یونیسکو جیسا ادارہ بھی ' جو اقوامِ متحدہ کا تعلیمی ' سائنسی اور ثقافتی ادارہ ھے ' اس بات کی تائید کرتا ھے کہ؛ بچے کو اس کی اپنی زبان میں ھی تعلیم دی جانی چاھیے۔ کیونکہ اپنی زبان ھی وہ زبان ھے جو اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتا ھے اور اسی کے زیرِسایہ پروان چڑھتا ھے۔ لیکن حکومت اس اھم معاملے سے بے نیاز دکھائی دیتی ھے۔
PNF Lahore Zone
Punjabi Nationalist Forum
17/10/2024
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 15اکتوبر کو دیہاتی عورتوں کا عالمی دن منایا گیا . اس دن کو منانے کا مقصد دیہاتی عورتوں کو خراج تحسین پیش کرنا اور بطور مزدوران کی خدمات کا اعتراف کرنا ہوتا کہ ملکی تعمیر و ترقی میں دیہی خواتین کا کیا کردار ہے اور پاکستان میں دیہاتی خواتین کس طرح سے زندگی بسر کررہی ہیں اور ان کو کن مشکلات کا سامنا ہے.....💐❤️
اس دن کے حوالے سے کچھ جھلکیاں
"پنجابی راج"
کے بغیر؛
پاکستان میں سماجی و معاشی استحکام
انتظامی و اقتصادی بہتری نہیں آنی۔
اردو بولنے والے پنجابی
یوپی ' سی پی والوں کا رنگ پکڑ کر
گنگا جمنا کلچر اور اردو زبان کے
ذھنی غلام بنے ھوئے ھیں۔
جب بٹوارہ ہوتا ہے تو اپنا بوریا بستر اٹھانہ پڑتا ہے آزادی کے بعد پٹھانوں بلوچوں کو پنجاب سے اپنا بوریا بستر اٹھانہ ہوگا اور پنجابی نے بٹوارہ بھگتہ ہوا ہے مگر پٹھان بلوچوں نے ابھی تقسیم نہیں دیکھی !!
12/09/2024
عمران خان نیازی موجودہ دور کا احمد شاہ ابدالی ھے۔
احمد شاہ ابدالی پوپلزئی پختونوں کی شاخ سدوزئی سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ سدو خان نامی شخصیت کو اپنا جد امجد مانتے تھے۔ روایات کے مطابق سدو خان 1557ء کے آس پاس قندھار میں پیدا ھوا- قندھار میں وہ کہاں سے آیا؟ اس کے متعلق ظاھر ھے باقی پختون قبیلوں کی طرح مختلف نظریے موجود ھیں لیکن کوئی مستند تاریخ نہیں ھے۔
عمران خان کا تعلق نیازی قبیلے سے ھے۔ نیازی قبیلے نے ابتدائی طور پر غزنی کے جنوب میں واقع ضلع شیلغر کے ایک علاقے پر قبضہ کیا۔ جب غلزئی کی تعداد زیادہ ھوگئی تو انہوں نے نیازی کو مشرق کی طرف دھکیل دیا اور نیازی نے جنوب کی طرف نقل مکانی کرنا شروع کردی۔ یہاں تک کہ پندرھویں صدی میں وہ ٹانک پہنچ گئے۔ وھاں انہیں پناہ ملی اور ان کے جوان بیوپاری اور پھیری لگانے والے بن گئے۔ اس کے بعد وہ شمال مشرق میں دریائے سندھ کی طرف پھیل گئے اور تھل کے صحرائی خطوں میں آباد ھوگئے۔
احمد شاہ ابدالی شیر شاہ سوری کے بعد خطے کا پہلا حکمران بنا جس نے روایتی طور پر آپس میں برسر پیکار پشتون قبائل کو ایک عظیم سلطنت بنانے کے لیے ایک مضبوط فوجی قوت کے طور پر اکھٹا کیا۔
عمران خان نیازی پاکستان کے پہلے پٹھان آمر جنرل ایوب خان کے بعد پاکستان کا پہلا پٹھان وزیر اعظم بنا۔ جس نے خیبر پختونخوا میں روایتی طور پر آپس میں برسر پیکار پشتون قبائل کو پاکستان کی حکومت بنانے کے لیے ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر اکھٹا کیا۔
احمد شاہ ابدالی جوان ھوکر ایرانی فوج میں بھرتی ھوا۔ نادر شاہ افشار کی توجہ حاصل کرنے بعد وہ ترقی کرتے ھوئے ایرانی فوج کا سپہ سالار بن گیا۔ نادر شاہ افشار کے قتل کے بعد 1747ء میں افغان معززین کا لویہ جرگہ منعقد ھوا۔ اس جرگہ میں احمد شاہ ابدالی کو نیا حکمران منتخب کرلیا گیا۔ یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ھوا تھا۔ اس جرگہ میں صابر شاہ ملنگ نےگندم کا ایک خوشہ توڑ کر احمد شاہ ابدالی کے سر پر بطور تاج لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کر لیا گیا اور "سلطنت افغانستان" کی بنیاد پڑی۔
عمران خان نیازی جوان ھوکر پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں بھرتی ھوا۔ جنرل واجد علی خان برکی کی توجہ حاصل کرنے بعد جنرل واجد علی خان برکی کے بیٹے جاوید برکی کی سرپرستی میں ترقی کرتا ھوا پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بن گیا۔ جنرل واجد علی خان برکی کے 1988ء میں انتقال کے بعد جنرل واجد علی خان برکی کے دوسرے بیٹے ڈاکٹر نوشیروان خان برکی نے 1994 میں لاھور میں شوکت خانم میموریل کینسر ھسپتال اور ریسرچ سینٹر بنوا دیا۔ اس کے بعد 1996 کو لاھور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی گئی اور عمران خان نیازی کو پہلا چیئرمین بنا دیا گیا۔
احمد شاہ ابدالی افغانستان کی سلطنت قائم کرکے بادشاہ بنا تو چڑھتی عمر اور اقتدار کے نشہ کی وجہ سے اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا۔ احمد شاہ ابدالی کی تیز نگاہ پنجاب پر مرکوز ھوئی۔ اس کے جاسوس کاروبار کے بہانے پنجاب سے سارے راز لے جاتے تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے جارح اور لٹیرا بن کر پنجاب پر 1748ء سے لیکر 1767ء تک 8 حملے کیے لیکن 1762ء سے لیکر 1767ء تک کے تین حملے خصوصی طور پر سکھوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے۔
عمران خان نیازی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قائم کرکے چیئرمین بنا تو چڑھتی عمر اور اقتدار کے نشہ کی وجہ سے اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا۔ عمران خان نیازی کی تیز نگاہ پنجاب پر مرکوز ھوئی۔ اس کے جاسوس شوکت خانم میموریل کینسر ھسپتال اور ریسرچ سینٹر کی آڑ میں پنجاب میں سارے راز لیتے رھے۔ عمران خان نیازی نے جارح اور لٹیرا بن کر پنجاب پر حملے کرنے شروع کر دیے لیکن 2011ء سے لیکر 2018ء تک کے حملے خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کو ختم کرکے پاکستان اور پنجاب پر قابض ھونے کے لیے کیے گئے۔ بالآخر عمران خان نیازی 2018 میں پاکستان اور پنجاب پر قابض ھونے میں کامیاب ھوگیا۔
احمد شاہ ابدالی جب دلی ’ کرنال ’ پانی پت ’ متھرا اور آگرہ سے سونا ’ چاندی ’ مال و اسباب لوٹ کر بہنوں ’ بیٹیوں کو ریوڑ کی طرح اپنے سپاھیوں کے آگے ھانک دیتا تھا تو اس وقت ھندو مورتیوں کے آگے ھاتھ جوڑے آرتیاں ھی کرتے رہ جاتے اور بہنوں ‘ بیٹیوں کے سودے ھو جاتے تھے۔ جبکہ مسلمانوں میں سے بہت سے احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ملے ھوئے تھے۔
اس دور میں پنجاب میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ھوا۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھی گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ اس کیفت پر بابا بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا؛
در کھلیا حشر عذاب دا
برا حال ھویا پنجاب دا
پنجاب میں یہ کہاوت بن گئی تھی “کھادھا پیتا لاھے دا ’ باقی احمد شاھے دا” یعنی جو کچھ کھا پی لیا وھی غنیمت ھے باقی تو احمد شاہ لے جائے گا۔ بابا بلھے شاہ نے اس دور کا نقشہ یوں کیھنچا؛
مغلاں زھرپیالے پیتے
بھوریا والے راج کیتے
سب اشراف پھرن چپ چپیتے
عمران خان نیازی کے دور میں پنجاب میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ھوا۔ جس طرح مسلمانوں میں سے بہت سے احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ملے ھوئے تھے۔ اسی طرح پنجابیوں میں سے بہت سے عمران خان نیازی کے ساتھ ملے ھوئے تھے۔
پنجابی بتائیں کہ؛ عمران خان نیازی کے 2018 سے لیکر 2022 تک کے اقتدار کے عرصے میں پٹھانوں کا پنجابیوں کے ساتھ کیسا سلوک رھا؟
پنجابیوں کے تبصرے سے پنجابیوں کے سیاسی شعور سے آگاھی ھوسکے گی۔
لاہور کیا پشتونوں کے باپ کا ہے جو لاہور پہ حملہ کرو گے۔
آج لاہور کی یونیورسٹیز سے ان افغانی لٹیروں کو فارغ کر دیا جائے اورلاہور میں ان کی کاروباری سرگرمیوں پہ پابندی لگا دی جائے تو دن میں تارے نظر آجائیں۔
04/09/2024
پنجابی زبان کے مشہور شاعر استاد دامن کا یوم ولادت 4 ستمبر ھے۔
پنجابی زبان کے مشہور شاعر استاد دامن کا نام چراغ دین تھا۔ دامن تخلص تھا۔ جبکہ اھل علم وفن افراد نے استاد کا خطاب دیا۔ اس لیے استاد دامن کے نام سے معروف ھوئے۔ استاد دامن 4 ستمبر 1911 میں چوک متی لاھور میں پیدا ھوئے۔ والد میراں بخش درزیوں کا کام کر تے تھے۔ بچپن ھی میں استاد دامن نے گھر یلوحالات کے پیش نظر تعلیم کے ساتھ ٹیلرنگ کا کام بھی کرنا شروع کیا۔
استاد دامن کی عمر جب تیرہ سال ھو ئی تو ان کا خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ھو گیا۔ انہوں نے باغبانپورہ میں درزیوں کی دکان شروع کی اور دیوسماج اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انہیں شاعری کا شوق تو بچپن ھی سے تھا لیکن باقاعدہ طور پر شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا اور مختلف جلسوں اور مشاعروں میں اپنا پنجابی کلام سنانے لگے۔
1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ھو نے والے میونسپل کمیٹی لاھور کے اجلاس میں کمیٹی کی کارکردگی پر تنقیدی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ھوتا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا۔ آپ کی شاعری زبان زدعام وخاص ھوگئی اور آپ ھر مکتب فکر کے لوگوں میں ھردلعزیزشاعر کی حیثیت سے متعارف ھو ئے۔
پاکستان کی آزادی کے بعد ھونے والے فسادات میں آپ کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب آپ زبردست مالی بحران کا شکار ھوکر باغبانپورہ سے بادشاھی مسجد کے قریب حجرے میں منتقل ھوگئے۔ آپ کے پاس کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں۔ 1949 میں آپ ٹکسالی گیٹ میں واقع اس حجرے میں منتقل ھو گئے جس میں شاہ حسین (مادھولال حسین) بھی مقیم رھے تھے اور تادم مرگ یہی حجرہ ان کا مسکن ٹھہرا۔ اسی دور میں استاد دامن کی شادی ھوئی لیکن کچھ ھی عرصہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کرگئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی۔
استاد دامن نے شاعری کا آغاز کیا تو ھمدم تخلص کرتے تھے۔ پنجابی شاعری میں استاد ھمدم کے شاگرد ھوئے اور ان کی شاگردی کو اپنے لیے باعث فخر تصور کرتے۔ دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اھل علم وفن افراد سے استاد کا خطاب حاصل کیا۔
استاد دامن مزدوروں ' کسانوں ' غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے۔ انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ھمیشہ استحصالی طبقوں کی مذمت کرتے رھے۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور ادبی تنظیم پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور تنظیم کے سکریٹری رھے۔
استاد دامن کے چاھنے والوں میں بھارتی اداکاروں کا شمار بھی ھوتا ھے جن میں اوم پرکاش ' پران اور شیام کے نام نمایاں ھیں۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ھی استاد نے نورجہاں کی زیر ھدایات بننے والی فلم چن وے کے ایک گیت کا مکھڑا لکھا۔ چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا ۔ آپے بناؤونا تے آپے مٹاؤنا۔
استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ خدا نے انہیں ایسے ذھن اور فکر سے نوازا تھا کہ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے اور حاضرین کے لیے تسیکن کے ساتھ ساتھ حیرت کے اسباب بھی پیدا کردیتے تھے۔ پنجاب کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقد مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی؛
بھاویں مونہوں نہ کہیے پر وچوں وچی
کھوئے تسی وی او’ کھوئے اسی وی آں
ایہناں آزادیاں ھتھوں برباد ھونا
ھوئے تسی وی او ‘ ھوئے اسی وی آں
کجھ امید اے زندگی مل جائے گی
موئے تسی وی او’ موئے اسی وی آں
جیوندی جاں ای’ موت دے منہ اندر
ڈھوئے تسی وی او’ ڈھوئے اسی وی آں
جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
سوئے تسی وی او سوئے اسی وی آں
لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے
روئے تسی وی او روئے اسی وی آں
اس نظم کی سماعت پر حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے۔ اس وقت مشاعرے میں بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواھر لعل نہرو بھی موجود تھے۔ انہوں نے استاد دامن سے اس خواھش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ؛ اب میرا وطن پاکستان ھے۔ میں لاھور ھی میں رھوں گا۔ بے شک جیل ھی میں کیوں نہ رھوں۔
اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی کسمپرسی کی حالت میں گزاری مگر مرتے دم تک اپنے وطن سے محبت کے گیت گاتا رھا۔ اس دھرتی کو نفرتوں ’ بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے محبتوں کے پھول بکھیرتا رھا اور ان برائیوں کی علانیہ نشان دھی اور مذمت کر تا رھا۔
استاد دامن نے پاکستان کے قیام کے بعد رونما ھونے والے سیاسی زوال پر سیاست دانوں کی کوتاھیوں کی نشاندی کرتے ھوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا۔ وہ وطن عزیر کی ترقی کے خواھاں تھے۔ اس ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ھوئے استاد دامن کہتے ھیں؛
جے کوئی جاھل لڑے تے گلّ کوئی نہ
عالم لڑن نہ آپ ' لڑا رھے نے
چھریاں ساڈیاں ھتھاں دے وچ دے کے
رل آپ حلوے منڈے کھا رھے نے
سارے چکر چلا کے فرقیاں دے
پیارے دیش نوں لٹّ کے کھا رھے نے
"دامن" ایہناں دا کرنا ایں چاک اک دن
پگاں ساڈیاں نوں ھتھ جو پا رھے نے
استاد دامن عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کو چھولیتے۔ یہی ان کا مدعا تھا اور یہی ان کا مقصد حیات کہ بات دل سے نکلے اور دل پر اثر کرے۔ اس مقصد میں انہیں بھر پور کامیابی حاصل ھوئی۔
میرے خیال اندر اوہ شاعر' شاعر ھوندا
کھنڈ ' کھنڈ نوں ' زھر نوں زھر آکھے
جو کجھ ھوندا اے ھووے ' نہ ڈرے ھرگز
رحم ' رحم نوں ' قہر نوں قہر آکھے
بھاویں بستی دی ' بستی برباد ھووے
جنگل ' جنگل نوں ' شہر نوں شہر آکھے
"دامن" دکھاں دے بحر ' چ جائے ڈبدا
ندی ' ندی نوں ' نہر نوں نہر آکھے
استاد دامن اپنی شاعری میں اپنے سیاسی خیالات اور نظریات کے پرچار پر بھی زور دیتے تھے۔
پنجاب دی عجب ونڈ ھوئی ’ تھوڑا ایس پاسے تھوڑا اوس پاسے
ایہناں جراحاں نے کیہہ علاج کرنا ’ مرھم ایس پاسے پھوڑا اوس پاسے
اساں منزل مقصود تے کیہہ پہنچنا ایں ’ رھڑا ایس پاسے گھوڑا اوس پاسے
ایتھے غیرت دا کیہہ نشان دسے ’ جوڑا ایس پاسے جوڑا اوس پاسے
استاد دامن نے اپنے پنجابی ھونے پر فخر کرتے ھوئے پنجابی شاعری کے ذریعے پنجابی ثقافت کو فروغ دیا اور پنجابیوں کے سیاسی شعور کو بیدار کیا۔
میں پنجابی پنجاب دا رھن والا
سدا خیر پنجابی دی منگ دا ھاں
موتی کسے سہاگن دی نتھ دا ھاں
ٹکرا کسے پنجابن دی ونگ دا ھاں
استاد دامن نے پنجابی زبان میں شاعری کے ذریعے پنجابی زبان سے محبت کرنے کا اعتراف کیا اور اردو زبان کو فروغ دے کر پنجابی زبان کو ختم نہ کرپانے کا برملا اظہار کیا۔
ایتھے بولی پنجابی ای بولی جائے گی
اردو وچ کتاباں وچ ٹھن دی رئے گی
ایہدا پُت ھاں ایہدے توں دُدھ منگدا
میری بھکھ ایہدی چھاتی تن دی رئے گی
ایہدے لکھ حریف پئے ھون پیدا
دن بدن ایہدی شکل بن دی رئے گی
اوھدوں تیک پنجابی تے نہیں مر دی
جدوں تیک پنجابن کوئی جن دی رئے گی
استاد دامن ’ پنجابی کے علاوہ اردو ' سنسکرت ' ھندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی زبان پنجابی ھی کو بنایا۔
اردو دا میں دوکھی ناھیں
تے دشمن نہیں انگریزی دا
پُچھدے او میرے دل دی بولی
ھاں جی ھاں ’ پنجابی اے
بُلھا ملیا ایسے وچوں
ایسے وچوں وارث وی
دھاراں ملیاں ایسے وچوں
میری ماں پنجابی اے
ایہدے بول کناں وچ پیندے
دل میرے دے وچ نیں رھندے
تپدیاں ھوئیاں ریتاں اُتے
اک ٹھنڈی چھاں پنجابی اے
ایہدے دُدھاں دے وچ مکھنی
مکھناں وچ گھیو دی چکھنی
ڈب کھڑبی ددھل جئی
اک ساڈی گاں پنجابی اے
استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کے سرپر ست ' مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈ یو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فرامو ش خدمت سر انجام دیں۔
مینوں کئیاں نے آکھیا کئی واری
توں لینا پنجابی دا ناں چھڈ دے
گود جدھی وچ پل کے جوان ھویوں
اوہ ماں چھڈ دے تے گراں چھڈ دے
مینوں انج لگدا لوکی آکھدے نیں
اوہ پترا اپنی ماں چھڈ دے
استاد دامن کے لہجے میں طنز اور مزاح تھا۔ انہوں نے مزاح کے انداز میں پنجابی زبان کی مخالفت کرنے والوں سے آگاہ کیا۔
جدوں کدے پنجابی دی گل کرناں پھاں پھاں کردا پھوں پھوں آوندا
توں پنجابی پنجابی کیہ لائی ھوئی اے چاں چاں کردا چوں چوں آوندا
اوہ بولدا بولدا ٹری جاندا خبرے میرے بُلھاں نوں سیوں آوندا
ایہہ گل اے ماں تے پتراں دی کوئی تیسرا ایہدے وچ کیوں آوندا
استاد دامن کی شاعری میں لوک رنگ ’ سیاسی موضوعات ’ روایتی موضوعات کے علاوہ تصوف کا رنگ بھی ملتا ھے۔
گھنڈ تیرے نے انھے کیتے
کئی پھردے نے چپّ چپیتے
کنیاں زھر پیالے پیتے
کئیاں خون جگر دے پیتے
کئیاں اپنی کھلّ لہائی
کنے چڑھے نے اتے دار
گھنڈ مکھڑے تو لاہ او یار
چار دیواری اٹاں دی اے
برج اٹاری اٹاں دی اے
کھیڈ کھڈاری اٹاں دی اے
سبھ اساری اٹاں دی اے
اٹاں دے نال اٹّ کھڑکا
میں میں وچوں مکا او یار
گھنڈ مکھڑے تو لاہ او یار
وید کتاباں پڑھ پڑھ تھکا
کجھ نہ بنیاں کچا پکا
اوڑک رہِ گیا حقہ بکا
مکے گیا تے کجھ نہ مکا
ایویں مکّ مکئیئے کاھدے
مکدی گلّ مکا او یار
گھنڈ مکھڑے تو لاہ او یار
مسجد مندر تیرے لئی اے
باھر اندر تیرے لئی اے
دل- اے- قلندر تیرے لئی اے
سکّ اک اندر تیرے لئی اے
میرے کول تے دل ای دل اے
اوھدے وچ سما او یار
گھنڈ مکھڑے تو لاہ او یار
مکدی گلّ مکا او یار
استاد دامن کی شاعری حقیقت نگاری اور فطرت نگاری کی خوبیوں سے مالامال ھے اور انسانی زندگی کی خوبصوت عکاس ھے۔
لکھاں بھیس وٹا کے ویکھے
آسن کتے جما کے ویکھے
متھے تلک لگا کے ویکھے
کدھرے مون منا کے ویکھے
اوھی رستے ' اوھی پینڈے
اوھو ھی ھاں میں چلنہار
مینوں پاگلپن درکار
ھتھ کسے دے آؤنا کی اے؟
ملاں نے جتلاؤنا کی اے؟
پنڈت پلے پاؤنا کی اے؟
رات دنے بسّ گلاں کر کر
کجھ نہیں بن دا آخرکار
مینوں پاگلپن درکار
میں نہیں سکھیا علم ریازی
ناں میں پنڈت ' ملاں ' قاضی
نہ میں دانی ' نہ فازی
نہ میں جھگڑے کر کر راضی
نہ میں منشی ' عالم فاضل
نہ میں رند تے نہ ھشیار
مینوں پاگلپن درکار
میں نہیں کھاندا ڈکو ڈولے
رتھ جیون نوں لا ھچکولے
اینویں لبھدا پھراں وچولے
کوئی بولے تے کوئی نہ بولے
ملے گلے دا آدر کر کے
کرنا اپنا آپ سدھار
مینوں پاگلپن درکار
سبھ دسدے نے ونّ سونے
کول جاؤ تاں خالی چھنے
دل نہ منے ' تے کی منے
اینویں من منوتی کاھدی
گلّ نہ ھوندی ھنے- بنے
اندر کھوٹ تے باھر سچیار
مینوں پاگلپن درکار
ایہہ دنیا کی رولا گولہ
کوئی کہندا اے مولٰی مولٰی
کوئی کردا اے ٹال مٹولا
کوئی پاؤندا اے چال مچولا
مینوں کجھ پتہ نہیں چلدا
کی ھوندا اے وچ سنسار
مینوں پاگلپن درکار
ولی ' پیر میں پگڑ پگڑ کے
گٹے گوڈے رگڑ رگڑ کے
دل نوں ھن تے جکڑ جکڑ کے
اینویں جھگڑے جھگڑ جھگڑ کے
چھڈّ دتے نے جھگڑے جھانجے
لمے چوڑے کھل کھلار
مینوں پاگلپن درکار ۔
ربا ' مینوں پاگلپن درکار
استاد دامن نے اپنی شاعری میں پیغام کو ان افراد تک پہنچانے کا طریقہ بھی بتایا جن تک پیغام پہنچانے سے فساد نہ ھو۔
دامن چانا ایں جے تینوں نہ ضرب لگے
جاھلاں وچ دانائی تقسیم نہ کر
استاد دامن نے فلموں کے لیے بھی گیت لکھے۔ ان کا فلم غیرت تے نشان میں شامل یہ گیت بہت مشہور ھوا۔
منیو ں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات
استاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف اس عہد کے عظیم اور منفرد شاعر فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ؛ میں پنجابی میں صرف اس لیے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ' وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ھیں۔ بلاشبہ استاد دامن پنجابی ادب کا انمول خزانہ ھے۔
استاد دامن کی ایک خوبی ان کے حافظے کی تیزی تھی۔ ان کی یاد داشت بہت زیادہ تھی۔ جب قیام پاکستان کے بعد کچھ شرپسند عناصر نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ' ھیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رھے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ھو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ھو کر اپنا کلام صفحات پر محفوظ کر نا چھوڑ دیا اور صرف اپنے حافظے پر بھروسہ کرنے لگے۔ اس وجہ سے ان کا زیادہ تر کلام ضائع ھو گیا۔ لیکن ان کی یاد میں قائم ھونے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہدیداروں نے بڑی محنت و کاوش سے ان کے مختلف ذھنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ھوئے کلام کو یکجا کر کے "دامن وے موتی" کے نام سے ایک کتاب پیش کی۔ استاد دامن اکیڈمی کی اس کاوش سے جہاں پنجابی ادب کو بہت فائدہ ھوا اور اس کے شعری سرمائے میں اضافہ ھوا۔ وھاں شعری ذوق رکھنے والے افراد کو بھی استاد دامن کی شاعری سے فیض یاب ھونے کا مو قع ملا۔
استاد دامن 3 دسمبر 1984 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور وصیت کے مطابق شاہ حسین (مادھو لال حسین) کے مزار کے احاطے میں واقع قبرستان میں دفنایا گیا۔
04/09/2024
اپنے ذاتی مفاد اور دوسروں کو راضی کرنے کے لیے پنجاب کے مفادات کا سودا کرنا مسلم لیگ ن کا وطیرہ رہا ہے
خود کو "پنجاب کی دھی" کہلوانے والی مریم نواز کیا
"گریٹر تھل کینال" کا مقدمہ لڑے گی
يا ہمیشہ کی طرح مصلحت کا شکار ہو کے پنجاب کے مفادات کا سودا کرے گی؟
01/08/2024
ضلع قصور،لاہور،شیخوپورہ،گوجرانوالا،گجرات،ناروال تے سیالکوٹ توں تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے تے سیاست اچ دلچسپی رکھن والے پی این ایف دا حصہ بنن لئی رابطہ کرن
01/08/2024
روڈ کے کنارے درخت لگانے کے لیے ایسے درختوں کا انتخاب کرنا چاہیئے جو ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور شہری ماحول میں بہتر ترقی کر سکیں۔ یہاں چند درختوں کی اقسام ہیں جو روڈ کے کنارے لگانے کے لیے مناسب ہیں:
1. نیم (Neem - Azadirachta indica)
- **خصوصیات:** نیم ایک مضبوط اور لمبی عمر کا درخت ہے جو سخت حالات میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ درخت ہوا کی صفائی میں مدد کرتا ہے اور اس کے پتے اور چھال مختلف طبی فوائد رکھتے ہیں۔
2. گل موہر (Flame Tree - Delonix regia)
- **خصوصیات:** گل موہر ایک خوبصورت درخت ہے جو سرخ پھولوں سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ درخت گرمی میں چھاؤں فراہم کرتا ہے اور اس کی جڑیں مٹی کو مضبوط کرتی ہیں۔
3. پیپل (Peepal Tree - Ficus religiosa)
- **خصوصیات:** پیپل ایک مقدس اور طویل عمر والا درخت ہے جو ہوا کی صفائی میں مدد کرتا ہے۔ اس کی جڑیں مٹی کو مضبوط کرتی ہیں اور یہ درخت شہری ماحول میں آسانی سے بڑھتا ہے۔
4. شیشم (Sheesham - Dalbergia sissoo)
- **خصوصیات:** شیشم ایک مضبوط اور سخت درخت ہے جو گرمی اور خشک حالات میں بھی زندہ رہتا ہے۔ اس کی لکڑی بہت مضبوط ہوتی ہے اور یہ درخت ماحول کی صفائی میں مددگار ہوتا ہے۔
5. بَیری (Indian Jujube - Ziziphus mauritiana)
- **خصوصیات:** بَیری ایک چھوٹا اور جھاڑی نما درخت ہے جو سخت حالات میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کے پھل غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ درخت چھاؤں فراہم کرتا ہے۔
6. کنیر (Oleander - Nerium oleander)
- **خصوصیات:** کنیر ایک چھوٹا اور خوبصورت درخت ہے جو گرمی میں بھی آسانی سے بڑھتا ہے۔ اس کے پھول مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں اور یہ درخت شہری ماحول میں بہتر ترقی کرتا ہے۔
7. املتاس (Golden Shower Tree - Cassia fistula)
- **خصوصیات:** املتاس ایک خوبصورت درخت ہے جو سنہری پھولوں سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ درخت گرمی میں چھاؤں فراہم کرتا ہے اور اس کی جڑیں مٹی کو مضبوط کرتی ہیں۔
روڈ کے کنارے درخت لگانے کے فوائد:
1. **ہوا کی صفائی:** درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔
2. **چھاؤں فراہم کرنا:** درخت چھاؤں فراہم کرتے ہیں جس سے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے۔
3. **ماحولیاتی توازن:** درخت جانوروں اور پرندوں کو رہائش فراہم کرتے ہیں۔
4. **مٹی کی حفاظت:** درخت مٹی کو کٹاؤ سے محفوظ رکھتے ہیں۔
یہ درخت نہ صرف ماحول کو بہتر بناتے ہیں بلکہ شہری ماحول میں خوبصورتی بھی اضافہ کرتے ہیں۔ ان درختوں کو روڈ کے کنارے لگانا نہایت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
آؤ مل کر پاکستان کو گرین کریں۔
01/08/2024
عالمی دہشتگرد تنظیم BLA کا گوادر میں "راجی مچی مارچ" کی حمایت اور حفاظت کا اعلان!
بلی تھیلے سے باہر آ رہی ہے۔
سب کردار کھل کے سامنے آ رہے ہیں۔
ہم کہتے تھے نا کہ مہرنگ ٹاووٹ ہے۔
مسلہ حقوق نہیں مسلہ عالمی دنیا یورپ اور امریکا کی نظر میں کھٹک رہا سی پیک ہے۔
اب بات کرتے ہیں انسانی حقوق کی جس میں فلسطین اور کشمیر سے بڑھ کے کہیں ظلم نہیں ہوا۔ کبھی فلسطیں جہاں انسانی حقوق کی دھچیاں اڑا دی گئی ہیں کبھی وہاں امن کے لیے یا انکے حقوق کے لیے امریکہ یا برطانیہ سے آواز اٹھائی گئی؟ کیا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو صرف دو دن کا دھرنا ہی نظر آیا؟ یا پھر بلوچستان کی مشہور زمانہ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی تخریب کاری اور ریاست کے خلاف ہونے والی سنگین وارداتیں نظر نہیں آئیں؟
بی ایل اے جو پاکستان میں بین تنظیموں میں سر فہرست ہے۔یہ ایک سرکاری دہشت گرد تنظیم ہے جسے امریکہ اور باقی دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ جسکے بارے میں امریکہ اور برطانیہ نے 3 جولائی2019 کو کچھ یوں بیان دیے تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق '"بی ایل اے ایک مسلح علیحدگی پسند گروہ ہے جو پاکستان میں واقع بلوچ اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کو نشانہ بناتا ہے۔'"
خیال رہے کہ پاکستان نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ بھی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں.
اس سال 11 مئی کو، بی ایل اے نے گوادر میں زیور پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اپنی نامزد فہرست میں دیگر تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا، جن میں جنداللہ عرف بلوچ عوامی مزاحمتی تحریک کو دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
جولائی 24 کو نام نہاد بلوچ راجی مُچی کے آڑ میں ایک پرتشدد ہجوم نے گوادر ضلع میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں 3 سپاہی شہید اور متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔
نام نہاد پیس فل پروٹیسٹ کی کہانیاں سنانے والے اب اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟؟ آخر بی ایل اے نے خود ہی ذمہ داری قبول کر لی۔ یہی بات پہلے بھی کی گئی تھی کہ بی وائی سی اور بی ایل اے کی الائنس ہے اور جہاں بی ایل اے خود نہیں پہنچ سکتا وہاں اپنی دہشت گرد تنظیم بی وائی سی سے اس طرح کے واقعات کرواتا ہے۔
بی ایل اے نے خود ہی قبول کر لیا کہ مستونگ میں حملہ ان کے دہشت گردوں نے کیا۔ وہ دہشت گرد دراصل بی وائی سی کے اراکین تھے جنہوں نے ایک طرف حملہ کیا اور دوسری طرف مارنگ جیسے سپوکس پرسنز نے نہاد پیس فل پروٹیسٹ کی کہانیاں سنائی۔
اب برطانیہ میں گوادر جلسے میں کریک ڈاؤن کے خلاف قرارداد منظور کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سارا مسئلہ سی پیک ہے۔ برطانیہ امریکہ جس تنظیم کو خود ایک سرکاری دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہےاور اب اس کی پشت پناہی کررہا ہے جو سیکورٹی اداروں پہ کھلے عام حملے کررہی ہے جبکہ دوسری طرف سیکورٹی فورسز عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ جس کا اعتراف مقامی بلوچ بھی کر چکے ہیں۔
سب باتوں کا جائزہ لینے کے بعد ثابت ہوچکا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ سی پیک کے خلاف امریکن ٹاووٹ ہے جو امریکہ کے اشاروں پہ ناچنے والی اور ایک دہشت گرد کی بیٹی ہے اور امریکہ سے ڈالرز کے عوض ریاستی اداروں پر حملے کرنیوالوں کی بھرپور حمایت کررہی ہے۔
امریکی ٹاووٹ رنگ باز بلوچ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
