ریاست پاکستان اب صرف ریاست پنجاب بن گئ ہے باقی صوبے اور قومیتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی، جب بلوچستان میں جافر ایکسپریس ٹرین پر حملہ ہوتا ہے اور لوگوں کو یرغمال بنایا جاتاہے تو ہر نیوز چینل، صحافی، اور فوجی قیادت اس پر بات کرتی ہے لیکن جیسے ہی کوئی دوسرے قوم کے لوگ مرتے ہیں تو یہی میڈیا، صحافی، اور فوجی قیادت خاموش رہتے ہیں کل دھماکے میں ڈاکٹر سمیت دیگر لوگ تقریباً پشتون قومیت سے تعلق رکھتے تھے نا کوئی صحافی بولا نہ کسی نیوز چینل نے بات ہای لایٹ کی
ریاست کا یہ دوغلا پن اور منافقت مزید برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ریاست پنجاب کی ذمے داری اب صرف پنجاب ڈومیسائل رکھنے والوں کی حفاظت میں مصروف ہے۔
Politics of Lakki Marwat
سیاست پہ لکی مروت چہ
حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کو اصل مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے
بجائے اس کے کہ کون زیادہ سیاسی اور اصل سیاستدان ہے مسائل جیسا کہ امن کی بحالی، موت کا کھیل، اور بغاوت کو جنم دینا، لوگوں کی شناخت ختم کرنا، روزگار، اور معاشی عدم استحکامی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر 1971 جیسے ٹریجڈی سے بچنا ہے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنی ہے تو لوگوں کو سنو ان کے مسائل کو حل کرو، عوام کے اصل مسائل جانو، عوام کے مسائل کو سیریز لینا ضروری ہے نہیں تو ہم ایک اور ٹریجڈی کے ذمہداری ہونگے۔
بجائے کہ ہم کائنیٹک اپروچ اپنانے، اور سٹیٹ کو ہارڈ سٹیٹ بنائے بجائے اس کے سیاسی اپروچ اپنانے کی ضرورت ہے
سیاسی مسائل کو سیاست اور ڈپلومیسی کے ذریعہ حل کرنا ہوگا ورنہ جیسے بنگال ایک خوشحال زندگی بسر کررہا ہے، عنقریب بلوچستان بھی کرے گا اور شاید ملک کا کوئی اور حصہ بھی کرے۔
اپ میں سے کتنے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ٹی ٹی (افغانستان )نے امریکہ کو شکست دے کر باہر کیا ہیں؟
نن مه عبدالولي خان کتاب رښتيا رښتيا دی چی یو چیپټر «The Price mullah» سر جارج کننګهم واله ډایری وه اغا چی مه کتل چه اغا چه کننګهم لیکلي دی چه ده مروت قبیله یو غټ غدار ملا مروت وه چه 10,15 روپیو به یه اسلام او اخپل غیرت په انګرېزانو خرچه وه
وس ده پته مه کوله چه په 1935 نه تر 1942 پوره ده کم ملا ده مروت قبیله نماينده وه؟
پی ټی ایم خلاف په سوشل ميډيا روان سازش حصه کله هم جوړ نشي، کله هم داسي روان سازش سره مخي ته شي نو اول تحقيق ضرور وکړي، ده خلکو همیشه حقوق غوښتونکو خلاف دغه سي بلها کوششونه کړي دي او اخپلو عزائم که کامیابه شوی هم دی خو دي زل ماتي ورکی پختونو ، دي واری چیري هم ده سازش ملګري نشی کنی حال مو به کله هم سم نشي.
خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں سب سے اتفاق رائے مانگی ہے ایک نئے ضربِ عضب کی طرح آپریشن شروع کرنے کی ، میں آپنے مشران اور لوگوں سے التجاء کرتا ہوں ،خدارا اب تو متحد ہوجائے ، گلی گلی اور گاؤں گاؤں یہ کیمپین چلائے کہ خدا کیلئے باہر نکلے ، میں خواجہ آصف کو بولتا ہوں کہ ہمارے وسائل ، ہمارا خون اور ہمارے سرو پر ڈالر کما کر اپکو سکون نہیں مل رہا ؟
اپ سب جن کے سگنلز ٹھیک اپنے ساتھیوں کو بتائے اس بارے میں انہیں آگاہ کریں ۔
پختون بہ دغسے تباہ و برباد وی ، کہ چیری یی اخپل ورور تہ زڑہ لہ حسد او لہ کینہ صفا نہ کو ۔
مروتو چه اته پته ، ګپ مو ګاړه کنه وس به چانه پاته کو اخپلو مشرانو باندې مو ډیر یقین وه کنه ، عزت مو لوټ کیژی په کورونو مو چوکیداران وژي او ګډي ژي
پرون یو ورور فریاد کو ، ویل یی که په بمو او لانچرو مو نکی مړ له وژي به مو مړه کی ، چه په کومو علاقو اپریشن لګیا دي نه چوک وتای سی او نه چوک ورتلای سی،
هسې خبر ریشتیا ده چه سختی په انسان اخپله نه یی راغلي پروا یی نه کو ، باقي ده الله رحم وکی.
آئ ایم ایف پاکستان کو بہت سخت شرائط پر قرضہ دینے پر راضی تھا لیکن پاکستان قرضہ لینے پر ہچکچا رہا تھا پر اب شرائط ماننے اور قرضہ لینے پر راضی ہوگیا ہے ایک طرف اگر ہم پاکستان کے معاشی حالات کا جائزہ لے اور دوسری طرف پاکستان کے سیاسی حالات کو دیکھے ، عمران خان کی مثال اگر لے لے ہم ان کو گیم جینجر کہتے آرہے ہے، کیا گیم جینجر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک کو ترقی کے بجائے پستی پر چھوڑ دیا جائے یا اپنے کئے کی سزا دوسرے پر ڈال دی جائے؟ یا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو بھی ہو ملک کو ترقی کی راہ پر لانا ہوتا ہے ،میں نے تو جتنا دیکھا اور سنا ہے گیم جینجر کے بارے میں وہ ملک کو معاشی بحالی اور ترقی کی راہ پر لانے والے کو کہا جاتاہے ، اور اب ہم اگر خیبرپختونخوا کے حالات کی طرف رخ کرے اج کل بدترین حالات سے گزر رہا ہے اس حالت میں حکومت کو چھوڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ اپ حکومت کرنے میں ناکام ہے لہذا ایک طرف بیٹھ جائے اور سیاست سے برطرفی احتیار کرلے ہم کسی اور سے کیسے گلے شکوے کرسکتے ہے اپ تو خود کو ہمارے رول ماڈل کہتے تھے ہم نے اپکو سارے عوام کا خیرخواہ سمجھا تھا لیکن اپ نے ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا،
اور اگر ہم اس کے برعکس شہباز شریف کو دیکھے ان کو تو ہم برسوں سے ناکام دیکھتے ہوئے آرہے ہے انہوں نے تو کھبی ملک اور قوم کو راحت کی زندگی نہیں دی ہمیشہ پٹھانوں سے تعصب رکھا ہمیشہ افغان پالیسی جنگی رکھی ان سے گلہ ہی کیا ان کا دھندہ ہی اسی بارڈر سے چلتا ہے،
جب جب پاکستان کو افراط کا سامنا ہوا ہے تب تب انہوں نے ڈالر لینے کا ذریعہ یہی بارڈر رہا ہے۔
په پاکستان کی هره دومه ورز حکومتونه بدلي ګی او داسې ډیر حکومتي تلې دی او ډیر راغلي دي خو په پاکستان کې یو هم داسي حکومت ندي راغلي چه ده خداي تعالي مخلوق خدمت ئې کړائ وی،
اغا باچاخان بابا یوه خبره ده چه خدای ته ده خدمت ضرورت نشته اغا خدمت مونګ غونده نا فرمان خلق بیا سنګه وکو ها اګر مونګ ده اغا مخلوق خدمت وکو بیا البته اغا خوشحاله کېږي او کیدای شي چه مونګ غونده کې نافرمانۍ خلق وبخښي په دغه خبره،
نو مونږ ته پکار ده چه مونګ ده الله تعالی مخلوق خدمت وکو.
ڈالری جنگ ، ڈالری جنگ !
پولیس نشانہ پر اور فوج کے نشانے پر ،
سیاست کہی دور دور تک دیکھائی نہیں دیے رہی ، ہمارے ہاں سیاست کا بھوت صرف اور صرف الیکشن اور کسی غریب کو دبانے کے وقت استعمال ہوتا ہے، لیکن سیاست کا اصل استعمال تو علاقے کی خدمت اور لوگوں کو شعور فراہم کرنے کا نام ہے ، ہمارے نام نہاد سیاسی لیڈر دور دور تک نظر نہیں آرہے کہا ہونگے بیچارے ، کیا ان کا دل نہیں کرتا ہوگا علاقے کو امن دینےکا یا ان کو دبا دیا گیا ہے یا پھر ڈالر کے زریعے چپ بیٹھے ہے (منافق) لیڈر ۔
اور ہاں گورنمنٹ گرلز کالج لکی مروت کے ہاسٹلز میں ہمارے ملک کے چوکیداروں نے پنا لے رکھی ہے ، اور 10 تاریخ کو گرلز بیچلر والوں کے پیپرز ہے اور خدا نا خواستہ طالبان اور ان کا اپس میں جھڑپ ہوا اور گرلز کو نقصان پہنچا تو کون ہوگا ذمےدار ؟
اپ بھی سکون سے جیو اور ہمیں بھی سکون سے جینے دو۔
قحط جو اج کل ہو رکھی ہے کیا یہ وہی طریقہ استعمال کیا جارہا ہے سیاستدانوں کی طرف سے کہ جب کوئی قوم یکجا اور شعوری شکل اختیار کررہی ہوں ، اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہو تو پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ قحط سالی میں اتنا غرق ہوجائے اور پیٹ کو بھرنے کیلئے اتنے پریشان ہو جائیں کہ نیا کچھ سوچنے سے قاصر رہے اور اپنے حقوق کیلئے نہ لڑے اور رُخ دوسری طرف موڑ دی جائے.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lakki Marwat
Lakki
28420
