10/11/2022
کچھ ٹوٹ گئے کچھ ہم نے توڑ دئے ...
آنکھیں اب خوابوں کی قید سے آزاد ہیں۔
Sad Poetry Lovers change in fun
10/11/2022
کچھ ٹوٹ گئے کچھ ہم نے توڑ دئے ...
آنکھیں اب خوابوں کی قید سے آزاد ہیں۔
04/08/2022
Alvida for life time itny b sasty ni ha
دل کی شریانوں میں زندگی بن کر بہنے والوں کی ہی وجہ سے,اکثر دماغ کی رگیں پھٹتی ہیں
ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ !!
ﯾﮧ ﺗﻮ ﻣﺎﻥ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
ﮐﯿﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ
ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ ؟؟
ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ ؟؟
ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭُﻼ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺪ ﺩﻋﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ
ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﺟﮕﮧ ﺩﮮ ﮔﺎ ؟؟
ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ؟؟
ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﺟﮩﺎﻥِ ﻓﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ
ﺗُﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮨﯿﮟ
ﺟﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺩﻝ
ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﮔﺎ ؟؟
ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ؟؟
ﯾﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ
ﺟﺲ ﭘﮧ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﺑﺲ ﻓﻘﻂ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ !!
ﺗﻢ ﺍﮔﺮ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮨﻮ !!
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﮯ !!
ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ !!
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺻﺤﯿﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﮎ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ
ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ
ﺟﻮ ﺩﻟﯿﻞ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮ !!
ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ !!
ﺭﺍﺑﻄﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮ !!...
21/07/2022
Ja muhabat tjhy alvida kh dea
15/07/2022
🌷محبت سے آگے کی اِک محبت🌷
مرے تخیّل میں بسنے والے محبتوں کےسبھی پرندے
نہ جانے کیسے مرے بدن کی سبھی گُھپاؤں سے
لحظہ لحظہ کِھسک رہے ہیں
مرے خیالوں کی سلطنت سے اُڑان بھر کر
فضا میں پرواز کر رہے ہیں
وہ ایک تصویر جو خیالوں میں بس رہی تھی
وہ اب فضاؤں میں آگئی ہے
اسی شباہت کو اب پرندے
ہوا پہ تحریر کر رہے ہیں
یہ اک حقیقت ہے،واہمہ ہے، خبر نہیں ہے
میں ایک حیرت سے ان پرندوں کو تک رہا ہوں
شرارتیں ہیں عجیب ان کی،
کبھی یہ تصویر توڑتے ہیں
کبھی یہ تصویر جوڑتے ہیں
عجب تماشا لگا ہوا ہے
میں شب گزیدہ،بدن دریدہ،ستم رسیدہ
یہ سوچتا ہوں
کہ جب یہ منظر تمام ہوگا
تو کیا وہ لڑکی وہاں پہ ہوگی؟
ادھوری زندگی۔۔۔!!!!
تم بن ہم ہیں بہت ادھورے
محبت تو ہم نے پوری کی
مگر نجانے کیوں
رہ گئے پھر بھی ہم
آدھے ادھورے سے
جذبے تھے بہت شدت کے
چاہت تھی بہت نبھانے والی
مگر شاید کہانی ہی اپنی
ادھوری لکھی تھی اوپر والے نے
محبت پوری مگر ملن ادھورا
آدھی ادھوری داستاں اپنی
محبت پوری مگر تم بن
زندگی ادھوری رہ گئ۔.!!
😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
Tumhy kho deny se der lgny lga ha
مرے مزاج کی سختی سے تو نہیں واقف
تو گر پڑے گا مجھے چُور چُور کرتے ہوئے
میں آفتاب سے کم روشنی نہیں رکھتی
کبھی تو دیکھنا مجھ کو ظہور کرتے ہوئے
۔