18/02/2026
⚖️وکالت صرف پیشہ نہیں… یہ انصاف کی امانت ہے
آج کے دور میں بہت سے لوگ وکالت کو صرف روزگار یا کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ بعض کے نزدیک وکیل کا کام صرف مقدمہ جیتنا ہے۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں بلند اور ذمہ دارانہ ہے۔
وکالت حق کی پہچان، مظلوم کی آواز اور انصاف کے تحفظ کا نام ہے۔ عدالت میں دی گئی ایک دلیل، ایک نکتہ، ایک تحریر کسی خاندان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اس لیے وکیل کا کردار صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہوتا ہے۔
بحیثیت ایک وکیل، میرا ایمان ہے کہ میں صرف زمینی عدالتوں میں نہیں بلکہ ایک اعلیٰ عدالت میں بھی جوابدہ ہوں۔
📖 بائبل مقدس فرماتی ہے:
“نیکی کرنا سیکھو۔ انصاف کے طالب ہو۔ مظلوموں کی فریاد رسی کرو۔”
(یسعیاہ 1:17)
اور لکھا ہے:
“اپنا منہ گونگوں کے لئے کھول، اور سب بےکسوں کے حق میں انصاف کر۔”
(امثال 31:8-9)
یہ آیات مجھے یاد دلاتی ہیں کہ انصاف صرف قانون کی کتابوں میں نہیں بلکہ ہمارے کردار اور نیت میں بھی ہونا چاہیے۔
ساتھ ہی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ آج پاکستان میں عدالتی نظام کو کئی چیلنجز درپیش ہیں مقدمات کا بوجھ، تاخیر، پیچیدہ طریقہ کار، اور عام آدمی کی رسائی کے مسائل۔ انصاف میں تاخیر اکثر انصاف سے محرومی کے مترادف ہو جاتی ہے۔
ہم سب وکلاء، ججز اور قانون سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ ہم نظام کو بہتر بنانے، شفافیت بڑھانے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
عدالتیں صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ انصاف کے احساس سے مضبوط ہوتی ہیں۔
جب قانون طاقتور کے لیے ڈھال اور کمزور کے لیے امید بن جائے، تب ہی معاشرہ حقیقی معنوں میں مضبوط ہوتا ہے۔
میرا یقین ہے کہ وکالت سچائی، دیانت، اور خدا کے خوف کے ساتھ ادا کی جانے والی خدمت ہے۔
ایک وکیل کا اصل وقار اس کی فیس میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں میں ہوتا ہے۔
⚖️ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔
✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ
30/01/2026
📢ہم گناہ کے ٹھیکیدار نہیں📢
میں ایک مسیحی ہوں۔
میں ایک پاکستانی ہوں۔
اور میں اس دوہرے معیار پر خاموش نہیں رہ سکتا جو برسوں سے ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔
پاکستان میں جب بھی شراب نوشی , شراب فروخت کی بات آتی ہے،
تو انگلی فوراً اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کی طرف اٹھا دی جاتی ہے۔
حالانکہ یہ ایک کھلا سچ ہے کہ
کسی بھی سماجی برائی کو کسی ایک مذہب سے جوڑ دینا حقیقت اور انصاف دونوں کے خلاف ہے
حقیقت یہ ہے کہ
ملک کے ایکسائز قوانین کے تحت غیر مسلم شہریوں کو شراب کے اجازت نامے (Permits) دیے جاتے ہیں،
عملی طور پر یہی پرمٹس
غیر مسیحی افراد کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں،
اور بدنامی مسیحیوں کے حصے میں آتی ہے۔
یہ نہ صرف اخلاقی بددیانتی ہے
بلکہ اقلیتوں کے خلاف ایک منظم ناانصافی بھی ہے۔
پاکستان کا آئین:
* آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے
* آرٹیکل 20 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے
* جبکہ آرٹیکل 37(h) ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ
“نشہ آور اشیاء کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے”
سوال یہ ہے:
اگر نشہ ایک سماجی برائی ہے
تو پھر اس برائی کو اقلیتوں کے نام پر کیوں زندہ رکھا گیا ہے؟
اور اگر ریاست واقعی اصلاح چاہتی ہے
تو پھر صرف اجازت ناموں کا بوجھ مسیحیوں پر کیوں؟
کلامِ مقدس ہمیں سچ اور پاکیزگی کا راستہ دکھاتا ہے:
"نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ گالی گلوچ کرنے والے، نہ ظالم
خدا کی بادشاہی کے وارث ہوں گے۔” 1 کرنتھیوں 6:9–10
“تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے… اس لیے خدا کی تمجید اپنے بدن سے کرو” 1 کرنتھیوں 6:19–20
“کسی پر جھوٹا الزام نہ لگاؤ”
خروج 20:16
بائبل ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ
گناہ کو چھپایا نہیں جاتا
اور نہ ہی کسی کمزور پر ڈال دیا جاتا ہے۔
میرا مطالبہ حکومتِ پاکستان سے
1. مسیحیوں کے نام پر جاری کیے گئے شراب کے اجازت ناموں کا نظام ختم کیا جائے
2. شراب نوشی کو اقلیتوں سے جوڑ کر انہیں قربانی کا بکرا بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے
3. اگر نیت واقعی اصلاح کی ہے تو
اس بری عادت پر غیر امتیازی اور سنجیدہ پابندی عائد کی جائے
مسیحی برادری سے اپیل:
اب خاموشی کافی نہیں۔
خاموشی نے ہمیں محفوظ نہیں رکھا،
بلکہ ہمیں آسان ہدف بنا دیا ہے۔
میں تمام مسیحی بہن بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں:
* اس مسئلے پر آواز اٹھائیں
* اپنے ایمان اور شناخت کو غلط استعمال ہونے نہ دیں
یاد رکھیں:
“سچائی تمہیں آزاد کرے گی”
(یوحنا 8:32)
ہم اس ملک میں گناہ کے ٹھیکیدار نہیں۔
ہم برابر کے شہری ہیں۔
اور برابر کے شہری ہونے کے ناطے
ہمیں سچ بولنے کا پورا حق ہے
✍️شاویز جاوید سہوترا ایڈووکیٹ
Ministry of Human RightsNational Commission for Human RightsNational Commission for Minorities
23/01/2026
یہ صرف ایک گرفتاری نہیں تھی۔
یہ قانون، آئین اور انسانی وقار کی کھلی اور بے رحم تذلیل تھی۔
اسلام آباد کی سڑک پر جو منظر دیکھا گیا، وہ کسی ایک فرد کے ساتھ ہونے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ پورے نظامِ انصاف کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ تھا۔
ایک وکیل، ایک شہری، ایک خاتون جو خود عدالت میں سرنڈر کرنے جا رہی تھیں ان پر یوں ٹوٹ پڑنا، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی گاڑی کو روکنا، شیشے توڑنا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کرنا، یہ سب کچھ قانون کے نفاذ کا عمل نہیں تھا بلکہ قانون کی لاش پر طاقت کا جشن تھا۔
میں ایک وکیل ہوں، اور پورے شعور، ضمیر اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ یہ ریاستی اختیار نہیں تھا، یہ ریاستی بربریت تھی۔
جب عدالت جانے والے شخص کو سڑک سے اٹھایا جائے تو دراصل یہ اعلان ہوتا ہے کہ عدالت کی اتھارٹی بھی محفوظ نہیں رہی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی گاڑی پر ہاتھ ڈال کر یہ پیغام دیا گیا کہ
ہم عدالت سے بھی بالاتر ہیں۔
یہ پیغام صرف ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر اس شہری کے لیے تھا جو قانون پر یقین رکھتا ہے۔
یہ صرف ایک کیس نہیں،
یہ ہر اس شخص کا سوال ہے جو سمجھتا ہے کہ عدالت جانا اس کا آئینی حق ہے، جرم نہیں۔
اگر سرنڈر کرنے والا شہری بھی محفوظ نہیں، تو پھر عام آدمی کے لیے کون سا دروازہ کھلا ہے؟
آج اگر ہم خاموش رہے،
تو کل یہی خاموشی ہماری شناخت بن جائے گی۔
قانون طاقتور کی لاٹھی نہیں ہوتا،
قانون کمزور کی ڈھال ہوتا ہے۔
اور جب ڈھال ہی توڑ دی جائے تو ریاست انصاف نہیں رہتی، جبر کی علامت بن جاتی ہے۔
میں اس واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
یہ واقعہ وقتی خبر نہیں، یہ تاریخ ہے
اور تاریخ یاد رکھتی ہے کہ کس دن قانون کو سڑک پر گھسیٹا گیا تھا۔
یاد رکھا جائے:
انصاف مانگنا جرم نہیں۔
عدالت جانا دہشت گردی نہیں۔
اور سوال اٹھانا بغاوت نہیں۔
یہ الفاظ یاد رکھے جائیں گے،
کیونکہ قومیں خاموشی سے نہیں،
بلکہ ضمیر کی آواز سے زندہ رہتی ہیں۔
✍️ شاویز جاوید سہوترا ایڈووکیٹ
15/01/2026
آج لاہور ہائی کورٹ کا دن میرے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ گیا۔
کمرہ ِعدالت میں، جسٹس محمد جواد ظفر صاحب کے روبرو، میں اپنے استاد، اپنے رہنما، اپنے والد جاوید سہوترا ایڈووکیٹ کے ساتھ ایک اہم کیس میں پیش ہوا۔
عدالت میں دلائل ہوئے، قانون کی زبان میں بات کی گئی، حق کو پورے وقار اور اعتماد کے ساتھ پیش کیا گیا، اور خدا کے فضل سے معزز عدالت نے فیصلہ ہمارے حق میں صادر فرمایا۔
یہ لمحہ صرف ایک قانونی کامیابی نہیں تھا، یہ ایمان، صبر اور خلوص کا ثمر تھا۔
لیکن اصل امتحان اور اصل انعام تو اس کے بعد ملا…جب ہم کمرۂ عدالت سے باہر نکلے،
تو سائل کے والد میرے گلے لگ کر زار و قطار رونے لگے۔ وہ آنسو کسی کمزوری کے نہیں تھے، وہ آنسو اس امید کے تھے جو اس نے اپنے وکیل سے باندھ رکھی تھی۔
اسی لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ
یہ پیشہ صرف قانون کی کتابوں تک محدود نہیں، یہ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا نام بھی ہے۔
ایک وکیل کسی کے لیے آخری دروازہ، آخری امیداور کبھی کبھی آخری دعا بن جاتا ہے۔
بائبل مقدس ہمیں یاد دلاتی ہے:
“انصاف کو جاری رہنے دو، اور راستبازی کو کبھی نہ رکنے والے نالے کی مانند بہنے دو۔”
(عاموس 5:24)
اور یہی وہ اصول ہیں جو میں نے اپنے استاد اور والد جاوید سہوترا ایڈووکیٹ سے سیکھے ہیں۔
وہ صرف قانون کے ماہر نہیں، بلکہ انصاف، دیانت اور انسانیت کی زندہ مثال ہیں۔ ان کی رہنمائی نے مجھے یہ سکھایا کہ وکیل وہی ہے جو صرف جیت کے لیے نہیں، بلکہ حق اور سچ کے لیے کھڑا ہو۔
آج اس کامیاب فیصلے پر میں دل کی گہرائیوں سے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور اپنے استاد، اپنے والد جاوید سہوترا ایڈووکیٹ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے یہ سکھایا کہ
خدا کے حضور جھک کر،انسان کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل خدمت ہے۔
دعا ہے کہ خدا ہمیں ہمیشہ انصاف کے راستے پر قائم رکھےاور ہمیں کمزوروں کے لیے آواز بننے کی توفیق دے۔
آمین
✍️شاویز جاوید ایڈووکیٹ
24/12/2025
کرسمس ، محبت، امن اور انسانیت کا پیغام
میں ایک مسیحی ہوں، اور کرسمس میرے لیے صرف ایک تہوار نہیں بلکہ
محبت، قربانی، معافی اور امن م کا پیغام ہے۔
حضرت مسیح نے ہمیں یہ سبق دیا کہ
نفرت کے بدلے محبت،
بدی کے بدلے بھلائی
اور ظلم کے مقابلے میں صبر اور انصاف کو اختیار کیا جائے۔
مجھے معلوم ہے کہ پاکستان میں کرسمس کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں،
لیکن میرا ایمان اور میرا یقین یہ ہے کہ
کوئی بھی مذہب نفرت نہیں سکھاتا
بلکہ ہر مذہب انسان کو بہتر انسان بننے کی دعوت دیتا ہے۔
پاکستان ہمارا مشترکہ وطن ہے۔
یہاں مسلمان، مسیحی، ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ ساتھ رہتے ہیں،
اور ہماری خوبصورتی بھی اسی تنوع میں ہے۔
کرسمس کے موقع پر میری دعا ہے کہ:
🤍 ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں
🤍 نفرت کے بجائے مکالمہ اختیار کریں
🤍 اور انسان کو صرف انسان سمجھ کر قبول کریں
اگر ہم ایک دوسرے کی خوشیوں کا احترام کرنا سیکھ لیں،
تو یہی کرسمس کا اصل پیغام ہے۔
Merry Christmas
خدا کرے یہ کرسمس ہمارے ملک میں
امن، برداشت اور محبت لے کر آئے۔
✍️شاویز جاویدایڈووکیٹ
19/12/2025
ساہیوال ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مسیحی ملازمین کے لیے 26 دسمبر کو لوکل ہالیڈے کا نوٹیفکیشن جاری ہونا خوش آئند قدم ہے۔ ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے مسیحی بھائیوں کو ان کے مذہبی تہوار پر یہ بنیادی حق ہر ضلع میں دیا جائے۔
میں بطور وکیل و شہری سینیٹری ورکرز، مسیحی ملازمین اور تمام مسیحی کمیونٹی کی جانب سے پاکپتن کی ضلعی انتظامیہ، خصوصاً ڈپٹی کمشنر پاکپتن، محترمہ مریم نواز صاحبہ اور صوبائی و وفاقی اعلیٰ حکام سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ:
* پاکپتن ضلع میں بھی مسیحی ملازمین کے لیے کرسمس کے موقع پر لوکل ہالیڈے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
* سرکاری محکموں میں مسیحی ملازمین کو ان کے مذہبی تہوار مکمل احترام کے ساتھ منانے کی سہولت دی جائے۔
* اس حوالے سے جاری کردہ کابینہ ڈویژن کی ہدایات کا نفاذ پورے صوبے میں یکساں طور پر کیا جائے۔
یہ مطالبہ کسی رعایت کا نہیں بلکہ مساوی شہری اور آئینی حق کا ہے۔
درخواست ہے کہ فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ مسیحی ملازمین بغیر کسی خوف اور پریشانی کے اپنی عبادات اور مذہبی تہوار مکمل کرسکیں۔
خدا پاکستان 🇵🇰 پر رحم کرے
اور ہم سب کو ایک دوسرے کے حقوق کا محافظ بنائے۔
شاویز جاوید ایڈووکیٹ
Deputy Commissioner Pakpattan
27/11/2025
یہ تصویر خاموش ہے… مگر اس میں ایک ماں کی پوری چیخ شامل ہے۔
یہ وہ ماں ہے جس کا بیٹا قید میں ہے، اور وہ خود ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں اس سلاخوں کے پیچھے قید رہتی ہے۔
اس کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ، آنکھوں کی نمی اور چہرے کی جھریاں گواہ ہیں کہ قید صرف جیل میں نہیں ہوتی…
قید ماں کے دل میں بھی ہوتی ہے۔
انجیلِ مقدس میں لکھا ہے:
“قیدیوں کو اس طرح یاد رکھو کہ گویا تم بھی ان کے ساتھ قید ہو،
اور جن کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے ان کو یہ سمجھ کر یاد رکھو کہ تم بھی جسم رکھتے ہو۔”
(عبرانیوں 13:3)
میرے ساتھ کھڑی یہ ماں برسوں کی تھکن آنکھوں میں لئے، صرف ایک صدا لگا رہی ہے
میرے بیٹے کو انصاف دو!
یہ ماں نہ سیاست جانتی ہے،
نہ قانون کی پیچیدگیاں…
یہ صرف اتنا جانتی ہے کہ
اس کا بیٹا جیل میں ہے، اور وہ بے قصور ہے۔
اور آج میں فخر سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ
میں اس ماں کے ساتھ کھڑا ہوں۔
میں اور میری ٹیم اس ماں کے بیٹے کے دفاع کے لیے عدالتوں میں لڑ رہے ہیں۔
میں صرف ایک وکیل نہیں،
میں ایک ماں کی آہ، ایک بیٹے کی امید، اور ایک خاندان کی ٹُوٹی ہوئی راتوں کی جنگ لڑ رہا ہوں۔
کیونکہ انصاف صرف کاغذوں میں نہیں ہوتا،
انصاف ماں کے آنسو پونچھنے کا نام بھی ہے۔
شاویز جاوید ایڈووکیٹ ✍️
15/11/2025
کیا مذہبی آزادی جرم ہے؟
جب کسی معاشرے میں لوگ اپنے عقیدے کے مطابق عبادت نہ کر سکیں، جب اقلیتیں خوف کے سائے میں جیئیں، جب سوال دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا جائے۔ تو سمجھ لیں کہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔
ہم آج آواز اٹھاتے ہیں
ہمیں برابری چاہیے، ہمیں تحفظ چاہیے، ہمیں مذہبی آزادی چاہیے۔
یہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہے
اور ہر شہری کی اخلاقی ذمہ داری بھی
کہ وہ مذہبی منافرت، تعصب اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہو۔
ہم امن مانگتے ہیں
ہم انصاف مانگتے ہیں
ہم آزادی مانگتے ہیں ۔ ہر مذہب کے لیے
یہ مسکراہٹ ایک امید ہے اور یہ مسکراہٹ ایک پیغام ہے کہ مذہبی آزادی سب کے لیے
شاویز جاوید ایڈووکیٹ ✍️
#برابری