13/02/2016
Wasila Overseas Promoters
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wasila Overseas Promoters, Lahore.
Wasila Overseas Promoter established in Lahore Pakistan in 2008 and holds Employment Agency License, issued by the Ministry of Labor, Manpower and Overseas Pakistanis, Government of Pakistan. Company-wide process of Organizational Development that addresses issues such as succession planning, superior workforce development, key employee retention, talent management, organization design, and change management.
13/02/2016
ایک خاوند نے اپنی بیوی کو پہلی ملاقات میں یہ نصیحت کی۔ کہ چار باتوں کا خیال رکھنا:
پہلی بات یہ کہ مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔ اس لئے میں نے آپ کو بیوی کے طور پر پسند کیا۔ اگر آپ مجھے اچھی نہ لگتیں تو میں نکاح کے ذریعے آپ کو گھر ہی نہ لاتا۔ آپ کو بیوی بنا کر گھر لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مجھے آپ سے محبت ہے تا ہم میں انسان ہوں فرشتہ نہیں ہوں اگر کسی وقت میں غلطی کر بیٹھوں تو تم اس سے چشم پوشی کر لینا۔ چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو نظر انداز کر دینا۔
اور دوسری بات یہ کہ مجھے ڈھول کی طرح نہ بجانا۔ بیوی نے کہا، کیا مطلب؟ اس نے کہا جب بالفرض اگر میں غصے میں ہوں تو میرے سامنے اس وقت جواب نہ دینا۔ مرد غصے میں جب کچھ کہہ رہا ہو اور آگے سے عورت کی بھی زبان چل رہی ہو تو یہ چیز بہت خطرناک ہوتی ہے۔ اگر مرد غصے میں ہے۔ تو عورت اوائڈ کر جائے اور بلفرض عورت غصے میں ہے تو مرد اوائڈ کر جائے۔ دونوں طرف سے ایک وقت میں غصہ آ جانا یوں ہے کہ رسی کو دونوں طرف سے کھینچنے والی بات ہے۔ ایک طرف سے رسی کو کھینچیں اور دوسری طرف سے ڈھیلا چھوڑ دیں تو وہ نہیں ٹوٹتی اگر دونوں طرف سے کھینچیں تو پھر کھچ پڑنے سے وہ رسی ٹوٹ جاتی ہے۔
تیسری نصیحت یہ ہے کہ دیکھنا مجھ سے راز و نیاز کی ہر بات کرنا مگر لوگوں کے شکوے اور شکائیتیں نہ کرنا۔ چونکہ اکثر اوقات میاں بیوی آپس میں تو بہت اچھا وقت گزار لیتے ہیں۔ مگر نند کی باتیں ساس کی باتیں فلاں کی باتیں، یہ زندگی کے اندر زہر گھول دیتی ہیں۔ اس لئے شکوے شکائتوں سے ممکنہ حد تک گریز کرنا۔
اور چوتھی بات کہ دیکھنا دل ایک ہے یا تو اس میں محبت ہو سکتی ہے یا اس میں نفرت۔ ایک وقت میں دو چیزیں دل میں نہیں رہ سکتیں۔ اگر خلافِ اصول میری کوئی بات بری لگے تو دل میں نہ رکھنا، مجھے سے جائز طریق سے بات کرنا، کیونکہ باتیں دل میں رکھنے سے انسان شیطان کے وسوسوں کا شکار ہو کر دل میں نفرتیں گھولتا ہے اور تعلقات خراب ہو کر زندگی کا
رخ بدل دیتے ہیں۔
٭٭ شداد کی جنت ،،،،،،
اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا تجھ کو کبھی کسی بندے کی روح قبض کرتے وقت کبھی رحم بھی... آیا یا نہیں ؟ملک الموت علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ رب العزت ! مجھکو دو ذی روحوں کی جان نکالنے میں کمال رقت ہوئی تھی ، اور رحم آیا ،اگر آپ کا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز ہرگز ان کی جان نہ نکالتا۔
پوچھنے پہ
عرض کیا :ایک تو وہ بچہ تھا جو نیا پیدا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ جہاز کے ٹوٹے ہوئے تختے پر بے سروسامانی کی حالت میں بحر بیکراں میں تیرتا جا رہا تھا۔ اس وقت اس بچے کا واحد سہارا تمام کائنات میں اس کی ماں تھی تو مجھے حکم ہوا کہ اسکی ماں کی روح قبض کرلے۔ اس وقت مجھے اس بچے پر بے حد بے حد رحم آیاتھا کیونکہ اس بچے کا اس کا ماں کے سوا کوئی دوسرا خبر گیر نہ تھا اور بھوکا پیاسا بچہ اپنی ماں کے دودھ کے لئے ترس رہاتھا۔ـ
اور باری تعالیٰ ! دوسرا ایک بادشاہ تھا جس نے ایک شہر کمال آرزو سے ایسا بنوایا تھاکہ ویسا شہر دنیا میں کہیں نہیں تھا، جب وہ شہر تیار ہو گیا اور بادشاہ اپنے شہر کو دیکھنے پہنچا تو جس وقت ایک قدم اس کا شہر کے دروازے میں تھا تو مجھے حکم ہوا اور اس کی جان قبض کر لے اس وقت بھی مجھے بہت رونا آیا تھا کہ وہ بادشاہ کیاکچھ حسرتیں اپنے دل میں لے گیا ہوگا۔ ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:عزرائیل ! تمہیں ایک ہی شخص پر دوبار رحم آیا ہے! کیونکہ یہ بادشاہ وہی بچہ تھا جس کو ہم نے بغیر ماں باپ کے بناکسی سہارے کے سمندر کی تیز وتندلہروں اور طوفانوں میں بھی محفوظ رکھا اور اس کو حشمت وثروت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب یہ اس مرتبے کو پہنچا تو ہماری تابعداری سے منہ موڑا اور تکبر کرنے لگا اور آخرکار اپنی سزا کو پہنچا۔
اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اس نے کہا : میں بہروپیا ہوں اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں آپ کو جو اپنے علم پر بڑا ناز ہے کو دھوکہ دے سکتا ہوں میں بھیس بدلونگا آپ پہچان کر دکھائیے - "
عالمگیر نے کہا ! " منظور ہے "
اس نے کہا حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں - اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کے دینے دار ہوں -
لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلہ تو آپ سے پانچ سو روپیہ لونگا -
شہنشاہ نے کہا شرط منظور ہے -
ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر اورنگزیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچا اور مرہٹوں پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے کہ اس کی فوجیں وہ قلعہ توڑ نہ سکیں -
لوگوں نے کہا یہاں ایک درویش ولی الله رہتے ہیں ان کی خدمت میں حاضر ہوں
شہنشاہ پریشان تھا بیچارہ بھاگا بھاگا گیا ان کے پاس - سلام کیا اور کہا ؛ آپ ہماری مدد کریں میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں - "
تو فقیر نے فرمایا ! " نہیں کل مت کریں ، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نماز ظہر - "
اورنگزیب نے کہا جی بہت اچھا ! چانچہ اس نے بعد نماز ظہر جو حملہ کیا ایسا زور کا کیا اور ایسے جذبے سے کیا اور پیچھے فقیر کی دعا تھی ، اور ایسی دعا کہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی - مفتوح جو تھے پاؤں پڑ گئے -
بادشاہ سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا - حضور یہ سب آپ ہی کی بدولت ہوا ہے -
اس فقیر نے کہا : " نہیں جو کچھ کیا الله ہی نے کیا "
انھوں نے کہا کہ آپ کی خدمت میں دو بڑے بڑے قصبے دیتا ہوں اور اور آئندہ پانچ سات پشتوں کے لئے ہر طرح کی معافی ہے -
اس نے کہا : " بابا ہمارے کس کام کی ہیں یہ ساری چیزیں - ہم تو فقیر لوگ ہیں تیری بڑی مہربانی - "
اورنگزیب نے بڑا زور لگایا لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کے واپس آگیا -
اور اورنگزیب اپنے تخت پر آ کر بیٹھ گیا جب وہ ایک فرمان جاری کر رہا تھا عین اس وقت وہ فقیر آیا -
تو شہنشاہ نے کہا : " حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے مجھے حکم دیتے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا - "
کندن نے کہا ! " نہیں شہنشاہ معظم ! اب یہ ہمارا فرض تھا ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو جناب عالی میں کندن بہروپیا ہوں - میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں - "
اس نے کہا : " تم وہ ہو -
کندن نے کہا ہاں وہی ہوں - جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا -
اورنگزیب نے کہا : " مجھے پانچ سو روپے دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے - میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں جب میں نے آپ کے نام اتنی زمین کر دی جب میں نے آپ کی سات پشتوں کو یہ رعایت دی کہ اس میری ملکیت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں - آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا ؟
یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں -
اس نے کہا : " حضور بات یہ ہے کہ جن کا روپ دھارا تھا ، ان کی عزت مقصود تھی - وہ سچے لوگ ہیں ہم جھوٹے لوگ ہیں - یہ میں نہیں کر سکتا کہ روپ سچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں - "
12/12/2015
About the wonderful creation of the bat
Praise be to Allah who is such that it is not possible to describe the reality of knowledge about Him, since His greatness has restrained the intellects, and therefore they cannot find the way to approach the extremity of His realm. He is Allah, the True, the Manifester of Truth. He is more True and more Manifest than eyes can see. Intellects cannot comprehend Him by fixing limits for Him since in that case to Him would be attributed shape. Imagination cannot catch Him by fixing quantities for Him for in that case to Him would be attributed body. He created creatures without any example, and without the advice of a counsel, or the assistance of a helper. His creation was completed by His command, and bowed to His obedience. It responded (to Him) and did not defy (Him). It obeyed and did not resist.
An example of His delicate production, wonderful creation and deep sagacity which He has shown us is found in these bats which keep hidden in the daylight although daylight reveals everything else, and are mobile in the night although night shuts up every other living being; and how their eyes get dazzled and cannot make use of the light of the sun so as to be guided in their movements and so as to reach their known places through the direction provided by the sun.
Allah has prevented them from moving in the brightness of the sun and confined them to their places of hiding instead of going out at the time of its shining. Consequently they keep their eyelids down in the day and treat night as a lamp and go with its help in search of their livelihood. The darkness of night does not obstruct their sight nor does the gloom of darkness prevent them from movement. As soon as the sun removes its veil and the light of morning appears, and the rays of its light enter upon the lizards in their holes, the bats pull down their eyelids on their eyes and live on what they had collected in the darkness of the night. Glorified is He who has made the night as day for them to seek livelihood and made the day for rest and stay.
He has given them wings of flesh with which, at the time of need they rise upwards for flying. They look like the ends of ears without feathers or bones. Of course, you can see the veins quite distinctly. They have two wings which are neither too thin so that they get turned in flying, nor too thick so that they prove heavy. When they fly, their young ones hold on to them and seek refuge with them, getting down when they get down and rising up when they rise. The young does not leave them till its limbs become strong, its wings can support it for rising up, and it begins to recognise its places of living and its interest. Glorified is He who creates everything without any previous sample by someone else.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore
