TLP

TLP

Share

I love people but I can't hurt anyone

07/11/2025

SubhanALLLAH

07/11/2025

Shukar Alhamdu lilah

07/11/2025

Hameesha Khush Rahe

07/11/2025

Juma mibarik

07/11/2025

*وُلِدَ فِي مَكَّةَ فَأَصْبَحَتْ مُكَرَّمَةً،*
وہ مکہ میں پیدا ہوئے، تو مکہ معظم اور باعزت بن گیا۔

*وَعَاشَ فِي المَدِينَةِ فَأَصْبَحَتْ مُنَوَّرَةً،*
اور مدینہ میں زندگی گزاری، تو مدینہ روشن و منور ہو گیا۔

*وَدَخَلَ قُلُوبَنَا فَأَصْبَحَتْ مُطَهَّرَةً.*
اور جب وہ ہمارے دلوں میں اُترے، تو دل پاکیزہ ہو گئے۔

*صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم 🤍🤍🤍*

26/09/2025

*وطن عزیز پاکستان کی حفاظت کیلئے چند منٹ دشمن کو للکارا تو رب نے تمہیں اتنی عزتیں دی ہیں!!*

*عاصم منیر صاحب! خدارا🙏🏻 بیت المقدس کیلئے بھی اڑان بھرو یہودی تمہارے قدموں تلے نہ آئیں تو کہنا!!!*

23/05/2025

غازی حافظ غلام ربانی شہید کون ہیں اور انہوں نے کیا کام کیا جس کی وجہ سے آج 87 سال بعد بھی ان کا عرس منایا جارہا ہے ۔
مختصر تعارف
آپکا نام غلام ربانی اور والد گرامی کا نام محمد اسماعیل تھا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد انتہائی نیک اور متقی شخص تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے وروال تحصیل و ضلع چکوال آپکی جائے پیدائش ہے ۔
آپ حافظ قرآن تھے، آپ باعمل انسان اور سنت رسول اللّٰہﷺ کے پابند تھے۔
آپ بچپن سے ہی حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت محبت کرتے تھے۔
آپ حسین شخص تھے اور رہن سہن بھی خوبصورت تھا اور ہر وقت پاک و صاف رہتے تھے اور یاد الٰہی میں مشغول رہتے تھے ۔
گستاخی
یہ بات اٹل ہے کہ مالک نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر پہرہ دینے کےلئے پہلے ہی اپنے کسی نیک عاشق کا چناؤ کیا ہوا ہوتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں ہندو مسلم اکٹھے رہتے تھے جہاں ہندو اپنی کم ظرفی دکھاتے رہتے تھے وہیں کوئی عاشق ان کی سرکوبی کو پہنچ جاتا تھا۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ گجرات ہریاں شریف کے نزدیک پنڈی سیداں ایک مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔
ہندو اور مسلمان لڑکے کی آپس میں کسی بات پر لڑائی شروع ہوئی جس پر ہندو خنزیر گالیاں دینے لگا جب گالیوں کا تبادلہ ہوا تو(یہ بات لکھنے سے ہاتھ عاجز ہیں دل پھٹ جاتا ہے مگر مجبوری کے تحت لکھ رہا ہوں) ہندو حرامی ، نے آقا و مولیٰ حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک صاحبزادی سیدہ طیبہ طاہرہ ظاہرہ کی شان مبارک میں، بکواس کی یوں سمجھیں کہ اس بدبخت نے آقا و مولا حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کردی اور مسلمان لڑکے کو مارا بھی ۔
لڑکا امام مسجد غازی حافظ غلام ربانی شہید رحمہ اللّٰہ علیہ کے پاس پہنچا اور سارا واقعہ بتایا جس پر غازی صاحب کو بہت غصہ آیا اور اسی وقت گجرات ایک مفتی صاحب کے پاس گئے اور واقعہ بتایا تو مفتی صاحب نے کہا اس بدبخت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔
غازی صاحب نے بازار سے ایک چھرا لیا اور اسکو اچھی طرح سے تیز کروایا ۔
واپس آئے اس ہندو گستاخ کی معلومات لیں کہ وہ کب گھر سے نکلتا اور کہاں آتا جاتا ہے۔
وہ گستاخ جب گھر سے نکلا تو غازی صاحب نے اس کو روک لیا اور کہا کہ تم نے کیا بکواس کیا ہے کتے!
اس نے غازی صاحب سے کہا " او چل او مُسْلِیا "
غازی صاحب نے فرمایا " آج آیا ہے حضور کا غلام "
غازی صاحب کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے غازی صاحب نے جب چھرا ہاتھ میں پکڑا تو اس گستاخ کی ٹانگیں کانپنے لگ پڑھیں اور وہ بھاگنے لگ پڑھا۔
آگے ایک نہر تھی اس میں چھلانگ لگا دی کہ شاید یہ مولوی میری جان چھوڑ دے یہ بڑا پاک و صاف ہے۔
لیکن جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
غازی صاحب نے نہر میں چھلانگ لگائی اور اس حرامی کو پکڑ کر چھرے سے وار کیے اور نہر سے باہر نکل آئے۔
تھوڑے سے دور اونچی جگہ پر کھڑے ہوئے اتنے میں ہندو جمع ہوگئے ایک نے کہا" او خیری بچ گئی" غازی صاحب نے جب یہ بات سنی تو آنکھوں سے حقیقی شعلے نکلے کہ ہم سے کوئی گستاخ کیسے بچ سکتا ہے ۔
واپس غازی صاحب پلٹے اور ہاتھ میں خون آلود چھرا جب لہرایا تو تقریباً 25 ہندو وہاں تھے انہوں نے جب اللہ کے شیر کا جلال دیکھا تو بھاگ گئے غازی صاحب نے دوبارہ اس گستاخ کا سہی سر تن سے جدا کیا اور اللّٰہ کا شکر ادا کیا۔

نعرے مارنے سوکھے ہن
سجنڑاں تو کرکہ سچ وکھایا ای

غازی سے شہادت تک کا سفر

غازی صاحب مسجد آئے اس کا ناپاک خون اپنے مبارک جسم سے صاف کیا اور اندر سے دروازہ بند کرکے قرآن شریف پڑھنے لگ گئے۔
ہندو بھی مسجد میں پہنچ گئے اور مسلمانوں کو جب واقعے کا پتا چلا تو وہ بھی کثیر تعداد میں پہنچ گئے ۔
کسی نے باہر سے کہا کہ پہلے تو بڑے جوش سے مارا اب اندر کیوں چھپ گئے ! تو غازی صاحب نے کہا کہ میں نے جس حرامزادے کو مارنا تھا مار دیا اب میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے بے گناہ لوگ مارے جائیں اور میرے مسلمان بھائی شہید ہوں۔
جب پولیس آئے گی تو میں اپنے آپ کو حوالے کردوں گا۔
پولیس آئی تو غازی صاحب نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا ۔

سپاہی جو رات کو ڈیوٹی کرتا تھا اس نے بتایا تھا کہ غازی صاحب جس کمرے میں ہوتے تھے اس میں ساری رات نور ہی نور ہوتا تھا اور غازی صاحب اکثر اوقات رات کو غائب ہو جاتے تھے صبح جب دیکھتے تو موجود ہوتے تھے۔

عدالتی کاروائی بھی شروع ہوئی اور ملک بھر سے مسلمان وکیل اور مایہ ناز وکیل غازی صاحب کی وکالت کےلئے آئے تاکہ اس نیک عاشق رسول کے صدقے ہماری آخرت بھی سنور جائے۔
وکیلوں نے غازی صاحب کی بڑی منتیں کیں کہ آپ صرف ایک بار کہہ دیں کے میں نے جذبات میں آکر مار دیا یا میں نے نہیں مارا۔
اسی طرح کئی علماء نے بھی غازی صاحب کو اس بات پر راضی کرنے کی بہت کوششیں کیں۔

غازی صاحب کا ایک ہی جملہ ہوتا تھا " میں نے ایک ہی کام اچھا کیا ہے اس کا بھی انکار کر دوں۔
کیس چلتا رہا !
جج مسلمان تھا جس کا نام دین محمد تھا آخر میں اس نے بھی بڑا کہا کہ انکار کردیں ۔
پھر اس نے کہا کہ آپ انکار نہیں کرتے تو کم از کم یہ تو کہہ دیں کہ " مَیّاں ماریا اے " ( یہ دو معنوں میں استعمال ہوتا تھا ایک بھینس کو کہتے ہیں دوسرا
مَیّاں کہتے ہیں کہ "میں نے " )
جج نے کہا کہ آپ یہ لفظ بول کر یہ سوچ لینا کہ میں نے ہی مارا ہے اور ہم ادھر لکھ لیں گے کہ بھینس نے مارا ہے آپکو بچا لیا جائے گا۔
مگر اقبال کہتے ہیں کہ بندہ دلیر ہی اسوقت ہوتا ہے جب سینے میں عشق مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہو ۔
غازی صاحب نے تاریخی جملہ کہا کہ " او جج تمہیں شرم نہیں آتی یہ بات کہتے ہوئے تیرے نام میں دین بھی ہے اور محمد بھی پھر بھی ایسی باتیں کرتا ہے۔ ہاں میں نے ہی مارا ہے غلام ربانی نے ہی مارا ہے یہ جملہ تین بار دہرایا "
عشق از است مومن و مومن از عشق است
عشق را ناممکن ،ما ممکن است

پھر آپ کو سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا اور جہلم جیل میں آپ نے 8 اپریل 1938 کو بخوشی عشق کا پھندا گلے میں پہنا اور اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے جاملے۔
جہلم جیل سے وروال تک آپکو کندھوں پر اٹھا کر لایا گیا راستے میں مسلمان جوک در جوک ساتھ شامل ہوتے گئے اور مسلمان وروال پورے گاؤں میں آپکو کندھوں پر اٹھا کر چلے اور عالم کفر کو یہ پیغام دیا کہ

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرجاتے ہیں ان پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا
کثیر تعداد میں سادات کرام ،علماء، مشائخ، اور مسلمانوں نے جنازہ میں شرکت کی۔

مزار شریف
آپکا مزار شریف جامع مسجد نورانی محلہ حافظ آباد والے قبرستان وروال تحصیل و ضلع چکوال میں ہے ۔

آج بھی کئی عشاق آپکے مزار شریف پر آکر آپکی دینی غیرت اور عشق رسول اللّٰہﷺ میں سے حصہ مانگتے ہیں۔

اور ہر سال تحریک لبیک پاکستان یوسی وروال ضلع چکوال کے زیر انتظام آپکے عرس مبارک کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

نوٹ : ان معلومات میں سے بعد معلومات آپکے خاندان شریف میں سے آپکے بھتیجے جناب محترم محمد نزر صاحب سے جو آج بھی حیات ہیں ضیعف اور کافی علیل ہیں ( دعا کریں مالک انکو غازی صاحب کے صدقے صحت کاملہ عطا فرمائے آمین )
اسلام آباد رہتے ہیں
ان سے لی گئی ہیں اور بعد معلومات ان کے خاندان کے دیگر افراد اور پرانے بزرگوں سے لی گئی ہیں عرصہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم سب سے اگر کوئی غلطی یا کمی بیشی ہوگئی تو مالک ہمیں معاف فرمائے آمین۔

ان شاءاللہ جلد دیگر معلومات کو جمع کر کے آپکی حیات مبارکہ کو کتابی شکل دی جائے گی جس سے آنے والی نسلیں عشق رسول اللّٰہﷺ حاصل کریں گی اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو دیکھ کر اپنا سب کچھ آقا و مولا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا کرنے کےلئے کوشاں رہیں گی۔

پورے پاکستان بالخصوص پنجاب اور چکوال کے عشاق سے گزارش ہے کہ آپ بھی اس مرد قلندر کے مزار شریف پر تشریف لائیں اور اپنے ایمان کو تقویت بخشیں ۔

ہمارا مشن نظام مصطفیٰ اور آنے والی نسلوں کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق بنانا ہے۔

لکھنے میں کوئی غلطی ہوئی تو بندہ ناچیز معافی کا خواستگار ہے۔
تمام حضور جان جاناں کے غلاموں سے التجا ہے کہ یہ تحریر رکنی نہیں چاہیے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز واٹس ایپ گروپس وغیرہ علماء کرام
عام عوام الناس ، اور ہر فرد تک پہنچائی جائے یہ کام آپکے زمہ ہے۔
دعا کا طالب ہوں دعا کریں میرے لیے اور سب کےلئے کہ ہم کو اور ہماری آنے والی نسلوں کو مالک حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا وفادار رکھے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب کریم کا سچا عاشق بنائے آمین۔
اسی طرح دین کا کام ہم سے لیتا رہے آمین ثم آمین
جاری کردہ : شعبہ نشرو اشاعت تحریک لبیک پاکستان یوسی وروال ضلع چکوال

22/05/2025

*پیغام رضوی*

21/05/2025

I've just reached 100 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🤗🎉❤️

04/10/2024





.
..
...
....

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Lahore