22March
Gujjar
Happy international Gujjar day
Gujjar Youth Forum Mansehra
Sardar Faiz Muhammad Chohan Chairman Gujjar Youth Forum District Mansehra
28/12/2020
گُجـــــــــــر قوم اور کچھ حقائق
اللہ تعالٰی نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کو تعارف بھی بخشا۔ اربوں کی تعداد میں انسان موجود ہیں اور اولادِ آدم نے اپنی اپنی پہچان کے لئیے خود کو قبائل میں تقسیم کر لیا ہے جو کہ ایک درست فعل ہے۔ خود خالق ِارض و سماوات نے قرآن حکیم میں اس بات کی تائید فرمائی ہے کہ قبیلہ یا ذات تمہارے تعارف اور پہچان کے لئیے ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی ایک مخصوص قبیلے کو کسی دوسرے پر برتری حاصل ہے بلکہ اس آیت میں یہ بھی واضح فرما دیا کہ اللہ تعالٰی کے ہاں عزت و عظمت اسی کی ہے جو متؔقی و پرہیزگار ہے۔
گجر قبیلہ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہے اور اس کے ذیلی قبائل کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان ہندوستان میں گجر قبیلہ کے ذیلی قبائل کو چوہان، چیچی، ٹھیکری، پڈانہ، کھٹانہ وغیرہ۔ گجر قبائل اپنے ناموں کے ساتھ سردار، چوہدری، ملک ، میاں اور نواب وغیرہ کی اضافتیں اور خطابات بھی استعمال کرتے ہیں۔
گجروں کے بارے میں ویکیپیڈیا کہتا ہے؛
”گجر،گرجر یاگوجر دنیاکی ایک اہم قوم ہے۔ اس قبیلے کے لوگ بھارت، پاکستان کشمیر، صومالیہ، برما،چیچنیا ، کرغزستان ، ایران ،چین اورافغانستان میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ برصغیر کی قدیم ترین آبادی ہے۔ اور اس علاقہ کے آباد کرنے والی یہی قوم ہے۔ اسی وجہ سے کہ برصغیر کے بہت سے اضلاع و علاقے ان کے نام سے موسوم ہیں۔ مثلا پاکستان میں گوجرانوالہ، گجرات ،گوجرخان،گجر گڑھی، پنڈ گجراں،جنھڈاچیچیاں اوربھارت میں صوبہ گجرات اور اس طرح کے بے شمار گاؤں پاکستان بھارت میں موجود ہیں جو گجر قوم کے نام سے موسوم ہیں ۔ ہزارہ گزیٹیئر میں ہزارہ کو آباد کرنے والی قوم گجر ہے۔ جو صدیوں سے آبادچلی آرہی ہے۔ اور ہزارہ کے قدیم باشندے یہی لوگ ہیں "۔
افغانستان کے 45 ٪ قبائل گجر یا گجروں کے ذیلی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، پاکستان اور بھارت دونوں اطراف کے کشمیر میں گجر سب سے بڑا قبیلہ ہیں۔ ہندکو، شینا، بلتی اور گلگتی علاقوں میں گجر بکثرت موجود ہیں۔ گجر واحد قوم ہیں جن کی اپنی "گوجری" زبان ہے جو پاکستان، کشمیر اور ہندوستان کی جامعات میں ایک مکمل مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ ہند و پاک کے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں باقاعدہ گوجری زبان میں خبروں کی نشر و اشاعت ہوتی ہے۔ جہاں تک دودھ کے کاروبار کو گجروں سے منسوب کیا جاتا ہے تو اس کی حقیقت سے اکثریت نابلد ہے۔ بھینسوں کا پالنا اور دودھ فروشی کے وجہ سے پہچان رکھنا ، یہ امتیاز صرف اور صرف پنجاب با لخصوص ضلع لاہور کے گردو نواح میں ہے اور اس کی وجہ مندرجہ ذیل روایت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سیدنا علی ہجویری المعروف حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے مرشد کریم کے حکم سے جب لاہور تشریف لائے تو اس وقت کفر و شرک اپنے عروج پر تھا۔ مشرک سادھو اور پنڈت لوگوں کے اعمال و افعال، مال و متاع پر مضبوط گرفت رکھتے تھے۔ دریائے راوی کے کنارے گجر قبائل نے ڈھیرے جما رکھے تھے اور دودھ فروشی کیا کرتے۔ لاہور میں ایک مشرک جادوگر تھا اس نے ہر گھر پر پابندی لگا رکھی تھی کہ وہ اپنے دودھ فروشی کے کاروبار کا ایک مخصوص حصہ اس کے دربار پہنچایا کریں۔ اگر کسی وجہ سے اس کو دودھ کا حصہ نا پہنچ پاتا تو ان کی بھینسیں دودھ دینا بند کر دیتیں اور یہ اس جادوگر کے جادو کہ وجہ سے ہوتا تھا۔ (یہ جادو آج کل آپ کو پاکستان کے مختلف اداروں میں بھی نظر آتا ہے جس کو بھتؔہ مافیا کہا جاتا ہے)۔ حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ولایت و عظمت اور آپ کی لاہور آمد کا چرچا ہو چکا تھا، ایک درد مند کے ذریعے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو خبر ہوئی کو ہندو جادوگر کی اس مذموم حرکت کی وجہ سے لوگوں کے مویشی اور کاروبار خراب ہو رہے ہیں۔ آپ نے گجروں کو بلا کر فرمایا آج کے بعد اس جادوگر کو بھتہ دینے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالٰی آپ لوگوں کے مال و مویشی کو سلامتی دے گا۔ لوگوں نے اللہ کے ولی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس جادوگر کو دودھ دینا بند کر دیا۔ اس کو تشویش لاحق ہوئی، معلوم ہوا کہ اللہ کا ایک ولی لاہور میں آیا ہے اور اس نے لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا ہے۔ جادوگر نے اس بات کو سنجیدگی سے محسوس کیا اور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا سامنا کرنے کا اعلان کر دیا۔ ملاقات کے لئیے وقت اور جگہ مقرر کی گئی۔ وقت مقررہ پر حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور جادوگر پہنچ گئے۔ جادوگر نے آپ کی عظمت کو للکارا اور اپنے جادو اور فن کے ذریعے آپ کو شکست دینے کا اعلان کا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ میں ہوا میں پرواز کر سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا پرواز کر کے دکھاؤ۔ لوگوں نے دیکھا کہ جادوگر محوِ پرواز ہو گیا۔ حاضرین کا یقین کمزور پڑنے لگا کہ اللہ کے ولی نے اپنے جوتے کو حکم دیا کہ ہوا میں پرواز کرے اور اس کافر جادوگر کے سر میں جا برسے۔ جو اپنی طاقت سے ہوا میں گیا تھا اللہ کے ولی کے جوتوں کی بارش میں واپس زمین پر آگیا اور ہمیشہ کے لئیے فنا ہو گیا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا دین پر استقامت میں ہے نا کہ کرامت میں۔
اس دن سے آج تک لاہور کے گجر داتا دربارکی غلامی قبول کئیے ہوئے ہیں اور ہر سال عرس شریف پر تینوں دن دودھ کی سبیل لگاتے ہیں۔ گجروں کے وسیلہ سے ہی اللہ نے لاہور کو کفر وشرک کے اس سرغنہ سے نجات دلائی۔
موجودہ وقت میں اگر صرف پاکستان کی بات کریں تو گجر قبائل ملکی تعمیر و ترقی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ محراب و منبر ، جدید علوم و فنون، سیاست و قیادت، فلاحی و تعمیری میدان ہوں یا پھر بین الاقوامی سطح پر ملکی و ملی خدمات۔۔ گجر آپ کو ہر سطح پر نظر آئیں گے۔ اولیاء کی صف میں دیکھا جائے تو ماضی قریب میں کلامِ سیف الملوک کے خالق سراج السالکین میاں محمد بخش عارفِ کھڑی شریف، خالقِ "پاکستان" چوہدری رحمت علی جیسے بزرگ اسی قبیلے سے تھے۔ جو لوگ گجروں کو پسماندہ طبقہ سمجھتے ہیں ان کی آنکھیں کھول دینے کے لیئے ڈاکٹر نعمت علی جاوید کی مثال حاضر ہے جو ایٹمی سائنسدان اور اٹامک انرجی کمیشن کے اعلیٰ عہدیدار تھے۔ ٹی وی اینکرز، جید صحافی، علماء اور اساتذہ بھی موجود ہیں۔ سب کا نام یہاں لکھنا مناسب نہیں اور ممکن بھی نہیں۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب جیسے عظیم فقیہ کا تعلق بھی گجر خاندان سے ہے۔ تمام بڑے بڑے روحانی مراکز اور آستانے بھی گجر اولیاء سے ہی منسوب ہیں۔ ماضی اور حال میں پاکستان کی اعلٰی سیاسی قیادت، ممبرانِ اسمبلی، سپیکر اسمبلی، اعلٰی جج صاحبان، وکلاء ڈاکٹر، علماء بیورو کریٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین اور دیگر انتظامی افسران بھی گجر ہیں۔ میں کئی ایسے گجر حضرات کو جانتا ہوں جو یورپ، مشرقِ وسطیٰ و بعید، امریکہ و آسٹریلیا جیسے ممالک کی بین الاقوامی تجارتی فرموں میں اعلٰی ترین عہدوں پر فائز ہیں۔
جہاں تک جھگڑالو اور فسادی رویہ کی بات ہے تو یہ بنی نوعِ انسان کا مشترکہ المیہ ہے نا کہ کسی مخصوص ذات اور قبیلہ کا۔ اچھائی اور برائی ہر قبیلہ میں موجود ہے حتٰی کے درِ کعبہ کے قرب و جوار میں بھی اور پاپائے روم کے آستانے کے نواح میں بھی، ہیکلِ سلیمانی کے متلاشیوں میں بھی اور رام کے پجاریوں میں بھی۔
استہزاء اور تمسخر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو سخت ناگوار گزرتا ہے۔ اپنے فن اور فضل کے دکھاوے کے لئیے کسی کا مذاق اڑانا قابلِ مذمت ہے۔ تمام قبائل اور قومیں اپنے ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر قابلِ عزت ہیں، کوئی موچی ہے یا نائی، خاکروب ہے یا تخت نشین، دھوبی ہے یا ٹیکسٹائل مل کا مالک۔۔۔ عزت کا پیمانہ صرف اور صرف ایمان اور تقویٰ ہے۔ آخر میں اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو اور مسخروں کو اس حکمِ ربانی سے نصیحت پکڑنی چاہئیے۔
ترجمہ؛ "اے ایمان والو! نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نا کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نا رکھو، کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں"۔
الحجرات۔ آیت نمبر 49
اگر ہم اپنی زبان گوجری کی بقا چاہتے ہیں. تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کو اپڈیٹ رکھنا ہوگا. کیونکہ آج کل کے دور میں نئی ٹیکنالوجی میں بہت سے ایسے چیزیں سامنے آئی ہیں جس کا ہماری زبان میں نام ہی نہیں ہم اپنی زبان بولتے ہوئے یا تو ان کا نام اردو میں لیتے ہیں یا انگلش میں
17/07/2020
گجر قوم کے لیے خوشخبری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افغانستان کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی گوجری زبان کو سرکاری طور پر نصاب میں شامل کرلیا گیا ۔
خیرپختونخوا اسمبلی میں بل پاس ہو گیا ۔
یہ بل سردار محمد یوسف مركزی نائب صدر مسلم لیگ ن نے پیش کیا جسے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا ہے ۔
یقینی طور پر 1857ء کے بعد یہ گجر قوم کی تاریخ میں ایک سنہرا موڑ ہے ۔ 1857ء سے قبل گوجری زبان برصغیر کی سب سے بڑی زبان تھی ۔
لیکن 1857ء میں گجر قوم کی انگریزوں کے خلاف بغاوت اور جنگ کے نتیجہ میں ایسا وقت آیا کہ لوگ گجر کہلانے اور گوجری زبان بولنے سے کترانے لگے کیونکہ یہ گجرقوم پر تاریخ کا سب سے زیادہ مشکل ترین دور تھا ۔ انگریزوں نے ایکٹ 1870ء اور 1872ء کے تحت خاص طور پر گجر قوم کو انتقامی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس ایکٹ کے تحت گجرقوم کو کرمنل قراردیا گیا ۔ ان کی جاگیریں چھینی گئیں ، ان پر ملازمت اور کاروبار ، تجارت و زراعت پر پاندیاں عائد کر دی گئیں اور زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی چھین لیے گئے ۔ یہ قوانین ہر اس انسان پر لاگو ہوتے تھے جو گجر کہلاتا تھا ۔
اس کے چند بڑے برے نتائج جو سامنے آئے وہ یہ تھے :
1۔ گجر قوم کی ایک بڑی تعداد نے گجر کہلانا چھوڑ دیا اور اپنی زمینیں اور اپنی جائیدادیں ، روزگار یا کاروبار بچانے کے لیے گجر کی بجائے کوئی دوسرا ٹائٹل اختیار کیا ۔ اس طرح گجر قوم میں ایک بڑی تحلیل کے ذریعے گجر قوم کا ایک بڑا حصہ کٹ کر قوم سے الگ ہو گیا ۔
2۔ گجر قوم کی بڑی تعداد نے گوجری بولنا چھوڑ دیا ۔ کیونکہ گوجری زبان ہی ان کی اصل شناخت تھی اور انتقامی ہتھکنڈوں اور جبری قوانین سے بچنے کے لیے لوگوں نے اس شناخت کو چھوڑ دیا اور اس طرح گوجری زبان بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد گوجری زبان سے الگ ہو گئی۔ اور اس کے نتیجے میں اردو اور ہندی زبانیں برصغیر کی سب سے بڑی زبانیں بن گئیں ۔ جبکہ اس سے قبل گوجری زبان ہی برصغیر کی سب سے بڑی زبان تھی ۔ خاص طور پر تیرہویں صدی عیسوی تک تو یہ برصغیر کی اکثر ریاستوں میں سرکاری زبان رہی لیکن اس کے بعد بھی مغلیہ دور تک گوجری زبان بولنے والوں کو اتنی اکثریت حاصل تھی کہ بادشاہ اکبر کے دربار میں اس پر بحث ہوئی کہ گوجری زبان سرکاری زبان ہو کہ فارسی ۔۔۔۔ چونکہ مغلوں کے حواری زیادہ تر فارسی تھے اس لی فارسی زبان کو مغلیہ حکومت میں سرکاری زبان قرار دیا گیا ۔ لیکن اس کے باوجود بھی گوجری زبان کا اتنا اثر رسوخ تھا کہ ترک اور فارسی بولنے والے بھی اسے بولنے پر مجبور تھے ۔ اسی اشتراک سے پھر اردو زبان وجود میں آئی جس مین اسٹریکچر اور ذخیرہ الفاظ بھی گوجری زبان پر مشتمل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ہندو طبقہ میں سنسکرت کی ملاوٹ سے گوجری زبان نے ہندی زبان کی شکل اختیار کی۔ لیکن اردو اور ہندی دونوں زبانیں 1857ء سے قبل گوجری زبان سے زیادہ بڑی زبانیں نہیں تھی لیکن جب 1857ء کے بعد گجر شناخت جرم بن گیا تو اس کے بعد اردو اور ہندی زبان کو ایک بری اکثریت مل گئی جس کی وجہ سے یہ زبانیں برصغیر کی بڑی زبانیں بن گئیں جبکہ گوجری زبان سکڑ کر پہاڑوں تک محدو ہو گئی ۔
3۔ جن لوگوں کی جاگیریں اور جائیدادیں چھینی گئی تھیں یا جو لوگ انگریز کے جبری قوانین اور انتقامی ہتھکنڈوں سے بچنے کے لیے ہجرت پر مجبور ہوئے وہ اپنے ساتھ گوجری زبان بھی لائے اور ان کی زیادہ تر تعداد نے پہاڑوں پر بسیرا کیا ۔ جہاں آج بھی گوجری زبان زندہ ہے ۔ اگرچہ طویل عرصہ تک پسماندگی اور تعلیم سے دوری کے اس مشکل ترین دور نے گوجری زبان کی ساخت کو بھی متاثر کیا ہے ۔ لیکن ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں آج بھی گوجری زبان بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔ افغانستان کے تعلیمی نصاب میں گوجری زبان شامل ہے ۔ جبکہ کے پی کے کے چند مخلص سماجی اور سیاسی راہنماوں کی مخلصانہ خدمات کی بدولت اب خیبر پختونخواہ میں بھی یہ نصاب تعلیم میں شامل ہو گی ۔ ان شاء اللہ ۔
اس کے بعد گوجری زبان بولنے والوں کی ایک بہت بڑی اکثریت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی موجود ہے ۔ وہاں بھی گجر قوم کے اندر احساس بیداری پیدا ہو چکا ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وہاں بھی باشعور طبقہ ، سماجی تنظیموں اور خاص طور پر اسمبلیوں میں گجرقوم کے نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ گوجری زبان کو نصاب تعلیم میں شامل کرانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔
اس سب کے ساتھ ساتھ قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ چونکہ 1857ء کے بعد کی اس طویل ابتلاء و آزمائش نے جہاں گجر قوم کی شناخت اور امیج کو بری طرح مسخ کیا ہے اسی طرح گوجری زبان کی ساخت پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گوجری زبان کا ایک بڑا ذخیرہ الفاظ اپنی اصل حالت میں نہیں رہا ۔ بعض الفاظ کی شکل اور تلفظ بالکل بگڑ چکا ہے ۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گجر قوم کے ماہرین لسانیات گوجری زبان کو اپنی اصل حالت میں لانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں ۔
تاکہ گوجری زبان ایک بار پھر بولنے اور سمجھنے میں عام فہم اور آسان ہو جائے اور گوجری ادب میں بھی ایک نئے روشن دور کا آغاز ہو سکے ۔
(گجر یوتھ فورم ضلع مانسہرہ)
08/07/2020
خیبر پختون خواہ اسمبلی ماںّ گوجری زبان ناںّ نصاب ماںّ شامل کروان واسطےہم قائد حريت
#سردارمحمدیوسف صاحب
گو شکریو ادا کراں ہور اُنہاں ناںّ تمام گوجری بولن لکھن پڑھن ہالاں کی طرفوں مُچ مُچ مبارک۔۔۔۔۔۔
❤😍💖
23/05/2020
گجر یوتھ فورم ضلع مانسہرہ کی طرف سے تمام اہل وطن کو عید مبارک ہو
منجانب :سردار فیض محمد چیرمین گجر یوتھ فورم ضلع مانسہرہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Shinkiari
Mansehra
