HANFI Muslak.NTS

HANFI Muslak.NTS

Share

HANFI MASLUK ZENDABAD

Photos 29/06/2017
24/06/2017

مسئلہ تراویح
آخری قسط
منرجہ بالا اقساط میں ۲۰ تراویح کی جو ھم نے دلائل بیان کییے ہیں اس کے بہت سارے مؤیدات ہیں ۔اگر تراویح کی نماز کا ۲۰ رکعات ہونا رسول اللہﷺ سے واضح طور پر ثابت ہونا نہ بھی تسلیم کیا جائے تو بھی خلفاے راشدین میں سے تین سے ثابت ہے حضرت عمر کا ۲۰ تراویح پڑھنا روزروشن کی طرح عیاں ہو چکا حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمان سے کئی تبدیلی مروی نہیں اور حضرت علیؓ بھی ۲۰ کے قائل تھے ترمذی باب ماجاء فی قیام شہر رمضان۔اور انہوں نے اپنے دور خلافت میں باجماعت ۲۰ رکعات تراویح کا اہتمام جاری رکھا[ابن ابی شیبہ جلد ۲]اور اس بات کا اعتراف خود غیر مقلدین کے عالم وحیدالزمان نے بھی کیا ہے۔اور رسول اکرمﷺ کا ارشاد کہ تم پر میری سنت اور میرے خلفا کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے۔اب جس طرح نماز تراویح ادا کرنا رسول اکرمﷺ کی ترغیب اور با جماعت ادا کرنا آپﷺ کی پسندیدگی کی وجہ سے ضروری ہے اسی طرح بیس رکعات ادا کرنا آپ کے خلفاء راشدین کی سنت کی وجہ سے ضروری ہے۔دو سو صحابہ کرام کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے جلیل القدر تابعی اور مکہ مکرمہ کے مفتی عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں میں نے لوگوں کو وتر سمیت ۲۳ رکعات پڑھتے دیکھا ہے[ابن ابی شیبہ جلد ۲]آئمہ اربعہ کا قرآن حدیث کی روشنی میں ہزاروں مسائل میں اختلاف ہے مگر تراویح کی رکعات میں کوئی اختلاف نہیں باالاتفاق چاروں آئمہ ۲۰ رکعات تراویح کے قائل ہیں اور آئمہ اربعہ جس بات پر متفق ہوں اس سے نکلنا جائز نہیں اور اس کی وجہ شاہ ولی اللہؒ اپنی کتاب عقد الجید یہ حدیث نقل کی ہے ترجمہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سواد اعظم کی پیروی کرو ،اور جس مسئلہ پر آئمہ اربعہ متفق ہوں اس میں ان کی پیروی کرنا سواد اعظم کی پیروی کرنا ہے کیونکہ ان چاروں آئمہ کے جو مسالک ھیں ان کے علاوہ باقی آئمہ کے مسالک مٹ چکے ہیں اس لیے حضور اکرمﷺ کے اس ارشاد کی پیروی کرنا لازم ہے۔
صحابہ کے زمانے سے لے کر آج تک مسجد حرام میں تراویح باجماعت ۲۰ رکعت پڑھی جارہی ہے۔آج کل حرم پاک میں دس رکعات کے بعد امام بدل جاتا ہے یہ تبدیلی انتظامی لحاظ سے کی جاتی ہے نماز تراویح کی رکعات کو کم سجھنے کی وجہ سے نھیں کی جاتی اول تو حرم کے آئمہ حنبلی مقلد ہیں چنانچہ شیخ سبیل صاحب امام حرم مکی نے بقاعدہ اعتراف کیا ہے کی حرمین کے آئمہ حضرات امام احمد ابن حنبل کے مقلد ہیں۔ تیسرا یہ کہ امام بدلتا ہے مقتدی نہیں بدلتے چوتھا یہ کہ امام شروع سے منزل پڑھنے کی بجائے پہلے امام کی منزل سے آگے پڑھتا ہے۔پنچویں یہ کہ وتر پہلے امام کی بجاے دسرا امام ۲۰ رکعات مکمل ہونے کے بعد پڑھتا ہے چھٹا یہ کہ پہلا امام دس پڑھا کر دسرے کے پیچھے بقیہ دس پڑھتا ہے۔نیز اگر گیر مقلدین نے آئمہ حرمین کے دس تراویح پڑھانے کو ہی بنیاد بنانا ہے تو ان کو آئمہ حرمین کا مقلد ہونا کیوں ضروری نہیں بلکہ تاریخی طورپر حرمین میں آج تک کوئی غیر مقلد امام مقرر نہیں ہوا۔کبھی جنازہ غیر مقلدین کی طرح اونچی آواز سے نہیں پڑھا نماز کبھی نگے سر نہیں پڑھائی،اور آئمہ اربعہ کی تقلید کو شرک نہیں کہا جب کہ غیر مقلدین کے نزدیک آئمہ اربعہ کی تقلید شرک ہے۔
نیز ان غیر مقلدین کی کتاب حدیث نماز اس کے صفحہ ۲۰ کے ھاشیہ پر وحیدالزمان صاحب کا جو ارشاد ہے وہ بھی ہم نقل کرتے ہیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ یہ حرمین اور وہاں کئے جانے والے اعمال کا کس قدر لحاظ کرتے ہیں،موصوف لکھتے ہیں بہت سارے اکابر علماء نے تصحیح کر دی ہے اس بات کی کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لوگوں کے قول فعل کی کوئی سند نہیں کیونکہ دونوں مقامات پر بدعت کا رواج عام ھو گیا ہے ۔
مدینہ منورہ حضرت عمر کے دور سے لے آج تک ۲۰ رکعات ادا کی جارہی ہیں ،عمر بن عبدالعزیز اور ابان بن عثمان کے دور میں ۳ وتر کے علاوہ ۳۶ رکعات ادا کی جانے لگیں جس کی وجہ یہ تھی کہ اہل مکہ پہلے چار ترویحوں میں ہر ترویح کے بعد ایک طواف کر لیتے تھے اہل مدینہ نے نیکی میں برابری کے لیے ہر ترویحہ کے بعد چار رکعت نفل پڑھنا شروع کر دیے جس سے ان کی تراویح میں ۲۰ تراویح سولہ نفل اور تین رکعات کل انتالیس رکعات ھو گئیں۔اور بعض نے دو نفل ساتھ ملا کر اکتالیس کا عددبیان کر دیا مگر بعد میں نفل ختم ہو گے اور باجماعت ۲۰رکعات تراویح کا اہتمام باقی رہ گیا جو آج تک باقی ہے یعنی حضرت عمرؓ کے دور سے آج تک ۲۰ رکعات سے کم ادا نہیں ہوئی ۔امام ترمذیؒ نے اپنے دور تک نماز تراویح کی صرف دو صورتیں بیان کی ہیں ان میں سے ایک صورت اکتالیس رکعت کی اور دوسری صورت بیس رکعات کی اور اس دوسری صورت کو اکثر اہل علم کا عمل بتلایا اور اس کی تعداد حضرت عمر اور حضرت علیؓ سے مروی کہا ہے۔
اللہ تعالٰی سب مسلمانوں کو پورے شرح صدر کے ساتھ ۲۰ رکعات تراویح پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔:
آمین یا رب العالمین

24/06/2017

قسط نبر ۳
آٹھ تراویح کی دلیل اور اس کا جواب؛
جو لوگ آٹھ تراویح پڑھتے یقیناً ان کی بھی کوئی دلیل ہو گی جس کی بنا پر وہ آٹھ تراویح پڑھتے ہیں اس کی کچھ تفصیل ہم عرض کرتے ہیں۔بخاری شریف کی حدیث حضرت عائشہؓ نے سے دریافت کیا گیا حضورﷺکی رمضان میں نماز کیسی ہوتی تھی فرمایا رمضان و غیر رمضان میں آپ کی نماز گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔اس حدیث کو دلیل بنا کر کہا جاتا ہے کہ دیکھو اس حدیث میں رمضان و غیر رمضان کا ذکر ہے جس سے آٹھ تراویح اور تین وتر کا ثبوت ہے۔
جواب۔یہ حدیث کئی وجوہ سے ان کے خلاف بنتی ہے ۱اس میں رمضان وغیر رمضان کا ذکر ہے اور تراویح صرف رمضان میں ہوتی ہے،۲ اس حدیث میں گیارہ رکعات کا ذکر ہے غیر مقلد کہتے ہیں گیارہ تراویح میں ۸ تراویح اور ۳ وتر ھیں حالانکہ ان کے نزدیک صرف ۱ وتر ہے۔یہ حدیث بخاری میں ۳ جگہ ہے اور تینوں جگہ چار چار رکعات اکٹھی پڑھنے کا ذکر ہے جبکہ غیر مقلدین تراویح کی نماز دو دو رکعات پڑھتے ھیں۔حدیث کے الفاظ مَا کَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ یَزِیدُ فَی رَمَضَانَ وَلَا فِی غَیرِہٖ عَلٰی اَحَد عَشَرَ رَکَعَۃً یُصَلِّی اَربَعًا۔۔۔
۴ بخاری جلد ۱ صفحہ ۱۵۳ پر روایت آرہی ھے حضرت عائشہؓ سے سوال کیا گیا حضورﷺ کی رات کی نماز کی کتنی رکعات تھیں تو حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کبھی سات کبھی نو اور کبھی گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور یہ رکعات فجر کی سنتوں کے علاوہ ہوتی تھیں۔
قارئین آپ نے دیکھ لیا بخاری کی حدیث ہے اور سوال بھی حضرت عائشہؓ سے ھو رہا ہے سوال بھی رات کی نماز کے بارے میں ۔
حضرت عائشہؓ جواب مین فرما رہی ہیں کہ حضورﷺ کی رات کی نماز کبھی ۷ کبھی ۹ کبھی ۱۱ رکعات ہوتی تھیں لہزا غیر مقلدین کو چاہیے کہ کبھی ۴ رکعات تراویح اور ۳ رکعات وتر پڑھیں کبھی ۹ رکعات پڑھیں جن میں ۶ تراویح اور ۳ وتر ہوں گے کبھی ۱۱ رکعات پڑھیں جن میں ۸ تراویح اور ۳ وتر ہوں گے حالانکہ غیر مقلدین ہمیشہ ۱۱رکعات پڑھنے کے عادی ہیں جو سراسر اس حدیث بخاری کے خلاف ہے پھر اسی صفحہ ۱۵۳ پر ابن عباس کی روایت ہے وہ فرماتے ہیں حضورﷺ کی رات کی نماز ۱۳ رکعات تھی۔اس کہ اسی صفحہ پر حضرت عائشہؓ کی روایت ہے وہ فرماتی ہیں آپﷺ کی رات کی نماز کی ۱۳ رکعات تھیں اس میں وتر اور فجر کی سنتیں بھی شامل تھیں پھر اس کے صفحہ ۱۵۴ پر حضرت عائشہؓ کی دوسری روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کی رات کی نماز ۱۳ رکعات تھی فجر کی سنتیں اس میں داخل نہیں تھیں قارئین اس روایت کے مطابق ۳ رکعات وتر ہوے اور ۱۰ تراویح لھذا غیر مقلدین کو چاہیے اس کہ وہ اس روایت کے مطابق کبھی ۱۰ رکعات بھی پڑھا کریں۔ خلاصہ یہ نکلا کہ حضرت عائشہؓ سے جو مختلف روایات آ رہی ہیں اگر میں تراویح کا ذکر ہے تو پھر غیر مقلدین کو صفحہ ۱۵۳ والی حدیث کے مطابق کبھی ۴ کبھی ۶ کبھی ۸ رکعات اور صفحہ ۱۵۴ والی روایت کے مطابق ۱۰ رکعات پڑھنی چاہئیں حالانکہ غیر مقلدین کی ضد ۸ ہے۔بہرحال حقیقت یہ جو روایات حضرت عائشہؓ سے مروی ہیں رات کی نماز کے بارے میں اس سے مراد تہجد کی نماز ہے۔اس پر بعض گیر مقلدین اعترض کرتے ہیں کہ تہجد وتراویح کی ایک ہی نماز ہے ورن کوئی ایسی حدیث دکھاؤ جس سے ثابت ہو کہ آپﷺ نے تراویح بھی پڑھی اور تہجد بھی پڑھی ہو اور ثابت کرو یہ دونوں الگ نمازیں ہیں۔
جواب تہجد کا حکم مکہ میں نازل ہوا اور تراویح مدینہ میں شروع ہوئی۔تہجد حکم قرآن میں ہے۔[وَمِنَ اللَّیلِ فَتَہَجَّد بِہٖ نَافِلَۃَلَّکَ] :اور کسی قدر رات کے تھوڑے سے حصے میں تہجد پڑھیں جو کہ آپ کے لیے زائد چیز ہے؛ اور تراویح کے بارے میں فرمایا آپﷺنے وَسَنَنتُ لَکُم قِیامَہٗ اور تراویح کی نماز
کو میں نے اللہ کے حکم سے سنت قرار دیاہے۔تہجد سارا سال اور تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

22/06/2017

قسط نمبر ۲ مسئلہ تراویح
جیسا کہ معلوم ہو چکا تراویح کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ساتھ مل کر باجماعت ادا کی اس کے بعد یہ نماز صحابہ کو بہت اچھی معلوم ہوئی جس کی وجہ سے ان کا ذوق شوق بڑھا اس زوق شوق کو دیکھ کر آپﷺ کو امت کی کمزوری کا خیال آگیا اس لیے آپ چند راتوں کے بعد مسجد میں تشریف نہیں لائے ۔لیکن جن راتوں میں آپﷺ نے صحابہؓ کے ساتھ مل کر باجماعت نماز پڑھی اس میں کتنی رکعات پڑہی تھیں یہ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور ضابطہ یہ ہیکہ جب کوئی عمل نبی اکرمﷺ سے ثابت ہو مگر اس کی تعداد اور مقدار ثابت نہ ہو تو ایسے عمل میں صحابہ کو دیکھا جاتا ہےکہ صحابہ کا جو عمل ہو گا اس پر عمل کرنا واجب ہو گا کیونکہ رسول اللہﷺ کو صحابہ نے دیکھا ہے ہم نے تو دیکھا نہیں صحابہ لھذا عمل کی جو مقدار صحابہ بتلائیں گے اسی پر اعتبار ہو گا نیز نبی اکرمﷺ کا فرمان ترجمہ۔ میرا اور میرے خلفا کا طریقہ لازم پکڑو۔ لیکن قارئیں؛ صحابہ وخلفاراشدین کاعمل دیکھنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں عھد نبوی اور خلافت صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں تراویح کی جماعت کا اہتمام نہیں تھا۔بلکہ لوگ تنہا یا چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھا کرتے تھے،خلافت فاروقی کے دوسرے سال ۱۴ھ میں حضرت عمرؓ نے صحابہ کو ایک امام پر جمع فرمایا چنانچہ بخاری شریف میں روایت ہے حضرت عبدالرحمٰن بن قاری بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں حضرت عمرؓ کے ہمراہ مسجد نبوی میں گیا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ الگ الگ تراویح پڑھ رہیں اور کچھ اپنے قبیلے کے لوگوں کے ساتھ پڑھ رہے ہیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میں ان کو ایک قاری کی امامت پر جمع کر دوں تو بہتر ہو گا، چناچہ ابی بن کعبؓ جو صحابہ میں سے سب سے بڑے قاری تھے ان کی امامت میں سب لوگوں کو جمع فرمادیا قارئین جب آپ کو یہ بات معلوم ہو گئی کہ تراویح کا اہتمام خلافت فاروقی میں ہوا تو اب یہ معلوم کرنا ہیکہ عہد فاروقی میں کتنی رکعات پڑھی جاتی تھیں مؤطا امام مالک میں باب ما جافی قیام رمضان ؛ میں حضرت سائب بن یزیدؓ صحابی رسول حضرت عمر کے زمانے کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں(ترجمہ لوگ حضرت عمر کے زمانے میں ۲۳ رکعات پڑھتے تھے)یعنی ۲۰ تراویح اور ۳ وتر اور یہ بات بھی معلوم ھونی چاہیے کہ حضرت ابی بن کعبؓ کہ پیچے نماز پڑھنے والے صحابہؓ ہوتے تھے تو گویا صحابہ کا ۲۰ تراویح پر اتفاق ہو گیا لھذا صحابہ کا اجماع اور خلفاے راشدین کا عمل مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے اِقتَدُو بالَّذَینِ مِن بَعدِی یعنی اَبَابَکرٍوَعُمَرَ لہذا رمضان میں ۲۰ رکعات تراویح کاباجماعت پڑھنامسنون ہے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

22/06/2017

قسط ۱
تراویح کی شرعی حثیت
تراویح کی نماز ہر مسلمان عاقل بالغ مرد عورت کے لیے ازروئے شرع سنت مؤکدہ ہے،اور مردوں کے لیے یہ بھی سنت ہے کہ وہ تراویح کی نماز باجماعت ادا کریں۔علامہ شامی درمختار میں لکھتے ہیں {ترجمہ تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے خلفائے راشدین کے اپنے اپنے زمانوں میں عشا کی نماز کے بعد اس پر ہمیشگی اور دوام کی وجہ سے}۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ۔(عَلَیکٗم بِسُنَّتِی وَسُنَّتِ الخُلَفَاِالرَّاشِدِینَ)۔میرے اور میرے خلفا کے طریقے کو لازم پکڑو لہذا ثابت ہو گیا کہ تراویح کی سنت مؤکدہ ہے نیز پورے مہینے تراویح کی نماز پڑھنا الگ سنت ہے اور تراویح کی نماز پورا قرآن پڑھنا اور سننا اور کسی کا سنانا یہ الگ سنت ہے پہلی سنت کی طرح آخری دو سنتیں بھی سنت مؤکدہ ہیں کیونکہ خلفا راشدین نے تینوں سنتوں پر مواظبت فرمائی اور سنت مؤکدہ عملی اعتبار سے واجب کے درجہ میں ہوتی ہے۔
تراویح کی رکعات۔
اھل سنت والجماعت کے نزدیک بالاتفاق وبالاجماع تراویح کی بیس کی رکعات ہیں اور ائمہ اربعہ میں سے کسی کا بھی اس میں اختلاف نہیں ہے بلکہ چاروں آئمہ فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ تراویح کی رکعات بیس ہیں۔لیکن بعض لوگوں کو مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ 8تراویح پڑھ کر چلے جاتے ہیں اور بعض کبھی ۲۰کبھی پڑھ ۸کر چلے جاتے ہیں ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جو ۸کی دلیل بھی دیتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ھیں جو ۸ کو بھی سہی سمجھتے اور ۲۰ کو بھی سہی سمجھتے ہیں اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وضاحت کردی جائے۔قارئین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ۳ باجماعت تراویح کی نماز پڑھنا ثابت ہے یعنی ۲۳ رات تہائی رات تک پچسویں کو آدھی رات تک آپﷺ نے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھی۔اس کے بعد ستائیسویں رات کو بہت زیادہ لوگ آے اور آپ نے امہات المؤمنینؓ کو بھی جمع ہونے کا حکم دیا اور آخیر رات تک تراویح پڑھاتے رہے حتی کہ صحابہ کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ سحری کھانے کا وقت نہیں ملے گا ۔چوتھی رات پھر لوگ جمع ہوئے اور بھت بڑی تعداد میں جمع ہوے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے جب صبح ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا جو کچھ تم نے رات کیا میں نے دیکھا مگر اس خوف سے کہ یہ نماز فرض نہ ہو جائے میں تمہیں تراویح پڑھانے کے لیے نہیں نکلا مذکورہ ساری تفصیل نسائی جلد ۱ باب قیام شہر رمضان میں موجود ہے مذکورہ تین دن کےبعد آپﷺ نے خود یہ نماز مسجد میں باجماعت ادا نہیں کی البتہ اپنی امت کو اس کی پابندی کی ترغیب دی جیسا کہ کئی احادیث سے ثابت ہے

21/06/2017

نماز وتر کا مسئله اور اصل طریقه ** وتر کے واجب هونے کے دلائل *
" وتر " کتنی رکعتیں واجب هے ؟ *
یه مسئله تفصیل سے پڑهیئے اور جانیئے....جزاک الله خیراََ.
------------------------------------------------------

ابتدائے اسلام میں نماز میں " سلام ، کلام " کی بهی گنجائش تهی اور " نماز وتر نفل " تهے پهلے .
اس لئے بعض اوقات حضرت نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم تین وتروں میں دورکعت کے بعد سلام پهیر دیتے اور ایک وتر علیحده پڑه لیتے.

اس لئے دیکهنے والے اس کو دو طرح کے روایت کردیتے بعض صرف آخری رکعت کا خیال کرکے اسے ایک رکعت هی روایت کردیتے اور بعض کهتے که تین رکعت دوسلاموں سے ادا فرمائے.

اور ایک حدیث اس طرح سے بهی هے
( ومن احب ان یوتربثلث فلیفعل ومن احب ان یوتر بواحدته فلیفعل ).... ابوداود ، نسائی ، ابن ماجه .
نبی علیه السلام نے فرمایا جو وتر کی تین رکعت پڑهناچاهے وه تین رکعت پڑهے اور جو وتر ایک رکعت پڑهنا چاهے وه ایک پڑه لے.
_____________________

اب اس کا جواب جانیئے ____نماز وتر کے بارے میں مختلف قسم کے اختلافی احادیث هیں جن میں سے بعض احکام " نفل " والے هیں... مثلا جتنی چاهے رکعتیں پڑه لینا ، سواری پر بیٹه کر وتر پڑه لینا وغیره.

بعض احکام وجوب کے هیں که تین هی رکعت پڑهنا ، سواری پر بیٹه کر وتر کا ناجائز هونا ، وتر کی قضا کا ضروری هونا.
اب شریعت " کتاب و سنت " میں ایسا کوئی ثبوت نهیں ملتا که ایک هی نماز کو کبهی " نفل " کی نیت سے ادا کرلیا جائے اور کبهی واجب کی نیت سے پڑه لیا جائے اور نه صراحته کسی حدیث میں یه هے که پهلے یه احکام تهے اور اب یه هیں.

جب یه صراحته نه ملی تو بنص حدیث حضرت معاذ رضی الله عنه یهاں اجتهاد کی گنجائش نکل آئی مجتهد نے اجتهاد سے کسی ایک پهلو کو ترجیح دے دی.

اب اس بارے میں هم احناف یه کهتے هیں که پهلے وتر " نفل " تهے اور تهجد میں شامل تهے اس لئے تهجد اور وتر کو ملاکر بیان کردیا جاتا که حضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے گیاره یا تیره تک رکعت وتر کے ساته پڑهے.

* وتر کے واجب هونے کے دلائل *
-------------------------------
اس کے بعد همارے پیارے نبی علیه السلام نے فرمایا !
" ان الله امد کم بصلوته هی خیرلکم من حمر النعم وهی الوتر فجعلها لکم فیما بین الصلوته العشاء الی صلوته الفجر ".... * مستدرک الحاکم ج1 ص306 *

ترجمه.... الله تعالی نے تم کو ایک زائد نماز عطا کی هے جوکه جونکه تمهارے لئے سرخ اونٹوں سے بهتر هے اور وه نماز وتر هے پس اس نے تمهارے لئے اسے عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان رکها هے .

یه حدیث حضرت خارجه بن حزافه رضی الله عنه
* حاکم *
حضرت ابوسعید خدری رضی الله عنه اور حضرت عقبه بن عامر رضی الله عنه
* طبرانی *
حضرت عمروبن العاص رضی الله عنه اور حضرت عمروبن شعیب رضی الله عنه
* دارقطنی *

حضرت عبد الله بن ابی اوفی رضی الله عنه
* خلافیات بیهقی *

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنه * دارقطنی فی غرائب مالک * سے مروی هے .

اس لئے قاضی ابوزید فرماتے هیں " وهوحدیث مشهور "
* عمدته القاری شرح البخاری ج3 ص413 *

خود نبی علیه السلام کا فرمان بهی یهی هے " الوتر حق واجب علی کل مسلم..... رواه ابن حبان و صححه "
* فتح الباری شرح البخاری ج2 ص400 *
وتر لازم اور واجب هے هر مسلمان پر.

حضرت بریده رضی الله عنه روایت کرتے هیں که میں نے رسول الله صلی الله علیه وسلم کو سنا هے که آپ فرماتے تهے الوتر حق * امرثابت ولازم * هے لهذا جو وتر نه پڑهے وه همارا نهیں.
* حاکم ... اور امام ذهبهی نے صحیح کها هے ج1 ص306 *

حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنه فرماتے هیں که آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا " الوتر واجب علی کل مسلم " یعنی وتر هر مسلمان پر واجب هے
* رواه بزار *
__________________________
اب یه بات تو ثابت هوگئی وتر واجب هوگئے امت مسلمه پر اور اب " نوافل " والے تمام احکامات ختم هوگئے نه اس کی تعداد اپنی مرضی پر رهے اور نه هی اس کا بیٹه کر پڑهنا باقی رها خواه وه سواری پر هی کیوں نه هو یه احکامات ختم هوگئے.

* اب یه سوال باقی رها که " وتر " کتنی رکعتیں واجب هے ؟؟ *
--------------------------------------------------------

یه بات تو ظاهر هے که زیادتی پانچ نمازوں پر هوئی هے اور پانچ نمازوں میں سے چار نمازیں جفت هیں یعںی دو یا چار رکعت والی هیں اور صرف ایک " مغرب " کی نماز طاق یعنی وتر هے .

دلیل نمبر1__ عن ابن عمر رضی الله عںه ان النبی صلی الله علیه وسلم قال صلوته المغرب وتر النهار فاوتر واصلوته اللیل.
ترجمه.... حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عںه سے روایت هے که نبی علیه السلام نے فرمایا که مغرب کی نماز دن کے وتر هیں اسی طرح تم رات کی نماز کو وتر بنادو.
* مصنف عبدالرزاق ج3 ص28 وابن ابی شیبه و احمد ___ علامه عراقی فرماتے هیں اس کی سند صحیح هے "زرقانی شرح موطا ج1 ص233 "

دلیل نمبر2___حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنه فرماتے هیں وتر مغرب کی نماز کی طرح هے.
* موطا امام محمد ص146 *

دلیل نمبر3___حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنه نے فرمایا رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا که رات کے وتر تین هیں جیسے دن کے وتر یعنی مغرب .
* اس کو دارالقطنی نے حسن سند کے ساته روایت کیا هے ....دارالقطنی ج2 ص28 *

دلیل نمبر 4__ حضرت امی عائشه رضی الله عنها سے روایت هے که رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا وتر کی تین رکعت هیں جیسے نماز مغرب کی تین رکعت هیں.....* طبرانی فی الکبیر *

دلیل نمبر5___حضرت ابوخالده فرماتے هیں که میں نے ابوالعالیه سے وتر کے بارے میں دریافت کیا تو انهوں نے فرمایا که حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کے تمام صحابه نے همیں تعلیم دی هے که وتر کی نماز مغرب کی نماز کی طرح پڑهی جاتی هے ماسوا اس کے که هم اس کی تیسرے رکعت میں بهی قرات کرتے هیں. پس یه رات کا وتر هے اور مغرب کی نماز دن کا وتر هے .
* طحاوی ج1 ص143 *

ان احادیث سے معلوم هوا که جب " وتر " واجب هوئے تو اس کی " تین " هی رکعت مقر هوگئیں جیسے نماز مغرب کی تین هی رکعتیں هیں اور وه " دو التحیات اور ایک سلام " سے پڑهی جاتی هے .

اسی پر صحابه رضوان الله اجمعین خود عمل کرتے رهے اور یهی طریقه اپنے شاگردوں کو بتاتے رهے اور اسی پر بلا ترد د انکار خیرالقرون میں عمل جاری رها..... اس سے ثابت هوگیا که جن احادیث میں وتر کی تعداد مختلف آئی هے وه اس دور کی هیں جب " وتر نفل " تهے.

نبی علیه السلام تین رکعت وتر میں تین سورتیں پڑها کرتے تهے یه حضرت عائشه ، حضرب عبدالله بن مسعود ، حضرت ابوهریره ، نعمان بن بشیر ، عبدالله بن عمر ،ابن عباس ، حضرت معاویه بن سفیان ، ابی بن کعب ، حضرت علی اور بهی صحابه رضوان الله اجمعین نے روایت کیا هے.

ادهر عهد فاروقی سے بیس رکعات تراویح اور تین وتر پر اجماع هوگیا یهی اجماع حضرت عثمان رضی الله عنه اور حضرت علی رضی الله عںه کے زمانه اور بعد میں بهی قائم رها.

* نماز وتر کا طریقه جانیئے جس میں دو التحیات پڑهتے هیں اور صرف تیسری رکعت پر سلام هے *
-------------------------------------
دلیل نمبر1__ عن عائشه ان رسول الله صلی الله علیه وسلم کان لا یسلم فی رکعتی الوتر.... * موطا امام محمد ص151 ، نسائی ج1 ص248 *
حضرت عائشه رضی الله عنها فرماتی هیں که آنحضرت صلی الله علیه وسلم وتر کی پهلی دو رکعتوں میں سلام نهیں پهیرتے تهے.

دلیل نمبر2__اور اسی طریقے پر عمل آخر تک جاری رها حضرت صدیق اکبر رضی الله عنه کے دفن سے جب فارغ هوئے تو حضرت عمر رضی الله عںه نے فرمایا میں نے ابهی وتر نهیں پڑهے پس وه وتر کی نماز کے لئے کهڑے هوئے اور حاضرین نے بهی ان کے پیچهے صف باندهلی تو حضرت مسعود بن مخزمه فرماتے هیں !

" فصلی بنا ثلاث رکعات لم یسلم الا فی اخرهن " یعںی حضرت عمر رضی الله عنه نے همیں تین رکعتیں وتر پڑهائے جن میں صرف تیسرے رکعت پر سلام پهیرا.
* طحاوی ج1 ص202 ، مسند عبدالرزاق ج3 ص120 ، ابن ابی شیبه ج1 ص293*

دلیل نمبر 3__حضرت فضل بن عباس رضی الله عنه فرماتے هیں که آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا " الصلوته مثنی مثنی تشهد فی کل رکعتین .... ترمزی شریف ج1 ص50 "
یعنی نماز دو دو رکعت هے اور هر دو رکعت کے بعد التحیات هے.

دلیل نمبر 4__ حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنه سے روایت هے که ایک رات میں نے اپنی والده کو " جو آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی خادمه تهیں " نبی علیه السلام کے گهر خاص اس مقصد سے بهیجا تاکه وه دیکهیں که نبی علیه السلام نماز وتر کس طرح سے ادا فرماتے هیں .

وه فرماتی هیں که آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے جب وتر ادا فرمائے تو پهلی رکعت میں * سبح اسم ربک الاعلی * پڑهی دوسری رکعت میں * قل یایها الکفرون *پڑهی . اس کے بعد قعده اولی کیا اس کے بعد کهڑے هوئے اور ان دو رکعتوں کو سلام کے ساته تیسری رکعت سے جدا نهیں فرمایا .

اس کے بعد تیسری رکعت میں * فاتحه کے بعد * قل هوالله احد * پڑهی یهاں تک که جب اس سے فارغ هوئے تو الله اکبر کها اس کے بعد قنوت پڑهی اور پهر رکوع فرمایا .
* رواه ابن عبدالبر فی الاستیعاب ج4 ص71 *

دلیل نمبر 5___حضرت ابن عمر رضی الله عںه فرماتے هیں که حضور اقدس صلی الله علیه وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت هے پهر جب دو رکعت کے بعد تو " التحیات پڑه کر " سلام کا اراده کرے تو کهڑے هوکر ایک رکعت ملالے تو وه وتر هوجائیں گے .
حضرت قاسم بن محمد فرماتے هیں میں نے تین وتر هی لوگوں کو پڑهتے پایا هے
* صحیح البخاری ج1 ص135 *

دیکهے بخاری شریف کی اس حدیث سے تین رکعت وتر ایک سلام اور دوالتحیات ثابت هوگئے.

* نبی علیه السلام نے 1 ایک رکعت وتر پڑهنے سے منع فرمایا هے *
--------------------------------------------------
عن ابی سعید خدری رضی الله عںه ان رسول الله صلی الله علیه وسلم نهی عن البتیرا ان یصلی الرجل واحدته وتر بها .
* رواه ابن عبدالبر فی التمهید بحواله اعلاء السنن ج6 ص40 *

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عںه سے روایت هے که آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے بتیرا سے منع فرمایا هے یعںی اس سے که آدمی ایک رکعت وتر پڑهے .

حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه نے صراحته کهل کر فرمایا " اجزات رکعته واحدته قط .... موطا امام محمد ص150 .... که وتر کی ایک رکعت کبهی کافی نهیں هوسکتی .

اس وقت کوفه میں سینکڑوں صحابه اور هزارو تابعین موجود تهے کسی نے ایک حدیث بهی ان کے رد میں پیش نهیں کی.

26/12/2016

نعمان بن ثابت کو امام اعظم ابو حنیفہ کیوں کہتے ہیں؟

حضرت امام ابو حنیفہ کا اصل نام نعما ن ہے، کنیت ابو حنیفہ اور لقب امام اعظم ہے، بعض لوگ آج کل امام اعظم ابو حنیفہ کے نام اور لقب دونوں پر اعتراض کرتے ہیں ،ان مخالفین کے عام طور پر دو بڑے اعتراضات سامنے آتے ہیں:
1..حنیفہ امام صاحب کی بیٹی کا نام ہے اور کہتے ہیں یہ کتنا کمزور مذہب ہے، جس میں نسبت لڑکی کی طرف کی جارہی ہو۔
2.. دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سب سے بڑے امام تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہیں آپ لوگ ابو حنیفہ کو امام اعظم کیوں کہتے ہیں۔
ان لوگوں کے ان اعتراضات کو دیکھ کر ان کی جہا لت کا پتا چل جاتا ہے ،ان لوگوں کو نہ ہمارے امام کی تاریخ کا علم ہے، نہ ان لوگوں کا عربیت سے کوئی تعلق ہے، اگر ان لوگوں کو ہمارے امام کی تاریخ کا علم ہوتا یا ان کا عربیت سے کچھ تعلق ہوتا تو اس قسم کے اعتراضات کبھی نہ کرتے ۔
جہاں تک ہمارے امام کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس کا علم اس لیے نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ کا صرف ایک ہی بیٹا تھا ،جس کا نام حماد تھا، اس کے علاوہ امام صاحب کا نہ کوئی بیٹا تھا نہ کوئی بیٹی۔ یہ کتنا بڑا الزام ہے کہ امام صاحب کی بیٹی کا نام حنیفہ تھا، جس کی وجہ سے ابو حنیفہ کو ماننے والے ان کی نسبت لڑکی کی طرف کر رہے ہیں؟! اگلی بات یہ ہے امام اعظم کی کنیت ابو حنیفہ کیوں ہے؟ تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ کنیت دو قسم کی ہوتی ہے ۔۱۔کنیت نسبی۔۲۔کنیت وصفی ۔کنیت نسبی کا معنی یہ ہے کہ باپ کی بیٹے کی طرف نسبت کیے جانے کی وجہ سے وہ باپ کی کنیت ہو جاتی ہے، جیسے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ہے تو چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کا نام قاسم تھا ،پس قاسم کی نسبت محمدصلی الله علیہ وسلم کی طرف ہونے کی وجہ سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم نسبی ہے ۔
اور دوسری قسم کنیت وصفی اس کا معنی یہ ہے کہ یہ کنیت اولاد کی طرف نسبت کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ کسی مخصوص وصف کی وجہ سے ہوتی ہے جو صرف اسی شخص میں نمایاں ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ وصف اس شخص کی کنیت کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے ،اب کنیت وصفی کو بھی مثال سے سمجھ لیں، جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا نام عبدالله بن ابی قحافہ ہے ابوبکر ان کی کنیت ہے ان کے بیٹے کا نام بکر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو ابوبکر کہا جاتا ہو بلکہ بکر عربی زبان میں پہل کرنے والے کو کہتے ہیں، جب حضورصلی الله علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے ان کی تصدیق کر نے والے حضرت عبد اللہ بن ابی قحافہ تھے، جب حضور صلی الله علیہ وسلم نے دولت مانگی تو ساری دولت دینے میں حضرت عبد اللہ بن ابی قحافہ نے پہل کی جب حضورصلی الله علیہ وسلم نے کنواری لڑکی نکاح کے لیے مانگی تو پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم مکہ سے مدینہ گئے تو ہجرت میں پہل حضرت عبد اللہ بن أبی قحافہ نے کی ۔ جب حضور غزوء احد میں گئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرماگئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے مصلی پر کھڑے ہونے میں پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم اپنے مزار تشریف لے گئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے مزار میں سب سے پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی یہاں تک کے جب پیغمبر خداصلی الله علیہ وسلم جنت میں جائیں گے تو ان کے ساتھ سب سے پہلے جانے والا عبد اللہ بن ابی قحافہ ہی ہوگا، غرض یہ کہ ہر کام میں پہل کی،اسی لیے ان کی کنیت ابو بکر پڑگئی ،اس وجہ سے نہیں کہ ان کے بیٹے کا نام بکر تھا، بلکہ ان کی اس صفت کی وجہ سے کہ ہر کام میں وہ پہل کرتے تھے۔
اسی طرح حضرت علی رضی الله عنہ کی کنیت ابو تراب ہے۔ تراب ان کے بیٹے کا نام نہیں تھا تو ان کی کنیت ابو تراب کیسے پڑگئی؟ وہ اس طرح کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے گھر تشریف لے گئے، دروازے پر دستک دی اور فرمایا علی ہیں؟ فاطمہ  نے کہا موجود نہیں۔ تو حضور علیہ السلام مسجد نبوی میں تشریف لے گئے، دیکھا کہ حضرت علی مسجد میں مٹی پر لیٹے ہوئے ہیں اور جسم مبارک کو مٹی لگی ہوئی ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :قم یا ابا التراب !اے مٹی والے اٹھ جا۔ حضورصلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو کہا ابو التراب۔ تراب نہ حضرت علی کے بیٹے کا نام ہے اور نہ بیٹی کا تو یہ کنیت وصفی ہوئی نہ کہ نسبی۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا نام عبد الرحمن بن صخر ہے ،ابو ہریرہ ان کی کنیت ہے ،ایک مرتبہ آپ رضی الله عنہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ  کی آستین کا دامن کھلا ہوا تھا، جس میں بلی کا بچہ تھا، عربی زبان میں ہریرہ بلی کے بچے کو کہاجاتا ہے تو ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر کی کنیت بن گئی اب یہ کنیت وصفی ہوئی نہ کہ نسبی اسی طرح ابو حنیفہ بھی کنیت وصفی ہے نہ کہ نسبی اب امام میں آخر وہ کو نسا وصف تھا جس کی بنیاد پر انہیں ابو حنیفہ کہا جاتا ہے، وہ یہ کہ حنیفہ کا ایک معنی عربی زبان میں دوات کے ہیں اور امام صاحب کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر وقت قلم ودوات لے کر امام صاحب کے علوم کو مرتب کرتے تھے، اتنے علوم مرتب کیے کہ ان کی وجہ سے کنیت ابو حنیفہ بن گئی اور حنیفہ کا ایک معنی خالص کا آتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ﴿ واتبع ملة ابراہیم حنیفا﴾ابراہیم علیہ السلام خالص دین والے تھے ،باطل سے بالکل الگ تھے ،امام اعظم نے اس شریعت کو مرتب کیا، جو بالکل خالص ہے، اسی وجہ سے کنیت ابو حنیفہ بن گئی، ابو حنیفہ کا معنی ہوا دین خالص کو مرتب کرنے والا اور جو لوگ کہتے ہیں حنیفہ امام اعظم کی بیٹی کا نام ہے تو ان کے پاس نہ تاریخ کا علم ہے اور نہ عربیت کا ۔ایک اہم نکتہ
ابو بکر کا نام، جو کہ عبد اللہ ہے، لوگ اس کو اتنا نہیں جانتے جتنا ان کی کنیت ابو بکر کو جانتے ہیں۔ اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ کا نام نعمان بن ثابت ہے جسے لوگ نہیں جانتے، بلکہ ان کی کنیت یعنی ابو حنیفہ کو نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مشن ابو بکر کا تھا اور ایک مشن ابو حنیفہ کا تھا، ابو بکر کا مشن دین پھیلانا تھا اور ابو حنیفہ کا مشن دین لکھوانا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ کو ان دونوں کا مشن اتنا پسند آیا کہ ان کا نام عبداللہ اور نعمان پردہ خفا میں چلا گیا اور ان کا مشن قیامت تک زندہ رہا ،اس نکتہ کے ذکر کرنے کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ کا مخالف ابو حنیفہ کہہ کر مخالفت کر ے گا ،ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا مخالف ابو بکر کہہ کر مخالفت کرے گا: تھوڑی سی تو شرم کرنی چاہیے، ابو حنیفہ بھی کہتے ہو مخالفت بھی کرتے ہوا؟بو بکر بھی کہتے ہو مخالفت بھی کرتے ہو؟ اس کا مطلب تو ایسے ہے جیسا کہ اللہ کے نبی کا نام محمدصلی الله علیہ وسلم ہے جس کی بار بار تعریف کی گئی ہے اب جو کہتا ہے میں محمد کو نہیں مانتا یا جو محمد سے مخالفت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس شخص کو نہیں مانتا جس کی تعریف خود رب ذوالجلال نے کی ہے، اسی طرح جو ابو حنیفہ کی مخالفت کرتا ہے اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ جس نے دین خالص کو مرتب کیا میں اس کو نہیں مانتا اور اس کی مخالفت کرتا ہوں ۔
دوسرا اعتراض :
آپ حنفی لوگ ابو حنیفہ کو امام اعظم کیوں کہتے ہو؟ اس کا جواب میں چند مثالوں سے دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ سب سے بڑے صدیق یعنی سچے تو اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں تو پھر ابو بکر صدیق اکبر کیوں کہا جاتا ہے ؟اسی طرح سب سے بڑے فاروق یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والے تو اللہ کا نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں تو پھر عمررضی الله عنہ کو فاروق کیوں کہتے ہو؟سب سے بڑا بہادر تو اللہ کا نبی ہے تو پھر حضرت علی کو حید ر کرار کیوں کہتے ہو؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابو حنیفہ حضورصلی الله علیہ وسلم سے بھی بڑے امام ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ائمہ فقہاء میں سب سے بڑے امام ابو حنیفہ ہیں، اسی طرح صدیق اکبر صحابہ کی جماعت میں ابو بکر ہیں اور فاروق بین الحق و الباطل عمر ہیں ۔بڑے بہادر صحابی حضرت علی  ہیں اور انبیاء کی جماعت کے سب سے بڑے امام اللہ کے نبی محمد صلی الله علیہ وسلم ہیں، آج کے غیر مقلد ین کا نفرنسیں کرتے ہیں اور اس کا نام رکھتے ہیں امام اعظم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور کہتے ہیں کہ امام اعظم اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں اور یہ حنفی مسلک والے ابو حنیفہ کو امام اعظم کہتے ہیں، یہ حنفی شرک فی الرسالت کرتے ہیں، یہ مشرک ہیں، اب بیچارے ان پڑ ھ کے پاس دلیل نہیں ہوتی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ واقع میں یہ توصحیح بات کرتے ہیں، حنفیوں کی یہ بات تو بالکل غلط ہے اور اسی لیے وہ غیر مقلدین کے چنگل میں پھنستے ہیں ،یہ بات خوب سمجھ لیجیے کہ غیر مقلد دلیل کم دیتے ہیں اور ڈھکوسلے زیادہ مانگتے ہیں، دلیل اور ڈھکو سلہ سمجھانے کے لیے میں ایک مثال ذکر کرنا چاہتا ہوں ،وہ یہ کہ ایک بابا جی گھوڑا گاڑی چلا رہے تھے مین روڈ پر اور ان کے پیچھے F.S.Cکا ایک اسٹوڈنٹ بائیک پہ آرہا تھا اچانک باباجی نے گھوڑا گاڑی کو دائیں طرف موڑ دیا، دونوں ٹکرا گئے، اس نوجوان کو غصہ آگیا اور اس نے بابا جی سے کہا ۔اگر آپ کو گھوڑا گاڑی موڑنی تھی تو کم از کم اشارہ تو دیتے؟! باباجی کہنے لگے آپ کو یہ اتنا بڑا روڈ نظر نہیں آرہا تھا جو میرے پیچھے آگئے تو نوجوان خاموش ہو گیا؟کیوں کہ کالج میں اسٹوڈنٹ نے اصول پڑھے، ڈھکوسلے نہیں پڑھے اسی طرح آج کے ان پڑھ یا کالج کے اسٹوڈنٹ وغیرہ غیر مقلد ین کے ڈھکو سلوں کی وجہ سے دلیل نہ ہونے کی صورت میں خاموش ہو جاتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حنفیوں کے پاس دلائل نہیں ہیں حالاں کہ ایسا نہیں ہے ،بلکہ وہ ڈھوسلے مانگتے ہیں اورہمارے پاس ڈھکوسلے نہیں ،بلکہ دلائل ہیں، اگر غیر مقلد ین دلیل کی بنیاد پر بات کریں تو قریب ہے کہ سارے غیر مقلدین حنفی بن جائیں ،لیکن وہ ایسا کرتے نہیں ۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے : #
واذ أتتک مذمتی من ناقص
فھی الشھادة لی بأنی کامل
اگر کسی ناقص العقل کی جانب سے میری مذمت آپ کے پاس پہنچے تو یہی کافی ہے میری حقیقت جاننے کے لیے کہ میں کامل ہوں۔
منقول۔

26/12/2016

حیاتیوں اور مبتدعین سے چند سوالات.. علمی جواب دینے کی کوشش کیجئے گالی گلوچ سے اجتناب کیجئے..

سوال نمبر1:
مولوی سرفرازخان صفدر صاحب لکھتا ھے کہ موت کا
معنی:انقطاع الروح یعنی عن الجسد ھے اور یہ جمھور کا مسلک ہے. جو شخص موت کے اس معنی سے انکار کریں تو اس کا حکم کیا ھے ( حالانکہ قاسم نانوتوی رح عبدالشکور ترمذی اللہ یار چکڑالوی امین اوکاڑوی خالدمحمود موت کے اس معنئ متعارف کے منکر ھے)...

سوال نمبر 2 :
تمھارا جو عقیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات کے متعلق ہے یہ عقیدہ عقائد ضروریہ میں سے یا نہیں؟؟؟
اگر عقائد ضروریہ میں سے ہے تو ان حضرات کا کیا حکم ہے جو اسکو عقائد ضروریہ میں سے نہیں مانتے؟؟؟؟؟ .
جیسا کہ علامہ قاسم نانوتوی رح نے لطائف قاسمیہ کے صفحہ پانچ پر لکھا ھے کہ میں یہ عقیدہ عقائد ضروریہ میں سے نہیں سمجھتا....
سوال نمبر 3:
جو حضرات حیات برزخیہ کے منکر ہے اور حیات دنیویہ کی رٹ لگارہےہیں ان کیا حکم ہے؟؟ . (جبکے المھند شریف میں حیاۃدنیویۃ لا برزخیۃ لکھا ہے)...

سوال نمبر 4:
قبر میں مردوں کو حیات کاملہ حاصل ہے یا حیات غیر کاملہ؟؟ ( اگر کہیں کہ حیات کاملہ تو تسکین الصدور ص: 135 او ص:246 سے مخالفت لازم اتا ہے. )

سوال نمبر 5:
انبیاء کرام کے عبادات یعنی نماز قیام قعود حج وغیرہ اور قبروں سے نکلنا یہ سارے تصرفات اجسام عنصریہ کے ساتھ ہے یا اجسامثالیہ کے ساتھ؟؟؟ اگر یہ افعال اجسام عنصریہ کے ساتھ کرتے ہیں تو تسکین الصدور ص:246 سے مخالفت لازم آتا ہے. اورتعلق التدبیر والتصرف پر بھی کلام لازم آتا ہے جس سے صاحب تسکین الصدور منکر ہے جیساکہ صفحہ: 205 پر ہے..
اوراگر یہ افعال اجسام مثالیہ کے ساتھ کرتے ہیں تو تم اس کا انکار کیوں کرتے ہیں..... جیسا کہ تمھارے کتابوں مین لکھا ہے انبیاء کرام ان ابدان عنصریہ کے ساتھ نماز حج وغیرہ افعال ادا کرتے ہیں جیسا کہ حیات الانبیاء ص:33 ص:76 اعظم مردانی اور اسطرح رحمت کائنات ص:225 ) پر موجود ہے....

سوال 6:
قبر اور برزخ میں کونسی نسبت ہے؟؟؟ تمھارے ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے.. جیسا کہ حیات الانبیاء مردانی ص:55 پر موجود ہے...
جس سے یی بات ثابت ہوتی ہیکہ عذاب برزخ عذاب قبر نہیں ہے تو عذاب قبر سے انکار لازم آتا ہے.. اور یہ بات بعینہ عقیدہ غورشتوی ص :96 پر موجود ہے...
اگر عذاب قبر اور عذاب برزخ میں نسبت خصوص مطلق ہوجائے تو پھر صاحب تسکین الصدور کے اس قول کا کیا مطلب ہے: "ومما ینبغی ان یعلم ان عذاب القبر ھو عذاب البرزخ" وہ تو مساوات کا قائل ہے. تسکین الصدور صفحہ: 96

سوال نمبر7:
حیات الاموات یا حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمھارا حیات دنیویہ کا اطلاق کرنا اطلاق شرعی ہے یا اطلاق احترازی.
اگر اطلاق احترازی ہو تو اللہ سے ڈرو اور توبہ کرو...
اگر اطلاق شرعی ہو تو اطلاق شرعی کیلئے شرعی دلیل ضروری ہے وہ دلیل دیکھا دو. نوٹ . متاخرین کا قول حجت اور دلیل نہیں ہے. سماع الموتی: صفحہ: 176

سوال نمبر 8:
اگر کوئ شخص عام اموات اور شھداء کے ارواح
کا تعلق اس کے ابدان عنصریہ کے سے نہیں مانتا تو اس کا حکم کیا ہے؟؟ . آب حیات ص:40. 197 ص:198 جمال قاسمی ص:14 مشکلات القرآن لانورشاہ کشمیری رح تحت قولہ تعالی: کیف تکفرون بااللہ الایۃ....

سوال نمبر 9:
جو لوگ قبروں میں پڑے ہیں ان پر تم میت کا اطلاق کرتے ہیں یا نہں؟؟ اگر نہیں کرتے تو یہ نصوص قرانیہ کا انکار ہے . اگر کرتے ہیں تو آپ لوگ تو
حیات دنیویہ کے قائل ہیں .
تو موت اور حیات کے درمیان تقابل عدم والملکہ یا تقابل تضاد ہے تو دو متقابل چیزیں کیسے جمع ہوئی؟؟؟؟

سوال نمبر 10:
مبتدعین اور واھیاتیوں سے ایک سوال ہے کہ مولوی حمداللہ جان ڈاگئ اور کمپنی تمھارے اکابرین میں سے ہے کہ نہیں؟؟؟
اگر تمھارے اکابرین میں سے ہیں تو پھر پہلا مناظرہ رضاخانی عقائد پر ہوگا...
اگر تمھارے اکابر نہیں تو پھر ان کے ھم مسلک لوگوں کا حکم بیان کریں تاکہ تمھارے اور ان کے درمیان فرق ہو جائے.

تلك عشرة كاملة

مترجم عصمت علی رحمانی

سیدعبداللہ شاہ توحیدی الحنفی

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore
54000