21/05/2026
ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو کا دورۂ اقبال اکادمی پاکستان،ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی سے ملاقات
جناب ضیاء اللہ خان طورو نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ سول اعزاز "ستارۂ امتیاز" سے نوازے جانے پر مبارک باد پیش کی۔
اس موقع پرجناب ضیاء اللہ خان طورونے کہا کہ یہ اعزاز پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کی اقبالیات، پشتو، فارسی اور اردو ادب کے لیے عظیم قومی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دونوں سربراہان کے درمیان اردو زبان میں سائنسی علوم کی ترویج اور فکرِ اقبال کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے اردو سائنس بورڈ کی کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبے پر جناب ڈائریکٹر کی کاوشوں کوسراہا۔
جناب ضیاء اللہ خان طورونے اقبال اکادمی کی لائبریری کادورہ کیا۔انہوں نےتحقیقی مجلات اور نوجوانوں میں "فلسفۂ خودی" بیدار کرنے کےلیےمطبوعات کے معیارکوسراہا۔انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو اُردوسائنس بورڈ کے دوماہی اردوسائنس میگزین کاشمارہ پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے بھی جناب ڈائریکٹر کو اقبال اکادمی پاکستان کی مطبوعات کا تحفہ پیش کیا۔
28/04/2026
*ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو کی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے ملاقات*
ڈاٸریکٹراردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف سے اسلام آباد میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر قومی ورثہ وثقافت ڈویژن جناب اورنگ زیب خان کھچی بھی تشریف لاٸے۔ ملاقات کا مقصد اردو زبان کی ترویج اور سائنسی علوم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچانے کے حوالے سے بورڈ کی کاوشوں سے آگاہ کرنا اور باہمی تعاون کے امکانات پر غور کرنا تھا۔
ملاقات کے دوران ضیاء اللہ خان طورو نے وفاقی وزیر کو اردو سائنس بورڈ کی حالیہ کامیابیوں اور جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ ای-بکس منصوبے کے تحت کتب کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کر رہا ہے تاکہ علم تک رسائی کو جدید تقاضوں کے مطابق آسان بنایا جا سکے۔ ڈائریکٹر نے مطلع کیا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپ اور ویب سائٹ تیار کی جا رہی ہے، جس سے علمی اثاثوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔بورڈ اپنے وساٸل سے کتب کی ڈیجیٹل پرنٹنگ کررہاہے۔
بورڈ نے مختلف جامعات کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں تاکہ مطبوعات اور ادبی کاموں کا تبادلہ کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اردو سائنس بورڈ کی ان کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے اردو زبان میں سائنسی علوم کی فراہمی کو قومی ضرورت قرار دیا اور بورڈ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
30/03/2026
اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوارڈ اردوسائنس بورڈ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن حکومت پاکستان محترمہ سیدہ عطیہ زہرا زیدی نے لاہور کالج ویمن یونیورسٹی کا دورہ کیا اور وائس چا نسلر پروفیسر ڈاکٹرعظمٰی قریشی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن پروفیسر رفعت سیف ڈار بھی موجود تھیں۔ محترمہ عطیہ زہرا نے اُردو سائنس بورڈ کا تعارف پیش کیا اور بورڈ کی مطبوعات اور ڈیجیٹل پرنٹنگ سیل کے حوالے سے آگاہ کیا۔انھوں نے بورڈ کے دو ماہی مجلے اُردو سائنس میگزین میں طالبات کے مضامین شائع کرنے کی پیش کش کی۔دونوں اداروں کے مابین سیمینارزکے انعقاد اور تحقیقی منصوبوں کی اشاعت کے حوالے سے تعاون واشتراک کے معاہدےپر بات چیت کی گئی۔اس موقع پرسیدہ عطیہ زہرا نے وائس چا نسلر صاحبہ کو اُردو سائنس میگزین کا شمارہ پیش کیا۔
23/03/2026
قیامِ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گذارنے کے لئے ناگزیر تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ
پاکستان اللہ کی نعمت ہے، اس کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا ہم سب پاکستانیوں کا فرض ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر
پاکستان دنیا کے طاقتور ملکوں میں سے ہے، اس نے قائم رہنا اور ترقی کرنا ہے ۔ محمد علی شہزاد مظفر
اردو سائنس بورڈ کے زیراہتمام ۲۳ مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر پروقار پرچم کشائی کی تقریب اور سیمینار بہ عنوان "پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟"کاانعقادکیاگیا، جس میں پرنسپل یونیورسٹی لا کالج، پنجاب یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر امان اللہ ملک مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر تھے۔ ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے مہمانوں کو خیر مقدم کہا اور اُن کا سیمینار میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔، جبکہ ڈپٹی سیکرٹری قومی ورثہ وثقافت ڈویژن محمد علی شہزاد مظفر نے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔
سیمینار میں ملک کی نظریاتی و ثقافتی شناخت کو اجاگر کیا گیا۔ پرنسپل یونیورسٹی لا کالج، پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک نے مہمانِ خصوصی کے طور پر پرچم کشائی کی رسم ادا کی۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر امان اللہ ملک نے قراردادِ پاکستان کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یومِ پاکستان ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور علیحدہ وطن کے حصول کے مقاصد یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
ڈائریکٹرجنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے صدارتی خطاب میں اردو زبان کے قیامِ پاکستان میں کردار اور اس کی قومی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اردو نہ صرف پاکستان کی علمی زبان ہے بلکہ یہ ہماری قومی وحدت کی علامت بھی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمدسلیم مظہر نے کہاکہ ان تقریبات کامقصد قیام پاکستان کے اغراض ومقاصد سے نئی نسل کو روشناس کروانااور انہیں ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنے فرائض کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
ڈپٹی سیکرٹری قومی ورثہ وثفافت ڈویژن، محمد علی شہزادمظفر نے سیمینار کے مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات کا مقصد نئی نسل کو آزادی کی جدوجہد سے روشناس کرانا اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعامانگی گئی۔ تقریب میں اردو سائنس بورڈ کے رفقائے کار ، ممتاز دانشوروں اور تعلیمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوآرڈاینڈ آرٹ سیدہ عطیہ زہرانے انجام دیے۔
16/03/2026
ڈائریکٹر اردوسائنس بورڈ جناب ضیاءاللہ خان طورو کا ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سویلائزیشنز قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کادورہ
ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سدید عارف سے ملاقات۔ اس موقع پر پروفیسر بادشاہ سردار اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں اداروں کے مشترکہ اشاعتی منصوبوں کوجلد مکمل کرنے پر اتفاق کیاگیا۔
12/03/2026
اردو سائنس بورڈ میں "روزہ کی جسمانی اور نفسیاتی افادیت سائنس کی روشنی میں" کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ اس تقریب نے ایک کثیر الضابطہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جہاں ماہرین اور اسکالرز نے جدید سائنس اور نفسیات کی روشنی میں روزہ کے جسمانی اور نفسیاتی فوائد کا تجزیہ پیش کیا۔ سیمینار کی صدارت ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے کی ۔معروف موٹیویشنل سپیکر، ٹرینراور نائب صدر رحمٰن فاؤنڈیشن ڈاکٹر راؤ محمد اسلم خان مہمان خصوصی تھے۔
جناب ضیاء اللہ خان طورو نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو احکامات دیے ہیں، ان میں ہماری ہی فلاح پنہاں ہے۔روزہ ایک جسمانی اور روحانی عبادت ہے۔ اردو سائنس بورڈ کی یہ کوشش ہے کہ ہم ایسی علمی نشستوں کے ذریعے مختلف سائنسی ،طبی اور سماجی موضوعات پر ماہرین کو بلا کران پر بحث کریں اور عوام میں آگاہی پیداکریں۔جناب ضیاء اللہ خان طورو نے بورڈ کے جاری منصوبوں خاص طور پر ادارے کے اپنے وسائل سے کتابوں کی ڈیجیٹل پرنٹنگ کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔
اپنے جامع کلیدی لیکچر میں، ڈاکٹر راؤ محمد اسلم خان نے میٹابولک صحت اور روحانی نظم و ضبط کے باہمی تعلق کو دریافت کیا۔ ان کی گفتگو نے کئی اہم سائنسی موضوعات پر توجہ مرکوز کی۔انہوں نے کہا کہ جدید طبی سائنس اور تحقیقات کے مطابق روزہ جسمانی اور نفسیاتی صحت کے لیے ایک بہترین عمل ہے، جو میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے۔یہ وزن، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو اعتدال میں لاتا ہے اور سوزش کو کم کرتا ہے۔ نفسیاتی طور پر، یہ تناؤ کو کم کر کے ذہنی سکون، صبر، برداشت اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔آج جدید سائنس روزہ کی افادیت کو انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کے نام سے تسلیم کررہی ہے۔انجینئر ڈاکٹر جاوید یونس اوپل نے انسانی جسم کو ایک پیچیدہ مشین سے تشبیہ دی جس کی دیکھ بھال کے لیے وقتاً فوقتاً "ڈاؤن ٹائم" کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ دلیل دیتے ہوئے کہ روزہ جسم کی اندرونی انجینئرنگ اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بناتا ہے،انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران عبادت کی بدولت تسکین پذیر ی سے انسان کا اعصابی نظام تناؤاور دباؤکم کرنے میں معاون ثابت ہوتاہے۔روزہ سے انسان چھوٹی وبڑی آنت، دل اور فالج جیسے امراض سے بچنے میں مددگارہے۔
پروفیسرڈاکٹر جمیل احمد نے قرآن وحدیث کی روشنی میں روزہ کی افادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روزہ جسم کے لیے ڈھال ہے۔روزہ اللہ تعالیٰ سے مستقل و مسلسل لگاؤکاذریعہ ہے۔ روزہ کی حالت میں اللہ کاتصور انسان کے ذہن میں رہتاہے اور انسان نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھتاہے، جس کی وجہ سے وہ گناہوں،وسوسوں اور تفکرات سے بچ سکتااور ذہنی سکون پاسکتا ہے۔
جنرل فزیشن چغتائی میڈیکل سنٹرڈاکٹر صوفی جاوید مصطفیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں چکنائی اور نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیاہے۔اگر سحری اور افطاری میں احتیاط کے ساتھ کھایاجائے تو روزہ انسانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوسکتاہے۔ اس سے جسمانی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتاہے۔ذیابیطس ، بلڈپریشر یاکوئی دیگر جسمانی عارضہ لاحق ہوتو مریض ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق اپنی ادویات کو ایڈجسٹ کرکے روزہ رکھ سکتے ہیں۔
سیمینار میں طلبا، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر آرٹ اینڈ کوآرڈسیدہ عطیہ زہرانے انجام دیے۔
10/03/2026
ڈائریکٹر اُردوسائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو کا پنجاب بینک ہیڈآفس کادورہ؛گروپ ہیڈ سٹاف اینڈ سٹریٹجی جناب رضا بشیر سے ملاقات
03/03/2026
کتاب "سائنسی اصطلاحات اور ان کا پس منظر" کی تقریب پذیرائی
اردو سائنس بورڈ کے زیرِ اہتمام ایک پروقار تقریبِ پذیرائی کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد کی تصنیف معروف علمی شاہکار "سائنسی اصطلاحات اور ان کا پس منظر" کی رونمائی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس تقریب میں تعلیمی اداروں کے سربراہان، سکالرزاور سائنس کے طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
پنجاب یونیورسٹی کے سابق ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز، پروفیسرڈاکٹر جاوید اقبال قاضی نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سائنسی علوم کو عام فہم زبان میں منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ کتاب نہ صرف اصطلاحات کی تشریح کرتی ہے بلکہ ان کے تاریخی پس منظر سے بھی روشناس کراتی ہے، جو تحقیق کے طلباء کے لیے ایک گراں قدر اثاثہ ہے۔
اردو سائنس بورڈ کی کاوشیں اردو زبان میں سائنسی ادب کی ترویج کے لیے قابلِ ستائش ہیں۔
تقریب میں ڈاکٹر جمیل احمد اور دیگر ماہرینِ تعلیم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سائنسی اصطلاحات کو ان کے پس منظر کے ساتھ سمجھنے سے تصورات (Concepts) واضح ہوتے ہیں۔مادری زبان میں سائنسی تعلیم فراہم کرنے سے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اس طرح کی کتب کی اشاعت سے اردو زبان کے ذخیرہ الفاظ میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پرڈپٹی ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ انجینئرامین اخترنے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوآرڈاینڈآرٹ سیدہ عطیہ زہرا نے انجام دیے۔
20/02/2026
ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو اور ادارے کے افسران نے ملک کے نامور سائنس دان، محقق اور ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے مرحوم کی علمی و ادبی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
جناب ضیاء اللہ خان طورو نے کہا کہ ڈاکٹر محمد رفیق خان کی وفات سے پاکستان ایک عظیم محقق اور سچے محبِ وطن اور علم دوست شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی سائنسی علوم کی ترویج اور پیچیدہ سائنسی نظریات کو اردو زبان میں عام فہم بنانے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اردو سائنس بورڈ کے لیے ان کی خدمات اور تحقیقی مقالے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔
جناب ڈائریکٹر نے مرحوم کو ایک نابغہ روزگار شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد تھے بلکہ علمی دیانت اور تحقیق کے اعلیٰ معیار پر یقین رکھنے والے انسان تھے۔وہ بورذ کی دعوت پر تقریبات میں شرکت کے لیے تشریف لاتے تھے۔
جناب ضیاء اللہ خان طورو نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔آمین
پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بالخصوص زرعی اور ماحولیاتی علوم (Environmental Sciences) میں ان کی تحقیق آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی اثاثہ ہے۔
18/02/2026
اُردوسائنس بورڈ اور ویمن یونیورسٹی مردان کے درمیان تعاون واشتراک کے معاہدے پر دستخط
باضابطہ معاہدے پر دستخط کی باوقار تقریب الحمرا ہوٹل مردان میں منعقد ہوئی۔ ویمن یونیورسٹی مردان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ اور اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر ضیاء اللہ خان طورو نے دستاویزات پر دستخط کیے۔
معاہدے کا مقصد سائنسی و جدید علوم کو اردو زبان میں منتقل کرنا، مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنا اور طالبات کے لیے علمی وسائل تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔معاہدے کے تحت دونوں ادارے مل کر کانفرنس، سیمینار اور تربیتی ورکشاپ اور طالبات کے لیے انٹرن شپ کا اہتمام کریں گے۔
تقریب کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اردو زبان میں سائنسی کتب کی دستیابی سے طالبات کے لیے پیچیدہ نظریات کو سمجھنا آسان ہوگا اور ملک میں تحقیقی کلچر کو فروغ ملے گا۔تقریب میں یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام ، علمی شخصیات,ڈائریکٹر ORICمس حلیمہ اکرام اور طالبات کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔
03/02/2026
ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سویلائزیشنز قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں" اُردوسائنس بورڈ کا تعارف اورعلمی خدمات" کے حوالے سے خصوصی نشست کا انعقاد
ڈائریکٹر اردوسائنس بورڈ ضیااللہ خان طورو، ڈائریکٹر ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سدیدعارف،پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ سردار، فیکلٹی اور پی ایچ ڈی سکالرز کی شرکت ،مقررین نےتقریب میں بورڈ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اردو زبان میں سائنسی اور آثار قدیمہ کے علوم کی ترویج پر زور دیا ۔
ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ نے بورڈ کے اغراض و مقاصد اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ اردو سائنس بورڈ اب تک سینکڑوں سائنسی و فنی کتب شائع کر چکا ہے، جن کا مقصد اردو زبان کو جدید علوم سے ہم آہنگ کرنا ہے۔انہوں نے بورڈ کے تحت کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-بکس (e-Books) کے منصوبے کا ذکر کیا تاکہ محققین اور طلبہ تک علمی مواد کی رسائی آسان ہو سکے۔انہوں نے ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ کے محققین کو اردو میں تحقیقی مقالات کی اشاعت کے لیے بورڈ کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ڈاکٹر سدید عارف نے بورڈ کی ٹیم کا خیرمقدم کیا اور آثار قدیمہ کے میدان میں اردو کی اہمیت پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ اور قدیم تہذیبوں کی تاریخ کو قومی زبان میں منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ عام قارئین بھی اپنے ورثے کو سمجھ سکیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ اور اردو سائنس بورڈ مل کر آثار قدیمہ سے متعلق علمی مواد اردو میں تیارکریں گے۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم قومی زبان میں فراہم کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔نشست میں موجود سکالرز کو ترغیب دی گئی کہ وہ اپنے تحقیقی کام کا خلاصہ اردو میں بھی پیش کریں تاکہ اسے عوامی سطح پر مقبول بنایا جا سکے۔ڈائریکٹر اردوسائنس بورڈ نے فیکلٹی ممبران کو ادارے کی کتابیں پیش کیں۔