12/12/2017
Shan e Adab
اچھی اچھی تحریروں کے لئیے ہمارا پیج لائک کریں
12/12/2017
12/09/2017
اسی کی بات لکھی ، چاھے کم لکھی ہم نے
اسی کا ذکر کیا چاھے ۔۔۔۔ خال خال کیا
تمہارے ہجر میں مرنا تھا کونسا مشکل
تمہارے ہجر میں زندہ ہیں ۔۔ یہ کمال کیا
عجیب بات ہے نہ...!!!
آنسو چهپانے میں ہمیشہ مسکراہٹ ہی مدد دیتی ہے...
آنکھوں میں آنسوں نہ ہوں تو دل کی قوس قزاح نظر نہیں آتی۔۔۔۔
لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں
حضرت شمس تبریز رحمت اللہ علیہ بغداد کی حدود سے نکلے ھی تھے کہ اچانک بادشاہ کا بیٹا بیمار پڑ گیا اور دوسرے دن مر گیا. بادشاہ کو گمان گزرا شاید یہ سب واقعہ حضرت شمس تبریز رح سے بدسلوکی کی وجہ سے رونما ھوا ھے. بادشاہ نے اپنے مشیران کو حکم دیا. کوئی بھی صورت ھو انہیں بغداد واپس لاو.
حکم پاتے ھی مشیران تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے. شاھی قاصدوں نے انھیں جا لیا پھر دست بدست عرض کی حضور واپس بغداد تشریف لے چلیں
یہ سن کر حضرت شمس رح کے چہرے پر اذیت کا رنگ ابھر آیا کل جس جگہ مجھے ذلیل کیا گیا آج پھر اسی مقام پر جانے کا کہ رھے ھو؟؟؟؟
حضرت شمس رح نے انکار کر دیا لیکن شاھی کارندے بہت دیر تک عاجزی کا مظاہرہ کرتے رھے تو آپ کو ان پر رحم آ گیا
جب آپ شاھی محل پہنچے وہاں صف ماتم بچھی ھوئ تھی
یہ سب کیا ھے آپ نے بادشاہ سے پوچھا
یہ میرے جواں مرگ بیٹے کی میت ھے آپ کے بغداد سے جاتے ھی اچانک بیمار ھوا اور دیکھتے ھی دیکھتے آغوش فنا میں چلا گیا
میں سمجھتا ھوں آپ کی دل آزاری کے باعث میرا بیٹا اس انجام کو پہنچا. شدت غم سے بادشاہ کی آواز کانپ رھی تھی.
فی الواقع اگر یہی بات ھے تو آپ کے بیٹے کو سزا کیوں ملی؟؟؟ گناہ تو آپ نے کیا تھا. حضرت شمس رح نے فرمایا
ممکن ھے قدرت نے. میرے لیے یہی سزا منتخب کی ھو کہ تمام عمر بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہوں. بادشاہ نے کہا.
میری درخواست ھے کہ آپ میرے بیٹے کے حق میں دعائے خیر فرما دیں. بادشاہ نے کہا ھو سکتا ھے آپ کی دعاؤں سے اسے نئی زندگی مل جائے.
ایسا ھوتا تو نہیں ھے پھر بھی تمہاری تالیف قلب کے لیے مالک کی بارگاہ میں عرض کیے دیتا ھوں. ایوان شاھی کے ایک کمرے میں ابھی دعا کے الفاظ کی گونج باقی ھی تھی کہ شہزادے کے جسم کو جنبش ھوئ اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ حضرت شمس تبریز رح کے قدموں میں گر گیا کہ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ھے
ھرگز نہیں یہ تو قادر مطلق کی کرم نوازی کا ادنی سا مظاہرہ ھے جو اپنی ذات میں لاشریک ھے اسی کا شکر ادا کرو. آپ رح نے فرمایا.
یہی کرامت آپ کے لیے وبال جان بن گئی. لوگوں نے آپکو شعبدے باز کہا اور آپ کے خلاف صف آراء ھو گیے.
حضرت شمس تبریز رح کی کھال کھینچ لی گئی اسی حالت میں بغداد سے نکال دیا جب آپ لہو لہان تھے
ولی عہد سلطنت شہزاد محمد کو آپ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ھوے تو شہزاد محمد بھی آپ کے ساتھ ھو لیے.
بغداد سے نکل کر ھندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت کے بعد ملتان پہنچے اور سکونت اختیار کی
ملتان کے لوگوں نے بھی اھل بغداد کی طرح آپ کی مخالفت کی. ایک بار یوں ھوا حضرت شمس رح کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی آپ نے شہزاد محمد کو آگ لانے کے لیے بھیجا مگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی آگ نہ دی ایک سنگدل شخص نے اس وجہ سے شہزادے کو اتنا مارا کہ چہرے پر زخموں نے نشان ابھر آے.
واپس آ کر شہزاد نے پورہ واقع سنایا تو آپ رح کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں خانقاہ سے نکلے گوشت کا ٹکڑا ھاتھ میں تھا پھر حضرت شمس رح نے آسمان پر نظر کر کے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
؛ تو بھی شمس میں بھی شمس اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے؛
اتنا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ھو گیا پھر یہ گرمی اتنی بھڑی کہ اھل ملتان چیخ اٹھے پورا شہر آگ کی بھٹی بن کہ رہ گیا
کچھ باخبر لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے. آپ رح نے فرمایا
یہ نادان نہیں سفاک ھیں آگ جیسی بے قیمت چیز نہیں دے سکتے میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا آخر اس کا جرم کیا تھا. جانتے ھو یہ کون ھے؟؟؟ بغداد کا شہزادہ میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے. ان جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آے گا.
خدا کے لیے انہیں معاف کر دیں. ملتان کے داناے راز حضرات نے شفارس کرتے ھوے کہا.
خیر جب خدا کو درمیان میں لے آے ھو تو معاف کیے دیتا ھوں. آپ رح نے فرمایا .
پھر سورج سے مخاطب ھوے اپنی حرارت کم کر دے معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے. آپ کا یہ فرمانا تھا سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.
لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں…
از؛ نور الہی کے پروانے.. مصنف محمد اسلم لودھی
احمد
19/01/2017
سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں
سنا ہے حشر ہیںاس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیںکاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیںاسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میںٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
