Migrant Resource Centre Pakistan

Migrant Resource Centre Pakistan

Share

Migrant Resource Centres (MRCs) provide clear and accessible information to potential, intending and Information sessions at schools and universities;
6.

Since 2016, the MRCs operate to provide potential and outgoing migrants with information and counselling in various areas such as overseas employment, rights and protection of migrants, access to education systems in other countries, skills development, and vocational training programmes in Pakistan. More importantly, our team of counsellors provides you with awareness on the benefits of safe and

07/05/2026

Your Guide to Safe Migration
The importance of soft skills and their mandatory implementation in Pakistan

07/05/2026

رشد گِل، جو جلالپور جٹاں، گجرات کے رہائشی ہیں، ذاتی تجربے سے جانتے ہیں کہ بیرونِ ملک ہجرت ایک مشکل عمل ثابت ہو سکتا ہے — حتیٰ کہ جب یہ قانونی ذرائع سے ہی کیوں نہ ہو۔

جب ارشد کی اہلیہ پہلی بار کام کے لیے بیرونِ ملک گئیں تو تمام انتظامات ایجنٹس کے ذریعے کیے گئے۔ اگرچہ ان کی ہجرت قانونی تھی، لیکن خاندان کو بہت زیادہ فیس ادا کرنا پڑی، جبکہ بعد ازاں انہیں تنخواہ اور کام کے حالات سے متعلق مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

سب کچھ اُس وقت بدل گیا جب ارشد نے مائیگرنٹ ریسورس سنٹر (MRC) کی جانب سے منعقدہ ایک آگاہی سیشن میں شرکت کی۔

ایم آر سی کی مفت رہنمائی اور مشاورت کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ ہجرت کا عمل زیادہ محفوظ، باخبر اور کم خرچ انداز میں بھی مکمل کیا جا سکتا ہے — بغیر اس کے کہ مکمل طور پر ایجنٹس پر انحصار کیا جائے۔

جب ان کی اہلیہ دوبارہ بیرونِ ملک جانے کی تیاری کر رہی تھیں تو خاندان پہلے سے زیادہ باخبر، بہتر تیار اور پُراعتماد تھا۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ آج بھی کامیابی کے ساتھ بیرونِ ملک کام کر رہی ہیں۔

ارشد اب چاہتے ہیں کہ دوسرے خاندان بھی یہ جانیں کہ اگر بیرونِ ملک کسی قسم کے مسائل پیش آئیں تو مائیگرنٹ ریسورس سنٹر پاکستان اُن کی رہنمائی اور مدد کے لیے مفت دستیاب ہے۔

ارشد کی کہانی اس بات کی ایک مضبوط یاد دہانی ہے کہ درست وقت پر درست معلومات خاندانوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچا سکتی ہیں اور بیرونِ ملک روزگار کے سفر کو زیادہ محفوظ اور فائدہ مند بنا سکتی ہیں۔

🎥ارشد کی کہانی دیکھیں اور جانیں کہ مائیگرنٹ ریسورس سنٹر پاکستان کی باخبر رہنمائی کس طرح مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔
Arshad Gill, a resident of Jalalpur Jattan, Gujrat, knows from personal experience that migration can be costly – even when it is through regular channels.

When his wife first went abroad for work, the process was arranged through agents. Although her migration was legal, the family had to pay excessive fees, and she later faced challenges related to salary and working conditions.

Everything changed when Arshad attended an awareness session organised by the Migrant Resource Centre (MRC).

Through MRC’s free counselling and guidance, he learned that migration can be pursued in a safer, more informed and more affordable way – without depending entirely on agents. When his wife prepared to go abroad again, the family was better informed, better prepared and more confident. More than a year later, she continues to work abroad successfully.

Arshad now wants other families to know that if problems arise abroad, MRC Pakistan is there to guide and support them – free of cost.

His story is a powerful reminder that the right information, at the right time, can protect families from unnecessary hardship and make overseas employment safer and more rewarding.

🎥 Watch Arshad’s story to learn how informed guidance from MRC Pakistan can make all the difference.

This video was produced under the European Union-funded PROTECT Project. The MRCs in Pakistan are jointly operated by ICMPD and the Ministry of Overseas Pakistanis and Human Resource Development.
Disclaimer: Funded by the European Union. The contents are the sole responsibility of the Migrant Resource Centres and do not necessarily reflect the views of the European Union. See less

07/05/2026

🌍✈️ بیرون ملک جانے سے پہلے اپنا معاہدہ ضرور پڑھیں!

اگر آپ بیرون ملک ملازمت کا ارادہ رکھتے ہیں تو ملازمت کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے ان 7 اہم باتوں کو لازمی جانچیں! 📋

اپنے حقوق کو پہچانیں، دھوکے سے بچیں اور محفوظ سفر کریں۔ 🛡️

مزید معلومات کے لیے Migrant Resource Centre سے رابطہ کریں:
📞 0304-111-2-123
📍 اسلام آباد | لاہور | پشاور

یہ پوسٹ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکیں!

Disclaimer: This is funded by the European Union. Its contents are
the sole responsibility of the Migrant Resource Centres and do not necessarily reflect the views of the European Union.
This intervention was organised under the European Union funded PROTECT project.

#پاکستان

Photos from Migrant Resource Centre Pakistan's post 07/05/2026

🌍 Commemorating International Labour' Day, Migrant Resource Centre Pakistan in collaboration with the Protectorate of Emigrants Peshawar conducted an awareness raising session at Sarhad University of Science and Information Technology on promoting safe, regular, and informed labor mobility in international labour markets.

The session educated students and potential emigrants on:
✅ Legal migration pathways
✅ Overseas employment opportunities
✅ Skills development and documentation requirements
✅ Risks of irregular migration and illegal agents

The Director of Protectorate of Emigrants Peshawar highlighted the importance of using official channels for overseas employment, while MRC Pakistan briefed participants on safe migration practices and available support mechanisms for intending migrants.

The interactive session encouraged youth to make informed migration decisions and explore global opportunities through legal and secure pathways.

Disclaimer: Funded by the European Union. The contents are the sole responsibility of the Migrant Resource Centres and do not necessarily reflect the views of the European Union. Bureau of Emigration & Overseas Employment Sarhad University of Science and Information Technology

06/05/2026

آپ کے خوابوں کو حقیقت بنانے کا وقت

05/05/2026

Welcome to Episode 2 of Your Guide to Safe Migration — a special radio syndicated program by Migrant Resource Centre Pakistan.

04/05/2026

Oman Labour Laws - Disciplinary Regulations
سلطنتِ عمان کا لیبر قانون، جو رائل ڈیکری نمبر 53/2023 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، کام کی جگہ پر نظم و ضبط (discipline) اور ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے ایک منظم اور واضح قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

قانون کے آرٹیکل 55 کے مطابق، وہ ادارے جہاں پچیس یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہوں، ان کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک باقاعدہ ضابطۂ نظم و ضبط (disciplinary regulation) تیار کریں۔ اس ضابطے میں یہ واضح طور پر درج ہونا چاہیے کہ کون سی خلاف ورزیاں ہوں گی اور ان پر کیا سزائیں یا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ضابطہ وزارتِ محنت کو منظوری کے لیے جمع کرایا جاتا ہے، اور اگر وزارت دو ماہ کے اندر کوئی جواب نہ دے تو اسے خود بخود منظور شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ آجر (employer) پر لازم ہے کہ وہ یہ ضابطہ ملازمین کے لیے قابلِ رسائی بنائے اور درخواست پر اس کی تصدیق شدہ کاپی بھی فراہم کرے، تاکہ مکمل شفافیت برقرار رہے۔

آرٹیکل 56 کے تحت یہ اصول طے کیے گئے ہیں کہ تادیبی اقدامات واضح، منظم اور بتدریج سخت (progressive) ہونے چاہییں، یعنی خلاف ورزی کی نوعیت یا تکرار کے مطابق سزا میں اضافہ ہو۔ ایک ہی خلاف ورزی پر ایک سے زیادہ سزائیں نہیں دی جا سکتیں، اور ملازم کو صرف اسی صورت میں سزا دی جا سکتی ہے جب اس کا تعلق براہِ راست ملازمت یا کام کی جگہ سے ہو۔

قانون یہ بھی لازمی قرار دیتا ہے کہ کسی بھی تادیبی کارروائی سے پہلے مکمل قانونی عمل اپنایا جائے۔ آرٹیکل 63 کے مطابق، ملازم کو تحریری طور پر الزام سے آگاہ کرنا ضروری ہے اور اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد مکمل انکوائری کی جاتی ہے، جس کی باقاعدہ دستاویز بندی (documentation) لازمی ہے اور ایک تحریری رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔

آرٹیکل 66 کے مطابق، یہ انکوائری آجر خود بھی کر سکتا ہے یا کسی اور اہل ملازم کو سونپ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ فرد اس ملازم کے برابر یا اس سے اعلیٰ درجے پر ہو۔ سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں بیرونی ماہر (external specialist) کو بھی انکوائری کے لیے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران ملازم کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ تمام ریکارڈز اور دستاویزات کا جائزہ لے اور ان کی نقول حاصل کرے۔

آرٹیکل 64 میں وقت کی حدود مقرر کی گئی ہیں تاکہ کارروائی میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ اگر خلاف ورزی کے علم میں آنے کے 30 دن کے اندر کارروائی شروع نہ کی جائے تو تادیبی عمل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اسی طرح اگر خلاف ورزی ثابت ہونے کے بعد 60 دن گزر جائیں تو اس کے بعد سزا نافذ نہیں کی جا سکتی۔

آرٹیکل 65 کے مطابق مالی اور انتظامی سزاؤں پر بھی واضح حدیں مقرر ہیں۔ کسی بھی ایک خلاف ورزی پر ایک ماہ کے دوران زیادہ سے زیادہ پانچ دن کی تنخواہ کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کام سے معطلی یا تنخواہ میں کٹوتی بھی ایک ماہ میں پانچ دن سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

یہ تمام شقیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عمان کا لیبر قانون ایک متوازن نظام قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس میں ایک طرف آجر کو نظم و ضبط قائم رکھنے کا اختیار حاصل ہے اور دوسری طرف ملازمین کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ واضح قواعد، شفاف طریقہ کار اور سزاؤں کی قانونی حدیں ایک ایسا قابلِ پیش گو اور منصفانہ ورکنگ ماحول پیدا کرتی ہیں، جو خاص طور پر بڑی تعداد میں تارکینِ وطن مزدوروں کو ملازمت دینے والے شعبوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

04/05/2026

UAE Social Media Laws - Fake Accounts
متحدہ عرب امارات میں Federal Decree-Law No. 34 of 2021 (افواہوں اور سائبر جرائم کے خلاف قانون) کے تحت دفعہ 11 خاص طور پر جعلی آن لائن شناخت یا اکاؤنٹس بنانے کے معاملے سے متعلق ہے۔ اس دفعہ کے مطابق اگر کوئی شخص انٹرنیٹ پر جعلی اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل شناخت بنا کر اسے کسی دوسرے فرد یا کسی ادارے کے نام سے منسوب کرے تو یہ باقاعدہ جرم شمار ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والے شخص کو قید کی سزا ہو سکتی ہے اور اس پر کم از کم 50 ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ درہم تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

اگر جعلی اکاؤنٹ استعمال کر کے اس شخص یا ادارے کو نقصان پہنچایا جائے جس کے نام پر اکاؤنٹ بنایا گیا ہو، تو سزا مزید سخت ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں قانون کے تحت کم از کم دو سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے، کیونکہ اسے ہراسانی، بدنامی یا نقصان پہنچانے کا سنگین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

قانون میں ایک اور سخت پہلو یہ ہے کہ اگر جعلی اکاؤنٹ کسی سرکاری ادارے یا حکومتی اتھارٹی کے نام سے بنایا جائے تو سزا اور بھی زیادہ سخت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں مجرم کو پانچ سال تک قید ہو سکتی ہے اور اس کے ساتھ 2 لاکھ درہم سے لے کر 20 لاکھ درہم تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ قانون اس بات کو واضح کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات آن لائن دنیا میں جعل سازی اور کسی اور کی شناخت استعمال کرنے کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کی ساکھ کی حفاظت کرنا، سرکاری اداروں کی ساکھ کو برقرار رکھنا اور آن لائن رابطوں کو قابلِ اعتماد بنائے رکھنا ہے۔ اس لیے امارات میں رہنے والے افراد، پیشہ ور افراد اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان قوانین کا خیال رکھیں، کیونکہ سوشل میڈیا یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر کی گئی سرگرمیاں بھی سائبر کرائم قوانین کے دائرے میں آتی ہیں اور ان کی خلاف ورزی سنگین قانونی نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

04/05/2026

پاکستان واپسی پر خوش آمدید!
ری انٹیگریشن آف ریٹرنیز پروجیکٹ کے تحت، وطن واپس آنے والے افراد کی مفت مدد اور رہنمائی کے لیے لاہور، اسلام آباد، اور پشاور کے انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر ایئرپورٹ ریسپشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
ان ایئرپورٹ ریسپشن ڈیسک پر جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، وہ یہ ہیں:
✅ معلومات کی فراہمی
✅ فوری خوراک، ہائیجین کٹس، اور گھر پہنچنے کے لیے محفوظ سفری سہولیات
✅ ضرورت مندوں کے لیے عارضی رہائش، اور اہل خانہ سے رابطے کی سہولت
🤝 ایم آر سیز (MRCs) کی جانب سے فراہم کردہ یہ تمام خدمات بالکل مفت دی جاتی ہیں۔
اگر آپ کو، یا بیرونِ ملک سے وطن واپس آنے والے آپ کے کسی عزیز کو مدد یا رہنمائی درکار ہے، تو آج ہی مائیگرنٹ ریسورس سینٹرز سے رابطہ کریں: 👇
📞 ایم آر سی ہاٹ لائن: 0304-111-2-123
📧 ای میل: [email protected]
Disclaimer: This initiative is funded by the European Union. Its contents are the sole responsibility of the Reintegration of Returnee project/Migrant Resource Centre and do not necessarily reflect the views of the European Union.

04/05/2026

Welcome Back to Pakistan!
Under the Reintegration of Returnees project, our Airport Reception Desks (ARD) have been operational since July 2025 at Lahore, Islamabad, and Peshawar International Airports to offer FREE immediate assistance to returning Pakistanis.

Support includes:
✅ Essential Information & Guidance
✅ Safe Accommodation & Communication Support
✅ Food, Hygiene Kits, & Safe Onward Transport.

Need help? Contact us today:
📞 MRC Hotline: 0304-111-2-123
📧 Email: [email protected]

Disclaimer: This initiative is funded by the European Union. Its contents are the sole responsibility of the Reintegration of Returnee project/Migrant Resource Centre and do not necessarily reflect the views of the European Union.

Migrant Resource Centre Pakistan 03/05/2026

Welcome Back to Pakistan!

Under the Reintegration of Returnees project, our Airport Reception Desks (ARD) have been operational since July 2025 at Lahore, Islamabad, and Peshawar International Airports to offer FREE immediate assistance to returning Pakistanis.

Support includes:
✅ Essential Information & Guidance
✅ Safe Accommodation & Communication Support
✅ Food, Hygiene Kits, & Safe Onward Transport.

Need help? Contact us today:
📞 MRC Hotline: 0304-111-2-123
📧 Email: [email protected]

Disclaimer: This initiative is funded by the European Union. Its contents are the sole responsibility of the Reintegration of Returnee project/Migrant Resource Centre and do not necessarily reflect the views of the European Union.

Migrant Resource Centre Pakistan

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Migrant Resource Centre
Lahore
45000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00