تیری بخشی ہوئی وحشت کی عطا لگتی ہے
ور نه مُنہ زور اُداسی میری کیا لگتی ہے
مجھ پر اے ظلم کماتے ہوئے انسان ، نہ ڈر
بد دُعا لگتی ہے میری نہ دُعا لگتی ہے
پوری آتی ہے بدن پر نہ ذرا سجتی ہے
زندگی جیسے کرائے کی قبا لگتی ہے
Raaz e ulfat
Its all about poetry
دیکھ اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی
تم گزر جاؤ گی چپکے سے تمھارا کیا ہے !!!!
وقت!
پھر وقت نے اپنی ہی چلائی ہے اس طرح
جانا کسی کے پاس تھا، لایا کسی کے پاس !
وہ راگ جس میں زندگی کے سارے رنگ تھے
سیکھا کسی کے پاس تھا، گایا کسی کے پاس !
خساره!
اداسیوں میں کئی قہقہے پروتے ہوئے
جئے ہیں شان سے ہم زخم زخم روتے ہوئے۔
بہت بڑا ہے خسارہ، یہ سب خساروں میں
کہ کچھ کھو گیا ہے دسترس میں ہوتے ہوئے۔
جنگ مذاق نہیں ـ اس میں چراغ بجھتے ہیں،
گھراجڑتے ہیں، اور نسلیں خوف میں جیتی ہیں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں
اپنے گھر پر آویزاں نہ کر سنہری تختی
یہ تو سائل ہی بتائے گا در کیسا تھا
کردار جن کے خود مرمت مانگ رہے ہیں
نکلے وہ لوگ میری شخصیت بگاڑنے
اس کے لہجے میں قیامت کی فسوں کاری تھی...
لوگ آواز کی لذت میں --------- گرفتار ملے...
کر تو لینا تھا ترے ساتھ گزارہ لیکن
اب ترے ساتھ بھی کرتے، تو گزارہ کرتے؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
