محبت صبح کا ستارہ ہے

محبت صبح کا ستارہ ہے

Share

یہ پیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس ،افسانے، انشاعئیے ا

یہ پیج ان تمام لکھاریوں کے نام جن کی تصانیف ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ ۔ جن کے لفظ اتنی تاثیر رکھتے ہیں کہ زندگیاں بدل دیں ۔ ۔
ہماری گزارش ہے کہ آ پ سب بھی اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں اور اپنے پسندیدہ اقتباس شئیر کریں !!!

28/03/2026

رویئے بدلیں۔
اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے۔ خود پر کنٹرول کیجئے۔ لہجے کی کاٹ اور رویے مار دیتے ہیں۔ کبھی کبھی مرنے کے لیے زہر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ حساس انسانوں کو تو روئیے ہی مار دیتے ہیں۔ اور یہ موت بڑی اذیت ناک موت ہوتی ہے۔

24/03/2026

‏کہتے ہیں کہ ایک دن ایک چور کو راستے میں ایک بٹوا ملا جس میں بہت سے پیسے تھے ۔

اس بٹوے پر کوئی دعا لکھی ھوئی تھی اور ایک خانے
میں بٹوے کے مالک کا نام اور پتہ بھی رکھا ھوا تھا ۔ چور نے وہ بٹوا ثابت اُس کے مالک کے حوالے کر دیا۔

اس شخص نے چور سے پوچھا کہ تم آرام سے یہ پیسے رکھ سکتے تھے واپس کیسے کر دیئے ؟
چور نے جواب دیا؛ " آپ نے بٹوے پر جو دعا لکھوائی ھے اس عقیدے سے لکھوائی ھو گی کہ اگر یہ کھو جائے تو اس دعا کی برکت سے آپ کو واپس مل جائے ۔ میں چور ضرور هوں لیکن صرف مال و دولت کا۔ کسی کا عقیدہ چوری نہیں کر سکتا ۔ اگر میں آپ کا بٹوا واپس نہ کرتا اور آپ کا اعتقاد اس دعا پر کمزور پڑ جاتا تو تب میں آپ کے ایمان کا چور ھوتا اور یہ مال و دولت کی چوری سے ہزار گنا بڑا گناہ ہے ۔
حکایات فارسی

01/03/2026

چورانوے سال کے ایک بزرگ کے جھنجھوڑ دینے والے اعترافی بیان پر مبنی، جو دنیا سے جانے والا تھا، زندگی سے رخصت ہوتے وقت لکھی گئی چند باتیں…

لوگ تمہیں بتاتے ہیں کہ زندگی بہت لمبی ہوتی ہے، آرام سے جیو، ابھی تو بہت وقت پڑا ہے۔ میں چورانوے برس کا ہو کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ بات سچ نہیں۔ زندگی لمبی نہیں ہوتی، یہ تو پلک جھپکنے جتنی مختصر ہے۔ بس اب جب کہ میں اس دنیا سے جانے والا ہوں، دل چاہتا ہے چند سچائیاں تمہارے نام کر جاؤں۔ میں نے دولت بھی کمائی، عزت بھی دیکھی، نام بھی بنایا، مگر آج رات یہ سب میرے کمرے کے کونے میں پڑی گرد جیسا لگ رہا ہے۔ ہاتھ بڑھاؤں تو کچھ بھی ساتھ نہیں جائے گا۔ ساری عمر جن چیزوں کو سینے سے لگا کر رکھا، وہ آج میرے ہاتھوں سے پھسلتی ہوئی ریت کی طرح محسوس ہو رہی ہیں۔

میں چاہتا ہوں جاتے جاتے اپنا دل ہلکا کر جاؤں۔ ستر برس سے کچھ باتیں اندر دبی رہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم بھی کسی دن اسی طرح بستر پر لیٹے ہوئے اپنی گزری ہوئی زندگی کو یاد کرو اور ہر یاد کے ساتھ دل میں ایک چبھن محسوس کرو۔

سب سے پہلی سچائی یہ ہے کہ انتظار گاہ میں جینا چھوڑ دو۔ میری زندگی کا بڑا حصہ انتظار میں گزر گیا۔ اسکول میں تھا تو سوچتا تھا ڈگری مل جائے، تب زندگی شروع ہوگی۔ نوکری ملی تو ہفتے کے اختتام کا انتظار۔ شادی ہوئی تو بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار۔ بچے بڑے ہوئے تو ریٹائرمنٹ کا انتظار۔ میں نے ہر موجود لمحے کو محض ایک مرحلہ سمجھا، جیسے اصل زندگی کہیں آگے میرا انتظار کر رہی ہو۔ میں ہمیشہ دور افق کو دیکھتا رہا، کبھی اپنے قدموں کے نیچے موجود زمین کو محسوس نہیں کیا۔ آج سمجھ آیا ہے کہ کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔ سفر ہی زندگی تھا، اور میں نے سفر کو جینے کے بجائے صرف گزار دیا۔

مجھے وہ بارش والا منگل آج بھی یاد ہے۔ میں تیس برس کا تھا، دفتر میں بیٹھا گھڑی کی سوئیوں کو دیکھ رہا تھا۔ باہر بارش برس رہی تھی اور اندر میرا دل بے زار تھا۔ میں چاہتا تھا وقت تیزی سے گزر جائے۔ میں اس دن سے نجات چاہتا تھا۔ آج اگر کوئی مجھ سے کہے تو میں اپنی ساری کمائی دے کر وہی ایک دن واپس لے لوں۔ وہ کرسی، وہ خاموشی، شیشے پر پڑتی بارش کی آواز، اور میرے قدموں میں موجود طاقت۔ تم بھی شاید یہی کر رہے ہو۔ تم کہتے ہو، جب ترقی ملے گی تو خوش ہوں گے، جب پیسے زیادہ ہوں گے تو سکون آئے گا، جب کوئی خاص انسان ملے گا تو زندگی مکمل ہو جائے گی۔ تم آج کو کل کے بدلے بیچ رہے ہو، اور وہ کل شاید کبھی آئے ہی نہ۔ اپنے دنوں کو یوں ضائع مت کرو، ایک دن تمہیں احساس ہوگا کہ وہی عام سے دن سب سے قیمتی تھے۔

دوسری سچائی یہ ہے کہ سونا کھایا نہیں جا سکتا۔ میں نے پچاس برس ایک سلطنت بنانے میں لگا دیے۔ لمبے لمبے گھنٹے کام کیا، بچوں کی سالگرہیں مس کیں، تہواروں پر بھی ذہن دفتر میں اٹکا رہا۔ بیوی کی آنکھوں میں انتظار دیکھتا اور خود کو تسلی دیتا کہ میں یہ سب ان کے لیے کر رہا ہوں۔ میں نے بڑا گھر لیا، قیمتی گاڑی خریدی، مہنگے کپڑے پہنے۔ مجھے لگتا تھا یہ سب میری حیثیت بڑھا رہے ہیں، مجھے دوسروں کی نظر میں بڑا کر رہے ہیں۔ آج جب رخصت ہونے کا وقت قریب ہے تو سمجھ آ رہا ہے کہ میں جہاں جا رہا ہوں وہاں یہ سب کچھ ساتھ نہیں جائے گا۔ وہ گھر کسی اور کا ہو جائے گا، وہ دیواریں کسی اور کے ذوق کے مطابق رنگی جائیں گی، وہ گاڑی کسی کباڑ خانے میں کھڑی ہوگی، اور وہ پیسہ صرف ایک عدد بن کر رہ جائے گا۔ آج رات وہ میرا ہاتھ نہیں تھام سکتا، نہ مجھے یہ کہہ سکتا ہے کہ ڈرو نہیں۔

مجھے ایک دن یاد ہے، میری بیٹی نے مجھے باغ میں بلایا۔ اس نے ایک ننھا سا کیڑا ڈھونڈا تھا اور چاہتی تھی میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھوں۔ اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔ میں نے کہا، ابھی نہیں، میں مصروف ہوں۔ میں پیسے کما رہا ہوں۔ وہ خاموشی سے پلٹ گئی۔ اس کی آنکھوں کی اداسی آج بھی میرے دل کو جلا دیتی ہے۔ میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ ایک قیمتی لمحہ چند کاغذی نوٹوں کے بدلے کھو دیا۔ اگر تم صرف تنخواہ کے لیے اپنی جان گھلا رہے ہو تو ذرا رک جاؤ۔ تمہارا ادارہ تمہیں جلد بدل دے گا، مگر تمہارا گھر تمہیں کبھی نہیں بھولے گا۔ یادوں کی دولت جمع کرو، سامان کی نہیں۔

تیسری سچائی یہ ہے کہ دل کے گرد بنائی ہوئی دیواریں گرا دو۔ میں جوان تھا تو اپنے آپ کو مضبوط سمجھتا تھا۔ میں پہلے معافی نہیں مانگتا تھا۔ میں دل کی بات زبان پر لانے سے کتراتا تھا۔ مجھے لگتا تھا مرد اگر نرم پڑ جائے تو لوگ اسے کمزور سمجھ لیں گے۔ میں محبت کا اظہار کم ہی کرتا تھا، شاید اس خوف سے کہ کہیں میری سختی کا بھرم نہ ٹوٹ جائے۔

میرے ایک بھائی تھے۔ ہم بچپن سے ساتھ بڑے ہوئے۔ ایک ہی صحن میں کھیلے، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے گواہ رہے۔ مگر ایک دن ہم ایک معمولی سی بات پر ناراض ہو گئے۔ آج سچ کہوں تو مجھے یاد بھی نہیں وہ بات کیا تھی۔ شاید پیسے کا معاملہ تھا، شاید کسی بحث کا۔ مگر اُس وقت مجھے یقین تھا کہ میں صحیح ہوں۔ میں نے دل میں طے کر لیا کہ وہی پہلے آئے گا۔ دن گزرے، پھر مہینے، پھر سال۔ ہر تہوار پر دل چاہتا تھا کہ فون اٹھا لوں، مگر انا بیچ میں آ کھڑی ہوتی۔ میں خود کو سمجھاتا رہا کہ ابھی وقت ہے، کبھی بھی بات ہو جائے گی۔

پھر ایک دن فون آیا، مگر اس بار وہ نہیں تھے۔ خبر ملی کہ اچانک فالج ہوا اور وہ دنیا سے چلے گئے۔ میں ان کے سرد چہرے کے سامنے کھڑا تھا اور مجھے اپنی ساری صحیح ہونے کی ضد بے معنی لگ رہی تھی۔ میں صحیح تھا، مگر تنہا رہ گیا۔ دس سال کی ہنسی، دس سال کی باتیں، دس سال کے تہوار، سب انا کے قدموں میں رکھ دیے تھے۔ اُس دن مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ کچھ رشتے دلیل سے نہیں، دل سے بچائے جاتے ہیں۔
اگر کسی سے محبت ہے تو آج کہہ دو۔ اگر غلط ہو تو آج معافی مانگ لو۔ کل کا کوئی وعدہ نہیں۔

چوتھی سچائی یہ ہے کہ خوف ایک جھوٹا سایہ ہے۔ میں بائیس برس کا تھا اور لکھاری بننا چاہتا تھا۔ میرے پاس خیالات سے بھری ایک نوٹ بک تھی، خواب تھے، کہانیاں تھیں۔ مگر میں نے کبھی کتاب نہیں لکھی۔ مجھے ڈر تھا لوگ ہنسیں گے، ناکام ہو جاؤں گا، مجھے سنجیدہ نہیں لیں گے۔ میں نے محفوظ راستہ چن لیا اور ساری عمر دوسروں کے خواب پورے کرتا رہا۔ آج میرے ہاتھ کانپتے ہیں، اور سچ یہ ہے کہ اب میں چاہوں بھی تو قلم ٹھیک سے اٹھا نہیں سکتا۔ آنکھیں دھندلا چکی ہیں۔ وہ کتاب اب بھی میرے اندر ہے، اور شاید میرے ساتھ ہی خاموشی میں دفن ہو جائے گی۔ زندگی کا اصل دکھ موت نہیں، وہ خواب ہیں جو ہم جیتے جی مار دیتے ہیں۔

قبرستان شاید دنیا کی سب سے امیر جگہ ہے، کیونکہ وہاں وہ سب کچھ دفن ہے جو کبھی دنیا کے سامنے آ ہی نہ سکا۔ نہ لکھے گئے ناول، نہ گائے گئے گیت، نہ شروع کیے گئے خواب۔ تم اس خاموش خزانے میں اضافہ مت کرنا۔ دل میں جو خواہش ہے اسے ٹالتے مت رہو۔ قدم بڑھاؤ۔ اگر ٹھوکر بھی لگ جائے تو کم از کم یہ تو کہہ سکو گے کہ میں نے کوشش کی تھی۔ ساری عمر کنارے کھڑے رہ کر سوچتے رہنے سے بہتر ہے کہ ایک بار دریا میں اتر کر دیکھ لیا جائے۔ “کاش” سب سے تکلیف دہ لفظ ہے۔ یہ بڑھاپے میں رات کے سناٹے میں آ کر انسان کو جگا دیتا ہے۔

میری گھڑی کی آواز اب زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔ میں نے فکر، انا اور خوف کے پتھر زمین پر رکھ دیے ہیں۔ میں اب صرف ایک بے بس سا انسان ہوں، ویسا ہی جیسا پیدائش کے دن تھا، خالی ہاتھ۔ تم ابھی زندہ ہو۔ تمہارے پاس ایک اور دن ہے۔ اسے ضائع مت کرنا۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھو، انگلیاں ہلاؤ، سانس کو محسوس کرو۔ یہ سب معجزہ ہے۔ چورانوے برس کی عمر کا انتظار مت کرنا یہ سمجھنے کے لیے کہ زندگی کتنی خوبصورت ہے۔ ابھی محسوس کر لو۔

میں اب آنکھیں بند کرنے کو ہوں۔ امید ہے میری یہ باتیں تمہارے دل میں ایک بیج کی طرح جگہ بنا لیں گی۔ میرے لیے نہیں، سچ کے لیے جیو۔ دل سے جیو۔ پورے وجود کے ساتھ اپنے لئے جیو۔ اپنے پیاروں کے لئے جیو۔ ابھی جیو۔
الوداع۔۔۔

Copied

23/02/2026

حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘

فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘
رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔

جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘
حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘

کافروں کا ایک شاعر تھا: سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘

یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘

حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘

تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘

سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘

اس سے پوچھا گیاvکیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں

رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت

غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘

رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی

خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے

اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘

حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘
سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘

رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا

تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘
یہ ہے شریعت۔

حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا

یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا
اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘

نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھ

یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘

ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘

حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘

رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔

مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔

مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے
’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔

ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیایہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘

اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔

ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘

صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہےمال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘

صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘
یہ ہے شریعت

حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘
وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘

عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کےدرمیان پیس دیں‘

یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو

اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اوراس کی دل جوئی کرتے‘

عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘

یہ ہے شریعت۔

مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘

آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہےشریعت۔

ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت

اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘

آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘

17/02/2026

ہم نے چار شادیوں پر زور دیئے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی عورت کے ساتھ گزارے اور حصرت سودہؓ سے دوسری شادی حضرت خدیجہ رض کی وفات کے بعد کی۔ ہم نے یہود نصاری کی دشمنی کا راگ الاپے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل تھے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتحادی تھے۔ فرانس نے گستاخی کی تو ہم نے اپنے ہی ملک میں آگ لگا دی ،لیکن یہ کبھی نہ بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو معاشی طور پر کمزور کرکے اپنی دھاک بٹھائی۔
مشرکین مکہ تاجر تھے اور تجارت کی غرض سے شام جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شمال کی راستے پر واقع قبائل سے دوستیاں کیں اور مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا۔ جب وہ جنوب کے راستے یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں کے باشندوں سے معاہدے کر کے اہل قریش کا راستہ روک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی ملک کو آگ نہیں لگائی تھی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی۔ نوبت فاقوں تک پہنچی تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کہا کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ سو اشرفیوں کے ساتھ بہترین کھجوریں دیتے ہوئے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔ یعنی اہل قریش دشمن بن کر آئے تو آپ نے ان کی کمر توڑ دی۔ لیکن وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کی۔
مجھ میں اتنی تاب نہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی سمجھ سکتا لہذا میں نے آپ کو بطور انسان سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے جانا:
آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ نے اپنی تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کئے جو بظاہر مسلمانوں کو کمزور کرنے والے تھے، لیکن وہی معاہدے آپ کے لئے فتح مکہ کا باعث بنے۔ آپ نے دشمنوں کی جاسوسی کے لئے حضرت ابو ہریرہ کی ڈیوٹی لگائی تاکہ دشمنان کے ارادے جان سکیں۔
آپ ایک عظیم سفارتکار تھے۔ آپ نے اپنے دشمن کے دوستوں سے دوستیاں کی تاکہ ان کا اثر کم ہوسکے۔ مدینہ کے شمال میں خیبر اور جنوب میں مکہ تھا۔ اور ان دونوں شہروں کے باشندے مسلم مخالف تھے۔ آپ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی کسی جنگ میں دشمن کا ساتھ نہ دیں گے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔
آپ ایک کمال سپہ سالار تھے۔ مدینہ شہر کے تینوں اطراف پہاڑ تھے اور واحد زمینی راستہ پر آپ نے خندق کھود کر مدینہ کو آنچ نہ آنے دی۔ آپ نے یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کئے کہ وہ اپنے مختلف مذہب کے باوجود مسلمانوں کی جنگی مدد کریں گے اور جنگی اخراجات مل کر برداشت کریں گے۔
آپ ایک بہترین منتظم تھے، آپ نے اپنی بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا۔ آپ نے پولیس اور انصاف کا نظام متعارف کروایا۔ اور مجرم کو گردن سے پکڑنے کی ذمہ داری حضرت علی کے سپرد کی۔ آپ نے مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کئے اور ان سے خط و کتابت سے امور مملکت جانتے رہے۔
آپ ایک بہترین معلم تھے، آپ نے کچھ نہ ہونے کے باوجود صفہ کا قیام عمل میں لایا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام واضع کیا۔ میں کیا، دنیا کا کوئی فلسفی، کوئی دانشور یا کوئی محقق دنیا کی عظیم ترین شخصیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل پاتا ہے۔
لیکن۔۔ ہم نے اپنے نبی کے مقام و مرتبہ کے ساتھ ناانصافی کی۔ ہم ساری زندگی چاند کو توڑنے اور واقعہ معراج جیسے معجزات بیان کرتے رہے، لیکن بطور بشر آپ کے کمالات کو کبھی بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بالکل ایسے جیسے امام حسینؓ کے واقعہ کربلا کے علاوہ کسی کو امام کی ذات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نبی معجزات سے نہیں بلکہ بطور بشر تن تہنا، ایک ایسی ریاست کا قیام عمل میں لائے جسے دیکھ کر قیصر و کسری اور فارس کے محلات بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا، جب دنیا کا عظیم ترین انسان میدان عرفات میں لاکھوں کے جھرمٹ میں یہ اعلان کر رہا تھا
"الیوم اکملت لکم دینکم " (آج کے دن دین مکمل ہوگیا)۔ گویا وہ بشری معراج پر پہنچ چکے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا۔
دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم پر لاکھوں کروڑوں سلام
صلی اللہ علیہ وسلم

07/02/2026

سب سے بڑی غلطی جو ہر نسل دہراتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والوں کو اپنے ہی معیار اور تجربے سے جانچنے لگتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نسل اپنے وقت، اپنے حالات اور اپنے ماحول کی پیداوار ہوتی ہے، اور آج کا وقت نہ صرف مختلف ہے بلکہ انتہائی تیزی سے بدل رہا ہے۔ آج کی generation میں جو تبدیلیاں ہمیں چونکاتی ہیں، وہ اچانک آئیں، اور اب اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ مسلسل آ رہی ہیں.

آج کے بچے ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھول رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی، اسکرین اور مقابلہ لمحوں میں شکل بدل لیتے ہیں، ان کے لیے change کوئی واقعہ نہیں بلکہ روزمرہ حقیقت ہے، اسی لیے ان کی سوچ تیز ہے، مگر اندر ایک مسلسل بےچینی ہے۔ یہ بچے بگڑے ہوئے نہیں، بلکہ وہ ان تبدیلیوں کے ساتھ خود کو fit کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم نے پوری عمر میں دیکھیں اور انہوں نے چند ہی برسوں میں جھیل لیں۔ انہیں حکم نہیں بلکہ سمجھ، دباؤ نہیں بلکہ رہنمائی درکار ہے۔

ہم سے پہلے آنے والی نسل نے زندگی کو صبر، برداشت اور استحکام کے اصول پر گزارا، اس وقت تبدیلیاں آتی تھیں مگر آہستہ آہستہ، اس لیے اصول مضبوط تھے اور فیصلے دیرپا۔ ان کا طریقہ آج کے وقت سے مختلف ہو سکتا ہے، مگر ان کی نیت اور محنت وہ بنیاد ہے جس پر آج کی یہ تیز رفتار دنیا کھڑی ہے، اور اس بنیاد کو نظرانداز کرنا خود اپنی جڑوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

اور ہم، یعنی Millennials، اس تیز رفتار تبدیلی کے عین بیچ کھڑے ہیں؛ ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب چیزیں آہستہ آہستہ بدلتی تھیں اور وہ دور بھی جب سب کچھ ایک دم بدلنے لگا۔ اسی لیے ہم سب سے زیادہ الجھن کا شکار بھی ہیں اور سب سے زیادہ باخبر بھی، کیونکہ ہم ہی وہ نسل ہیں جو اس رفتار کو سمجھ سکتی ہے اور اس کا ترجمہ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے کر سکتی ہے۔

دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس رفتار کے ساتھ ہوش مندی سے چلنا سیکھیں؛ بچوں کو تبدیلی کے خلاف نہیں بلکہ تبدیلی کے اندر جینا سکھائیں، بڑوں کو یہ احساس دلائیں کہ دنیا واقعی بدل چکی ہے، اور خود کو یہ یاد دلاتے رہیں کہ کامل ہونا ضروری نہیں، باشعور ہونا کافی ہے۔ نسلیں مسئلہ نہیں ہوتیں، مسئلہ یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ جب تبدیلی بہت تیز ہو جائے تو سوچ کو بھی ویسا ہی وسیع کرنا پڑتا ہے۔
copied

06/02/2026

حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ٹھہراؤ اور اطمینان دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ انہیں کسی کام کی جلدی نہیں ہے۔ سکون سے معاملات کو دیکھتے اور برداشت کرتے ہیں۔

جیل میں ان کے دو ساتھیوں نے خواب دیکھا تو تعبیر پوچھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام تعبیر جانتے تھے لیکن پوچھنے کے فورا بعد نہیں بتائی۔ پہلے اچھا خاصا وقت توحید کی دعوت دینے پر لگایا، پھر تعبیر بتائی۔ ہم جیسا کوئی شخص ہوتا تو فورا تعبیر بتانے لگ جاتا کیونکہ ہم زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتے۔

عزیز مصر کو خواب کی تعبیر بتائی تو اس نے حکم دیا کہ :

ائْتُوْنِیْ بِهٖۚ
یوسف کو میرے پاس لے کر آؤ۔ (سورت یوسف: 50)

لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے ایلچی کو کہا کہ مجھے باہر نکلنے کی جلدی نہیں ہے۔ واپس اپنے مالک کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ میرا رب ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔ یہاں پر دیکھیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام معاملے کو کتنے اطمینان کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہیں معاملہ کو سلجھائے بغیر باہر نکلنے کی ذرا جلدی نہیں۔

پھر جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ بن جاتے ہیں تو ان کے بھائی غلہ لینے کےلیے فلسطین سے مصر پہنچتے ہیں۔ اس موقع پر قرآن کا بیان ہے :

فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ
تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔ (سورت یوسف: 58)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام تو پہلی بار ہی اپنے بھائیوں کو پہچان چکے تھے لیکن اظہار کرنے میں جلدی نہیں کی۔ خاموشی سے ان کے معاملات کو دیکھتے رہے ۔

یقینا وہ کئی دن مصر میں ٹھہرے ہوں گے، بار بار حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے آتے رہے ہوں گے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ بھائیوں کو اپنے بارے میں بتا دوں لیکن حوصلہ ، حوصلہ اور حوصلہ۔ ہر بات بتانے کا ایک وقت ہوتا ہے، وقت سے پہلے بتا دی جائے تو بات اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے۔

پھر جب دوسری بار یہی بھائی غلہ لینے آئے تو اب بھی انہیں نہیں بتایا کہ میں یوسف ہوں۔ صرف اپنے سگے بھائی یعنی بنیامین کو اکیلے میں بلایا اور کہا:

اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ
یقین کرو کہ میں تمہارا بھائی ہوں۔ (سورت یوسف: 69)

ان کو اس لیے بتایا کیونکہ بعض لوگوں کو اپنا راز بتانا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کسی کو بتایا ہی نہیں۔

پھر جب برادران یوسف مصر سے جانے لگے تو ان پر چوری کا الزام لگا۔ وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارا سامان دیکھ لیا جائے۔ جب سامان دیکھا گیا تو بنیامین کے تھیلے سے بادشاہ کا پیالہ نکل آیا۔ اس موقع پر بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ان پر تہمت لگاتے ہوئے کہا:

اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-
اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں ، کیونکہ) اس کا ایک بھائی (یعنی یوسف) اس سے پہلے بھی چوری کر چکا ہے۔ (سورت یوسف: 77)

اب یہ موقع تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بول پڑتے لیکن حوصلہ، حوصلہ اور حوصلہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ
یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں چھپا لیا اور اسے ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ (سورت یوسف: 77)

پھر تیسری بار جب وہ غلہ لینے آئے تو اب بتایا کہ میں یوسف ہوں۔ بھائیوں نے معافی مانگی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:

لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ
آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ اللہ تمہیں معاف کرے ، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (سورت یوسف: 92)

یہ الفاظ اتنے حوصلے کے ساتھ ادا کیے گئے ہیں کہ لگتا ہے حضرت یوسف کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کبھی کوئی قابلِ ملامت کام کیا ہی نہیں۔ دو تین جملوں میں سالہا سال کے حسد کو معاف کر کے رکھ دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کےلیے صبر اور حوصلہ چاہیے۔

پھر جب چوتھی بار سارے بھائی اپنے والدین کے ساتھ مصر پہنچے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں تخت پر بٹھایا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کیا تو فرمانے لگے:

وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ
میرے رب نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ مجھے قید خانے سے نکال دیا۔ (سورت یوسف: 100)

یہاں جیل سے نکلنے کا ذکر تو کیا لیکن کنویں سے نکلنے کا ذکر نہیں کیا کیونکہ سامنے بھائی بیٹھے تھے۔ انہیں شرمندگی ہوتی۔ یہ کام با حوصلہ شخص ہی کر سکتا ہے جس میں صبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔

ہم سورت یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر تو پڑھتے ہیں لیکن کبھی حضرت یوسف علیہ السلام کا صبر نہیں پڑھا۔ حالانکہ ان کی زندگی بھی اپنے والد کے صبر کا پرتو ہے۔

اس ساری بات کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی میں ٹھہراؤ کی بہت اہمیت ہے۔ تھوڑا سا رُک جانا، صحیح وقت کا انتظار کرنا، بات اُگلنے میں جلدی نہ کرنا، راز کو دبا کر رکھنا، معاملات کو خاموشی سے دیکھتے رہنا، ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب نہ دینا، بھاگم بھاگ سے بچنا، ایک معاملہ ادھورا چھوڑ کر دوسرے معاملے میں چھلانگ نہ لگانا، انتقام کی روش نہ پالنا، "میں معاف کرتا ہوں" کے بجائے " اللہ تمہیں معاف کرے" کہنا۔ یہ سارے کام اُسوہ یوسفیہ ہیں۔

اگر ہمارے اندر یہ اعمال پیدا ہو جائیں تو ہماری روح حضرت یوسف علیہ السلام کے کردار کی خوشبو محسوس کر سکتی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

copied

14/01/2026

دنیا کی کہی ہوئی بات اور اپنوں کی کہی ہوئی بات میں فرق یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی کہی ہوئی بات پہلے تکلیف دیتی ہے پھر اسکی عادت ہو جاتی ہے- اپنوں کی کہی ہوئی باتوں کی کبھی عادت نہیں ہوتی- ہر بار وہ سننے پر تکلیف پہلے سے زیادہ بڑھتی ہے-

عمیرہ احمد کے ناول’’من و سلویٰ‘‘ سے اقتباس"

09/01/2026

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی
ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرکا سے اظہار فرمایا۔۔
یرکا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرکا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔ اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے
تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں۔؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر انکی وہیں ہوجائے گی۔
غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑہ تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا..
عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟
وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نا لیں

غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ۔۔
پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے)
فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔

گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔
مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔
کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،
اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرکا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔
اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔۔
حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے
"اوہ یار یرکا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے
اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں،
کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ،
میں تو دعائیں مانگتا ہوں
اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔۔
میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا
اے اللہ میں جانور تھا،
بےزبان تھا
16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کیلئے
تو پھر یرکا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟"
یرکا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“

07/01/2026

آج کل ایک لفظ بہت اِن ہے:

" اورا"

کہا جاتا ہے جس کا اورا مضبوط ہو، اس کے کام سنور جاتے ہیں، بات میں وزن آ جاتا ہے، عزت خود چل کر آتی ہے، راستے بنتے چلے جاتے ہیں۔
غرض دنیا میں ہر طرح سے کامیابی قدم چومتی ہے

اور جس کا اورا کمزور ہو، وہ بندہ درست بھی ہو تو غلط سمجھا جاتا ہے، نیت صاف ہو پھر بھی شک اس کے حصے میں آتا ہے، ہر کام میں رکاوٹ، ہر موڑ پر دیوار۔
جتنا مرضی لاحق فائق ہو کامیاب نہیں ہو سکتا

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ جادو نظر بد حسد ارادے کی کمزوری وغیرہ وغیرہ

یہ بات سننے میں بڑی پرکشش لگتی ہے، اس لیے لوگ اورا مضبوط کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہے۔

کوئی عجیب و غریب ایکسرسائز بتا رہا ہے، کوئی سانسوں کی مشقیں، کوئی آنکھیں بند کر کے خیالی دائرے بنانے کو کہتا ہے، اور اب تو جدید حلیے میں “بابے” بھی آ گئے ہیں جو مہنگی سروسز بیچ رہے ہیں:

آؤ، ایک دفعہ اورا ٹھیک کروا لو، زندگی بدل جائے گی۔

شرعی حیثیت ایک الگ بحث ہے، مگر ذرا حقیقت پر غور کریں۔
آپ ایک دفعہ اورا “ٹھیک” کروا بھی لیں، تو کچھ دن بعد وہ پھر کسی نہ کسی وجہ سے “خراب” ہو جائے گا۔
بھئی جادو کرنے والے نظر بد لگانے والے تو اپ کے ساتھ ساتھ ہی ہیں نا وہ پھر کر دیں گے کچھ نہ کچھ
پھر دوبارہ جانا پڑے گا، پھر پیسے، پھر وعدے، پھر وقتی تسلی۔
بالکل وہی پرانا سائیکل جو نسلوں سے بابوں، تعویذوں اور عاملوں کے گرد گھومتا آ رہا ہے، بس نام بدل گئے ہیں، پیکج اپڈیٹ ہو گیا ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں دو نوروں کی خوشخبری دی تھی،
لیکن ہم نے یا تو انہیں بھلا دیا
یا اپنی سستی کو مصروفیت کا نام دے دیا۔
ہم کہتے ہیں وقت نہیں ہے۔
ہم کہتے ہیں روٹین بہت مصروف ہے۔

اورا انرجی بوسٹ کرنے والی ایکسرسائزز پر ہم گھنٹہ گھنٹہ لگا سکتے ہیں،
مگر قرآن پڑھنے کے لیے دس منٹ بھی مشکل لگتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قرآن پڑھو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا،
خاص طور پر سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران۔
یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل یا سایہ،
یا پرندوں کے دو غول، اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔”
ایک اور حدیث میں فرمایا:
“سورۃ البقرہ پڑھا کرو، اس کا پڑھنا برکت ہے،
اس کو چھوڑ دینا حسرت ہے،
اور باطل قوتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔”

اب ذرا سادہ زبان میں سمجھیں۔
جسے آج لوگ “اورا” کہتے ہیں،
قرآن اسے نور، سکینت، وقار اور حفاظت کہتا ہے۔
سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران: دل کے اندر خوف کو کم کرتی ہیں
سوچ کو سیدھا کرتی ہیں
غلط اثرات، حسد، نظر اور منفی دباؤ کے خلاف ڈھال بنتی ہیں
انسان کے رویے میں ٹھہراؤ اور بات میں وزن پیدا کرتی ہیں
جب اندر نور آتا ہے تو باہر کی فریکوئنسی خود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
لوگ بلاوجہ آپ سے الجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
فیصلے آسان ہوتے ہیں۔
اور راستے وہاں سے کھلتے ہیں جہاں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
یہ معجزات کرتی ہیں زندگی میں بس تھامنے کی دیر ہے
یہ مسلسل نور ہے۔
وہ نور جو خراب نہیں ہوتا،
جو بار بار “ریچارج” کروانے کے لیے کسی کے پاس لے کر نہیں جانا پڑتا۔

اب سوال یہ ہے کہ
اگر روزانہ مکمل سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھنا مشکل لگے تو کیا کریں؟

حل بالکل سادہ ہے۔
آپ ان دونوں سورتوں کو 7 دن یا 10 دن میں تقسیم کر لیں۔

روزانہ ایک معقول حصہ، جتنا سکون سے پڑھ سکیں۔

نیت یہ ہو کہ میں نور جمع کر رہی ہوں،

اور اگر بالکل ہی مصروف دن ہو تو کم از کم: سورۃ البقرہ کی آیت الکرسی اور آخری دو آیات
اور سورۃ آل عمران کا ابتدائی حصہ یا آخری رکوع
یہ بھی مستقل مزاجی سے پڑھنا بہت بڑا فرق ڈال دیتا ہے۔

اب سب سے اہم بات ۔۔۔۔بچوں کی۔
اگر آپ کے بچے ناظرہ قرآن پڑھ سکتے ہیں،
تو بچپن سے ہی ان میں یہ عادت ڈالیں کہ
روزانہ سورۃ البقرہ یا آل عمران کے چند صفحات پڑھیں۔
ایک ربع، آدھا پارہ، جتنی ان کی عمر اور توجہ اجازت دے۔
یہ بچے: کم عمری میں ہی ذہنی مضبوطی سیکھتے ہیں
ان کا دل جلدی بہکنے والا نہیں ہوتا
ان کی آنکھ درست ہونا شروع ہو جاتی ہے
وہ حق اور باطل میں فرق پہچاننا سیکھتے ہیں
یہی اصل “اورا ڈیولپمنٹ” ہے۔
جو دنیا میں بھی کام آتی ہے
اور آخرت میں بھی سرخرو کرتی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے ہم وقتی چمک کے پیچھے دوڑنا چاہتے ہیں یا مستقل نور کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔قرآن کے نور کا کوئی نعم البدل نہیں۔نہ کوئی ایکسرسائز، نہ کوئی سروس،
نہ کوئی پرانا بابا نہ جدید بابا۔
بس قرآن،
اور اس کے ساتھ جڑی مستقل مزاجی۔

Copied

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore

Opening Hours

Monday 20:00 - 00:00
Tuesday 20:00 - 00:00
Wednesday 20:00 - 00:00
Thursday 20:00 - 00:00
Friday 20:00 - 00:00
Saturday 20:00 - 00:00
Sunday 20:00 - 00:00