22/10/2024
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️
.
.
.
.
صل اللہ علیہ والہ وسلم
22/10/2024
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️
.
.
.
.
کیا بنگلادش کے محمد یونس ٹائپ کا بندہ پاکستان میں ھے۔ آخر کون ہے یہ ڈاکٹر یونس ؟؟
بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے عبوری حکومت کے لئے جس ایک شخص کا مطالبہ یا یوں کہیے شرط رکھی ہے اسی سے انکی وطن سے محبت ، ہوشمندی اور مستقبل سنوارنے کا عزم اور میرٹ کا انتخاب دیکھائی دے رہا ہے
ڈاکٹر محمد یونس بنگلادیش میں موجود گرامین بینک کے بانی ہیں جنہیں 2006ء مائیکرو فنانس بینک کے ذریعے لوگوں کو غربت سے نکالنے پر نوبیل انعام دیا گیا تھا۔
بات ہے 73-1972 کی ۔ جب چٹا گانگ یونیورسٹی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر محمد یونس نے غریب عوام خصوصاً خواتین کو خط غربت سے نکالنے کے لئے چھوٹے قرضوں ( مائیکرو فنانسنگ) کا ایک اچھوتا پروجیکٹ پیش کیا ۔ نام تھا گرامین بنک ، مطلب دیہاتی بنک ۔
محمد یونس اپنا پروجکٹ لئے ہر حکومتی دروازے تک گیا ، ہر بنک اور بنکار سے مدد مانگی لیکن کسی نے حامی نہ بھری ۔
تب محمد یونس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی کسی ایک گاؤں سے اس پروجیکٹ کا آغاز کرے گا ۔ اپنی جیب سے 800 ٹکہ اور دوستوں کی مدد سے 3 ہزار ٹکہ جمع کر کے 1974 میں گرامین بنک کی بنیاد رکھی ۔ جسکی نہ کوئی عمارت ، نہ ملازمین ۔ بس ایک قلم اور رجسٹر اور 3 ہزار ٹکہ۔
یونس نے چٹا گانگ کے ایک قریبی گاؤں سے آغازکیا ۔ 5 خواتین کو ایسے چھوٹے کاروبار کے لئے قرضہ دیا جن کے بارے خود خواتین نے فیصلہ کیا کہ وہ بہتر کر سکتی ہیں ۔ مثلآ
پٹ سن سے کپڑا بنانا
ٹوکری/ روٹی والے خوبصورت ڈبے بنانا
مرغی اور بطخ بانی اور انڈے کا کاروبار
کپڑوں کی سلائی اور ان پر کڑھائی
ڈیزائن والی چٹاٹی بنانا
قرضے پر سود بھی تھا ۔ جس نے سو ٹکہ لیا وہ ایک سو دس ٹکہ دے گا ۔ لیکن کاروبار شروع ہو جانے پر اور وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر ۔ کم از کم ایک ٹکہ روزانہ ، یا جو آسانی سے دے سکو ۔۔
سائیکل پر ایک بنک آفیسر روزانہ ان خواتیں کے گھر جاتا اور نہ صرف ایک ٹکہ لے آتا ۔ بلکہ مال بیچنے میں ان کی مدد بھی کرتا ۔ قرض پر سود دراصل اسی سائیکل والے بنک آفیسر کی تنخواہ تھی ۔
جب اتنی رقم واپس ا جاتی کہ اگلے گھر کو قرضہ دیا جا سکے تو چھٹا گھر شامل ہو جاتا۔
اس طرح قرضے کے منتظر گھر بھی خیال رکھتے کہ پہلوں کے کاروبار کامیاب ہوں ۔ بروقت قرض واپس ملے تاکہ وہ بھی شامل ہو سکیں ۔
قرض کی شرائط بھی انوکھی تھیں
@ قرض لینے والا بچوں خصوصاً بچیوں کو سکول بھیجنے گا
@ چھوٹی عمر کے بچوں کی شادی نہیں کرے گا
@ شادی پر جہیز لینے یا دینے والوں کا قرضہ منسوخ کر دیا جائے گا
@ قرض لینے والا 10 درخت لگائے گا جس میں پھل دار درخت بھی شامل ہوں ۔
@ گھر ، رسوئی اور باتھ روم کی صفائی لازم ہو گی ۔ ہاتھ دھوئے بغیر کھانے نہیں کھائیں گے ۔ خواتیں ماہواری کے دوران صفائی کا خاص خیال رکھیں گی ۔
@ عورت یا بچوں کو مار پیٹ کرنے والے مرد کو قرضہ نہیں ملے گا
محظ دو سال کے بعد اس گاؤں میں آئی معاشی خوشحالی کی شہرت پھیلنے لگے ۔ مزید چند سالوں میں گرامین بنک درجنوں دیہاتوں میں پہنچ چکا تھا ۔ میڈیا پر چرچے ہونے لگے تو حکومت بھی متوجہ ہوئی ۔
1984 میں حکومت نے گرامین بنک کو ریگولر بنک کا سٹیٹس دے دیا ۔
بین الاقوامی شہرت ملی تو بڑھے ادارے دیکھنے پہنچ گئے ۔ ورلڈ بنک نے اس ماڈل کو گود لے لیا اور 64'ممالک میں اس ماڈل کو نافد کرنے کے پلان پر عمل شروع کیا ۔
اسی گرامین بنک سے مستفید خواتیں نے بنگہ دیش کی صنعتی ترقی میں اہم ریسورس کا کردار ادا کرتے ہوئے صنعتی انقلاب کی داغ بیل ڈالی ۔
آج دنیا کی تقریباً ہر بڑی یونیورسٹی میں گرامین بنک کو بطور کیس سٹڈی پڑھایا جاتا ہے ۔
2006 میں پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کو مائیکرو فنانسنگ کے ایسے شاندار ماڈل پر نوبل انعام سے نوازا کیا ۔
ڈاکٹر یونس صرف گرامین بنک تک نہیں رکے ۔ انہیں نے لگ بھگ 50 مزید ادارے اور صنعتیں بنگلہ دیش کا معاشی ستون بنائے ۔
کیونکہ ڈاکٹر محمد یونس شیخ حسینہ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے تو شیخ حسینہ نے ڈاکٹر یونس کو بھی نہ بخشا ۔ ان کے خلاف کیس بنائے گئے ۔ ہراساں کیا گیا ۔ جس پر ڈاکٹر یونس ملک چھوڑ گئے ۔
آج بنگلہ دیش میں گرامین بنک کی 2656 برانچیں ہیں اور یہی ڈاکٹر محمد یونس آج کے بنگلہ دیشی یوتھ کی پہلی ترجیح ہے۔
Astaghfirullah
https://www.facebook.com/share/v/cMgRLwJTtB8tpRuk/?mibextid=UVffzb
07/02/2024
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
۔وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰی. مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی. وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی.
(النجم، 53: 1 تا 4)
’’قسم ہے روشن ستارے (محمد ﷺ) کی جب وہ (چشم زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے۔ تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسول ﷺ جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے۔ اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔‘‘
۔
حضورنبی اکرم ﷺ کی معراج کے بیان کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کو سورج، چاند، ستاروں کی قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ معراج النبی ﷺ سے ان اشیاء کی کوئی مناسبت اور جوڑ نہیں بنتا۔ لہذا یہاں ’’النجم‘‘ سے مراد وہ ستارہ نہیں جو آسمان پر چمکتا ہے بلکہ اس سے مراد ذاتِ مصطفی ﷺ ہے۔
۔
امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
۔
النجم ھو محمد ﷺ.
(تفسیر المظهری، 9: 103)
۔
’’ستارے سے مراد سیدنا محمد مصطفی ﷺ ہیں۔‘‘
سورج ستارہ ہے جبکہ چاند (قمر) سیارہ ہے۔ سیارے کی اپنی روشنی نہیں ہوتی، وہ چمکتا ہوا نظر ضرور آتا ہے مگر اس کے اپنے اندر نورنہیں ہوتا۔ چاند اور زمین ایک سیارہ ہیں، جس طرح ہم اہل زمین کو چاند چمکتا ہوا نظر آتا ہے، اسی طرح اگر ہم چاند پر چلے جائیں تو ہمیں زمین چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ گویا نور چاند اور زمین کا اپنا نہیں ہے بلکہ نور سورج کا ہے، اسکی روشنی جب نظام شمسی کے سیاروں پر پڑتی ہے تو وہ روشن ہوجاتے ہیں جبکہ دوسری طرف ستاروں کی اپنی روشنی اور حرارت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر مختلف گیسیں اور مادہ رکھا ہے جن کے جلنے سے نور اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔
۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو کسی بھی جگہ چاند (قمر) نہیں کہا۔اس لیے کہ حضور نبی اکرم ﷺ دنیا میں کسی کے نور سے نہیں چمکتے بلکہ آپ ﷺ کو اللہ کا عطا کردہ نور حاصل ہے۔ باقی ہر نبی اور ولی چاند اور سیاروں کی مثل ہیں اور وہ نورِ مصطفی ﷺ کی روشنی سے منور ہیں۔ آپ ﷺ تو ایسا سورج ہیں کہ خود تو چمکتے ہی ہیں مگر جس پر توجہ فرمادیں، اسے بھی چمکا دیتے ہیں۔۔۔ جس پر اپنے فیض کی کرنیں ڈال دیں، اسے بھی نور کردیتے ہیں۔۔۔ خود تو نور ہیں مگر جدھر توجہ کردیں، اسے بھی نور کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو سورج اور ستارے سے تشبیہ دی مگر کسی بھی جگہ چاند سے تشبیہ نہیں دی۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کے سفر معراج کو بیان کرنے سے قبل آپ ﷺ کو ’’النجم‘‘ فرمایا۔
06/02/2024
بےشک
Copy
کہا جاتا ہے کہ لندن کےایک امام صاحب روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہوتے۔
لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر بیٹھ گئے۔
ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پینس زیادہ آگئے ہیں۔
پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ اُنکا حق نہیں بنتے۔
پھر سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر رکھ لیتا ہوں۔
اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ آگیا۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛
یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے۔
ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛
کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟
میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔
یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔
امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنےکیلئے ایک بجلی کے پول کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی،
یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔
یاد رکھئیے
بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔
یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔
کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے.
اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں۔
آج کل کتابیں پڑھنے کا دور نہیں لوگ روئیے پڑھتے ہیں۔ کان خلقہ القرآن کا یہی مطلب ہے
Copy
قوم لوط جنہوں نے ایسی برائی کو ایجاد کیا۔ جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہ کی تھی۔ ایسی بدکاری جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس قوم نے ایسا کیا کام کیا تھا اور ان کا کیا انجام ھوا۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے ایک برگزیدہ نبی تھے آپ کے والد کا نام حاران تھا جو تابش کے بیٹے تھے آپ کی پیدائش عراق کے قدیم شہر "عر" میں ہوئی تھی اس شہر میں ابراہیم علیہ السلام کا مسکن تھا۔ دراصل لوط علیہ السلام کے والد حاران حضرت ابراہیم کے سگے بھائی تھے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے والد حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے چونکہ حضرت لوط علیہ السلام کے والد ان کے بچپن میں ہی انتقال کر چکے تھے لہذا حضرت لوط کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹا بنا کر پالا تھا آپ حضرت ابراہیم پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہیں
آپ حضرت ابراہیم کے زمانے میں اہل سدوم کی رہنمائی کے لئے نبوت کے منصب پر فائز ہوئے ۔ حضرت لوط کے بہت سارے معجزات ہیں آپ جس وقت بارش کے لیے دعا کرتے تھے تو آسمان بادلوں سے بھر جاتا اور خوب بارش ہوتی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام جس پتھر پر سر رکھ کر سوتے تھے اس پتھر پر آپ کے سر مبارک کا نشان بن جاتا تھا سدوم وہ علاقہ تھا جہاں لوط علیہ السلام مبعوث فرمائے گئے
سدوم کے آس پاس پانچ نہایت ہی خوبصورت شہر آباد تھے جن میں سے ہر ایک کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی یہ علاقے نہایت سرسبزو شاداب اور قدرت کی فیاضی کا حسین شاہکار تھا یہاں باغات کی کثرت تھی لہلہاتی کھتیاں یہاں کی ضروریات سے زیادہ تھیں اردن، شام اور اسرائیل کے درمیان بسا ہوا۔ یہ علاقہ نہایت ہی زرخیز تھا وہاں طرح طرح کے اناج پھل میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ آس پاس کی بستیوں کے لوگ، اپنی معاشی اور غذائی ضرورت کے لئے ان بستیوں کی طرف آتے تھے مگر یہ بات اہل سدوم کے لوگوں کو بالکل بھی پسند نہ تھی ان کے خیال میں ان کی بستیوں میں پیدا ہونے والے پھلوں اناج اور سبزیوں پر صرف ان کا ہی حق تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ دوسری بستیوں کے لوگ ان کے علاقے میں آئیں۔ ایک دن سدوم کے لوگ اس بات پر غور و فکر کر رہے تھے
کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو یہاں آنے سے آخر کیسے روکا جائے۔ کہ ایک بزرگ کی شکل میں ابلیس ان کی محفل میں آیا اور کہا اگر تم ان سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہو تو میرے کہنے پر عمل کرو۔ اس اجنبی بزرگ کی بات لوگوں نے بہت توجہ سنی۔ اور ابلیس نے کہا باقی بات میں کل بتاؤں گا۔ دوسرے دن کی ابلیس ایک خوبصورت جوان لڑکے کے بھیس میں آیا
اور انہیں اپنی عورتوں کی بجائے۔ مردوں کے ساتھ فیل بد کرنا سکھایا۔ ابلیس نے کہا کہ اگر تم ان بستیوں کے لوگوں سے نجات چاہتے ہو۔ جو تمہاری بستی میں آ جاتے ہیں تو ایسا کرو کہ جب بھی کوئی شخص تمہارے علاقے میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرو۔ اس طرح یہ لوگ اس بستی میں آنا چھوڑ دیں گے۔ اپنی نفسانی خواہشات کے لیے مردوں سے بد فعلی اس قوم کا دستور بن گیا تھا۔
یہاں بے حیائی عام ہوگئی تھی۔ حکمران، سردار، رعوسہ، ہر طبقے میں گھر گھر یہ عمل پھیل گیا تھا۔ بھری محفل میں یہ لوگ اس فحاشی کے اس کام کو کر کے خوش ہوتے تھے کوئی بھی محفل اس کام کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھی۔ خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔ لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔ لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔ اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، جبرائیل اور اسرافیل علیہ السلام تھے پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔ تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں، حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔ قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فیل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔ جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔ جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بہرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔ شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی
اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے اور اس فحش عمل کو بعاعث فخر سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم جنس پرستی بالکل فطرت کے خلاف ہے جس سے انسانی معاشرہ تباہ وبرباد ہو جاتا ہے۔
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے۔ حضرت ابن عباس سے روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص پر اللہ پاک کی لعنت ہو جو قوم لوط والا عمل کرے
28/12/2022
Aslamo alakum
23/12/2022
جمعہ مبارک
22/12/2022
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 22:00 |
| Wednesday | 09:00 - 22:00 |
| Thursday | 09:00 - 22:00 |
| Friday | 09:00 - 22:00 |
| Saturday | 09:00 - 22:00 |
| Sunday | 09:00 - 22:00 |