وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا
پر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا
کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کے
اور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا
کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافر
دم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا
پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواں
جب تک کہ وہ مضموں میں تصرف نہیں کرتا
دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہے
دنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا
تا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفی
کچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
شیخ ابرہیم ذوق
Sagar nama
there iz no one like me in da world......
’’غزل‘‘
محسن بھوپالی
جو غم شناس ہو ایسی نظر تُجھے بھی دے
یہ آسماں غمِ دِیوار و دَر تُجھے بھی دے
سُخن گُلاب کو کانٹوں میں تولنے والے
خُدا سلیقہء عرضِ ہُنر تُجھے بھی دے
خراشیں روز چُنے اور دِل گرفتہ نہ ہو
یہ ظرفِ آئینہ، آئینہ گَر تُجھے بھی دے
پَرکھ چُکی ہے بہت مُجھ کو یہ شبِ وعدہ
اَب اِنتظار زدہ چشمِ تَر تُجھے بھی دے
ہے وقت سَب سے بڑا منتقم یہ دھیان میں رکھ
نہ سہہ سَکے گا یہی غم اَگر تُجھے بھی دے
سَبھی شہادتیں تیرے خلاف ہیں محسنؔ
یہ مشورہ دلِ خُود سَر مگر تُجھے بھی دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگہ سے چشم سے ناز و ادا سے
خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
کسی کی بے وفائی سے مجھے کیا
میں اپنے کام رکھتا ہوں وفا سے
بہت مانگیں دعائیں ہاتھ اٹھا کر
نہ نکلا کام کچھ آخر دعا سے
مجھے ڈر ہے کہیں رسوا نہ ہو تو
جو میں رسوا ہوا تیری بلا سے
حسنؔ دیتا ہے تو کیوں جی بتوں پر
ملا دیں گے تجھے کیا یہ خدا سے
میر حسن دہلوی
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم ، رات یہ کیا ھوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ھے یہ برا ھوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی نہ جلا ھوا نہ بجھا ھوا
مجھے جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھےآپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ اپنےدل ہی سے پوچھیے
مری داستان حیات کا تو ورق ورق ھے کھلا ھوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کےلوگ تھے مرے گھر سے گھر ھے ملا ھوا
ہمیں اسکا کوئی بھی حق نہیں کہ شریک بزم خلوص ھوں
نہ ہمارے پاس نقاب ھے نہ کچھ آستیں میں چھپا ھوا
مرے ایک گوشہء فکر میں میری جاں سے بھی عزیز تر
مرا ایک ایسا دوست ھے جو ملا کبھی نہ جدا ھوا
مجھے اک گلی میں پڑا ھوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ھوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ھوا
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ھوا کہیں راستوں میں لٹا ھوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ھوئے سر راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ہی ادا ھوا
#اقبال عظیم
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی
چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی
نظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں
کہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی
وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی
ترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا
کہ نہ آئنہ میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی
کیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں
نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی
سیراج اورنگ آبادی
نشے کی لت میں بزرگوں کا مان بیچا گیا
اڑھائی مرلے کا کچہ مکان بیچا گیا
یہ بات قتل سے زیادہ بری لگی مجھ کو
کہ خوں بہا کے لیے خاندان بیچا گیا
میری پڑھائی پہ جب ماں نے بالیاں بیچیں
مجھے لگا ، میری خاطر جہان بیچا گیا
جو بول سکتے تھے ان کی زبانیں کاٹی گئیں
پھر اس کے بعد ہر اک بے زبان بیچا گیا
یہ کھیل کھیلا گیا پچھلی کئی دہائیوں سے
کبھی غلام ، کبھی حکمران بیچا گیا
خدا کے نام پہ چندے وصول ہوتے رہے
زمیں خریدی گئی ، آسمان بیچا گیا
عجیب قسم کے جھانسے ملازمت کے دیے
پرائے دیس میں میرا جوان بیچا گیا
ڈاکٹر شکیل پتافی
صبا میں مست خرامی گلوں میں بو نہ رہے
ترا خیال اگر دل کے رو برو نہ رہے
تیرے بغیر ہر اک آرزو ادھوری ہے
جو تو ملے تو مجھے کوئی آرزو نہ رہے
ہے جستجو میں تیری اک جہاں کا درد و نشاط
تو کیا عجب کہ کوئی اور آرزو نہ رہے
تو ذوق کم طلبی ہے تو آرزو کا شباب
ہے یوں کہ تو رہے اور کوئی جستجو نہ رہے
کتاب عمر کا ہر باب بے مزہ ہو جائے
جو درد میں نہ رہوں اور داغ تو نہ رہے
خدا کرے کہ وہ افتاد آ پڑے ہم پر
کہ جان و دل رہیں اور تیری آرزو نہ رہے
تیرے خیال کی مے دل میں یوں اتاری ہے
کبھی شراب سے خالی میرا سبو نہ رہے
وہ دشت درد سہی تم سے واسطہ تو رہے
رہے یہ سایہ گیسوئے مشک بو نہ رہے
کرو ہمارے ہی زخموں سے روشنی تم بھی
بڑا ہے درد کا رشتہ دوئی کی بو نہ رہے
نہیں قرار کی لذت سے آشنا یہ وجود
وہ خاک میری نہیں ہے جو کو بکو نہ رہے
سفر طویل ہے اس عمر شعلہ ساماں کا
وہ کیا کرے جسے جینے کی آرزو نہ رہے
شاعرہ:
ساجدہ زیدی
سابق پروفیسر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
عطا جسے ، تِرا عکسِ جمال ہوتا ہے
وُہ پُھول سارے گُلستاں کا لال ہوتا ہے
تلاش کرتی ہے سائے تمہارے آنچل کے
چَمن میں بادِ صبا کا ، یہ حال ہوتا ہے
رہِ مجاز میں ہیں منزلیں حقیقت کی
مگر ، یہ اہلِ نظر کا خیال ہوتا ہے
یہ واردات بھی اب دِل پہ روز ہوتی ہے
مسرتوں میں بھی ہم کو ملال ہوتا ہے
بہار فطرتِ صیّاد کی کہانی ہے
کہ اس کے دوش پہ پُھولوں کا جال ہوتا ہے
یہ بکھرے بکھرے سے گیسُو ، تھکی تھکی آنکھیں
کہ جیسے ،،، کوئی گُلستاں نڈھال ہوتا ہے
جواب دے نہ سکیں جس کا دو جہاں ساغرؔ
کِسی غریب کے دِل کا سوال ہوتا ہے
(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
اسلام آباد سے اغواء کیئے جانے والے کشمیری صحافی اور شاعر”احمد فرحاد” کی جانب سے مظفر آباد آزاد کشمیر میں اپنی برآمدگی کے بعد کہی جانے والی نئی مزاحمتی نظم:
پیٹھ پیچھے سے تیرے وار بھی دیکھ آئے ہیں
جو تھا پوشیدہ وہ کردار بھی دیکھ آئے ہیں
خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے والے
اپنی آنکھوں سے تیری ہار بھی دیکھ آئے ہیں
خود کو جو چارہ گر _ قوم کہا کرتے ہیں
بر لب گور وہ بیمار بھی دیکھ آئے ہیں
نہ ڈرا آگ سے بیٹا ہوں براہیم کا میں
تیرے نمرود کی وہ نار بھی دیکھ آئے ہیں
جس کو دعوی ہے خدائی کا زمیں پر سن لے
ہم تو فرعون کا دربار بھی دیکھ آئے ہیں
اور کیا چاہیئے اے ارض وطن تیرے لئے
طوق بھی چوم لیا دار بھی دیکھ آئے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Lahore
T.R.B
