2 مئی : یوم وفات
معروف مزاحیہ شاعر غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
(پیدائش: 1928ء – وفات: 2 مئی 2017ء)
ان کا نام تو غوث محی الدین احمد تھا مگر ’’ خواہ مخواہ حیدرآبادی ‘‘ کے نام سے انہوں نے شہرت پائی۔
1928ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور 2 مئی 2017ء کو انتقال کر گئے۔ انہیں حیدرآباددکن سے ہی شہرت ملی ۔ وہ اپنی مزاحیہ شاعری کے باعث مقبول ہوئے۔ انہیں مزاحیہ مشاعروں میں ضرور بلایاجاتا تھا۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ خواہ مخواہ حیدرآبادی ہندوستان کے مزاحیہ مشاعروں کا جزوِ لازم تھے۔ انہیں طنز و مزاح میں ملکہ حاصل تھا۔
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد دکن میں پائی۔ اردو میڈیم میں ہی ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ بعدازاں باقی ماندہ تعلیم کا سلسلہ بھی انہوں نے حیدرآباد میں ہی مکمل کیا۔
18برس کی عمر سے انہوں نے مشاعروں میں شرکت کرنی شروع کر دی تھی۔وہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود اردو بولنے، سمجھنے اور جاننے والوں میں مقبول تھے۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں ہونے والے مشاعروں میں بھی انہیں مدعو کیاجاتا تھا جہاں خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کے تارکین وطن انہیں انتہائی شوق سے سنتے تھے۔
وہ امریکہ اور یورپ بھی جاتے تھے جہاں ان کے مداحوں کی کثیر تعداد تھی۔
خواہ مخواہ حیدرآبادی کی تصانیف میں ’’حرفِ مکرر‘‘، ’’بفرضِ محال‘‘اور ’’کاغذ کے تیشے‘‘ شامل ہیں۔
خواہ مخواہ نے تمام شاعری ہی مزاحیہ نہیں کی بلکہ انہوں نے سنجیدہ اشعار بھی کہے ۔مگر وجہ شہرت مزاحیہ کلام ہی بنا۔
سنہ 2017ء میں اپنے بچوں سے ملنے کیلئے غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی کینیڈا گئے تھے جہاں ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی جس کے بعد ہونے والے فالج نے انہیں چلنے پھرنے اور بولنے سے معذور کر دیا۔ اس حملے کے بعد ان کی صحت بتدریج گرتی گئی اور کینیڈا سے انہیں واپس ہندوستان لایا گیاجہاں چند روز کے بعد ہی خواہ مخواہ حیدرآبادی انتقال کر گئے ۔
منتخب کلام:
خدا کے حکم کا جو اہتمام کرتے ہیں
حدیثِ پاک کا یوں احترام کرتے ہیں
خدا کے بندے ملے ہیں جہاں بھی آپس میں
کلام کرنے سے پہلے سلام کرتے ہیں
——
کِتے دنوں سے دکنی کی حالت خراب ہے
لگ را ہے جیسے اُس کی بھی صحت خراب ہے
گِلی ، خطیب اور بھلانوا بھی جا چکے
میری بھی ’’خواہ مخواہ‘‘ طبیعت خراب ہے
——
سایہ نئیں ہے ، دھوپ کڑی ہے
سر پو آ کو موت کھڑی ہے
پھٹّا دامن کیسا سیؤں میں
دھاگہ چھوٹا، سوئی بڑی ہے
——
مشکل میں اک نجات دہندہ ضرور ہو
سر جس پہ رکھ کے روئیں وہ کندھا ضرور ہو
معشوق ہو حَسیں، ضروری نہیں مگر
عاشق کو چاہئے کہ وہ اندھا ضرور ہو
——
مانا وہ زمانے کے حسینوں سے حَسیں ہیں
یاں ہم بھی فنِ عاشقی میں کم تو نہیں ہیں
——
حافظ کی رباعی یا غالب کی غزل جیسی
یا جھیل کے پانی پر اک نیل کنول جیسی
اک تاج محل میں بھی شاید بنا ہی لیتا
ملتی مجھے جو بیگم ممتاز محل جیسی
——
Urdu adab
یہ پیج اردو لٹریچر کے متعلق ہے جس میں اردو ادب کے متعلق ?
حاجی مراد
مصنف: لیو ٹالسٹائی
اردو ترجمہ: مظفر محمد علی
.....................................................
’’حاجی مُراد‘‘ ٹالسٹائی کا آخری ناول ہے۔ انقلابِ رُوس سے پہلے کےوسطی ایشیا کے علاقے کاکیشیا میں ٹالسٹائی نے اپنی زندگی کے کچھ ایام بسر کیے تھے۔ اس علاقے میں صدیوں سے بسنے والے مسلمانوں، ان کی تاریخ، رسم و رواج اور تمدّن سے ٹالسٹائی بےحد متاثر ہوا۔ وسطی ایشیا کا یہ علاقہ رُوس کے بڑے ادیبوں کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ پشکن نے بھی اس علاقے کے مسلمان لیجنڈری ہیرو پر ایک ناول ’’کپتان کی بیٹی‘‘ لکھا تھا۔ ٹالسٹائی نے ’’حاجی مُراد‘‘ کو چُنا۔ حاجی مراد کا کردار انسان کی عظمتوں، خامیوں اور نازک جذبات کا جیتا جاگتا مجسمہ بن کر ٹالسٹائی کے تخلیق کیے ہوئے کرداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ حاجی مُراد حریت پسند ہے، وہ انا کا شکار ہے.... وہ انا جو اسے امام شامل سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیتی ہے، وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے تڑپتا ہے، ان کی زندگی کے لیے وہ سفید رُوسیوں کے بادشاہ ’’زارِ رُوس‘‘ سے بھی مفاہمت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے.... لیکن اپنی مذہبی جذباتیت، عقیدے کی سچائی اور رُوس دشمنی، جو آزادی کی علامت ہے، سے دستبردار نہ ہو سکا۔ یہ اس کردار کی وہ پیچیدگی ہے جس نے ٹالسٹائی جیسے عظیم ناول نگار کو متاثر کیا تھا۔
سیّد قاسم محمود
----
میں آپ کو صرف یہ بتانے کےلیے لکھ رہا ہوں کہ مجھے آپ کا ہم عصر ہونے پر کس قدر خوشی محسوس ہوتی ہے....
اور ایک آخری پُرخلوص درخواست ہے: میرے دوست! لکھنے کی طرف لوٹ آؤ۔
بسترِ مرگ سے ایوان ترگینف کا خط، ٹالسٹائی کے نام
یہ شخص فن کا دیوتا ہے۔
فیودور دستوئیفسکی - رُوسی ادیب
میں نے ’’حاجی مراد‘‘ پڑھا تواندازہ ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس سے ہمیں سیکھنا چاہیے۔ جب دوبارہ پڑھا تو میں دنگ رہ گیا.... میں نہیں سمجھتا کہ مجھ میں اتنی اہلیت ، اتنی طاقت، یا اتنی خواہش ہے کہ میں اتنی جزئیات نگاری کر سکوں جیسی ٹالسٹائی نے کی۔
میں ٹالسٹائی کا پیروکار ہوں مگر میں اس جیسا کبھی نہیں لکھ سکتا۔
اسحاق بابِیل - رُوسی ادیب و نقاد
’’حاجی مراد‘‘ میرے لیے ادبِ عالیہ کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ یہ دُنیا کی بہترین کہانی ہے.... یا یوں کہہ لیجیے کہ
اب تک میں نے جتنی کہانیاں پڑھی ہیں ان میں سب سے اعلیٰ کہانی ہے۔
ہیرلڈ بلُوم - امریکی نقاد
ٹالسٹائی اپنے کرداروں میں دیوتاؤںکی طرح رُوح پھونک دیتا ہے۔ ’’حاجی مراد‘‘ بھی اس سےمستثنیٰ نہیں۔
جارج سٹائنر - امریکی نقاد
’’حاجی مراد‘‘ ٹالسٹائی کی آخری،سب سے نکھری ہوئی کہانیوں میں سے ایک ہے۔
جان بیلی - برطانوی نقاد
آج اردو ادب کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد دھلوی کا یومِ وفات ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ پیدائش : 06 دسمبر 1836ء
تاریخ وفات : 03 مئی 1912ء
مولوی نذیر احمد جو کہ ڈپٹی نذیر احمد کے نام سے جانے جاتے ھیں 06 دسمبر 1836ء ( یا 1931 ء) کو اترپردیش کے ضلع بجنورکی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریڑ میں پیدا ھوئے ۔ایک مشہور بزرگ شاہ عبدالغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔
شروع کی تعلیم والد صاحب سے حاصل کی ۔چودہ برس کے ہوۓ تو دلی آگۓ اور یہاں اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں داخل ہوگۓ۔ مولوی عبدالخالق ان کے استاد تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی۔ دہلی کے آس پاس برائے نام مغل بادشاہت قائم تھی۔ دینی مدرسوں کے طالب علم محلوں کے گھروں سے روٹیاں لا کر پیٹ بھرتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ نزیر احمد کو بھی یہی کچھ کرنا پڑتا تھا، بلکہ ان کے لیے تو ایک پریشانی یہ تھی کہ وہ جس گھر سے روٹی لاتے تھے اس میں ایک ایسی لڑکی رہتی تھی جو پہلے ان سے ہانڈی کے لیے مصالحہ یعنی مرچیں، دھنیا اور پیاز تیاز وغیرہ پسواتی تھی اور پھر روٹی دیتی تھی اور اگر کام کرتے ہوۓ سستی کرتے تھے تو ان کی انگلیوں پر سل کا بٹہ مارتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی لڑکی سے ان کی شادی ہوئی۔
کچھ عرصہ بعد دلی کالج میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی ۔مولوی نذیر احمد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مدرس کی حیثیت سے کیا لیکن خداداد ذہانت اور انتھک کوششوں سے جلد ہی ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدراس مقرر ہوئے۔ مولوی صاحب نے انگریزی میں بھی خاصی استعداد پیدا کر لی اور انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ (تعزیرات ہند) کے نام سے کیا جو سرکاری حلقوں میں بہت مقبول ہوا اور آج تک استعمال ہوتا ہے۔ اس کے صلے میں آپ کو تحصیلدار مقرر کیا گیا۔ پھر ڈپٹی کلکٹر ہوگئے۔ نظام دکن نے ان کی شہرت سن کر ان کی خدمات ریاست میں منتقل کرا لیں جہاں انہیں آٹھ سو روپے ماہوار پر افسر بندوبست مقرر کیا گیا ۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد مولوی صاحب نے اپنی زندگی تصنیف و تالف میں گزاری۔ اس علمی و ادبی میدان میں بھی حکومت نے انہیں ۱۸۹۷ء شمس العلماء کا خطاب دیا اور ۱۹۰۲ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ ۱۹۱۰ء میں پنجاب یونیورسٹی نے ڈی۔او۔ایل کی ڈگری عطا کی۔
آپ کا انتقال ۳ مئی ۱۹۱۲ء میں ہوا۔
آپ اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے جائے ہیں۔
نذیر احمد پر لکھے گئے پی ایچ ڈی مقالات ۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی نذیر احمد دھلوی ۔ احوال و آثار ۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ۔ پنجاب یونیورسٹی لاھور ۔ 1971ء
نذیر احمد ۔ بحیثیت ناول نگار ۔ ڈاکٹر اعجاز احمد اعجاز ۔ پٹنہ ہونیورسٹی پٹنہ
ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں عصری معنویت اور اصلاحِ معاشرہ ۔ ڈاکٹر سلمیٰ بی کولور ۔ کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ ۔ 2008ء
کتابیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسم الخط
اجتہاد ۔ 1907ء ۔ (مذھب )
ترجمہ قرآنِ مجید ۔ 1312ھ ۔ دھلی
ابن الوقت ۔ 1888ء ۔ ناول
مجموعہ لیکچرز ۔۔۔۔۔۔۔ حصہ اول ۔ حصہ دوم ۔ 1892ء ۔ ( تقاریر )
مایغینک فی الصرف ۔ 1892ء ۔ (قوائد)
بنات النعش ۔ 1872ء ۔ ( ناول )
موعظہ حسنہ ۔ 1887ء ۔ ( اخلاقیات )
فسانہ مبتلا ۔ 1885ء ۔ ( ناول )
ادعیتہ القرآن ۔ ( مذھب )
دہ سورہ ۔ ( مذھب )
ھفت سورہ ۔ ( مذھب )
امہات الامہ ۔ 1907ء ۔ ( مذھب )
دربار تاج پوشی ۔ 1910ء
افسانہ غدر ۔ ( تاریخ )
مطالب القرآن
اتمام حجت
رویائے صادقہ ۔ 1899ء ( ناول )
چند پند ۔ 1937ء ۔( اخلاقیات )
ایامی ۔ 1891ء ۔ ( ناول )
توبتہ النصوح ۔ ( ناول )
الحقوق و الفرائض ۔ ( مذھب )
مراۃ العروس ۔ ناول ۔ 20 اگست 1869ء
حرفِ صغیر ۔ 1869ء( قوائد )
نصابِ خسرو ۔ 1869ء ۔ ( لغت )
نظم بے نظیر ۔ 1909ء ۔ ( نظمیں )
مبادی الحکمت ۔ 1870ء ۔ ( منطق )
منتخب الحکایات ۔ 1868ء ۔ ( اخلاقیات )
رسم الخط
اجتہاد ۔ 1907ء ۔ ( مذھب )
ترجمہ قرآن مجید ۔ 1312ھ
ابن الوقت ۔ 1888ء ۔ ( ناول )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ وکی پیڈیا
*Important MCQs*
Pakistan Joined SEATO in 1954✅
Pakistan Joined CENTO in 1955✅
Remember (SPAA)
Socrates was teacher of Plato.
Plato was teacher of Aristotle.
Aristotle was teacher of Alexander.
*صلح حدیبیہ*
* Sulah e Hudaibiya Was Signed In The Year *628/ 6 A.H*.
Sule e Huabaibiya Was Signed For *10 Years*.
Al-Hudaibiyah Treaty was scribed by *Ali Al-Murtaza (R.A)*
Hudabia is the name of the *tree*
It was a pivotal treaty between Muhammadﷺ, representing the *state of Medina, and the Qurayshi tribe*
قـیدی کا رُلا دینے والا خـط
ایک سچا واقعہ
*" میں تم سے اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، جانتا ہوں تم لوگ سخت حالات میں ہو، فاقے کاٹ رہے ہو، مگر میں یہاں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتا. بس اتنا کر سکتا ہوں کہ کھانا پینا چھوڑ دوں تاکہ خود کو تمہارے ساتھ تو محسوس کروں ۔
یہ وہ خط تھا جس نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا.
خط لکھنے والا قیدی بھوک ہڑتال کر چکا تھا۔ انتظامیہ کوشش کے باوجود بھوک ہڑتال ختم نہ کرا سکی تو اعلیٰ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری ایک نوجوان پولیس افسر کے پاس آ گئی ۔۔۔
یہ قصہ پولیس افسر نے سنایا ۔۔۔ پولیس افسر کے مطابق ۔۔۔
میں نے خط پڑھا تو بے چین ہو گیا۔ فائل اپنے گھر لے گیا اور وہ خط اپنی اہلیہ کو دکھایا تو وہ رونے لگی۔
میں نے اس قیدی کی فائل پڑھی، وہ قیدی ڈکیتی کے الزام میں سزا بھگت رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جن کے گھر میں ڈکیتی ماری تھی انھوں نے مقدمہ کیا اور نہ تھانے آئے، سب کچھ سرکاری مدعیت میں ہوا اور ملزم کو سزا ہو گئی۔
میں اگلے ہی روز ملیر میں اس قیدی کے گھر چلا گیا۔ اس کی اہلیہ اور تین بچے ملیر کھوکھرا پار میں ایک کمرے کے ٹین کی چھت والے گھر میں رہتے تھے۔ صحن ایک کونے میں چولہا رکھ کے کچن اور دوسرے کونے میں چادر کے پیچھے بالٹی اور اینٹیں رکھ کے واش روم اور ٹوائلٹ بنایا گیا تھا۔
میں نے قیدی کی اہلیہ سے تفصیلات پوچھیں تو کہنے لگی کہ وہ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ کراچی کے خراب حالات کے دوران فائرنگ سے اس کا گدھا مر گیا۔ وہ کئی دن تک مزدوری ڈھونڈتا رہا مگر اسے کام نہ ملا۔ ادھر بچے بھوک سے بلک رہے تھے، محلے والے مدد کر رہے تھے مگر کب تک ۔۔۔
جب زیادہ تنگ ہوئے تو میں نے اسے کہا کہ کہیں سے بھی راشن لے کر آؤ ورنہ میں بچوں کو مار دوں گی۔ وہ خاموشی سے چلا گیا اور پھر شام کو اطلاع آئی کہ ڈکیتی مارتے ہوئے اسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ڈکیت نہیں ہے، اسے میں نے ڈاکو بنا دیا۔ خاتون روتے ہوئے بتا رہی تھی۔
اس گھر کی حالت خاتون کے بیان کی گواہی دے رہی تھی، میں وہاں سے نکل کے اس گھر میں گیا جس میں ڈکیتی ماری گئی تھی۔ انھوں نے جب تفصیلات بتائیں تو میرے ہوش اڑ گئے۔
انھوں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت گھر میں خواتین تھیں، وہ شخص پستول کے ساتھ گھر میں داخل ہوا، اور خواتین کو ایک جانب جمع ہونے کا کہا۔ بزرگ خاتون خانہ نے کہا کہ کسی کو کچھ مت کہنا، زیور اور رقم اس الماری میں ہے، وہ لے لو۔ مگر اس نے کہا مجھے رقم نہیں چاہئے، میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا، اس لئے شور مت مچانا اور مجھے صرف یہ بتائیں کہ کچن کس طرف ہے، خاتونِ خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے حیرانی اور پریشانی سے اسے کچن بتایا۔ وہ شخص کچن میں گیا، ہم سے ایک چادر لی اور کچن میں موجود راشن چادر میں جمع کر کے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ہم سے معذرت بھی کر کے گیا۔
خاتونِ خانہ نے کہا کہ ہم تو حیران رہ گئے تھے، اور خاموش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک باہر شور ہوا۔ ہم نے پتا کیا تو معلوم ہوا کسی محلے والے نے مشکوک حالت میں چادر میں سامان سمیٹے اس گھر سے نکلتے دیکھا تو شور مچا دیا، جس پر محلے والوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ خاتون خانہ اور اس گھر کے مردوں کا کہنا تھا کہ طریقہ واردات اور صرف راشن چوری کرنے سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شخص ضرورت مند ہے، اس لئے ہم نے اس شخص کے خلاف تھانے گئے اور نہ مقدمہ کرایا۔
میں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا تو اس نے بتایا کہ محلے والے پکڑ کے لائے تھے، اس نے اعتراف بھی کیا کہ ڈاکہ مارا ہے اور اس کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا وہ نقلی تھا۔ مقدمہ کرانے کوئی نہیں آیا تھا تو ہم نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے سزا دے دی۔
میں نے انکوائری رپورٹ تیار کی، ساتھ ہی اس گھرانے کے افراد کے بیان لگائے جن کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی، اور تفصیل اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ مقدمہ عدالت میں دوبارہ چلا، اس شخص کو چند دن میں ہی ضمانت اور کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی۔
وہ شخص رہا ہوا تو میں نے اسے کہا کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرنا، اور اسے کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو اس نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ مجھے کہیں مزدوری دلوا دیں۔
اب وہ شخص اپنے گھر کی قریبی پولیس چیک پوسٹ پر سویلین ملازم ہے۔
یہ ہڑتالیں اور لاک ڈاؤن کتنے گھر اجاڑتے ہیں، کتنے گھروں میں فاقے کراتے ہیں اور کتنے ڈاکو پیدا کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ بےحس حکمران لگا سکتے ہیں اور نہ ہمارا عدالتی نظام۔“
(حالات ہماری سوچوں سے بھی کہیں زیادہ خراب ہیں)
*Important urdu MCQs*
اردو ڈراما کا "مارلو" کسے کہتے ہیں؟
1 آغا حشر
2 امتیاز علی تاج
3 مرزا ادیب
4 واجد علی شاہ
2) اردو کے پہلے ڈرامے کا نام بتائیے ؟
1 رستم و سہراب
2 رادھا کنہیا
3 انارکلی
4 اسیر حرص
3) "تعلیم بالغاں" کس کا ڈراما ہے
1 حالی
2 اشفاق احمد
3 خواجہ معین الدین
4 شوکت تھانوی
4) اردو کا پہلا ڈراما نگار کسے کہا جاتا ہے ؟
1 آغا حشر
2 واجد علی شاہ
3 امتیاز علی تاج
4 آرام
5 رستم سہراب کا مصنف کون ہے ؟
1 آغا حشر
2 مرزا ادیب
3 امتیاز علی تاج
4 اشفاق احمد
6 کتاب "یہودی کی لڑکی" کس کا ڈراما ہے ؟
1 امتیاز علی تاج
2 مرزا ادیب
3 آغا حشر
4 امجد اسلام امجد
7) کتاب "برصغیر کا ڈراما"کس کی تصانیف ہے؟
1 عشرت رحمانی
2 وقار عظیم
3 ڈاکٹر اسلم قریشی
4 ڈاکٹر وحید قریشی
8) اردو ڈرامے کا آغاز کس صدی میں ہوا ؟
1 اکیسویں
2 انیسویں
3 پندرہ ہویں
4 سولہویں
9) ڈرامے کے کتنے عناصر ہیں ؟
1 پانچ
2 نو
3 تین
4 سات
10) ابتدا میں اردو ڈراما کن کہانیوں پر مبنی تھا؟
1 یونانی
2 ایرانی
3 ہندی
4 فارسی
*جوابات*
1 آغا حشر
2 رادھا کنہیا
3 خواجہ معین الدین
4 واجد علی شاہ
5 آغا حشر
6 آغا حشر
7 ڈاکٹر اسلم قریشی
8 انیسویں
9 پانچ
10 یونانی
*بڑی تبدیلیوں کے ساتھ نئی انڈر گریجویٹ اور ایم فل/ پی ایچ ڈی پالیسی منظور*
اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان نے ملک بھر کی جامعات اور ڈگری کالجوں کے لیے انڈر گریجویٹ اور ایم فل/ پی ایچ ڈی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، دونوں پالیسیز کا اطلاق اسی سال 2023 سے ہوگا اور یہ نئے دیے جانے والے داخلوں سے نافذ العمل ہوں گی۔ پالیسیز کی منظوری عید سے قبل دفتری امور کے آخری روز میں کمیشن کا اجلاس بلاکر دی گئی ہے، انڈر گریجویٹ پالیسی کو منظور کرتے ہوئے دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری اور چار سالہ بی ایس پروگرام کے خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔ ایم فل/پی ایچ ڈی پالیسی کی عبوری طور پر منظور کرتے ہوئے کیمشن کی جانب سے چیئرمین ایچ ای سی کو اس بات کا اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ایم فل/ پی ایچ ڈی پالیسی میں کمیشن کے رکن ڈاکٹر عطاء الرحمن کے سفارش کردہ نکات کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔ مذکورہ دونوں پالیسیز کے حوالے سے انڈر گریجویٹ اور ایم فل/پی ایچ ڈی کی سطح پر داخلوں ، فریم ورک اور پروگرام اسٹرکچر میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جس کے مطابق اب یونیورسٹیز سے الحاق شدہ سرکارہ و نجی کالجوں میں کرائے جانے والے دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری(اے ڈی) پروگرام میں امتحانی نتائج گریڈز یا ڈویژن کے بجائے “سی جی پی اے” کی بنیاد پر جاری ہوں گے۔ چار سالہ بی ایس کرنے کے خواہشمند طلبہ کو جامعات کے پانچویں سیمسٹر میں داخلے کے لیے اے ڈی پروگرام میں 2.0 سی جی پی اے لینا بھی لازمی ہوگا جبکہ دو سالہ اے ڈی پروگرام میں بھی بی ایس پروگرام کی طرز پر 3 کریڈٹ آورز کی انٹرن شپ لازمی کردی گئی ہے۔ ایسوسی ایٹ ڈگری اور بی ایس پروگرام کے تمام ڈسپلن میں لازمی جنرل ایجوکیشن میں انٹرپینیورشپ کا مضمون بھی لازمی کردیا گیا ہے جبکہ چار سالہ بی ایس پروگرام میں پہلی بار دہری اسپیشلائزیشن (ڈبل میجر) کی سہولت دیتے ہوئے اس کے کریڈٹ آورز 168 تک کریڈٹ گئے ہیں ،تاہم ایسوسی ایٹ ڈگری کے کریڈٹ آورز 60 سے 72 اور نارمل بی ایس پروگرام(سنگل میجر) کے کریڈٹ آورز 120 سے 144 متعین کیے گئے ہیں۔ انڈر گریجویٹ پالیسی میں لازمی جنرل ایجوکیشن کے مضامین 30 کریڈٹ آورز کے ہی ہوں گے اور ایسوسی ایٹ ڈگری کی طرز پر بی ایس میں ان مضامین کو ابتدائی 4 سیمسٹر میں ہی ختم کرنا ہوگا۔
بڑی تبدیلیوں کے ساتھ منظور کی گئی ایم فل / پی ایچ ڈی پالیسی کے مطابق داخلہ ٹیسٹ اگر متعلقہ یونیورسٹی خود لے گی تو ایم فل کی سطح پر ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 60 فیصد اور پی ایچ ڈی کی سطح پر 70 فیصد کردیے گئے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم بین الشعبہ جاتی ( انٹر ڈسپلنری کوالیفکیشن) کے تحت پی ایچ ڈی کرنا چاہے تو اسے دیگر لوازم پورے کرنے کے ساتھ داخلہ ٹیسٹ بھی 70 فیصد مارکس کے ساتھ کلیئر کرنا ہوگا۔ بتایا جارہا ہے کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن کی جانب سے ٹیسٹ کو آئوٹ سورس کرنے اور یونیورسٹی کے بجائے دیگر کسی ادارے سے کرانے کی مخالفت کی گئی ہے، واضح رہے کہ ٹیسٹ آئوٹ سورس(GRE/GAT/HAT) کرنے کی صورت میں ایم فل کی سطح پر داخلہ ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 50 فیصد اور پی ایچ ڈی کے لیے 60 فیصد تجویز کیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں عبوری منظور کی گئی ایم فل/پی ایچ ڈی پالیسی میں تھیسز جمع کرائے وقت ایک نیا تحریری امتحان comprehensive exam بھی متعارف کرادیا گیا ہے جو اس سے قبل نہیں تھا، کورس ورک اور ریسرچ ورک مکمل کرنے والے ہر طالب علم پر یہ امتحان لازمی ہوگا۔ چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد سے رابطہ کیا تو انھوں نے دونوں پالیسیز کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ” ایم فل/پی ایچ ڈی کی پالیسی کی منظوری فی الحال عبوری طور پر دی گئی ہے اور کمیشن نے انھیں اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ سابق چیئرمین ایچ ای سی اور کمیشن کے موجودہ رکن ڈاکٹر عطاء الرحمن کی تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ مجوزہ پالیسی میں پی ایچ ڈی میں داخلے سے قبل دو ریسرچ آرٹیکل کی اشاعت ضروری تھی تاہم اب یہ شرط نکال دی گئی ہے، ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایم فل/پی ایچ ڈی پالیسی ایسی رکھی گئی ہے کہ اب جامعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بانٹی نہیں جائیں گی بلکہ اصل ریسرچ ہوگی اور پی ایچ ڈی کا انبار لگانے کے بجائے معیاری تحقیق کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔ واضح رہے کہ عبوری منظور کردہ ایم فل /پی ایچ ڈی کی پالیسی میں ایم فل کی ڈگری تفویض ہونے تک پی ایچ ڈی میں داخلہ نہ دینے کی شرط رکھی گئی تھی تاہم ڈاکٹر عطاء الرحمن کی جانب سے صرف ایم فل مکمل ہونے پر پی ایچ ڈی میں عبوری داخلے کی تجوہز کے ساتھ ایک بڑی تجویز بھی سامنے آئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت ہونی چاہئے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں معیاری ریسرچ کی صورت میں یہ سہولت طلبا کو حاصل ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں ایچ ای سی نے سال 2016 میں اس سہولت پر پابندی عائد کردی تھی اور 2017 سے ایسی پی ایچ ڈی اسناد کی تصدیق روک دی گئی تھی تاہم اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا چیئرمین ایچ ای سی اس بڑی تجویز سے اتفاق کرکے اسے پالیسی کا حصہ بنا پائیں گے۔ علاوہ ازیں ایم فل میں 24 کریڈٹ آورز کے کورس ورک کو 3 سیمسٹر میں 30 کریڈٹ آورز تک بڑھایا جاسکتا ہے جس کے بعد ریسرچ ورک لازمی نہیں ہوگا، ایسی صورت میں طالب علم صرف ڈیڑھ سال میں ہی ایم فل مکمل کرسکتا ہے۔ پالیسی کے مطابق پی ایچ ڈی میں مقابلے کے جمع کرانے کے بعد open defence لازمی ہوگا ، مزید براں تھیسز بیرون ملک بھجوانے کے بجائے ملکی سطح کے اسکالر سے evaluate کرنے کی تجویز دی گئی تھی ،تاہم ڈاکٹر عطاء الرحمن کی جانب سے اس تجویز کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ سائنس کے مضامین کے تھیسز پر صورت غیر ملکی پروفیسرز کے پاس ہی بھجوائے جائیں۔ علاوہ ازیں ایک تجویز میں کہا گیا تھا کہ بغیر طالب علم کی اجازت کے ریسرچ سپر وائزر اس کے تحقیقی کام کو استعمال نہیں کرسکتا تاہم اس تجویز کی مخالفت میں کہا گیا کہ یہ طالب علم اور سپر وائزر کی shared property ہوتی ہے۔ ادھر جامعہ کراچی کے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے افسر جاوید اکرم کے مطابق ریجنل ڈائریکٹر ایچ ای سی کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں کراچی یونیورسٹی نے انڈر گریجویٹ پالیسی پر اپنی سفارشات پیش کی تھیں جن میں طلبا کی سہولت اور معیار تعلیم کو دیکھتے ہوئے نکات شامل کیے گئے تھے جسے پالیسی میں شامل کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں منظور کی گئی انڈر گریجویٹ پالیسی سے پریکٹیکل لرننگ لیب (اسپورٹس ، یوتھ کلب اور انٹرن پینیورشپ) کو نکال دیا گیا ہے اور field experience کے نام پر ایسوسی ایٹ ڈگری اور بی ایس پروگرام میں 3 کریڈٹ آورز کی انٹرن شپ لازمی کی گئی ہے۔ ایسوسی ایٹ ڈگری کو سیمسٹر سسٹم پر چلانے کی تنبیہ کی گئی ہے، واضح رہے کہ سندھ کی سرکاری جامعات سے الحاق شدہ سرکاری کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری اس وقت سالانہ نظام امتحانات کے تحت پرانے نصاب پر ہی چل رہی ہے۔
*Important URDU MCQs*
*1۔ آپ بیتی سے کیا مراد ہے؟*
جس میں کوئی شخص اپنی ذاتی زندگی کے تجربات تحریر کرے۔
*2۔ سوانح نگاری کسے کہا جاتا ہے؟*
جس میں مصنف کسی دوسری شخصیت کے حالات زندگی بیان کرے۔
*3۔ کسی تقریب، جلسے یا واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے کو کیا کہا جاتا ہے؟*
روداد نویسی
*4۔ قصیدہ کسے کہتے ہیں؟*
جس میں کسی زندہ انسان کی تعریف کی جائے۔
*5۔ مرثیہ سے کیا مراد ہے؟*
جس میں شاعر کسی کی وفات پر غم کا اظہار کرے۔
*6۔ غزل کے معنی کیا ہیں؟*
عورتوں سے باتیں کرنا۔
*7۔ مطلع کسے کہا جاتا ہے؟*
غزل کا پہلا شعر
*8۔ مقطع کسے کہتے ہیں؟*
آخری شعر کو اس میں اکثر شاعر اپنا تخلص استعمال کرتے ہیں۔
*9۔ حسن مطلع کسے کہا جاتا ہے؟*
مطلع کے بعد والا شعر
*10۔ بیت کسے کہتے ہیں؟*
جو شعر نہ مطلع ہو اور نہ ہی مقطع۔
*11۔ بیت الغزل کسے کہا جاتا ہے ؟*
غزل کے بہترین شعر کو۔
*12۔ قصیدہ "قصیدہ بانت سعاد" کس کی تصنیف ہے؟*
حضرت کعب بن زہیر رض
*13۔ "قصیدہ بردہ شریف" کس کی تصنیف ہے؟*
امام شرف الدین بوصیری
*14۔ اردو زبان کا پہلا مرکز کون سا ہے؟*
دہلی
*15۔ خدائے سخن کس کو کہا جاتا ہے؟*
میر تقی میر
*آج - یکم؍مئی 2018*
*اردو کے ممتاز جدید ناقد و ادیب ، صحافی اور معروف شاعر” پروفیسر فضیلؔ جعفری صاحب “ کا یومِ وفات...*
*پروفیسر فضیل جعفری* *۲۲؍جولائی۱۹۳۶ء* کو *الٰہ آباد* کے ایک قصبےمیں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا تدریسی کام اورنگ آباد سے شروع کیا اور کوئی دس برس وہاں پڑھا یاپھر ۱۹۷۰ میں وہ برہانی کالج(ممبئی) سے وابستہ ہوئے۔ وہ دوبار مشہور روزنامہ انقلاب (ممبئی) کے مدیر بنے اور کچھ مدت وہ بطور ایڈیٹر ہفت روزہ بلٹز (اُردو) سے بھی متعلق رہے۔ موصوف انگریزی کے ایک میگزین *’ وَن انڈیا ون پیپل‘* کے ایڈیٹر بھی کام کر چکےہیں۔
ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے *چٹان اور پانی، افسوس حاصل کا، کمان اور زخم‘ ، صحرا میں لفظ اور رنگِ شکستہ* شائع ہو چکے ہیں۔ انھیں ملک کا مشہور اعزاز ' غالب ایوارڈ' بھی تفویض کیا گیاتھا۔
*یکم؍مئی ٢٠١٨ء* کو *فضیلؔ جعفری، ممبئی* میں انتقال کر گئے ۔
*ﺑﺤﻮﺍﻟۂ : ﭘﯿﻤﺎﻧۂ ﻏﺰﻝ ( ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ ) ،ﻣﺤﻤﺪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺤﻖ،ﺻﻔﺤﮧ :363*
🌹✨ *پیشکش : اعجاز زیڈ ایچ*
༺━━━━━━━━━━━━━━━༻
💐 *ممتاز شاعر فضیلؔ جعفری کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت...* 💐
آٹھوں پہر لہو میں نہایا کرے کوئی
یوں بھی نہ اپنے درد کو دریا کرے کوئی
---
آتش فشاں زباں ہی نہیں تھی بدن بھی تھا
دریا جو منجمد ہے کبھی موجزن بھی تھا
---
اخلاق و شرافت کا اندھیرا ہے وہ گھر میں
جلتے نہیں معصوم گناہوں کے دیے بھی
---
بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی
آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی
---
دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئے
یہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے
---
دل یوں تو گاہ گاہ سلگتا ہے آج بھی
منظر مگر وہ رقصِ شرر کا نہیں رہا
---
*احساس جرم جان کا دشمن ہے جعفریؔ*
*ہے جسم تار تار سزا کے بغیر بھی*
---
ہر آدمی میں تھے دو چار آدمی پنہاں
کسی کو ڈھونڈنے نکلا کوئی ملا مجھ کو
---
اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر
پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی
---
جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا
کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے
---
کس درد سے روشن ہے سیہ خانۂ ہستی
سورج نظر آتا ہے ہمیں رات گئے بھی
---
کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ
زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو
---
میں اور مری ذات اگر ایک ہی شے ہیں
پھر برسوں سے دونوں میں صف آرائی سی کیوں ہے
---
منزلیں سمتیں بدلتی جا رہی ہیں روز و شب
اس بھری دنیا میں ہے انسان تنہا راہ رو
---
مزاج الگ سہی ہم دونوں کیوں الگ ہوں کہ ہیں
سراب و آب میں پوشیدہ قربتیں کیا کیا
---
*تعلقات کا تنقید سے ہے یارانہ*
*کسی کا ذکر کرے کون احتساب کے ساتھ*
---
ترے بدن میں مرے خواب مسکراتے ہیں
دکھا کبھی مرے خوابوں کا آئینہ مجھ کو
---
یہ سچ ہے ہم کو بھی کھونے پڑے کچھ خواب کچھ رشتے
خوشی اس کی ہے لیکن حلقۂ شر سے نکل آئے
---
*زہر میٹھا ہو تو پینے میں مزا آتا ہے*
*بات سچ کہیے مگر یوں کہ حقیقت نہ لگے*
---
ضد میں دنیا کی بہرحال ملا کرتے تھے
ورنہ ہم دونوں میں ایسی کوئی الفت بھی نہ تھی
●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●
🔳 *فضیلؔ جعفری* 🔳
*انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*
مولوی محمدباقر پر ایک تازہ کتاب
معصوم مرادآبادی
مولوی محمدباقر ہندوستان کی جنگ آزادی میں جام شہادت نوش کرنے والے اوّلین صحافی ہیں۔ان کے قلم کی بے باکی اور جرات وشجاعت کی وجہ سے انگریزوں نے بغیر مقدمہ چلائے انھیں 16ستمبر 1857 کو توپ کے دہانے پر رکھ کر ش ہ ی د کردیا تھا۔ بطور اردوصحافی انھوں نے 1857کی جنگ آزادی میں جو عظیم قربانی پیش کی ہے‘ اس کی نظیر اس ملک کی کسی بھی زبان کی صحافت پیش کرنے سے قاصر ہے۔مولوی محمدباقر کا نام صرف اسی لیے ممتاز نہیں ہے کہ وہ جنگ آزادی کے پہلے شہید صحافی ہیں، بلکہ وہ اردو صحافت کے اوّلین معماروں میں بھی بہت ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔انھوں نے 1836میں ’دہلی اردو اخبار‘ کے نام سے جو ہفتہ وار شروع کیا تھا، وہ بیس سال تک جاری رہا اور اس نے اپنے مواد سے سیاسی، علمی اور ادبی حلقوں میں منفردشناخت قایم کی۔
یوں تو اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ 1822 میں کلکتہ سے شائع ہوا تھا اور اسی مناسبت سے 2022 میں اردو صحافت کے دوسوسال کا جشن بڑے تزک واحتشام سے منایا گیا۔اس موقع پر ان سبھی جید صحافیوں کو یاد کیا گیا جنھوں نے اردو صحافت کی تعمیر وتشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، لیکن اس موقع پر کسی عظیم صحافی پر کوئی کتاب منظر عام پر نہیں آسکی۔زیرنظر کتاب اسی کا ازالہ کرنے کی ایک حقیر کوشش ہے۔
مولوی محمد باقر کے ’دہلی اردو اخبار‘ کی خوبی یہ تھی کہ یہ پہلا مکمل اور معیاری اخبار تھا۔ اس کے ذریعہ ہمیں اس دور کے سیاسی حالات کے علاوہ ادبی سرگرمیوں کا بھی پتہ چلتا ہے اور غالب و ذوق کی چشمک کے قصے بھی معلوم ہوتے ہیں۔
یوں تومولوی محمد باقر کے صحافتی اکتسابات اور ان کی شہادت پر درجنوں مضامین اور مقالے لکھے گئے ہیں، لیکن یہ تمام ان کی زندگی،صحافت اور قربانیوں کا مکمل احاطہ نہیں کرتے۔ راقم نے بڑی دوڑدھوپ کے بعد اس موضوع پر انتہائی اہم مضامین اکٹھا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کتاب کا آغاز راقم کے طویل مقدمہ سے ہوتا ہے۔ دوسرا مضمون مولوی محمدباقر کی قریبی عزیزہ محترمہ بلقیس موسوی کا ہے جس میں انھوں نے مولوی محمدباقر کے خاندان پرتفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں اردو صحافت کے محقق اعظم مولانا امداد صابری کا ایک انتہائی قیمتی مضمون شامل ہے، جو انھوں نے براہ راست مولوی محمدباقر کے ذخیرے سے استفادہ کرکے تحریر کیا ہے۔ محقق اورصحافی ڈاکٹر طاہر مسعود نے مولوی محمد باقر کے تصورصحافت کا بھرپوراحاطہ کیاہے۔ یہ مضمون طاہر مسعود کی 1300 صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب کے ایک باب کا خلاصہ ہے۔ان کے علاوہ اس کتاب میں جن اہل قلم کے مضامین شامل ہیں، ان میں پروفیسر صفدرامام قادری،عارف عزیز،فاروق ارگلی، سہیل انجم، عادل فراز، اسد رضا اورلئیق رضوی کے نام قابل ذکر ہیں۔زیرنظر کتاب میں شامل مضامین کی خوبی یہ ہے کہ ان میں سے ہرمضمون مولوی محمدباقر اور ان کی صحافتی خدمات کے منفرد پہلو پرروشنی ڈالتا ہے۔ بعض مضامین دستاویزی نوعیت کے ہیں اور اسی کتاب کے لیے لکھوائے گئے ہیں۔
کتاب کا نام: اولین شہید صحافی مولوی محمدباقر
مرتب: معصوم مرادآبادی
*ونگار*
اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔
وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں میں "بلاندرہ" اور"اشر" کےنام سے بھی جانا جاتا ھے۔ ونگار کالفظی مطلب
جو میں سمجھا ھوں کہ بلا معاوضہ اجتماعی کام ( مفتا)
جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے ۔ کھیتی باڑی کے کام مینوئلی ھوتے تھے۔ھمارےعلاقہ میں اونٹوں کے ذریعے ھل چلائےجاتے (نالی پھیرنا) کھیت کو ھموار کرنا۔ تال وغیرہ۔ گندم اور چنےکی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ھوتا، پڑ پکائے جاتے۔ کباڑ ،جڑی بوٹیاں (بھوکل) وغیرہ تلف کی جاتیں۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب تھے اور زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ھوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکے کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ جب کچے مکانات کی چھتوں کی مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا بھاری کام ھوتاتواس موقعےپر بھی وِنگار برپا کیا جاتا تھا ۔
یہ سارے کام سب لوگ خوشی، جوش و ولولے سے انجام دیتے تھے ۔ ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول اور شہنائی والے کو بھی بلایا جاتا تھا۔ اور کام کے دوران منچلوں کا رقص وغیرہ بھی ھوتا تھا اور ڈھول کی تھاپ پر درانتی بھی چلائی جاتی تھی۔
نوجوان، (کچھ بزرگ بھی) کام کرتے ھوئے مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے اور ھنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام ھو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رواج موجود ھے لیکن کم کم۔ کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نے ان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ھے۔
ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا۔ اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے اونٹوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
ہر گھر سے جفاکش، محنتی کاشتکار اپنے اونٹ لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔ یہ سلسلہ ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا۔۔۔
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل تھل کےسب دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے۔ جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، گندم اورچنےکی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے نمٹائے جاتے تھے۔
جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے۔ کوئی فرد انکار نہیں کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔
ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، لنچ ونگار لینے والے کے ذمہ ہوتا۔
خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ھم بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ھوتا تھا۔ پانی گروٹ کے ٹھنڈے مٹی والے گھڑوں میں اونٹوں کے کچاوے میں رکھ کر علی الصبح ھی روانہ کر دیا جاتا اور یہ ھم بچوں کی ڈیوٹی ھوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے گھڑوں کو پانی گرائے بنا کیسے سائے کی طرف سرکاتے رھنا ھے۔ اتنا ٹھنڈا اور مذیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔
ھمارے فرائض منصبی میں ایندھن اکٹھا کر کے حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر لازمی شامل ہوتے۔ کچھ لوگوں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ مسی روٹیاں ( چنے کی روٹی) پکاتے اس روٹی کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایک مقامی شاعر " درد"
نے کیا خوب کہا ھے۔۔
"جڈاں تنگ حالات دی جنگ چھڑ پئی"
"تینوں "درد" ونگار نہ لبھی
⭕ہندو توا تنظیموں کو دھچکا، کیلفورنا سینیٹ نے ذات پات کی بنیاد پر تفریق سے متعلق بل کی توثیق کر دی
28 اپریل, 2023 بھارت
444کیلفورنیا28اپریل(کے ایم ایس)امریکہ کی مغربی ریاست کیلفورنیا کی سینیٹ جوڈیشیری کمیٹی نے ذات پات کی بنیاد پر تفریق سے متعلق ایک بل کی اتفا ق رائے سے توثیق کی ہے ۔ یہ بل کیلفورنیا کی پہلی مسلم افغان نژاد سینیٹر عائشہ وہاب نے پیش کیا تھا اور کمیٹی کے تمام آٹھ ارکان نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔
امریکہ میں قائم ہندو توا کی علمبردار کئی تنظیمیں ذات پات کی تفریق کے خلاف اس بل کی سخت مخالف کر رہی تھیں ۔ تاہم اسکی سینیٹ کی طرف سے اسکی توثیق سے انہیں شدید دھچکا لگا ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر زیادتیوں کا شکار افراد بل کی منظوری سے انتہائی خوش ہیں اور وہ اسے اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ سینیٹ جوڈیشیری کمیٹی کی متفقہ تائید کے بعد بل کا قانونی شکل اختیار کرناطے ہے۔عائشہ وہاب نے یہ بل مارچ کے مہینے میں پیش کیاتھا جسے سینیٹ کی جوڈیشیری کمیٹی نے منگل کے روز پاس کیا۔
عائشہ وباب کا کہنا ہے کہ اس بل میں سب سے بڑی چیز تحفظ ہے ، اس سے لوگوں کو محسوس ہو گا کہ اسن کے پاس کچھ ہے اور اگر انکے خلاف ذات پات کی بنیاد پر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو وہ اسکے خلاف اقدامات کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کیلفورنیا میں اس بل کے قانون شکل اختیار کرلینے بعد دیگر امریکی ریاستوں پر بھی اسکے اثرات مرتب ہونگے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore
