15/08/2026
پاکستان کیوں بنا؟
سب سے پہلے یاد رکھنا ہوگا کہ تاریخ کبھی بھی "غیر جانبدار" نہیں ہوتی۔ ہر حکمران طبقہ اپنی ریاست کی بنیاد کو ایک مقدس، ناگزیر اور از خود ثابت سچائی کے طور پر پیش کرتا ہے، تاکہ عوام کے ذہن میں یہ سوال ہی پیدا نہ ہو کہ کوئی بھی ریاست دراصل کن طبقاتی مفادات، تضادات اور سمجھوتوں کی پیداوار ہے۔ پاکستان کی سرکاری تاریخ نویسی بھی اسی منطق پر کھڑی ہے۔ "نظریۂ پاکستان" کو ازل سے موجود ایک الٰہی و نظریاتی حقیقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، گویا برصغیر کے مسلمان صدیوں سے ایک الگ اسلامی ریاست کے خواب میں مبتلا تھے اور 1947ء میں محض وہ خواب حقیقت بنا۔ بطور مارکسسٹ یہ بیانیہ ہمارے لیے تو ناقابلِ قبول ہے، اس لیے نہیں کہ یہ "غلط جذبات" پر مبنی ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ تاریخی مادیت (Historical Materialism) کے بنیادی اصول کی نفی کرتا ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شعور مادی حالات کا نتیجہ ہوتا ہے، مادی حالات شعور کا نتیجہ نہیں۔ نظریات، قومی شناختیں اور مطالبے آسمان سے نہیں اترتے؛ وہ مخصوص تاریخی، طبقاتی اور نوآبادیاتی حالات میں تشکیل پاتے ہیں، بدلتے ہیں، اور بعض اوقات مکمل طور پر نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ہم تاریخ کو الٹے سرے سے پڑھنے سے انکار کرتے ہیں۔ سرکاری بیانیہ 1947ء سے شروع ہو کر پیچھے کی طرف دیکھتا ہے اور ہر واقعے کو پاکستان کی طرف بڑھتے ایک "لازمی قدم" کے طور پر ترتیب دیتا ہے۔ سرسید کی تعلیمی تحریک، مسلم لیگ کا قیام، جداگانہ انتخاب، اقبال کا خطبۂ الٰہ آباد، قراردادِ لاہور، اور بالآخر 1947ء سب کچھ ایک ہی سیدھی لکیر میں، گویا یہ سب ایک ازلی منصوبے کے مراحل تھے۔
یہ طریقہ کار تاریخی سائنس نہیں بلکہ سیاسی افسانہ سازی ہے۔ حقیقی تاریخ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی؛ وہ تضادات، رکاوٹوں، ناکام مذاکرات، بدلتے اتحادوں اور طاقت کے بدلتے توازن سے تشکیل پاتی ہے۔ ایک مارکسسٹ کے لیے یہ بات خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہمارا بنیادی طریقہ کار ہی تضاد (Contradiction) کا تجزیہ ہے۔ کسی بھی سماجی عمل کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس میں کون سے بنیادی تضاد (Principal Contradiction) اور ثانوی تضادات کارفرما تھے، اور یہ تضادات وقت کے ساتھ کس طرح اپنی نوعیت بدلتے رہے۔ اور اس سے بھی اہم یہ ہے کہ مختلف ادوار میں بنیادی تضاد کی نوعیت ایک جیسی نہیں رہتی۔ جو تضاد ایک مرحلے میں ثانوی ہو سکتا ہے، بدلتے ہوئے حالات میں بنیادی تضاد بن سکتا ہے۔ ہندوستان میں نوآبادیاتی عوام اور برطانوی سامراج کا تضاد، ہندو مسلم سیاسی نمائندگی کا تضاد، مختلف قومی علاقوں کے مفادات کا تضاد اور مختلف طبقاتی قوتوں کے درمیان تضاد ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ باہم جڑے ہوئے تھے۔
چنانچہ 1906ء کی مسلم لیگ کا مطالبہ، 1930ء کی اقبالی تجویز، اور 1940ء کی قراردادِ لاہور یہ تینوں مختلف تاریخی لمحات میں مختلف طبقاتی و سیاسی تضادات کا اظہار تھے، نہ کہ ایک ہی "نظریۂ پاکستان" کے تین مراحل۔ انہیں ایک ہی خط میں جوڑنا تاریخ کو مسخ کرنا ہے۔
سرکاری بیانیے کے مطابق پاکستان "دو قومی نظریے" کی منطقی تکمیل تھا۔ لیکن تاریخی ریکارڈ اس بیانیے کی تائید نہیں کرتا۔ 1906ء سے 1940ء تک مسلم لیگ کے مطالبات میں بار بار تبدیلی آتی رہی۔ مسلم اقلیت کے سیاسی حقوق کا تحفظ، جداگانہ انتخاب، صوبائی خودمختاری، وفاقی بندوبست، اور آخرکار الگ ریاست۔ یہ ایک سیاسی عمل تھا جو مسلسل مذاکرات کی ناکامی اور طاقت کے بدلتے توازن سے تشکیل پاتا رہا۔
"نظریۂ پاکستان" دراصل ایک نظریاتی سرمائے کے طور پر پاکستان بننے کے بعد تعمیر کیا گیا۔ ہر نئی ریاست کو، خاص طور پر ایک ایسی ریاست کو جو نوآبادیاتی تقسیم کے نتیجے میں وجود میں آئی ہو اور جس کے اندر لسانی، علاقائی اور طبقاتی تنوع بہت گہرا ہو، ایک متحد کرنے والے نظریے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستانی ریاست نے اسلام کو اس اتحاد کے آلے کے طور پر استعمال کیا، کیونکہ یہی وہ واحد مشترک علامت تھی جو مغربی پاکستان کے پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ اور مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کو بظاہر ایک قوم کے طور پر پیش کر سکتی تھی۔
"نظریۂ پاکستان" دراصل ایک نئی ریاست کے حکمران طبقے یعنی مسلم اشرافیہ، جاگیردار، سرمایہ دار اور فوجی بیوروکریسی کا ایک شعوری نظریاتی ہتھیار تھا، جس کا مقصد طبقاتی تضادات کو مذہبی و قومی وحدت کے پردے تلے چھپانا تھا۔ یہی وہ آلہ تھا جس نے بعد میں مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے حقیقی طبقاتی و قومی مطالبات کو "غداری" قرار دے کر 1971ء میں ایک نسل کشی کا جواز فراہم کیا۔
سرکاری تاریخ نویسی میں ایک عام تراکیب یہ ہے کہ "اقبال نے خواب دیکھا، جناح نے اسے حقیقت میں بدلا"۔ یہ بیانیہ تاریخ کو چند عظیم افراد کے ارادوں تک محدود کر دیتا ہے، گویا لاکھوں انسانوں کی زندگیاں، ان کے طبقاتی مفادات، ان کی زمینی جدوجہد سب غیر اہم ہیں اور صرف دو رہنماؤں کا تصور فیصلہ کن تھا۔ یہ "عظیم فرد کا نظریہ" (Great Man Theory) طبقاتی تاریخ نویسی کے بالکل برعکس ہے۔ تاریخ عوام بناتے ہیں ، مختلف طبقات، ان کی تنظیمیں، ان کی جدوجہد اور ان کے تضادات۔ عوام تاریخ کی مادی قوت ہیں۔ تاہم عوام ایک یکساں طبقہ نہیں؛ ان کے اندر بھی طبقاتی فرق اور مختلف مفادات موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے "عوام" کو ایک مجرد اور غیر طبقاتی تصور کے طور پر نہیں بلکہ مزدوروں، غریب کسانوں، درمیانے کسانوں، شہری محنت کشوں اور دیگر محکوم طبقات کے باہمی تعلقات کے اندر سمجھنا ضروری ہے۔ یاد رکھیں رہنما ان قوتوں کو بیان کرتے ہیں، رہنمائی دیتے ہیں، بعض اوقات موڑ دیتے ہیں، لیکن وہ تاریخ کے خالق نہیں ہوتے۔
اقبال کا 1930ء کا خطبہ ایک مخصوص سیاسی لمحے کی پیداوار تھا۔ گول میز کانفرنسوں کی ناکامی، مسلم اشرافیہ کے اندر صوبائی خودمختاری کے مطالبات، اور شمال مغربی ہندوستان کے زمیندار طبقے کے سیاسی خدشات۔ اسے موجودہ پاکستان کے ساتھ براہِ راست جوڑنا تاریخی بددیانتی ہے، کیونکہ خود اقبال نے جو تجویز پیش کی وہ ایک وفاق کے اندر ایک مسلم اکثریتی یونٹ کی تھی، نہ کہ ایک مکمل خودمختار الگ ریاست کی۔ اسی طرح جناح کو بھی واحد خالق کے طور پر پیش کرنا تاریخی عمل کو محدود کرتا ہے۔ جناح ایک اہم رہنما تھے، ایک ماہر مذاکرات کار، ایک سخت گیر سیاستدان لیکن وہ ان طبقاتی و علاقائی قوتوں کے نمائندے تھے جو انہیں اقتدار تک لے گئیں۔ پنجاب کی مسلم زمیندار اشرافیہ، بنگال کا مسلم متوسط طبقہ، سندھ کے وڈیرے، اور برطانوی سامراج کی وہ حکمتِ عملی جو تقسیم ہند کو اپنے اقتدار کی منتقلی کے لیے موزوں سمجھتی تھی۔ جناح کی سیاسی مہارت اس عمل کی رفتار اور شکل کو متاثر کر سکتی تھی، لیکن وہ خود اس عمل کی پیداوار تھے۔
مسلم لیگ 1906ء میں ایک محدود اشرافیہ کی جماعت کے طور پر قائم ہوئی، جس کی قیادت زیادہ تر جاگیرداروں، نوابوں اور بڑے زمینداروں کے ہاتھ میں تھی۔ اس کا ابتدائی مطالبہ برطانوی راج کے ساتھ وفاداری کے اظہار اور مسلم اشرافیہ کے سیاسی مفادات کے تحفظ تک محدود تھا۔ 1930ء کی دہائی تک مسلم لیگ ایک کمزور اور غیر مقبول جماعت تھی، خاص طور پر پنجاب اور بنگال جیسے مسلم اکثریتی صوبوں میں، جہاں علاقائی جماعتیں (یونینسٹ پارٹی، کرشک پرجا پارٹی) کہیں زیادہ مضبوط تھیں۔
یہ تبدیلی 1937ء کے انتخابات کے بعد کے سیاسی حالات میں آئی، جب کانگریس کی صوبائی حکومتوں نے مسلم اشرافیہ کے سیاسی خدشات کو مزید گہرا کیا۔ یہاں مارکسی تجزیے کے لیے کلیدی سوال یہ ہے کہ کن طبقات کو یہ خدشہ تھا اور کیوں؟ جواب یہ ہے۔ مسلم زمیندار اشرافیہ، جاگیردار طبقہ اور نوکر شاہی کا وہ حصہ جو نوآبادیاتی نظام کے تحت مراعات یافتہ حیثیت رکھتا تھا، اسے خدشہ تھا کہ ایک مرکزی طور پر مضبوط، ہندو اکثریتی پارلیمانی جمہوریت میں یہ مراعات ختم ہو جائیں گی۔ یہ خدشہ بنیادی طور پر طبقاتی تھا۔ زمین کی ملکیت، ریاستی ملازمتوں میں کوٹہ، اور مقامی سیاسی اقتدار کے تحفظ کا مسئلہ۔
اسی دوران مسلم متوسط طبقہ وکلاء، اساتذہ، سرکاری ملازمین، چھوٹے تاجر بھی اپنی الگ وجوہات کی بنا پر مسلم لیگ کی طرف مائل ہوا۔ ملازمتوں میں مسابقت، تعلیمی مواقع اور تجارتی مسابقت میں ہندو سرمایہ دار طبقے (خاص طور پر مارواڑی و گجراتی سرمائے) کے غلبے کا خوف۔ یوں مسلم لیگ کا مطالبہ دراصل مختلف طبقاتی مفادات کے ایک عارضی، غیر مستحکم اتحاد کی شکل تھا، نہ کہ ایک واحد نظریاتی تحریک۔
سرکاری بیانیہ اکثر تحریکِ پاکستان کو محض "ہندو مسلم دشمنی" کے فریم میں پیش کرتا ہے جو کہ تاریخی طور پر گمراہ کن ہے۔ حقیقی مسئلہ یہ تھا کہ ایک متحدہ ہندوستان میں، جہاں مغربی طرز کی پارلیمانی جمہوریت رائج ہونے جا رہی تھی، عددی اکثریت کی بنیاد پر اقتدار کس کے پاس ہوگا؟ چونکہ مسلمان مجموعی طور پر ایک عددی اقلیت تھے، اس لیے مسلم اشرافیہ کو خدشہ تھا کہ ایک مرکزی پارلیمانی نظام میں ان کی سیاسی نمائندگی محدود اور اقتدار سے دوری مستقل ہو جائے گی۔
یہ خدشہ نوآبادیاتی ریاست کے اسی انتخابی نظام کی پیداوار تھا جسے برطانوی حکومت نے دانستہ طور پر تشکیل دیا تھا۔ جداگانہ انتخاب کا نظام، جو 1909ء کے مارلے منٹو اصلاحات سے شروع ہوا، مذہبی شناخت کو سیاسی نمائندگی کی بنیاد بنا کر ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر گیا جس میں "ہندو" اور "مسلمان" مستقل سیاسی زمرے بن گئے، حالانکہ عملی زندگی میں طبقاتی، لسانی اور علاقائی شناختیں کہیں زیادہ اہم تھیں۔ یہ نوآبادیاتی حکمت عملی " پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو " نے مذہبی شناخت کو ایک سیاسی زمرے میں تبدیل کر دیا اور اس طرح ایسے تضادات کو جنم دیا جو بعد میں ناقابلِ حل معلوم ہونے لگے۔
مسلم اقلیت کا خوف حقیقی تھا، لیکن اس کا حل الگ ریاست نہیں تھا بلکہ ایک ایسا آئینی و سیاسی بندوبست ہو سکتا تھا جو طبقاتی و علاقائی خودمختاری کی ضمانت دیتا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان 1946ء کے کیبنٹ مشن پلان پر اتفاق کی ناکامی جس میں ایک ڈھیلا وفاق تجویز کیا گیا تھا جس میں صوبائی گروپ بندی کے ذریعے مسلم اکثریتی علاقوں کو وسیع خودمختاری مل سکتی تھی یہ ثابت کرتی ہے کہ تقسیم کوئی ناگزیر انجام نہیں تھا بلکہ ایک مخصوص سیاسی تعطل کا نتیجہ تھا۔
اگر تحریکِ پاکستان کو محض "اسلام بمقابلہ ہندو مت" کے فریم میں دیکھا جائے تو یہ سوال ہی غائب ہو جاتا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے کون سے طبقات متحرک تھے۔ ایک مارکسی تجزیے میں درج ذیل طبقاتی قوتیں نمایاں ہوتی ہیں۔
نوآبادیاتی ریاست۔ برطانوی سامراج، جس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہبی و علاقائی تقسیم کو استعمال کیا اور بالآخر اپنی حکمتِ عملی کے تحت اقتدار کی منتقلی کا وہ راستہ چنا جو اس کے سرمایہ دارانہ و اسٹریٹجک مفادات (خاص طور پر سرد جنگ کے آغاز پر جنوبی ایشیا میں سوویت اثر و رسوخ کے خلاف ایک قابلِ اعتماد اتحادی کی ضرورت) سے ہم آہنگ تھا۔
مسلم جاگیردار و زمیندار اشرافیہ۔ پنجاب، سندھ اور یوپی کے بڑے زمیندار، جن کا بنیادی مفاد زمین کی ملکیت اور دیہی سیاسی اقتدار کا تحفظ تھا۔ یہ طبقہ کسی بھی ایسے آئینی بندوبست سے خوفزدہ تھا جو زرعی اصلاحات یا زمینی ملکیت میں تبدیلی کا امکان رکھتا ہو۔
مسلم سرمایہ دار طبقہ۔ خاص طور پر بمبئی اور کلکتہ کے مسلم تاجر و صنعت کار، جنہیں ہندو سرمائے کے غلبے والی منڈی میں اپنی الگ منڈی اور تحفظاتی پالیسیوں کی ضرورت تھی۔ محمد علی جناح خود ایک کامیاب وکیل اور اس طبقے کے قریبی نمائندے تھے۔
مسلم متوسط طبقہ ۔ سرکاری ملازمین، وکلاء، اساتذہ، جو تعلیمی و ملازمتی مسابقت میں ہندو متوسط طبقے کے مقابلے میں محفوظ مستقبل چاہتے تھے۔
دیہی مسلم عوام۔ کسان اور محنت کش طبقات، جنہیں مسلم لیگ کی قیادت نے مذہبی جذبات کے ذریعے متحرک کیا، لیکن جن کے حقیقی طبقاتی مطالبات زمین کی تقسیم، قرض سے نجات، مزدوری کے حالات میں بہتری پاکستان بننے کے بعد بھی حل طلب رہے، بلکہ اکثر بدتر ہوئے کیونکہ وہی جاگیردار طبقہ نئی ریاست کا حکمران بن گیا۔
پاکستان کا مطالبہ مذہبی جذبات کے ذریعے متحرک کیا گیا، لیکن اس کے پیچھے بنیادی محرک طبقاتی تھا۔ مذہب نے ایک متحرک کرنے والی نظریاتی زبان فراہم کی، لیکن اصل مفادات زمین، سرمائے اور ریاستی اقتدار کے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد وہی جاگیردار و سرمایہ دار طبقہ نئی ریاست پر قابض ہو گیا، اور دیہی و شہری محنت کش طبقات کے حقیقی مسائل حل طلب ہی رہے۔
برصغیر کی سیاست کو صرف شہری مسلم اشرافیہ اور مسلم لیگ کی سیاست سے سمجھنا کافی نہیں۔ ہندوستان کی وسیع اکثریت دیہی کسان آبادی پر مشتمل تھی۔ اس لیے یہ سوال بنیادی ہے کہ مسلم عوام کے بڑے حصے کے لیے "پاکستان" کا مطلب کیا تھا؟ کیا یہ زمین، قرض، محصول، جاگیرداری اور معاشی استحصال سے نجات کا سوال تھا، یا مذہبی و سیاسی شناخت کے ذریعے پیش کیا جانے والا ایک وسیع تر قومی مطالبہ؟
مسلم لیگ نے مختلف علاقوں میں کسانوں کو ایک مذہبی و قومی سیاسی زبان کے ذریعے متحرک کیا، لیکن اس نے زرعی استحصال کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والا انقلابی پروگرام پیش نہیں کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسلم لیگ کی قیادت اور دیہی محنت کش عوام کے طبقاتی مفادات کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔
مسلم پنجاب کی سیاست کو سمجھے بغیر تحریکِ پاکستان کو سمجھنا ناممکن ہے۔ 1937ء تک پنجاب میں مسلم لیگ تقریباً غیر موجود تھی۔ صوبے پر یونینسٹ پارٹی کا غلبہ تھا، جو ایک بین المذاہب زمیندار اتحاد تھا اور جس کی قیادت سکندر حیات جیسے مسلم جاگیردار کرتے تھے۔ یہ جماعت مذہبی تقسیم کی بجائے طبقاتی اتحاد (زمیندار بمقابلہ شہری تاجر و پیشہ ور طبقہ) پر کھڑی تھی۔
پنجاب کی مسلم لیگ کی طرف تبدیلی اس وقت آئی جب یونینسٹ پارٹی کے اندر اندرونی تضادات (سکندر حیات کی وفات، خضر حیات ٹوانہ کی کمزور قیادت) اور دوسری طرف عالمی جنگ کے بعد کے سیاسی حالات نے پنجاب کی زمیندار اشرافیہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنی طبقاتی مراعات کے تحفظ کے لیے ایک زیادہ مضبوط مرکزی پلیٹ فارم تلاش کرے۔ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی دراصل اسی جاگیردار طبقے کی مسلم لیگ میں منتقلی کا نتیجہ تھی، نہ کہ عوامی سطح پر کسی گہری نظریاتی تبدیلی کا۔ پاکستان کا قیام، خاص طور پر پنجاب کی سطح پر، بنیادی طور پر اسی جاگیردار طبقے کی اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی تھا جو انگریز دور میں بھی اقتدار میں تھا اور جو آزادی کے بعد بھی چاہے وہ متحدہ ہندوستان ہوتا یا الگ پاکستان اقتدار میں رہنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد بھی زرعی اصلاحات کبھی مکمل نافذ نہ ہو سکیں اور پنجاب کا جاگیردارانہ ڈھانچہ آج تک قائم ہے۔
23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور میں لفظ "پاکستان" کہیں موجود نہیں تھا۔ قرارداد میں مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے "خودمختار ریاستوں" (جمع کی صورت میں) کی بات کی گئی تھی، ایک واحد مرکزی ریاست کی نہیں۔ یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قرارداد ابھی تک ایک وفاقی یا کنفیڈریشن ماڈل کے قریب تھی، نہ کہ آج کے مرکزیت پسند پاکستان کے تصور کے۔
بعد کے برسوں میں مسلم لیگ کی قیادت نے، خاص طور پر جناح نے، اسی مبہم قرارداد کو ایک واحد مرکزی مسلم ریاست کے مطالبے میں تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی سیاسی مذاکرات کی حکمتِ عملی کے تحت ہوئی ، ایک مبہم مطالبہ برطانوی حکومت اور کانگریس دونوں کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ لچک فراہم کرتا تھا۔ اسے بعد میں "قرارداد پاکستان" کا نام دینا اور اسے 1947ء کے پاکستان سے براہ راست جوڑنا ایک سیاسی تعمیر ہے، تاریخی حقیقت نہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے جو براہِ راست چھوٹی قومیتوں کے مسئلے سے جڑا ہے۔ قراردادِ لاہور میں "ریاستوں" کی جمع صورت اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ مختلف مسلم اکثریتی علاقوں بنگال، پنجاب، سندھ، بلوچستان، سرحد کی الگ الگ شناخت اور ممکنہ خودمختاری تسلیم کی جا رہی تھی۔ لیکن جب یہ مبہم تصور ایک واحد مرکزی ریاست میں تبدیل ہوا، تو دراصل ان علاقائی قومیتوں کے خودمختاری کے حق کو ابتدا ہی میں دبا دیا گیا۔ یہی وہ بنیادی دھوکہ تھا جس نے بعد میں بنگال کی علیحدگی اور بلوچ و سندھی و پختون قومی تحریکوں کو جنم دیا۔
ایک مارکسی تجزیہ صرف مسلم لیگ کی طبقاتی نوعیت پر تنقید نہیں کرتا بلکہ کانگریس کو بھی اسی معیار پر پرکھتا ہے۔ کانگریس، اپنے سیکولر و قوم پرست بیانیے کے باوجود، بنیادی طور پر ہندو سرمایہ دار طبقے (بڑے صنعت کار جیسے برلا، ٹاٹا) اور شہری ہندو متوسط طبقے کے سیاسی مفادات کی نمائندہ جماعت تھی۔ اس کا "متحدہ ہندوستان" کا تصور بھی ایک مضبوط مرکزی ریاست پر مبنی تھا جو بنیادی طور پر اسی سرمایہ دار طبقے کے معاشی مفادات ایک بڑی مربوط قومی منڈی، مرکزی ٹیکس نظام، مرکزی صنعتی پالیسی کی خدمت کرتا۔ کانگریس کی صوبائی خودمختاری کے حوالے سے ہچکچاہٹ، خاص طور پر کیبنٹ مشن پلان کی گروپ بندی کی شق کو مسترد کرنا، اسی مرکزیت پسند طبقاتی مفاد کا اظہار تھا۔ کانگریس مسلم اکثریتی صوبوں کو وسیع خودمختاری دینے سے گریزاں تھی کیونکہ یہ اس کے مرکزی سرمایہ دارانہ ترقیاتی منصوبے کے راستے میں رکاوٹ بنتی۔ چنانچہ کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان تضاد محض "سیکولر بمقابلہ مذہبی" نہیں تھا بلکہ دو مختلف حکمران طبقاتی گروہوں ہندو صنعتی سرمایہ اور مسلم زمیندار و تجارتی اشرافیہ کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا تنازعہ بھی تھا۔
اس تناظر میں کیبنٹ مشن پلان کی ناکامی کوئی حادثہ نہیں تھی بلکہ دونوں بڑی جماعتوں کی حکمران طبقاتی قیادت کی اپنی اپنی مرکزیت پسند یا علیحدگی پسند حکمت عملیوں کا منطقی نتیجہ تھی۔
مسلم لیگ بمقابلہ کانگریس کی دوئی میں تحریکِ پاکستان کو محدود کرنا ایک بنیادی غلطی ہے۔ اصل فریم نوآبادیاتی ریاست کا ڈھانچہ ہے۔ برطانوی راج نے ایک صدی سے زائد عرصے تک ہندوستان کو ایک ایسے انتظامی و انتخابی ڈھانچے میں ڈھالا جس میں مذہبی شناخت کو سیاسی نمائندگی کی بنیاد بنایا گیا ، جداگانہ انتخاب، مردم شماری میں مذہبی زمرہ بندی، اور مقامی حکومتوں میں مذہبی کوٹے۔ یہ سب دانستہ حکمتِ عملی تھی جس کا مقصد ہندوستانی عوام کی متحدہ طبقاتی جدوجہد کو روکنا اور نوآبادیاتی اقتدار کو طول دینا تھا۔
جب دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کے لیے ہندوستان پر راست حکمرانی ناقابلِ عمل ہو گئی، برطانوی سامراج کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اقتدار کی منتقلی ایسے مقامی حکمران طبقات کے ہاتھ میں ہو جو نوآبادیاتی معاشی و ریاستی ڈھانچے کے بنیادی تسلسل کو برقرار رکھ سکیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ابھرتی ہوئی سرد جنگ نے بعد کے مرحلے میں اس نئی ریاست کی خارجہ پالیسی اور سامراجی وابستگیوں کو مزید متعین کیا۔ تقسیمِ ہند، اس تناظر میں، محض مذہبی مطالبے کا نتیجہ نہیں بلکہ برطانوی سامراج کی اس حکمتِ عملی کا حصہ بھی تھی جس نے کمزور، باہم متصادم ریاستیں چھوڑنا زیادہ محفوظ سمجھا بہ نسبت ایک مضبوط متحدہ ہندوستان کے جو عالمی سطح پر ایک آزاد قوت کے طور پر ابھر سکتا تھا۔
یہ سمجھوتہ اتنا نازک تھا کہ اسے قائم رکھنے کے لیے ایک مستقل نظریاتی جھوٹ "نظریۂ پاکستان" کی ضرورت پڑی، جو مختلف قومیتوں، طبقات اور علاقوں کے درمیان حقیقی تضادات کو چھپاتا رہے۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ جھوٹ ہمیشہ کے لیے کارگر نہیں رہ سکتا۔ 1971ء میں بنگالی قومیت کے حقیقی طبقاتی و لسانی تضاد نے اس نظریاتی پردے کو چاک کر دیا۔
پاکستان کا قیام از خود ایک کثیر القومی ریاست کی تشکیل تھا، جس میں پنجابی مرکزیت نے دیگر قومیتوں بنگالی، سندھی، بلوچ، پختون، سرائیکی، ہزارہ وغیرہ پر غلبہ حاصل کر لیا۔
جب مسلم لیگ نے "ایک قوم، ایک مذہب، ایک زبان" کا بیانیہ اپنایا، تو اس نے پاکستان کے اندر موجود قومی تنوع کو یکسر مسترد کر دیا۔ اردو کو قومی زبان قرار دینا، جبکہ بنگالی مشرقی پاکستان کی اکثریت کی مادری زبان تھی، اسی مرکزیت پسند نظریاتی پروجیکٹ کا حصہ تھا۔ یہی وہ عمل تھا جس نے 1952ء کی زبان تحریک، اور بالآخر 1971ء کی جنگِ آزادی کو جنم دیا یہ ثابت کرتے ہوئے کہ "دو قومی نظریہ" خود اپنے اندر ایک اور، کہیں زیادہ حقیقی، قومی تضاد چھپائے ہوئے تھا۔ بنگالی قومیت بمقابلہ مغربی پاکستانی (بنیادی طور پر پنجابی) مرکزیت۔
یہی عمل مغربی پاکستان کے اندر بھی جاری رہا۔ بلوچستان، جو 1948ء میں ریاستی طاقت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیا گیا، آج تک ایک مسلح قومی مزاحمتی تحریک کا مرکز ہے۔ سندھ میں سندھی قوم پرستی، پختونخوا میں پختون قومی شناخت کا سوال، اور سرائیکی علاقوں میں الگ صوبے کا مطالبہ یہ سب اسی بنیادی تضاد کے مظاہر ہیں۔ ایک مرکزیت پسند، پنجابی و مہاجر اشرافیہ کے زیرِ تسلط ریاستی ڈھانچہ بمقابلہ مختلف قومیتوں کا حقِ خودارادیت۔
لینن اور ماؤ دونوں نے واضح کیا کہ ہر قوم، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، کو حقِ خودارادیت حاصل ہے ۔ یہاں تک کہ علیحدگی کا حق بھی کیونکہ کسی بھی قومی جبر کو برداشت کرتے ہوئے حقیقی طبقاتی اتحاد اور انقلابی جدوجہد ممکن نہیں۔ پاکستانی ریاست نے، اپنے قیام کے آغاز سے ہی، اپنی مختلف قومیتوں پر پنجابی-مہاجر اشرافیہ کی مرکزیت مسلط کی فوجی، بیوروکریٹک اور معاشی طور پر اور اس عمل میں مذہب کو ایک ایسے نظریاتی پردے کے طور پر استعمال کیا جو اس قومی جبر کو چھپا سکے۔
اس تناظر میں بلوچستان کی صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ بلوچ عوام کی زمین سے معدنی وسائل کا استحصال، فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیاں، اور سیاسی حقِ خودارادیت سے انکار یہ سب اسی نوآبادیاتی طرز کے تعلق کا تسلسل ہیں جو نوآبادیاتی برطانوی راج نے قائم کیا تھا اور جسے پاکستانی ریاست نے اپنی داخلی نوآبادیات کے طور پر جاری رکھا۔ سندھ میں پانی کی تقسیم کا مسئلہ، پختونخوا میں وسائل کی تقسیم اور شناخت کا سوال، اور سرائیکی خطے کی محرومی یہ سب اسی مرکزیت پسند ریاستی ڈھانچے کے اظہار ہیں۔
کچھ بنیادی نقاط ہمیں زیر غور کرنے کی ضرورت ہے،
پہلا۔ پاکستان کی سرکاری تاریخ نویسی اور "نظریۂ پاکستان" کے بیانیے کو بلا تنقید قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسے حکمران طبقے کے نظریاتی ہتھیار کے طور پر سمجھنا ضروری ہے، جس کا مقصد طبقاتی و قومی تضادات پر پردہ ڈالنا ہے۔ تاریخی حقیقت کو سمجھنا کسی بھی سنجیدہ انقلابی حکمتِ عملی کی بنیادی شرط ہے۔
دوسرا۔ پاکستان کے وجود میں آنے کی حمایت یا مخالفت کا سوال آج غیر متعلقہ ہے۔ 1947ء اب ماضی ہے اور اسے واپس نہیں لے جایا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی ریاست کے اندر طبقاتی و قومی جبر کے خلاف کیا موقف اپنایا جائے۔
تیسرا۔ چھوٹی قومیتوں بلوچ، سندھی، پختون، سرائیکی،میواتی، ہزارہ، اور دیگر کے حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کی جانی چاہیے۔ اس میں وسائل پر ان کی ملکیت کا حق، اپنی زبان و ثقافت کے تحفظ کا حق، اور اگر وہ چاہیں تو سیاسی علیحدگی کا حق بھی شامل ہے۔ یہ کوئی "ریاست کے خلاف سازش" نہیں بلکہ ایک بنیادی جمہوری و انقلابی اصول ہے۔ کوئی بھی طبقاتی جدوجہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک قومی جبر کا خاتمہ نہ ہو۔
چوتھا۔ پنجابی-مہاجر اشرافیہ کی فوجی و بیوروکریٹک بالادستی، جو ریاستی وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی اقتدار میں مسلسل عدم توازن پیدا کرتی ہے، کو براہِ راست چیلنج کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ساختیاتی طبقاتی و قومی جبر کا نظام ہے۔
پانچواں۔ مذہبی نظریاتی بیانیے کو، جو ریاست طبقاتی و قومی تضادات چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے، بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ اس کا مطلب مذہب کی توہین نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ ریاستی سطح پر مذہب کو کس طرح ایک سیاسی آلے کے طور پر برتا جاتا ہے۔
چھٹا۔ حقیقی متبادل ایک ایسا انقلابی پروگرام ہے جو مختلف قومیتوں کے محنت کش طبقات پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون، بنگالی (یعنی وہ بنگالی جو تاریخی طور پر اسی خطے کا حصہ رہے) کو ایک رضاکارانہ، برابری پر مبنی وفاق یا کنفیڈریشن میں متحد کرے، جہاں ہر قومیت کو اپنی زبان، ثقافت، وسائل اور سیاسی خودمختاری کا مکمل حق حاصل ہو، اور جہاں جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ طبقاتی جبر کا خاتمہ ہو۔ یہ اتحاد اوپر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ 1947ء اور 1971ء دونوں نے ثابت کیا بلکہ نیچے سے، برابری اور رضامندی کی بنیاد پر، تعمیر ہونا چاہیے۔
ایک مارکسی مفکر کے لیے تاریخ کو سمجھنے کا مقصد حال اور مستقبل کی جدوجہد کے لیے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ اسی بنیاد پر آج کی پوزیشن واضح ہے۔ طبقاتی جبر اور قومی جبر دونوں کے خلاف بیک وقت جدوجہد، اور ایک ایسی سیاسی و سماجی تبدیلی کی جانب پیش رفت جو مذہبی نظریاتی پردوں کے بجائے حقیقی طبقاتی و قومی مساوات پر مبنی ہو۔
اس لیے پاکستان کے قیام کو نہ تو محض مذہبی معجزہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ صرف حکمران طبقات کی سازش۔ یہ نوآبادیاتی نظام کے بحران، قومی سوال، طبقاتی تضادات، مسلم سیاسی عدم تحفظ، علاقائی مفادات اور مختلف طبقاتی قوتوں کے باہمی اتحاد و تصادم سے پیدا ہونے والا تاریخی عمل تھا۔
لیکن 1947ء کی قومی آزادی نے سماجی انقلاب مکمل نہیں کیا۔ نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچہ، جاگیردارانہ تعلقات اور سامراجی انحصار کے بنیادی عناصر برقرار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا قیام ایک قومی ریاست کے قیام کے ساتھ ساتھ نئے طبقاتی اور قومی تضادات کے آغاز کا بھی نقطۂ آغاز بنا۔
از۔ احمد خاں ندیم
سب سے پہلے یاد رکھنا ہوگا کہ تاریخ کبھی بھی “غیر جانبدار” نہیں ہوتی۔ ہر حکمران طبقہ اپنی ریاست کی بنیاد کو ایک مقدس، ناگزیر اور از خود ثابت سچائی کے طور پر پیش کرتا ہ....