کہ اسی معاشرے میں عورت کو گھورنا ، اس کے لباس میں ملفوف جسم کو بھی تاڑنا ایک عادت ثانیہ بن چکی ہے۔

شیر خوار بچوں کی ماؤں کو بھی عام انسانوں کی طرح باہر نکلنا پڑتا ہے ۔ دفاتر میں کام بھی کرنا ہوتا ہے ، پڑھنے والی خواتین پڑھ بھی رہی ہوتی ہیں ۔ وہی معاشرہ جو چلا چلا کر یہ کہتا ہے کہ ہم سے زیادہ کوئی عورت کی عزت نہیں کرتا ، ان عورتوں کے لیے بچے کے پیدائش پر سال بھر کی چھٹی اور اداروں میں ریٹائرنگ روم کی موجودگی کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھاتا۔

باہر کی بات چھوڑیے ، گھر کے اندر بھی حالات کیا مختلف ہیں؟ شیرخوار بچے کی ماں گھر کے مردوں سے چھپ کر کہیں بیٹھتی ہے تو یہ بات بہت معیوب سمجھی جاتی ہے کہ بچے کو لے کر کمرے میں چھپ گئی۔

چادروں کی اوٹ میں گرمی سے بلبلاتے ، گرمی دانوں میں پھلے شیر خوار بچوں اور ماؤں کو دیکھ کر مجھے بچپن میں ہمیشہ یہ ہی خیال آتا تھا کہ یہ خوبصورت فعل ایک جرم کی طرح کیوں چھپایا جاتا ہے۔

وجہ صاف ظاہر ہے کہ
اس معاشرے میں جہاں سر عام پیشاب کرنے والے مرد ذرا نہیں شرماتے ، شیر خوار بچوں کی مائیں کسی اوٹ میں بھی خود کو بے پردہ ہی سمجھتی ہیں ۔ ماں بچے کے اس تعلق کو سمجھنے کے باوجود گھورتی نظر کیوں ڈالی جاتی ہے؟

بونیر یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس واقعے نے جانے کیا کیا واقعات یاد دلا دیے۔ ماں ہونا آسان نہیں خاص کر اس دور میں جب عورت کی معاشی ذمہ داریاں اسے گھر سے باہر لا رہی ہیں۔

ماں بچے کا رشتہ پہلے ہی بہت مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سی مائیں اپنے بچوں کو دودھ ہی نہیں پلا پاتیں کیونکہ ان کے کام کرنے کے اداروں میں ڈے کیئر موجود نہیں

24/08/2022

واپڈا آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا
واپڈا کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیلے کیسے دیتے ہو؟
*کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو صاحب؟*

افسر۔ کیا مطلب ؟

*کیلے والا :*
مطلب یہ کہ
یتیم خانے کے لئے لے رہے ہو تو *40 روپیہ درجن*
اولڈ ہوم کے لئے لے رہے ہو تو *50 روپیہ درجن*
بچوں کے ٹفن کے لئے *60 روپیہ درجن*
گھر کھانے کے لئے لے رہے ہو تو *70 روپیہ درجن*
اگر پکنک کے لئے خریدنے ہوں تو *80 روپیہ درجن*

*افسر یہ کیا بیوقوفی ہے؟*
ارے بھائی جب سب کیلے ایک جیسے ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟
*کیلے والا:*
پیسے کی وصولی کا اسٹائل تو آپ لوگوں والا ہی ہے
جیسے
*1 سے 100 یونٹ کا الگ ریٹ*
*100 سے 200 کا الگ*
*200 سے 300 کا الگ*
*300 سے 400 کا الگ*

*بجلی تو آپ ایک ہی کھمبے سے دیتے ہو ؟*
تو پھر گھر کے لئے الگ ریٹ
دکان کے لئے الگ ریٹ
کارخانے کا الگ ریٹ

*اور ایک بات۔۔*
میٹر کی قیمت ہم سے لیکر پھر میٹر کا کرایہ الگ لیتے ہو۔۔۔
انکم واپڈا کو ہوتی ہے اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہم سے الگ لیتے ہو
سرچارج اور ایکسٹرا سرچارج کیا بلا ہے جو ہم سے لیتے ہو؟

میٹر کیا امریکہ سے امپورٹ کیا ہے 25 سال سے میٹر خرید کر بھی اس کا کرایہ بھر رہا ہوں ۔۔۔
آخر میٹر کی قیمت کتنی ہے؟ آپ بتا دو مجھے ایک ہی بار
*کڑوا سچ*

23/05/2022

بلوچستان ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کو جوڑنے والے کوہ سلمان پر واقع دنیا کا سب سے بڑا چلغوزہ جنگل اس وقت آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہ جنگل ساڑھے چھ لاکھ کلوگرام سالانہ چلغوزہ فراہم کرتا ہے۔ یہاں چکور ، ہرن ، جنگلی بکرے ، خرگوش سمیت بیسیوں بے زبان چرند و پرند پائے جاتے ہیں۔

مگر پچھلے ڈیڑھ ہفتے میں یہاں لگ بھگ سب بدل گیا۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔

نو مئی کو غیر معمولی خشک موسم میں آسمانی بجلی کڑکنے سے موسیٰ خیل کے علاقے میں پتوں نے آگ پکڑ لی اور 22 کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے ہر درخت و پودے کو راکھ کرتی ہوئی چند روز میں خود ہی بجھ گئی۔ (موسی خیل جنگلی زیتون کے جنگلات کے سبب بھی جانا جاتا ہے۔ مگر یہاں تک پہنچنا آج بھی اٹھارویں صدی میں جانے جیسا ہے۔ جبکہ مکین اکیسویں صدی میں بھی پندرھویں صدی جیسی سہولتیں انجوائے کر رہے ہیں۔)

موسیٰ خیل کی آگ کے دو روز بعد ضلع شیرانی کی جنگلاتی اونچائیوں پر آگ لگ گئی۔ اور یہ آگ تیرہویں روز بھی بھوکی ہے اور روز بروز لمبی ہوتی آتشیں زبان آٹھ سے دس کلومیٹر پرے ترائی میں آباد تقریباً 24 دیہاتوں کو چاٹنے کے لیے بے تاب ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کا جو ادارہ (این ڈی ایم اے) 17 برس قبل سنہ 2005 میں تشکیل دیا تھا وہ ہر قدرتی آفت کے موقع پر ہٹو بچو پکڑو کی تال پر تاتا تھئیا کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں۔

ان 17 برسوں میں کسی بھی قدرتی آفت کے ماروں کے لیے تنبو ، کھان پان یا انخلا کی مہارت دکھانے کے سوا کسی بھی نوعیت کی ناگہانی سے بروقت نمٹنے کی آلاتی و تربیتی صلاحیت اس ادارے کے جسدِ خاکی میں نہیں پھونکی جا سکی۔

جب موسیٰ خیل کی آگ خود ہی دم توڑ گئی اور جب شیرانی کے جنگلات کی آگ کو مقامی افراد محض جبلی صلاحیتوں کی بنیاد پر بجھانے کے لیے مقدور بھر کمر بستہ ہوئے اور اس کام کے دوران تین مقامی شہری بھی جاں بحق ہو گئے ، تب کہیں جا کے این ڈی ایم اے ایک امدادی ہیلی کاپٹر ٹٹروں ٹوں جٹا پائی۔ ذرا آگ کا حجم دیکھیے اور ایک ہیلی کاپٹر پر بھروسہ چیک کریں۔

اب کہیں جا کے دو فوجی ہیلی کاپٹر پانی اور آگ بجھانے والے کیمیکل چھڑکنے کی صلاحیت آزما رہے ہیں۔ کچھ سامان لاہور سے منگوایا گیا ہے۔ سنا ہے ایران نے بھی جنگل کی آگ بجھانے کے خصوصی آلات سے مسلح طیارہ بھیجا ہے۔

ایسے موقع پر ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر آپ میں کسی آفت سے نمٹنے کی مقامی صلاحیت یا وسائل نہیں اور مقابلہ بھی وقت کے ساتھ ہے تو پھر بین الاقوامی امداد کا الارم بجا دینا چاہیے۔ تا کہ وہ ممالک اور ادارے جنھیں اس طرح کی ناگہانیوں سے نمٹنے کا تجربہ ہے آپ کے لیے عاریتاً یا رضاکارانہ کچھ کر سکیں۔

جب آئی ایم ایف اور دوست ممالک کے آگے ہاتھ پھیلانے میں عار نہیں تو قیمتی قومی اثاثے بچانے کے لیے امداد کی اپیل میں آخر کس قسم کی غیرت مانع آ جاتی ہے۔
البتہ عالمی برادری سے اس طرح کی اپیل صرف وفاقی حکومت کرنے کی مجاز ہے۔ لیکن وفاقی حکومت تو ایک صوبے میں حکومت بنانے اور عدالتی اپیلوں میں مصروف ہے۔ رہی بلوچستان کی صوبائی حکومت تو وہاں ہمیشہ کی طرح ’گنجا
کیا نہائے گا
کیا نچوڑے گا ‘
والا معاملہ ہے۔ متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان ، متاثرہ علاقے کا زمینی و فضائی جائزہ اور ایک کے بعد دوسرا اجلاس ، روزانہ تازہ رپورٹ کی طلبی اور امدادی گرانٹ کے اعلان کے سوا
جو کبھی بھی متاثرین کی ہتھیلی تک نہیں پہنچے گی ۔ بے چاری کوئٹہ حکومت کے بس میں اور ہے ہی کیا۔

جنگل کی آگ
جو ریاست اور اس ریاست کا ایک صوبہ صرف ایک ضلع ڈیرہ بگٹی کی ایک تحصیل پیرکوہ میں 40 ہزار کی آبادی کو ہیضے سے نہ بچا سکے اور پینے کا صاف پانی آج بھی وہاں آبِ زم زم کی طرح نایاب ہو، اس ریاست اور صوبائی حکومت سے سینکڑوں مربع میل پر پھیلے چلغوزہ جنگل کی آگ بجھانے کی مہارت کا مطالبہ کرنے والوں کو کچھ شرم اور کچھ حیا ہونی چاہیے۔

جس طرح پیر کوہ میں پھیلنے والا ہیضہ خود بخود ہی شرمندہ شرمندہ سمٹتا جا رہا ہے۔ اسی طرح اگر چلغوزہ جنگل چاٹنے والی آگ بھی کچھ اعلٰی ظرفی دکھا دے تو اس کی مہربانی۔

تو آئیے دوبارہ چلتے ہیں لکی پاکستانی سیاسی سرکس کے تنبو کی طرف۔ جہاں آج بھی پرانے مسخرے کچھ نئے کرتب دکھائیں گے اور آپ کو پہلے کی طرح پسند بھی آئیں گے۔

Photos 07/05/2022

Dr Abdul Qadeer Khan medals
Islamabad

Photos 07/05/2022

Eid UL fitter 1st day with Henny Abdul Qadeer Khan Islamabad

09/02/2022

محترم والدین
السلام علیکم
آئی ٹی سٹی سکولز میں
Subject wise
معالجاتی تدریس
Remedial Learning Course


بروز جمعہ مورخہ

2022 - 02 - 12

سے شروع ہے جس میں تین گھنٹے کے لیے طلبہ کی سکول حاضری یقینی بنائیں

-students
تین نوٹ بکس کے ساتھ سکول آئیں گے.

جزاک اللہ

School Timing :

08:00 am to 11:00 am

Photos 22/01/2022

مزدور گائیک

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مملکتِ خداداد میں 12 موسم ہیں لیکن ایک تیرہواں موسم بھی ہے جو ہر سال کوک سٹوڈیو کا نیا سیزن کہلاتا ہے۔

چینی میں گیس ملا کر مشروب تیار کرنے اور ہماری زمین سے ہمارا پانی نکال کر پلاسٹک کی بوتلوں میں بند کر کے ہمیں بیچنے والی
بین الاقوامی کمپنی اپنے بےبہا منافع کا ایک قلیل حصہ خرچ کر کے موسیقی کا پروگرام بناتی ہے جس پر پورا سال قوم سر دھنتی ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانی جو ہر وقت اپنے ملک کی امیج کی فکر میں مرے جاتے ہیں، وہ بھی سینہ ٹھونک کر دنیا کو فخر سے بتاتے ہیں کہ پاکستانی کوک سٹوڈیو ہندوستانی کوک سٹوڈیو سے کہیں آگے ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنی آواز اس کورس میں شامل کرتے ہوئے اسے پاکستان کا ثقافتی ورثہ قرار دینا شروع کر دیا ہے جیسے اس موسیقی کی جڑیں ہمارے صدیوں پرانے سُروں میں نہیں ہیں بلکہ یہ شاہ محمود قریشی اور وزارتِ خارجہ کے بابوؤں کے ریاض کا نتیجہ ہے۔

کوک سٹوڈیو کے نئے موسم کا آغاز عابدہ پروین اور نصیبو لال کے ایک دو گانے سے ہوا اور پوری قوم نصیبو لال پر فدا ہو گئی۔ اس کی گائیکی پر نہیں، اس کے سُروں پر نہیں، بلکہ اس کے ادب آداب پر۔ جس طرح اس نے عابدہ پروین کے گھٹنے چھوئے، جیسے اس نے ہاتھ باندھ کر گانے کی اجازت مانگی تو پوری قوم عش عش کر اٹھی۔

عابدہ پروین تو ویسے ہی پاکستان کے ملنگوں کی ملکہ ہیں۔ ان سے تو سب عاجزی کی ہی توقع رکھتے ہیں لیکن نصیبو لال کے انداز دیکھ کر سب کہہ اٹھے کہ یہ ہے ہمارا کلچر، یہ ہیں ہماری اصلی روایات، بڑوں کی عزت، بزرگوں کا احترام وغیرہ وغیرہ۔

نصیبو لال کو ہماری تہذیبی شناخت قرار دینے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سوشل میڈیا پر دن کا آغاز قرآنی آیات سے کرتے ہیں اور عصر تک اپنے ناپسندیدگان کی ماؤں کو گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔

ہماری پڑھی لکھی، شائستہ، اور تہذیب کی قدردان قوم نے نصیبو لال کو اس سے پہلے پی ایس ایل کے ترانے میں دیکھا تھا اور اس کے انگریزی تلفظ کا مذاق اڑایا تھا۔

اس سے پہلے کبھی کبھی اُن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ کوئی نصیبو لال ہے جو پنجابی میں گندے گانے گاتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ بھی کہا گیا کہ کیا یہ گانے کوئی ماں بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر سن سکتا ہے؟ (یہ کہنے سے پہلے کبھی ماں بہنوں سے نہیں پوچھا جاتا۔)

کسی طرح کا فن عموماً اور گلوکاری خصوصاً ایسا شعبہ ہے کہ ساری عمر محنت کرتے رہو تو ہو سکتا ہے پھر بھی پھل نہ ملے۔ نصیبو لال نے بھی بچپن سے محنت کی۔ میلوں میں، بسوں میں گڑوی بجا کر روزی کمائی۔

جب قسمت نے یاوری کی تو بھی نصیب کا ملا لیکن کم کم۔ ایک دن میں چھ چھ گانے ریکارڈ کروائے۔ ایک پکھی واس گھرانے سے تعلق ہوتے ہوئے اپنے خاندان کے لیے پکا گھر بنوایا، اپنے بچے پالے اور پاکستانیوں کے طعنے سنے کہ نصیبو کون، وہ گندے گانے والی؟

دس سال پہلے پاکستان کا نظامِ عدل حرکت میں آیا اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب نے نصیبو لال اور اُن کی کم معروف لیکن انتہائی ٹیلنٹڈ بہن نوراں لال کے 41 گانوں کو فحش قرار دے کر پابندی لگا دی۔

جج صاحب کو پتا نہیں اپنے موسیقی کے خلاف منائے گئے ہفتہ صفائی میں نصیبو لال کے ہزاروں گانوں میں سے صرف 41 گانے کیسے فحش لگے اور اُنھوں نے یہ سارے گانے پتا نہیں گھر میں ماں بہنوں سے چھپ کر سنے یا اپنے عدالتی چیمبر میں۔

نصیبو لال ایک مزدور گائیک ہے اور پی ایس ایل اور کوک سٹوڈیو سے پہلے اس کے سامعین کا تعلق بھی اکثر مزدور اور مرد طبقے سے تھا یا اُن کے گانے اُن بہنوں کے لیے تھے جو سٹیج پر یا نجی محفلوں میں رقص کر کے اپنی روزی کماتی ہیں۔

نصیبو لال نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے آپ کو گھر میں رکھا ہوا وہ طوطا کہا تھا جس سے چاہو تو کلامِ پاک پڑھوا لو، چاہو تو گالیاں سن لو۔

اُنھوں نے اسی انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ چلو نصیبو لال تو بدنام ہوئی لیکن ان فلم پروڈیوسروں کی، ان سینسر والوں کی کوئی بدنامی نہیں ہوئی جو یہ فلمیں بناتے رہے اور پاس کرتے رہے۔ اگر میں نے ہزار گندے گانے گائے ہیں تو چار اچھے بھی گائے ہوں گے، اُنھیں بھی یاد کریں۔

نصیبو لال نے جتنے بھی خوبصورت اور گندے گیت گائے ہیں ان میں سے تقریباً 90 فیصد الطاف نامی شاعر نے لکھے ہیں۔

ان سے آج تک کسی نے نہیں کہا کہ اپنا نام دیکھو اور اپنے کام دیکھو۔

نصیبو لال کے زیادہ تر گانوں کی موسیقی ایک بزرگ موسیقار طافو صاحب نے دی۔ ان سے بھی کسی نے نہیں پوچھا کہ ایسی کیا مجبوری آن پڑی کہ دنیا کے سارے ساز بجا لیتے ہیں تو نصیبو لال سے یہ کیا کروا رہے ہو۔

آخر کار قوم نے اپنے مزدور گائیک کو عزت دی جو اس کا حق تھا۔

اب وہ نوجوان بچے اور بچیاں جن کو دوسری کلاس میں گٹار، پانچویں میں پیانو کے استاد کی شاگردی میں دے دیا جاتا ہے، وہ بھی نصیبو لال سے کچھ تہذیب سیکھیں اور بزرگ یہ سوچیں کہ جو آپ اپنی ماؤں بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتے یا دیکھ سکتے، ان کے ساتھ کسی اور کی ماں اور بہن کا رزق جڑا ہوا ہوتا ہے۔

Muhammad Haneef

07/01/2022

استاد یا ماں: بچوں کی شخصیت پر کون زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ بچہ سب سے پہلے اگر کسی شخصیت کو تسلیم کرتا ہے یا اس کا اثر قبول کرتا ہے تو وہ اسکی ماں ہی ہے۔ مگرماں کا حلقہ عمل بہت محدود ہوتا ہے۔
سوفیا میکن
سکول کے ماحول کو قابل قبول یا نا قابل برداشت بنانا استاد کے ہاتھ میں ہے۔ جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ایک استاد بچے کی ذہنی صحت اور اسکی شخصی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے یا کر سکتا ہے

’مجھے ایک درجن تندرست بچے دو، اور مجھے اختیار دو کہ میں ان کی اپنی خاص دنیا میں ان کی پرورش اور تربیت کر سکوں، تو میں ان بچوں کو کسی بھی شعبے میں ماہر بنا سکتا ہوں پھر چاہے وہ ڈاکٹر ہو، وکیل ہو، فنکار ہو یا سوداگر ۔۔۔۔۔۔۔‘

یہ الفاظ تھے ایک صدی قبل کے مشہور امریکی ماہر نفسیات جان واٹسن کے جنہیں نظریہ کردار کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔

واٹسن کے یہ الفاظ بہت حد تک ہمارے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ بچوں کو سکول میں ایک خوشگوار اور مددگار ماحول فراہم کر کے انہیں اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ زندگی کے جس شعبے میں بھی چاہیں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ اور اس کارخیر میں ایک بچے کا سب سے بڑا مددگار اس کا استاد ہی ہو سکتا ہے۔

بہت سے لوگ اس بات پر بھی بحث کرتے ہیں کہ بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور جتنی اچھی طرح ماں کی تربیت بچے کی شخصیت کی بنیاد اٹھاتی ہے اتنی اچھی طرح استاد شاید نہیں کر پاتا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بچہ سب سے پہلے اگر کسی شخصیت کو تسلیم کرتا ہے یا اس کا اثر قبول کرتا ہے تو وہ اس کی ماں ہی ہے۔ مگر ماں کا حلقہ عمل بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے تک بچے کو سمجھا سکتی ہے، اس کی رہنمائی کر سکتی ہے۔ اس سے آگے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ اور یہاں سے استاد کا کردار صحیح معنوں میں شروع ہوتا ہے، جب بچہ گھر اور محلے سے نکل کر اس سے آگے کی دنیا کو کھوجنے کی کوشش کرتا ہے۔

بچے کی طبعی عمر اور ذہنی عمر

بچے کو سکول میں اس کی طبعی عمر کے مطابق داخل کروایا جاتا ہے۔ یہ عمر اس خاص جماعت میں موجود طالبعلموں کی تقریباً ایک ہوتی ہے۔ اسی عمر کے لحاظ سے بچہ سکول کے تعلیمی مراحل طے کرتا ہے۔

جیسے جیسے اس کی طبعی عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے وہ سکول کے تعلیمی مراحل میں آگے بڑھتا جاتا ہے۔ طبعی عمر کے ساتھ ساتھ بچے کی ذہنی عمر بھی اس کی شخصی نشونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس طرح طبعی عمر بچے کی پیدائش سے لے کر اس وقت تک کے سالوں کو ظاہر کرتی ہے اسی طرح ذہنی عمر بچے کی ذہانت اور فطانت کی بتدریج بڑھوتری کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ دونوں بظاہر بلکل مختلف تصوورات ہیں مگر درحقیقت دونوں ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا بچے کی شخصیت پر مختلف اثر پڑتا ہے۔ طبعی عمر بچے کی خوراک یا اسکی صحت سے متعلق ہوتی ہے جب کہ ذہنی عمر بچے کی ذہنی صحت سے متعلق ہوتی ہے۔

اگر ہم معاشرے میں صحتمند افراد کا اضافہ چاہتے ہیں تو ہمیں بچوں کی جسمانی صحت پر زور دینا چاہے، اور اگر ہم معاشرے میں ذہنی طور پر مظبوط اور صحتمند افراد کا اضافہ چاہتے ہیں تو ہمیں بچوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ انکی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔

استاد کا کلیدی کردار

جسمانی صحت کی ذمہ داری اگر گھر کی ہے تو ذہنی صحت کی ذمہ داری سکول کی اور سکول میں خاص طور پر استاد کی ہے۔ سکول میں داخل ہونے کے بعد بچہ کیا سیکھے گا اور کیسے سیکھے گا ان سب کا فیصلہ استاد کرتا ہے۔

استاد اگر بچے کو ایک مددگار اور پرسکون ماحول مہیا کرنے میں کامیاب ہو جائےتو بچہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اپنی تمام ذہنی صلاحتوں کو بروئےکار لاتے ہوئے اپنی ذہنی استعداد کو بڑھا سکتا ہے۔ ماحول کے ساتھ ساتھ استاد کا بچے کے ساتھ رویہ بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

استاد کا رویہ اگر ایک ہمدرد ، ایک گائیڈ اور ایک مددگار کا ہوگا تو بچہ سیکھنے کے عمل کو خوشی خوشی گزارے گا اور اگر استاد کا رویہ ایک آمر کا ہے جسکی کہی ہوئی بات حرف آخر ہو اور وہ بچوں کو کچھ نیا سیکھنے کا، یا کوئی سوال پوچھنے کا موقع نہ دے تو بچے کی ذہنی صلاحتیں بڑھنے کی بجائے منجمند ہو جائینگی۔

ایسا بچہ طبعی لحاظ سے تو اپنی عمر میں آگے بڑھتا جائے گا مگر اسکی ذہنی عمر نہیں بڑھ پائے گی۔ جس کا براہِ راست اثر اسکی ذہنی صحت پر پڑے گا۔ اور ایسے اساتذہ اور ایسا ماحول صرف ڈرے سہمے اور رٹو طوطے بچے، جو کچھ نیا سیکھنا یا سمجھنا نہیں چاہتے، ہی پیدا کریں گے۔

ایک اچھا استاد وہ ہے جو بچوں کو یہ ضرور بتائے کہ کہاں دیکھنا ہے مگر یہ نہ بتائے کہ کیا دیکھنا ہے۔ یعنی بچے کو معلومات یا علم ضرور مہیا کرے مگر انہیں اس قابل بھی بنائے کہ وہ ان معلومات یا دیے گئے علم سے فائدہ خود اٹھائیں۔

استاد چاہے تو وہ بچے کے سیکھنے کے عمل کو خوشگوار بنا دے، چاہے تو بچے کے لیے اس عمل کو صرف ایک عمل ہی رہنے دے جسے پایا تکمیل تک پہنچانا اسکی مجبوری بن جائے۔

اس بات پر جتنا بھی زور دیا جائے اتنا کم ہو گا کہ ایک اچھے ماحول میں سیکھنے کا عمل بچوں کی ذہنی صحت پر اچھا اثر ڈالتا ہے، ان کی صلاحتوں کو اجاگر کرتا ہے، ان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحتوں کو بھی ڈھونڈ سکیں اور انہیں بہتر سے بہتر بنا سکیں۔

جب کہ سختی اور تنگی والا ماحول بچوں کی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحتوں پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ سکول کے ماحول کو قابل قبول یا نا قابل برداشت بنانا استاد کے ہاتھ میں ہے۔ جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ایک استاد بچے کی ذہنی صحت اور اسکی شخصی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔

ہم من حیث القوم استاد کو جتنا اختیار دیں گے کہ وہ بچے کی ذہنی نشونما پر اثر انداز ہو سکے اور اس کو ایک بہترین ماحول سیکھنے کے لیے مہیا کر سکے اتنا ہی ہماری آنے والی نسل جسمانی طور پر اور ذہنی طور پر صحت مند ہو گی۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore
5400

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 14:00
Wednesday 09:00 - 14:00
Thursday 07:00 - 14:00
Friday 07:00 - 14:00
Saturday 07:00 - 12:00