Pak KSA Alliance

Directions

Pak KSA Alliance Goal is to keep people informed about the strategic partnership

Pak KSA Alliance is dedicated to sharing authentic updates, news, and developments on the strong diplomatic, defense, cultural, and economic relations between Pakistan and Saudi Arabia.

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات: ’پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا‘پاکستان کے ...
12/03/2026

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات: ’پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔

بیان کے مطابق ’پاکستانی وزیراعظم نے ان آزمائشی حالات میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔‘

’دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھا جائے گا۔‘

وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف نے محمد بن سلمان کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے مشترکہ حصول کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو انڈیا کے لیے ’بڑا دھچکا‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟سعودی عرب اور جوہری ہتھ...
19/09/2025

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو انڈیا کے لیے ’بڑا دھچکا‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

سعودی عرب اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک پاکستان کے درمیان بدھ کو ہونے والے ایک باہمی سکیورٹی معاہدے پر ناصرف انڈین حکومت نے اپنا ردعمل دیا ہے بلکہ ملک کے دفاعی ماہرین بھی اس معاہدے پر بات کرتے اور اس پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ سکیورٹی معاہدہ اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حملے کے بعد طے پایا ہے اور پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر دیگر عرب ممالک بھی ایسا کوئی اشارہ دیتے ہیں، تو جیسا باہمی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہوا ہے پاکستان باقی (ممالک) کو بھی اس میں شامل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

اس معاہدے کو نہ صرف دونوں ممالک کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اِس کے مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب سے ہونے والے معاہدے کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی جارحیت کے خلاف مل کر کام کریں گے اور اگر کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

اگرچہ اس معاہدے کی زیادہ تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں تاہم پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی کوئی ذیلی یا خفیہ شرائط نہیں ہیں

انڈیا کے لیے پریشانی کی بات کیا ہے؟

اس معاہدے کے بعد انڈیا میں پوچھا جانے والا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر انڈیا مستقبل میں پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ جیسا کوئی اقدام کرتا ہے تو کیا سعودی عرب پاکستان کا ساتھ دے گا؟

یہی سوال جب ہم نے سعودی عرب میں انڈیا کے سابق سفیر تلمیز احمد سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ یہ معاہدہ انڈیا کے لیے کوئی بڑا دھچکا ہے، لیکن اگر ہم اسے طویل مدت میں دیکھیں تو یہ انڈیا کے لیے کسی بھی طرح سے اچھا نہیں ہے۔‘

تلمیز احمد کہتے ہیں کہ ’پاکستان مغربی ایشیا میں بہت زیادہ متعلقہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب انڈیا فی الحال کہیں نظر نہیں آتا۔ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے پاکستان، ترکی اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور یہ تینوں ممالک اب خطے میں بہت اہم ہو چکے ہیں۔ آپریشن سندور کے دوران بھی یہ تینوں ممالک انڈیا کے خلاف صف آرا نظر آئے، اس لیے یہ اگر مستقبل کی بات کی جائے تو یقینی طور پر یہ انڈیا کے لیے ایک دھچکا ہو سکتا ہے۔‘

جنوبی ایشیائی سیاست کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اپنے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ ’پاکستان نے نہ صرف ایک نئے باہمی سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، بلکہ ایک ایسے ملک (سعودی عرب) کے ساتھ کیے گئے ہیں جو انڈیا کا بڑا شراکت دار بھی ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ مستقبل میں انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے سے نہیں روک پائے گا، مگر یہ ضرور ہے کہ اس نے پاکستان میں ایک اچھی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔‘

انڈیا کی وزارت خارجہ نے بھی اس معاہدے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم انڈیا کی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اس معاہدے کے مضمرات کا مطالعہ کریں گے۔ حکومت انڈیا کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔‘

ماہرین کے مطابق اس انڈین ردعمل کا واضح مطلب یہ ہے کہ انڈیا بھی اس معاہدے کے اپنے ملک کی قومی سلامتی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی بات کر رہا ہے۔ سابق انڈین سیکریٹری خارجہ کنول سبل اس صورتحال کو بہت سنگین سمجھتے ہیں۔

کنول سبل نے لکھا کہ ’اس معاہدے کا مطلب ہے کہ اب سعودی عرب کے فنڈز پاکستان کی فوج کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ بظاہر پاکستان کُھلے عام عرب ممالک کو اسرائیل کے خلاف جوہری سکیورٹی فراہم کرنے کی بات کر رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں تک رسائی ہو گی؟

اس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ دفاع کے لیے جس کا مقصد ہرگز جارحانہ نہیں۔۔۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لیے بھی کسی بھی ممکنہ صورتحال میں مدد گار ہوں گی، لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں آخری بار جوہری ہتھیاروں کا استمعال ہیروشیما پر ہوا تھا اور خوش قسمتی سے اب دنیا نیوکلئیر جنگوں سے محفوظ ہے اور اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا کچھ نہیں ہو گا۔‘

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس شراکت داری میں اس معاہدے کے تحت ہونے والا ممکنہ اضافہ انڈیا کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

’پاکستان دوبارہ متعلقہ ہو گیا ہے‘
امریکہ کی ڈیلاویئر یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مقتدر خان کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ اگر انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو سعودی عرب اپنی فوج نہیں بھیج سکتا، لیکن اس کے پاس پیسہ ہے۔ سعودی عرب پاکستان کی فوج کو مضبوط کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس امریکی ٹیکنالوجی ہے اور وہ پاکستان کو بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یقیناً یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا نقصان ہو گا۔‘

مقتدر خان کہتے ہیں کہ ’سوال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب نے یہ معاہدہ کیوں کیا، لیکن اس کے قطعی جواب موجود ہیں۔ پہلا، خلیجی ممالک اب امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ دوسرا، پاکستان نے آپریشن سندور کے دوران انڈیا کے حملے کا پوری عزم کے ساتھ مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک اہم ملک کے طور پر اُبھرا جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان جو پہلے اپنی پوزیشن کھو رہا تھا، اب وہ ایشیا میں دوبارہ اہمیت حاصل کر رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف انڈیا کا معاملہ الٹا نظر آتا ہے۔‘

سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی کی رائے ہے کہ وزیر اعظم مودی جو گذشتہ کئی برسوں سے سعودی عرب کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پا رہا۔

چیلانی نے لکھا کہ ’مودی نے سعودی عرب کو خوش کرنے میں برسوں گزارے ہیں۔ انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ایک سٹریٹجک پارٹنر شپ تک پہنچانے کی کوشش کی اور سعودی عرب کے دورے کیے۔ مگر اب نریندر مودیکی سالگرہ کے موقع پر، سعودی ولی عہد نے انھیں ایک سرپرائز دیا ہے۔ اب، سعودی عرب اور پاکستان کسی بھی حملے کو دونوں پر حملے سے تعبیر کریں گے۔‘

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ بالکل ممکن ہے کہ پاکستان اب سعودی عرب کی رقم کو امریکی ہتھیار خریدنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس کی اسے ضرورت ہے۔‘

بشکریہ: بی بی سی اردو

ریڈ کارپٹ پر استقبال ہر سربراہِ مملکت کا خواب ہوتا ہے لیکن پرپل کارپٹ وہ پروٹوکول ہےجو کسی بھی ملک کے لیے آخری درجے کی ع...
19/09/2025

ریڈ کارپٹ پر استقبال ہر سربراہِ مملکت کا خواب ہوتا ہے
لیکن پرپل کارپٹ وہ پروٹوکول ہے
جو کسی بھی ملک کے لیے آخری درجے کی عزت سمجھا جاتا ہے، اور یہ اعزاز سعودی عرب نے پاکستان کو دیا۔
🇵🇰♥️🇸🇦

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہاہمی دفاعی معاہدہ، سول ایوی ایشن اتھارٹی ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم کے ساتھ سعودی عرب کا پر...
18/09/2025

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہاہمی دفاعی معاہدہ، سول ایوی ایشن اتھارٹی ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم کے ساتھ سعودی عرب کا پرچم لہرا دیا گیا ہے

اسرائیل اب سعودی عرب تبوک شہر سے صرف 481 کلومیٹر دوری پر ۔۔ مطلب اسرائیل پاکستان سے اب صرف 481 کلومیٹر دور ۔ ہمارا ہر می...
18/09/2025

اسرائیل اب سعودی عرب تبوک شہر سے صرف 481 کلومیٹر دوری پر ۔۔
مطلب اسرائیل پاکستان سے اب صرف 481 کلومیٹر دور ۔ ہمارا ہر میزائیل لاک ہوسکتا ہے ۔
❤️🇵🇰

18/09/2025

پاک سعودی تعلقات، سعودی عرب نے ترانہ جاری کر دیا۔

18/09/2025

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب میں شاندار استقبال

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سعودی عرب سے روانہ، نائب گورنر ریاض سمیت دیگر شخصیات نے انہیں الوداع کہا۔
18/09/2025

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سعودی عرب سے روانہ، نائب گورنر ریاض سمیت دیگر شخصیات نے انہیں الوداع کہا۔

پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد انڈیا میں پریشانی کی لہر۔
18/09/2025

پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد انڈیا میں پریشانی کی لہر۔

وزیراعظم سعودی عرب سے لندن روانہ، تاریخی استقبال پر ولی عہد سے اظہار تشکروزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا تاریخی دورہ...
18/09/2025

وزیراعظم سعودی عرب سے لندن روانہ، تاریخی استقبال پر ولی عہد سے اظہار تشکر

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا تاریخی دورہ مکمل کرکے برطانیہ روانہ ہوگئے، وزیراعظم نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دعا پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب مکمل کرکے ریاض سے لندن روانہ ہوگئے، ریاض کے نائب گورنر محمد بن عبدالرحمٰن نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کو الوداع کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ریاض کے سرکاری دورے پر عزیز بھائی، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے پُرخلوص اور شاندار استقبال نے میرے دل کو چھو لیا‘۔

وزیراعظم نے لکھا کہ ’شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے میرے طیارے کو دیے گئے غیر معمولی حصار سے لے کر سعودی مسلح افواج کے دستے کی باوقار سلامی تک، یہ استقبالیہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور باہمی احترام کا رشتہ کتنا گہرا اور دیرپا ہے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ’ آج ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ میری نہایت دوستانہ اور جامع گفتگو ہوئی جس میں خطے کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا‘۔

انہوں نے کہاکہ ’میں دل سے ولی عہد کی اس بصیرت اور قیادت کو سراہتا ہوں جو وہ مسلم دنیا کو فراہم کر رہے ہیں، دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے، میں ولی عہد کی مستقل حمایت اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینے میں ان کی گہری دلچسپی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شااللہ!‘۔

Address

Johar Town
Lahore
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak KSA Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category