25/09/2025
Urdu Literature & Poetry
It's all about Urdu literature and Urdu Poetry. You can search even find the important data or information from here.
one of the chief literatures of India and Pakistan; it is written in the Urdu language. The earliest known works of Urdu literature, which was influenced by classical Persian literature, date from the 11th and 12th centuries. The founder of Urdu poetry was Amir Khusrau Dehlavi (1253–1325). From the 15th to the 17th century, Urdu literature developed mainly in such Muslim principalities of the Decc
25/09/2025
08/10/2022
میں زندگی ہوں
ثمینہ سید
میں کہہ رہی ہوں
مجھے نہ مارو
میں زندگی ہوں
مسافتوں کی میں دھول مٹی سے
اٹ گئی ہوں
میں مر رہی ہوں
مگر تھا عزم صمیم میرا
کہ منزلوں تک ہے
مجھ کو جانا
سو عزم و ہمت سے سوئے منزل
میں جا رہی ہوں مجھے نہ روکو
کہ مجھ کو شاید عداوتوں سے محبتیں ہیں
ہے شدتوں سے نباہ میرا
یہ غم ہے میرا
کہ نفرتوں میں گھری ہوئی ہوں
میں کہہ رہی ہوں
مجھے نہ مارو
اگر کسی کو گمان گزرے
کہ میرے نقش قدم پہ چل کے
مسافتوں کے وہ زخم سہہ کے
نظام ہستی کو مجھ سے بہتر چلا سکے گا
تو شوق اپنا وہ پورا کر لے
مگر میں پھر بھی یہ کہہ رہی ہوں
مجھے نہ مارو
میں زندگی ہوں
( کتاب۔ ہجر کے بہاو۔ سے )
19/12/2021
مستنصر حسین تارڑر کا کہنا ہے :
".... اگر کوئی شخص اپنی پسلیوں پر ہاتھ رکھ کر ہائے ہائے کرنے کی بجائے مسکراتا چلا جارہا ہو تو یقین کریں کہ وہ اشفاق وِرک کی تحریریں پڑھ کر آرہا ہے. "
جی, ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ایسے ہی مزاح نگار ہیں. اب بھی یقین نہ آئے تو ڈاکٹر صاحب کی تازہ تصنیف "خاکہ زنی" کے یہ چند فقرے(بابِ فقریالوجی میں سے) ملاحظہ کیجیے :
* عورت چاہے شاعرہ ہی کیوں نہ ہو, بے وزن ہی اچھی لگتی ہے.
* بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم کہ خود ستائی تو جگ ہنسائی کی بڑی بہن ہوتی ہے.
* نقلی دانتوں کے بعد خلال کا صرف ملال ہی باقی رہ جاتا ہے.
* منٹو والا افسانہ اگر مولانا طارق جمیل لکھتے تو اس کا نام "توبہ" ٹیک سنگھ ہوتا.
* پشتو فلموں کی موجودہ صورتِ حال دیکھ دیکھ کے جی چاہتا ہے کہ ان کا نام " پُشتو" فلمیں رکھ دیں.
* ہمارے ہاں اکثر شاعر ادیب ہر چیز کے محتاج ہوتے ہیں, سوائے تعارُف کے.
* عمروں کے گناہ "عمروں" سے ختم نہیں ہوسکتے.
* سیر کو نکلو, اس سے پہلے کہ پیٹ تم سے آگے نکل جائے.
* دانت کے بغیر تو بندہ ڈانٹ بھی نہیں سکتا.
* نماز کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ اسے ثواب کی بجائے سواد کے لیے پڑھا جائے.
* پیارے شاعرو! شاعری جذبات کی عکاسی کا نام ہے, نکاسی کا نہیں.
* شادی ایک ایسا معرکہ ہے کہ جس میں بندہ مرگیا تو شہید اور زندہ رہا تو شوہر.
گورنمنٹ کالج لاہور کا المیہ دیکھیے کہ وہ خود مختار حیثیت حاصل کرلینے کے بعد بھی' گورنمنٹ کالج ' کہلائے جانے پر مجبور ہے. "
الغرض, ہمارے اشفاق ورک صاحب کی زندگی کا ماٹو ہے:
"اس دور میں ہنسنا لازم ہے, جس دور میں ہنسنا مشکل ہو! "
اگر آپ کی زندگی کا ماٹو بھی یہی ہے تو پھر کم از کم ڈاکٹر اشفاق ورک کی تحریروں کے قریب ضرور رہیے.
پیدائش:14 اگست 1920ء
بریلی، برطانوی ہند
وفات:19 دسمبر 1998ء
(78 سال)
لاہور، برطانوی ہند
مدفن:سمن آباد، لاہور
شہریت:پاکستان
مادر علمی:جامعہ لکھنؤ
تعلیمی اسناد:پی ایچ ڈی
پیشہ:پروفیسر، سفرنامہ نگار، ادبی تنقید نگار
زبان:اردو
شعبۂ عمل:ادبی تنقید، خاکہ نگاری، سفرنامہ
غالبیات، خود نوشت
ملازمت:اورینٹل کالج لاہور
اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز
یونیورسٹی آف لندن
جامعہ پنجاب
جامعہ انقرہ
پروفیسر ڈاکٹر عبادت بریلوی (پیدائش: 14 اگست 1920ء- وفات: 19 دسمبر 1998ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور نقاد، محقق، معلم، خاکہ نگار اور سفرنامہ نگار تھے جو اپنی تصنیف اردو تنقید کا ارتقا کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
حالات زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی 14 اگست 1920ء کو بریلی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبادت یار خان تھا۔ 1942ء میں انھوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے اور 1946ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ملازمت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبادت بریلوی کی تعلیم مکمل ہوئی تو انہیں اینگلوعریبک کالج، دہلی میں ملازمت مل گئی۔ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان بھی اس تعلیمی ادارے کے صدر رہے ہیں۔ یہ 1944ء کا دورتھا، تب تک دہلی مسلم لیگ کا گڑھ بن چکا تھا، لیکن جب پاکستان بن گیا اور مولوی عبدالحق بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہو گئے تو اس کالج کی دنیا ہی بدل گئی۔ مسلمانان دہلی بھی پاکستان ہجرت کرنے لگے، لیکن عبادت بریلوی 1950ء تک وہیں رہے۔ آخر مولوی عبد الحق کے مشورے سے پاکستان آئے اور اورینٹل کالج لاہور سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اورینٹل کالج میں گیارہ سال گزارنے کے بعد عبادت بریلوی لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکن اسٹڈیز، لندن یونیورسٹی چلے گئے۔ وہاں انھوں نے بی اے آنرز کے طلبہ کو پڑھایا۔ ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی کے کام کی نگرانی بھی کی۔ وہاں علمی و تحقیقی کام کے نئے میدان سامنے آئے۔ انہوں نے وہاں 6 سال قیام کیا۔ اس دوران بے شمار فارسی و عربی مقالے اور نادر نسخے تلاش کر کے ان کی طباعت کی۔
1966ء میں وطن واپس آئے، تو جامعہ پنجاب کے پروفیسر مقرر ہو ئے۔1970ء میں اورینٹل کالج کے پرنسپل بنائے گئے۔ ان کے دورمیں پوری دنیا سے دانش ور اور پروفیسرز کالج میں لیکچر دینے آتے تھے۔ یوں کالج نے بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی اور اسے مشرقی اور اسلامی علوم کا اہم ادارہ سمجھا جانے لگا۔
عبادت نے عمر عزیز کے 32 سال جامعہ پنجاب اور اورینٹل کالج میں گزارے،ایک معلم کی حیثیت سے ہزا رہا لیکچر دیے، بحیثیت ادیب ہزا رہا صفحے لکھے۔ دہلی،لاہور، لندن اور ترکی میں بے شمار تحقیقی مقالوں کی نگرانی کی۔ 14 اگست 1980ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ انہوں نے چالیس سالہ ملازمت کے دوران پروفیسر و صدرشعبہ، اورینٹل کالج کے پرنسپل، اسلامک اور اورینٹل لرننگ کے ڈین اور تاریخ ادبیات مسلمانِ پاکستان و ہند کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ اس دوران 125 کتابیں تحریر کیں۔ سبکدوشی کے بعد مدت ملازمت میں توسیع ہوئی، تو دو سال کے لیے حکومت نے انہیں انقرہ، ترکی بھیج دیا۔ انقرہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے پروفیسر کی کرسی خالی تھی۔ عبادت صاحب نے وہاں بھی محنت اور لگن سے کام کیا۔ اردو کی انڈر گریجویٹ کلاسوں کے ساتھ ساتھ پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کا بھی اجرا کیا، جہاں تحقیقی کام باقاعدگی سے ہونے لگا۔ قیامِ ترکی کی روداد عبادت بریلوی نے ایک سفرنامے ترکی میں دو سال کے نام سے قلمبند کی۔ جدید ترکی کے بارے میں یہ واحد کتاب ہے جس سے ترکی اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور باہمی محبت آشکار ہوتی ہے۔ تقریباً تین سال ترکی میں گزارنے کے بعد وہ فراغت کی زندگی بسر کرنے لگے۔
ادبی خدمات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی کی پہچان اردو تنقید ہے، وہ اردو کے صفِ اول کے نقاد مانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ محقق اور سفر نامہ نگار بھی ہیں۔ ان کی تصانیف میں اردو تنقید کا ارتقا، تنقیدی زاویے، غزل اور مطالعۂ غزل، غالب کا فن، غالب اور مطالعۂ غالب، تنقیدی تجربے، جدید اردو تنقید، جدید اردو ادب، اقبال کی اردو نثر اور شاعری، شاعری کی تنقید کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے سفرناموں میں ارضِ پاک سے دیارِ فرنگ تک، ترکی میں دو سال، دیارِ حبیب میں چند روز اور لندن کی ڈائری اور آپ بیتی یاد عہد رفتہ کے نام شامل ہیں۔
تصانیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)تنقید و تحقیق
۔ (2)اردو تنقید کا ارتقا
۔ (3)تنقیدی زاویے
۔ (4)تنقید اور اصول تنقید
۔ (5)اردو تنقید نگاری
۔ (6)غزل اور مطالعۂ غزل
۔ (7)غالب کا فن
۔ (8)غالب اور مطالعۂ غالب
۔ (9)تنقیدی تجربے
۔ (10)جدید اردو تنقید
۔ (11)جدید اردو ادب
۔ (12)جدید شاعری
۔ (13)اقبال کی اردو نثر اور شاعری
۔ (14)شاعری کی تنقید
۔ (15)مراثیٔ جرأت
۔ (16)روایت کی اہمیت
۔ (17)مادھونل اور کام کندلا
۔ (18)خطوطِ عبد الحق بنام ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی
۔ (19)گلزارِ دانش
خاکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)آوارگان عشق
۔ (2)جلوہ ہائے صد رنگ
۔ (3)بلا کشان محبت
۔ (4)آہوان صحرا
۔ (5)غز لان رعنا
۔ (6)شجر ہائے سایہ دار
۔ (7)یاران دیرینہ
سفرنامے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)ارض پاک سے دیار فرنگ تک
۔ (2)ترکی میں دو سال
۔ (3)دیار حبیب میں چند روز
۔ (4)لندن کی ڈائری
آپ بیتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد عہد رفتہ
ڈاکٹر عبادت بریلوی کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فن و شخصیت پر تحقیقی مقالات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ (پی ایچ ڈی مقالہ)، روبینہ شائستہ وحید، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، 2005ء
وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی 19 دسمبر، 1998ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں سمن آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
11/12/2021
کلیات جوش کا ایک مختصر جائزہ.
"کلیات جوش" تحقیق، ترتیب و تدوین کی ایک حیرت انگیز مثال، تحقیق و تدوین : ڈاکٹر ہلال نقوی
تحریر: فرحان رضا، ٦ دسمبر ٢٠٢٠
٥ دسمبر ٢٠٢٠ کا دن شاعر اعظم حضرت جوش ملیح آبادی کی پیدائش کا دن ہے اور شائد اسی دن کی مناسبت سے جوش صاحب کے عزیز شاگرد رشید ڈاکٹر ہلال نقوی نے دنیائے شعر و ادب کو "کلیات جوش" جیسا ایک عظیم تحفہ دیا اور اس کلیات کا اجرا عالمی اردو کانفرنس میں ٥ دسمبر کے دن ہی ہوا.
جیسا کہ آغاز میں کہا گیا ہے کہ "کلیات جوش" تحقیق، ترتیب و تدوین کی ایک حیرت انگیز مثال ہے جو کہ ڈاکٹر ہلال نقوی کی انتھک محنت و جوش صاحب سے بےپناہ عقیدت و محبت کا مظہر ہے. تقریب اجرا کی نظامت کے فرائض معروف تحت اللفظ خواں سید جاوید حسن نے ادا کئے اور صاحب کتاب ڈاکٹر ہلال نقوی اور عہد حاضر کے صف اول کے استاد شاعر افتخار عارف صاحب نے اپنے معروضات پیش کئے.
افتخار عارف صاحب کا یہ جملہ سنہرے حروف سے لکھے جانے قابل ہے کہ"جو خدمات حالی نے اپنے استاد مرزا غالب کے لۓ ادا کیں اسی طرح ہلال نقوی نے بھی جوش صاحب کی شاگردی کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی".
ڈاکٹر ہلال نقوی کی جوش صاحب پر یہ دسویں کتاب ہے اور ڈاکٹر ہلال نے اپنی بہت مختصر گفتگو میں کہا کہ" ١٩٢٠ میں جوش صاحب کا پہلا مجموعہ روح ادب منظر عام پر آیا اور اس وقت بھی دنیا وبا میں گرفتار تھی اور اب ٢٠٢٠ میں کلیات جوش منصہ شہود پر آئی ہے اب بھی دنیا وبا سے متاثر ہے تو جوش صاحب وہ شاعر ہیں جو وباؤں اور جفاؤں کے درمیان زندہ رہے" اس تقریب کے اختتام پر سید جاوید حسن صاحب نے کلام جوش اپنے منفرد انداز میں پیش کیا.
یہ توہوا کچھ تقریب کا مختصر تذکرہ اب آمدم بر سر مطلب یعنی کچھ کلیات کا حال بیان ہوجائے.
راقم خوش قسمت ہے کہ کلیات جوش کے اولین نسخوں میں سے ایک نسخہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا جس کا سہرہ عقیل عبّاس جعفری صاحب کے سر ہے جنکا ذکر خیر بھی کلیات کے مقدمہ میں ڈاکٹر ہلال نے مختلف مقامات پر کیا ہے کہ کس طرح ہمارے عقیل بھائی جوش صاحب کے نوادرات لیکر ڈاکٹر ہلال کے پاس پہنچے، تفصیل پھر کبھی. راقم ملک سے باہر تھا اس لئے عقیل صاحب سے درخواست کی کہ ایک نسخہ میرے لئے ویلکم بک ڈپو سے خرید لیں.
کلیات جیسے جیسے پڑھتا جارہا ہوں ویسے ویسے ادراک ہورہا ہے کہ یہ کتاب حیرت کا ایک جہان ہے جسکی مختصر تفصیل درج ہے.
کلیات کے حوالے سے کچھ خاص نکات:
١- کلیات، جوش صاحب کی 78 برسوں پر محیط شعری تخلیقات کا مجموعہ ہے.
٢- یہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور کل پچیس سو بارہ (٢٥١٢) صفحات پر مشتمل ہے.
٣- جوش صاحب کی چھبیس (٢٦) کتابوں کا مجموعہ ہے.
٤- کلیات میں کتابوں کے اصل پیش لفظ و تبصرے بھی شامل ہیں یعنی آپ ١٩٢٠ میں لکھی ہوئی جوش صاحب پر اکبر الہ آبادی و شرر لکھنوی اور دیگر اکابر کی تحریریں بھی پڑھیں گے.
٥- جوش صاحب کا عرفانی کلام، مرثیے، رباعیات، نظم غزل سب کی مکمل فہرست علیحدہ سے بھی موجود ہے.
٦- کلام کے ساتھ ساتھ ریفرنسس اور فٹ نوٹ میں اہم باتوں کا ذکر بھی ہے.
٧- تحقیقی نوٹ بھی جگہ جگہ لکھے ہوئے ہیں جو اس کلام کے مستند ہونے کی دلیل ہے.
٨- آغاز میں دنیائے شعر و ادب کی صف اول کی ٣٣ شخصیات کی جوش صاحب کے حوالے سے رائے درج ہے.
٩- یہ جوش صاحب پر ڈاکٹر ہلال نقوی کی دسویں کتاب ہے اور جوش کے انقلابی مرثیے بھی ہلال صاحب نے ہی ترتیب دئے تھے جو کہ کلیات میں شامل ہیں.
١٠- ڈاکٹر ہلال نقوی ہمیشہ کتاب کا مقدمہ لکھنے میں بہت محنت کرتے ہیں اور اس کتاب کا مقدمہ بھی حقائق، محنت، اور انکی مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے.
جوش جیسی ہستی کا حق تو ادا نہیں کیا جاسکتا لیکن اس حق کو ادا کرنے کی اس سے بہتر کوشسش کا کوئی اور نمونہ ہمیں عہد حاضر میں ہمیں نہ مل سکے.
اختتام کلام جوش صاحب پر علامہ طالب جوہری کے اس جملے سے کرتے ہیں جو انہوں نے مولانا امجد رضا جوہری سے کہے تھے کہ "جوش صاحب کے عہد میں دنیا کی کسی بھی زبان میں جوش صاحب جیسا بڑا شاعر نہیں تھا".
11/12/2021
اقدس مرزا نظم
09/12/2021
ڈاکٹر شاہد اشرف کی غزل
تُو بھی شامل ہے اذیت مجھے پہنچانے میں
میرا حصہ ہے زیادہ مرے، مر جانے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
جانتا ہوں کہ مدد کوئی نہیں کر سکتا
سب کو آواز دیے جاتا ہوں ویرانے میں
۔۔۔۔۔۔
ایک مدت سے میسر ہوں سہارے کے لیے
درد محسوس نہیں مجھ کو ہوا شانے میں
۔۔۔۔۔۔
ایک ہیرا تھا جسے سنگ سمجھ کر پھینکا
منتظر ہے کسی خوش بخت کا ویرانے میں
۔۔۔۔۔۔
یہ تعلق تو کسی طور نبھانا ہے مگر
اب خوشی تو نہیں ہوتی ترا کہلانے میں
.....
لا علاج ایسا توجہ نہیں دیتا کوئی
دیکھے جاتا ہوں مسیحا کو شفاخانے میں
۔۔۔۔۔
اچھا بابا! تری مرضی جو تو چاہے شاہد
دوست کھونا تو نہیں بات کو منوانے میں
09/12/2021
کتاب:خاکہ زنی
مصنف:ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
تبصرہ:ثمینہ سید
وہ جو فرد کو تصویر کرتا ہے
خاکہ نگاری انگریزی میں سکیچ یعنی ڈھانچہ بنانا. کسی تخلیق کا مسودہ تیار کرنا.کسی شخصیت کی شگفتہ اور دلچسپ پیرائے میں ایسی تصویر کشی کہ شخصیت کا ظاہرو باطن عیاں ہوجائے.
یہ مضمون نگاری کی ایک قسم ہی ہے جس میں خاکہ نگار شخصیت کے ان پہلوؤں کو پا لیتا ہے جسے عام آدمی کی نظر نہیں دیکھ پاتی. ماہرین اسے کسی شخصیت کا معروضی مطالعہ بھی کہتے ہیں. بڑے بڑے خاکہ نگار ہیں مرزاادیب ,شفیق الرحمن, ممتاز مفتی, احمد بشیر, عطاء الحق قاسمی,مشتاق احمد یوسفی, ضمیر جعفری,اور عہد حاضر میں اعجاز رضوی, یونس بٹ
ہمیں "خاکہ زنی" استادِ محترم جناب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک صاحب کے ہاتھ سے موصول ہوئی .کیونکہ جناب کی برجستہ گفتگو, بلند پایہ شخصیت اور شدید عاجزی انکساری بھرے انداز نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متزلزل کردیا کہ "موصوف دراصل کیسے انسان ہیں ؟" استادیاں جھاڑنے والے, استادانہ رعب وداب سے لیس یا پھر استاد ہونے کی باریک بین رمز سے شناسا.
ان کا کام ہی ان کا تعارف ہے. لیکن میرے لیے ان کا تعارف میرے نہایت معتبر بہنوئی راجہ ریاض جو کہ معروف صحافی ہیں اور ہمارے گھرانے کے بہت ہردلعزیز شخصیت ہیں ان کے قریبی ترین دوست کی حیثیت سے ہوا. پھر مجھے دونوں کے درمیان بیٹھ کے "ان دونوں " کے زمانہء تعلیمی کے بے شمار رازوں اور دنگوں کی داستانوں کی جانکاری مل گئی. میں نے احترام کو ملحوظ رکھنے کی سرتوڑ کوشش کیے رکھی لیکن ان کے برجستہ جملے اور بےساختہ قہقہے میری سماعتوں میں مسلسل اتر رہے تھے.میں نے دل سے دعا کر ڈالی کہ ان دونوں باوقار اور بظاہر غیر سنجیدہ انسانوں کے اندر یہ شرارتی بچہ ہمیشہ یونہی کلکاریاں مارتا رہے. اسی دوران جناب اشفاق احمدورک صاحب کی تازہ کتاب "خاکہ زنی "جو میری نگاہ کی زد میں تھی ان کے مختصر سے نوٹ کے ساتھ مجھے "دان " کردی گئی. جو میرے لیے اعزاز کی بات ہے. کہ یہ ایک طویل عرصہ کے بعد میری دوبارہ سے طالب علمی کا پہلا دن تھا.
کتاب پڑھنے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استادکی دوسری "قسم" تیزی سے آشکار ہونے لگی.جو علم وہنر, شگفتہ لہجے اور استاد ہونے کی ہر رمز سے شناسا ہے.
اشفاق ورک جن کا تعلق شیخوپورہ سے ہے.تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور جناب مزاح نگار, خاکہ نویس, محقق, نقاد, شاعر ,کالم نگار اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں اردو کے پروفیسر ہیں.
اشفاق احمد ورک صاحب خاکہ نگاری کے بارے میں خود یہ کہتے ہیں.
"حقیقت میں خاکہ کشی کا لطف ہی عام آدمی بلکہ بالکل ہی عام آدمی کے اوپر قلم اٹھانے میں آتا ہے. مفروضے اور مبالغے کے جتنے چاہو مسالے ڈال لو, لوگ چٹخارے پہ چٹخارہ لیتے چلے جائیں گے.قلم وقیاس کے دانت جتنے مرضی تیز کرلو چاروں جانب سے داد و تحسین کے ڈونگرے برستے دکھائی اور سنائی دیں گے عام آدمی کا خاکہ لکھنا تو دانتوں سے اخروٹ توڑنے جیسا کڑاکے دار ہوتا ہے. اس میں کہنی سے تربوز توڑنے جیسی بےساختگی پائی جاتی ہے. اس میں بکرے کی نلی سے مخ سڑکنے جیسا سرور کشید کیا جاسکتا ہے. جب کہ بڑے آدمی سے چھیڑ چھاڑ کا مطلب تو آبیل مجھے مار والا ہی ہوتا ہے. ہمارے اندر کے خاکہ نگار کو تو کسی آدمی کے معروف ہونے یا منزلِ انسانیت کی طرف اڑان بھرنے کا ذرا سا شائبہ بھی ہوجائے, تو اس کے اندر باہر 'باادب, باملاحظہ, ہوشیار ' کا رے ڈار آن ہوجاتا ہے. "
کتاب پڑھتے پڑھتے ہم اشفاق صاحب کی اس رائے کے جادو سے یکسر نکل آئے اور ان کی ہی کہی ہوئی یہ مختصر سی بات جامع حیثیت اختیار کرگئی.
"ایسےمیں خاکہ زنی تو ڈاکہ زنی کی جڑواں بہن محسوس ہونے لگتی ہے. "
ڈاکہ زنی والی دلیری اس کتاب میں اور مصنف کے اندازِ تحریر میں مسلسل نظر آئی. اور لطف دوبالا کرتی رہی.
خاکہ نگاری کی شگفتگی شخصیات تک رسائی میں تادمِ آخر تازگی کا احساس دلاتی ہے. کتاب پڑھ کے دیکھئے آخری صفحات تک پہنچتے پہنچتے اضطراب سر اٹھانے لگتا ہے. کہ "کاش کچھ صفحات اور ہوتے"
کتاب کے دوسرے ہی باب "سلسلہ شیرانیہ کا مظہر" میں لکھتے ہیں
" سچ بات ہے کہ محترم شخصیات, ہم مزاح نگاروں کے لیے تو "پکی تھاں" اور چوتھی کھونٹ کی مانند ہوتی ہیں,جہاں سے والدین ساری عمر بغیر وضو کے گزرنے سے ٹھاکتے رہتے ہیں. "
ایک جگہ ہم عصروں اوردوستوں کو اعلیٰ مراتب اور بڑے سنجیدہ القابات میں لگے لپٹے دیکھ کر خاصا کڑھتے ہیں. ان کے شخصیت بننے کے خبط میں مبتلا ہونے والے حصے میں ممتاز مفتی کا ایک جملہ رقم کرتے ہیں.
"بڑے بوڑھوں نے احترام اس لیے ایجاد کیا تھا تاکہ چھوٹوں سے فاصلے قائم رہیں, کہیں محبت کی رسم نہ چل نکلے. "
پھر لکھتے ہیں.
" سچ بات یہی ہے کہ بھری جوانی میں جس شخص کے اپنے اندرکے الہڑ شریر بچے سےقلمی و قلبی دوستی نہیں ہوتی... اس 'صالح تر' آدمی کی ٹھیک ٹھاک قسم کی عزت تو ہوسکتی ہے, اس سے محبت نہیں ہوسکتی. یقین جانیں کبھی کبھی تو مجھے ان عظیم لوگوں پر ترس آتا ہے جن کے بارے میں پڑھتا ہوں کہ ان کی ساری زندگی نہایت عزت و احترام سے گزری. "
" آج جب میں اپنے ہی دور کے کسی شخص کے نام کے ساتھ حضرت! حضورِوالا! قابلِ صد احترام اور لائقِ تکریم وغیرہ کے سابقے دیکھتا ہوں تو مجھے اس کی شخصیت وکردار میں سے دیسی گھی کی پنجیری کی لپٹیں اٹھتی محسوس ہوتی ہیں. "
ابھی میں یہیں تک پہنچی ہوں گہری مسکراہٹ اور کئی بار کھل کے ہنسنے پہ مجھے پہلے صفحے پہ جناب مستنصرحسین تارڑ صاحب کے فقرے سے متفق ہونا پڑا.
"اگر کوئی شخص اپنی پسلیوں پر ہاتھ رکھ کر ہائے ہائے کرنے کی بجائے مسکراتا چلا جا رہا ہوتو یقین کریں کہ وہ اشفاق ورک کی تحریریں پڑھ کر آرہا ہے. "
فیض احمد فیض کا خاکہ اس قدر جاندار اور بھرپور لکھا ہےکہ فیض کی شخصیت کے بےشمار پوشیدہ پہلوؤں تک سے شناسائی مل گئی لیکن اختصار کا حسن اپنی جگہ برقرار رہا. فیض کے عہد کے لوگ , انکی فیض احمد فیض سے محبت اور ان کے تمام سفر میں پہلی محبت کی اہمیت تک راز نہ رہی. لکھتے ہیں.
"دوستو! لوگ باگ جو بھی کہیں,ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ فیض احمد فیض اپنے عہد میں قید و بند کی تمام تر صعوبتوں کے باوجود ادب کا روشن ستارہ ہیں. نفرتوں سے لتھڑی اس سوسائٹی میں محبتوں کا استعارہ ہیں. "
بےتکلفی میں چھپی بلکہ چھلکتی محبت کے قائل ہیں کتاب میں جگہ جگہ یہ احساس اجاگر کرنے کے لیے بہت دل چسپ اور ہلکے پھلکے واقعات بیان کرتے چلے جاتے ہیں جن کا مکمل مزہ کتاب پڑھنے سے ہی لیا جاسکتا ہے. بچوں کے ناموں پر ان کے شاہانہ عرفِ عام پر اور رشتوں میں ادب وآداب پر نہایت شگفتگی سے خبر لیتے نظر آتے ہیں.
"یہ تارڑ تارڑ کیا ہے" میں مستنصر حسین تارڑ کی پیدائش کو اور نام رکھنے کے مراحل کو نہایت دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں.کہ جب مستنصر کے ساتھ دوسرا نام جوڑنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو
"ذات پات کے نشے میں سرشار اہلِ خانہ کو باللہ کی مقامی ادائیگی میں واقع ناخوشگواری تو نظر آگئی لیکن لفظ تارڑ میں موجود صوتی ناملائمت کا ذرا بھی احساس نہ ہوپایا.یہ صدمہ تو کچھ شائستہ مزاج اور نرم گفتار اہلِ زبان کا دل ہی جانتا ہے."
"معاملہ فہم "کے نام سے عطا الحق قاسمی صاحب کا خاکہ لکھتے ہوئے معاملہ فہمی, زمانہ شناسی اور احتیاط خوب اچھے طریقے سےنبھائی.
کچھ اچھوتے,ہمکتے جملے ملاحظہ کیجئے.
"آخر نکلا ناں مولوی باپ کا شولوی بیٹا"
پرلطف پیرائے میں ابتدا سے انتہا تک خاکہ یکسر غیر جانبدارانہ لیکن معتدل رہا.
" شدید آمریت کے عفریت کے لیے تو اس کے کالم, بارہ سنگھے, کا روپ دھار لیتے. البتہ مفید آمریت کے لیے یہی قلم پالتو ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرتا. "
امجد اسلام امجد صاحب کا خاکہ "پیدا کہاں ہیں ایسے'فراخندہ طبع' لوگ "جیسے خوب صورت عنوان سے لکھتے ہیں. ان کی مقبول زمانہ نظم درج کر کے اس سے ہر دور کے لوگوں کی وابستگی کو بہت محبت سے خاکے کا حصہ بناتے ہیں.امجد صاحب کی شہرت اور ہردلعزیز شخصیت کو پورے انصاف سے رقم کرتے جاتے ہیں.شگفتہ لہجے میں کہتے ہیں کہ
"اس زمانے میں یار لوگوں نے بہتیری تگ ودو کی کہ کہیں نہ کہیں سے امجد اسلام امجد کو سمیٹ کر, تھوڑا بہت لپیٹ کرکسی کونے کھدرے میں اپنا ٹھپا لگانے کی کوشش کریں لیکن دوستو 'گلی گلی میری یاد بچھی ہے' والا معاملہ تھا, کہاں کہاں سے سمیٹتے؟.
"اردو نظم کو اس زمانے میں مشاعروں کی رانی بنایا, جبکہ غزل صاحبہ بلا شرکت غیرے سامعین وقارئین ادب کے دلوں کی دھڑکن بنی بیٹھی تھی.
"یاد میں بیٹھا منشایاد "اس خاکے کا حرف حرف عقیدت بھری محبت سے لکھا ہے.
"ایسا خوب صورت, خوب سیرت, مخلص انسان اور بےپناہ تخلیق کار شاید ہی چشمِ فلک نے ملاحظہ کیا ہو. "
منشا یاد کی علمی, ادبی کاوشوں اور سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد نئے زمانے اور ایجادات سے ہم آہنگ ہوکر کام کرنے کے جذبے اور لگن کو سراہتے ہیں.
"منشایاد تو ہردلعزیز شخصیت تھے, جنہوں نے پہلے دن سے ان 'خرافات'کے لیے 'لوازمات' کا حکم نامہ جاری کر لیا تھا. "
"باقاعد اعظم " ڈاکٹر علی محمد خان کا خاکہ ہے. انکی سوانح کو کمال برجستگی سے ,روانی سے رقم کرتے جاتے ہیں.
"خاں صاحب کے بارے میں شنید ہے کہ یہ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی رفیق الطلبی کا شکار تھے. شادی کے فوری بعد بیوی سے شدید محبت کی بنا پر یہی جذبہ رقیق القلبی میں تبدیل ہوگیا. "
"مجھے اس بات کا خوب تجربہ ہے کہ جس دن ہم تمام دوست اپنی بیویوں سمیت ان کے گھر سے ہو آئیں ہمارا اپنے گھر میں رہنا دشوار ہوجاتا ہے. اچھی بھلی تابع فرمان بیویاں چِھبیاں دے دے کے کہنے لگتی ہیں. 'کچھ سیکھیں خاں صاحب سے'. "
"ڈاکٹرصاحب کے بارے میں اور کیا بتاؤں کہ یہ پرلے درجے کے سیلف میڈ, سیلف سینٹرڈ اور سیلف سٹارٹ آدمی ہیں. درس وتدریس کا نصف صدی سے زائد تجربہ ہے لیکن آج تک تھکاوٹ, اکتاہٹ اور ہچکچاہٹ نے ان کے گھر کا رستہ نہیں دیکھا. "
ڈاکٹر صاحب کی تیزی اور ہوشیاری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں.
"چور نالوں پنڈ کاہلی, والی مستعدی پہ سرسری بھی نگاہ ڈالیں تو ہم انہیں بڑی آسانی سے باقاعدِ اعظم کا لقب عطا کرسکتے ہیں.
"بڑے بھائی " کے نام سے حسین احمد شیرازی کا خاکہ لکھتے ہیں.ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو پرت در پرت کھولتے جاتے ہیں.دوسروں کو خلوص و وفا کا پیکر کہنے اور ثابت کرنے میں اشفاق ورک صاحب کو کمال حاصل ہے. وہ اپنی خاکہ نگار عینک سے شخصیت کے اندر تک جھانک لیتے ہیں. کسی کی افسری یا برہمی سے مرعوب ہوتے نظر نہیں آتے.
پروفیسر اکرم سعید کے بعد پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم کا خاکہ ہے. ان کی شخصیت کا ہو بہو عکس .جیسے وہ آئینے کے سامنے ہوں اور ہم ان کے پیچھے کھڑے انہیں دیکھ رہے ہوں.
'مخبورالحواس' کا پہلا فقرہ ہی سو پہ بھاری ہے.
"جسامت ایسی کہ پوری طرح دیکھنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں.ذرا غصے سے دیکھ لیں تو نظر ہی نہیں آتے, لیکن جب بولنے لکھنے پہ آتے ہیں تو باون گزے بن جاتے ہیں. "
ایسی شائستگی سے خاکہ نگاری کرنا کہ سب کہہ بھی جائیں اور منفی بھی نہ لگے. شائستہ اور پرخلوص اسلوب ہی اشفاق ورک صاحب کو انفرادیت بخشتا ہے.
آپ شخصیت میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کو استہزاء کا نشانہ نہیں بناتے بلکہ خوب سراہتے ہیں. ایک کلرک کو اپنے تعلیمی سفر جاری رکھنے اور ترقی کی منازل طے کرنے کی ہمت کو بار بار خراج پیش کرتے ہیں.
"ان کا تعلیمی سفر تو زندگی بھر کچھوے کی رفتار سے جاری رہا, لیکن اس احساسِ کمتری کو دور کرنے اور ماضی کے ازالے کے پیشِ نظر انہوں نے بچوں کو خرگوش کی رفتار سے پڑھانا شروع کیا. "
"ان کے سر کی طرف دھیان چلا جائے تو قیاس ساتھ چھوڑ جاتا ہے. سمجھ نہیں آتی کہ یہاں کب سے بے بال و پری کا عالم ہے. "
'ایک اور ضیا' کے عنوان میں ڈاکٹر ضیا الحسن اپنی مکمل سنجیدگی سے براجمان نظر آئے.
"یہ ضیا ہیں, ہمارے سینئر کلاس فیلو(حاضرین! یاد رہے یہ وہ زمانہ تھا جب' ضیا' ہونا معنی رکھتا تھا) "
جناب اشفاق ورک صاحب کی تخلیقی اڑان اور شوخ مزاجی اس پورے خاکہ میں عروج پر نظر آئی.ہر ایک جملہ کثیر المعنی اور قابلِ داد ہے.بات سے بات نکالنے کا فن اس سینئر کلاس فیلو کا خاکہ لکھتے ہوئے خوب کھل کر سامنے آیا.تعلیمی دور, پنجاب یونیورسٹی کی روایتیں اور حکایتیں.ڈاکٹر ضیا الحسن کی ملازمت, مزاج, محبت اور مدعیت کا ذکر اتنی محبت سے کیا کہ سماں باندھ دیا.
اشفاق ورک صاحب خاکے میں شخصیت کی ظاہری وضع قطع کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ متنوع موضوعات پر بات کرتے ہیں. متعلقہ شخص کی زندگی, تعلیم, طور اطوار مزاج, اخلاق اور جزئیات نگاری کی آخری حد تک جاتے ہیں. چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی انکی نظرِ خاکہ نگاری سے بچ نہیں پاتی. الفاظ کے چناؤ میں قرینہ ہے اور جملوں کی بنت میں بہت سلیقہ , بلا کی روانی ہے.
زندگی میں بہت سے لوگوں سے میل ملاقات, تعلق اور واسطے رہے لیکن اشفاق ورک صاحب جیسی شخصیت اور طبیعت کی روانی, جولانی پوری شفافیت کے ساتھ کم ہی دیکھنے کو ملی. جو انسان کو بطور انسان دیکھتے ہیں, سوچتے ہیں اور پورے طمطراق اور آزادی سے خاکے تراشتے ہیں.ان کی اسی درویشی اور بذلہ سنجی کی زد میں ان کی ایک انوکھی طالبہ بھی آگئی.جو میری نظر میں تو بہت خوش قسمت ہے جسے ایسے ذہین فطین ,بامروت,باکردار استاد اور دوست میسر آئے.
کہتے ہیں "ذونیرا بخاری ہمارے نہایت محترم دوست پروفیسر طاہر بخاری جیسی وضع دار شخصیت اور محترمہ شاہدہ بخاری جیسی سلیقہ شعار خاتون کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے'یعنی انکی مشترکہ اکلوتی اور لاڈلی اولادہے."
"یہ ہے تو انگریزی کی طالبہ لیکن اردو ادب کا ذوق اسے ورثے میں ملا ہے. یہ لٹریچر میں گندھی ہوئی ایک بےچین روح ہے. "
"انگریزی ہم دونوں کی کمزوری ہے, وہ اس طرح کہ مجھے آتی نہیں, اس کی ختم ہی نہیں ہوتی. "
"عجیب و غریب خواہشات کا ایک جوار بھاٹا ہے جو اس کے تن بدن میں ہمہ وقت انگڑائیاں لیتا رہتا ہے. "
'کوکو کورینہ 'ایک خوب صورت ادبی لب ولہجے کا خاکہ
اور 'اماں بعد' تو کمال تحریر ہے. محب اور فرمانبردار سپوت کا احساس ایک ماں کو فرش سے عرش پر متمکن کر دیتا ہے اس پہ ماں کو جو مقام عرش والے نے عطا کر دیا ہے وہ الگ.
"میں آج بھی آپ کی دکھ بھری زندگی پہ نظر کرتا ہوں تو مجھے اس میں مامتا کم اور 'ماتما' زیادہ دکھائی دیتی ہے."
ماں کے دکھوں کا حرف حرف حساب رکھنے اور نم آنکھوں سے ماں کے حوصلے سراہنے والا یہ بیٹا اشفاق احمد ورک اسی حساس اور محبت بھری فطرت کی وجہ سے ہی دین و دنیا کے مراتب پا رہا ہے. دلوں پہ گہرے نقوش چھوڑ رہا ہے.
اس سارے خاکے کا ایک ایک لفظ درد سے, احساس سے, وفا سے عبارت ہے. خاکہ اختتام تک آتے آتے نصف صدی کا قصہ نپٹا رہا ہے.ایک محبت کرنے والا بیٹاجنت میں مقیم ماں اور باپ کو دل کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے.آخری سوال نے تو آنسوؤں کو چھلکنے پہ ہی اکسا ڈالا.
" ماں جی! مجھے احساس ہے کہ میں آپ کی اخروی خوشحال زندگی میں مسلسل مخل ہورہا ہوں. بس مجھے آپ سے آخری بات صرف یہ کرنا تھی کہ کسی وقت اپنے میاں کو ساتھ لے کے اللہ میاں سےباتوں باتوں میں اتنا تو پوچھ لیجیے کہ اس نے آپ لوگوں کو آٹھ بچے دیے, چار کو شرع ہی میں اوپر بلا لیا اور چار کو اسی فانی دنیا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا...کیا کبھی ان آٹھوں بچوں کو ایک ساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہنا بھی نصیب ہوگا یا نہیں؟؟؟؟"
اس تحریر کو خاکہ کی دنیا میں ماسٹر پیس کہا جا سکتا ہے. بہترین ادبی فن پارہ.
'ایک بیوی ہے چار بچے ہیں ' اپنی فیملی کے بارے میں پیارا سا خاکہ ہے. ربِ ذوالجلال ان کی خوشحال زندگی کو ہمیشہ شاداب رکھے.
لاہور سے مکالمہ, قصہ چہار درویشنی, کان, مسٹر حلال کمیٹی اور فقریالوجی کی ہر سطر سنہری ہے. زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہے. پوری کتاب پڑھنے کے بعد ایک عجیب طرح کی طمانیت اور سکون نے دل میں جگہ بنا لی. علم وہنر کی باتیں اپنی جگہ شوخیاں اور ظرافتیں, احساس اور محبتیں آپ کو پوری طرح زندگی گزارنے کے ہنر سے واقفیت دے رہی ہیں. بہت سارے لوگوں کے تلخ و شیریں تجربات نے میری رگوں سے کسی قدر دکھ, تاسف رائیگانی کے احساس کو زائل کردیا ہے.
بہت سی نیک خواہشات. ثمینہ سید
09/12/2021
مائیکرو فکشن پر مشتمل میرا مجموعہ " مراقبے کے بعد" مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہو گیا ہے۔ ناشر ادارہ محمد عابد صاحب کا خصوصی شکریہ ۔ کتاب میں تینتالیس مائیکرو فکشن شامل ہیں۔ "مائیکرو فکشن ایک جائزہ " کے حوالے سے اس صنف کی فنی خصوصیات پر میں نے اپنا نقطہء نظر بھی پیش کیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
مائیکرو فکشن بجا طور پر فلم کے ملخص یا مکالمے کے خاکے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مائیکرو فکشن پر ایک گھنٹے سے زائد وقت کی آرٹ فلم بنائی جا سکتی ہے۔ عکس بندی، مکالمے اور صورت حال کی تشکیل سے ایک صفحے کا مائیکرو فکشن مکمل فلم کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ڈرامے،فلم اور ڈاکومنٹری کا ابتدائی خاکہ مائیکرو فکشن کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔ رائٹر اور ہدایت کار فنی مہارت کے ذریعے اسے فیتے کی زینت بنا دیتے ہیں۔ یوں مختصر تحریر کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔
شاہد اشرف
08/12/2021
جگر مراد آبادی کی غزل❤
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Urdu Bazar Lahore
Lahore
043
