21/03/2024
Young Muslim Public School Khaki
Education
21/03/2024
کیا آپ اپنے کاروبار کی وجہ سے پریشان ہیں
ہم لے کر آ رہے ہیں آپ کی پریشانی کا حل
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے آپ کے پورے شہر میں ہم آپ کے کاروبار کی تشہیر کریں گے
SMS marketing
Whatsapp marketing
Facebook Ads
instagram Ads
Tiktok Ads
Google Ads
youtube Ads
Also Our Company Providing Like, Followers, Subscribers, View and watch Time for your page
کیا آپ اپنے کاروبار کے لئے ہم سے پوسٹرز بنوانا چاہتے ہیں
Get All Social Media Subscribers
Followers And Watch Time From Us
All Services Non-Drop With Lifetime Guarantee
Youtube Subscribers Watchtime
Views And Likes Are Available
page Profile Followers
Views And Likes Are Available
Instagram Account Followers
Views And Likes Are Available
Tiktok Account Followers Views
And Likes Are Available
Whatsapp 03458763860
*⭕ اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے*
*نصاب* کو *کورس* کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں *بستہ* کے بجائے *بیگ* میں رکھ دی گئیں۔
*ریاضی* کو *میتھس* کہا جانے لگا۔
*اسلامیات* ......
*اسلامک سٹڈی* بن گئی-
*انگریزی کی کتاب* *انگلش بک* بن گئی- اسی طرح .....
*طبیعیات*، *فزکس* میں'
*معاشیات،* *اکنامکس* میں، *سماجی علوم*، *سوشل سائنس*
میں تبدیل ہوگئے-
پہلے *طلبہ پڑھائی کرتے تھے*
اب *اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے*۔
*پہاڑے* یاد کرنے والوں کی اولادیں *ٹیبل* یاد کرنے لگیں۔
*اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔*
*داخلوں کی بجائے* *ایڈمشنز ہونے لگے* ۔....
*اول، دوم، اور سوم* آنے والے *طلبہ*؛
*فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ* آنے والے *سٹوڈنٹ* بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر *انعامات* ملا کرتے تھے پھر *پرائز* ملنے لگے۔
بچے *تالیاں پیٹنے* کی جگہ *چیئرز* کرنے لگے۔
*یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔*
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، *ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*
*زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔*
*خواب گاہ* کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے *بیڈ روم* کا نام دے دیا۔
*باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے *برتن کراکری کہلانے لگے*۔
*غسل خانہ* پہلے *باتھ روم* ہوا پھر ترقی کر کے *واش روم* بن گیا۔
*مہمان خانہ یا بیٹھک* کو اب *ڈرائنگ روم* کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں *پہلی منزل* کو *گراونڈ فلور* کا نام دے دیا گیا اور *دوسری منزل* کو *فرسٹ فلور۔*
*دروازہ* اب *ڈور* کہلایا جانے لگا،
پہلے مہمانوں کی آمد پر *گھنٹی* بجتی تھی اب *ڈور بیل* بجنے لگی۔
*کمرے* کب کے *روم* بن گئے۔
کپڑے *الماری* کی بجائے *کپبورڈ* میں رکھے جانے لگے۔
*"ابو جی" یا "ابا جان"* جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف *ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے* کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح ....
*شہد کی طرح میٹھا* لفظ *"امی" یا امی جان* اب تو *"ممی" اور مام* میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
*چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ* سب کے سب *ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی"* میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی *محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔*
ساری *عورتیں* *آنٹیاں*، بن گیٸں
*چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی* سب کے سب *کزنس* میں تبدیل ہوگئے،
*نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی*۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ *گھروں میں کام کرنے والی خواتین* پہلے بھی *ماسی* کہلاتی تھیں اب بھی *ماسی* ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
*دکانیں, شاپس* میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر *گاہکوں کی بجائے کسٹمرز* آنے لگے،
آخر کیوں نہ ہوتا کہ *دکان دار بھی تو سیلز مین* بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے*خریداری* چھوڑ دی اور *شاپنگ* کرنے لگے۔
*سڑکیں* , *روڈز* بن گئیں۔
*کپڑے* کا بازار *کلاتھ* مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے *مذکر کو مونث بنادیا گیا*۔
*کریانے* کی دکان نے *جنرل اسٹور* کا روپ دھار لیا،
*نائی* نے *باربر* بن کر *حمام* بند کردیا اور *ہیئر کٹنگ سیلون* کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا *دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی*، وہ اب *آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے*
اور جو کبھی *صاحب* تھے وہ *باس* بن گئے ہیں،
*بابو* بن گئے *کلرک* اور *چپراسی* بن گئے *پِیُّٶن*
پہلے *دفتر کے نظام الاوقات* لکھے ہوتے تھے . ...... اب *آفس ٹائمنگ* کا بورڈ لگ گیا-
*سود* جیسے قبیح فعل کو *انٹرسٹ* کہا جانے لگا۔
*طوائفیں* تو کب کے *آرٹسٹ* بن گئیں
اور
*محبت* کو *لَوّ* کا نام دے کر محبت کی ساری *چاشنی اور تقدس* ہی چھین لیا گیا۔
*صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے*۔
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔
*اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-*
اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ *ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے*۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں
ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
*وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا*
*کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا*
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں،
*ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔*
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔
02/01/2020
اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے ۔۔۔
نصاب کو کورس کہا جانے لگا اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔
اسلامیات......اسلامک سٹڈی بن گئی-
انگریزی کی کتاب، انگلش بک بن گئی- اسی طرح .....طبیعیات، فزکس میں'معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنسز میں تبدیل ہوگئے-
پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے
اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔
پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔
اساتذہ کے لیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔
داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔....
اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔
بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔
یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔
باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا:
مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔
زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔
خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔
باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔
دروازہ اب ڈور کہلایا جانے لگا،
پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی۔
کمرے کب کے روم بن گئے۔
کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔
"ابو جی" یا "ابا جان" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح ....
شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان اب تو "ممی" اور مام میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
ساری عورتیں آنٹیاں بن گئیں۔
چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے،
نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
دکانیں, شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے،
آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نےخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں، روڈز بن گئیں۔
کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا،
نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے۔
اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،
بابو بن گئے کلرک اور چپراسی بن گئے پِیُّٶن!
پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے . ...... اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-
سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔
طوائفیں تو کب کے آرٹسٹ بن گئیں
اور
محبت کو لَوّ کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔
اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-
اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوب صورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں
ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں،
ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔
روکیے، خدا را روکیے،
اردو کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے۔
اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو بیدار کرنے کی خاطر اس تحریر کو شیئر کریں.
ملاحظہ: قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جاپان روس اٹلی فرانس اور چین اس کی زندہ مثال ہیں۔
منقول
25/12/2019
Must read
🛑 انٹر نیٹ کی مفت فراہمی کیوں اور کس لیے ؟ 🛑
🎯 سوال: کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی سائٹس، آپ کو اپنی خدمات مفت میں کیوں دیتی ہیں؟:
⬅ جب آپ کو کسی سامان کی قیمت نا دینا پڑے تو جان لیجیئے گا کہ سامان وہ نہیں جو آپ کو مل رہا ہے، بلکہ سامان آپ ہیں جسے خریدا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو سمجھیئے، توجہ دیجیئے اور خوب غور کیجیئے۔ مثال:
⬅ موبائیل ٹیلی فون اس دنیا میں اٹھائی جانے والی ہلکی ترین چیز ہو سکتی ہے مگرہو سکتا ہے آخرت میں یہ اٹھائی جانے والی سب سے بھاری اور سخت چیز ہو۔ پس کچھ اور نا کیجیئے صرف اس کا استعمال ہی اچھا کرنا شروع کر دیجیئے۔
⬅ گوگل، فیس بک، ٹویٹر، واٹساپ اور اسی قبیل کے دیگر پروگرام ایسے گہرے سمندر ہیں جن میں بڑے بڑے قد آور لوگوں کے اخلاق گر کر ڈوب گئے۔ اور جن کے اخلاق ڈوبے وہ صرف نوجوان ہی نہیں، کچھ اچھی خاصی عمروں والے بھی تھے۔
⬅ اس سمندر کی موجیں لوگوں کی زندگی سے حیاء کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں۔ اس سمندر میں بہت سی مخلوق ہلاک ہوئی ہے۔
⬅ اگرآپ کواس ہلاکت سے بچنا ہے تو بہت احتیاط کرنا ہوگی۔ ان چیزوں کے درمیان میں شہد کی مکھی کی طرح رہنا ہوگا، اگر رُکنا تو اچھے اچھے صفحات پر، جن سے پہلے آپ کو فائدہ ملے اور بعد میں آپ کے توسط سے دوسروں کو۔
⬅ ان چیزوں میں مکھی کی طرح نا بن کے رہیں، جو ہر اچھی اور بری چیز پر ٹھہرتی ہے۔ ایک جگہ کی بیماریاں دوسری جگہ ایسے لیجاتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
⬅ انٹرنیٹ بہت بڑا بازار ہے، یہاں کوئی بھی اپنا سامان مفت بانٹنے کیلیئے نہیں بیٹھا ہوا۔ ہر کوئی اپنے مال کے بدلے میں آپ سے کوئی چیز لے رہا ہے۔
☝🏻ان میں سے کچھ تو اپنے مال کے بدلے میں آپ کا اخلاق خراب کرنا چاہتے ہیں۔
☝🏻کچھ اپنے مال کے بدلے میں آپ کے دل میں شک و شبہ کا بیج ڈالنا چاہتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر کچھ بھی خریدنے سے پہلے پڑتال کر لیجیئے گا کہ بدلے میں آپ سے کیا لیا جا رہا ہے۔
🚫 خبردار: نا معلوم لنک کھولنے میں بھی احتیاط کیجیئے کیونکہ ان میں سے کچھ ہی خیر ہوتے ہیں، زیادہ تر شر، ہیکر، بردبادی اور تباہی کا ہی کام کرتے ہیں۔
🚫 خبردار: جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے سے باز رہیں ، غلط چیزوں کی کاپی پیسٹ سے دور رہیں ۔ جان لیں کہ یہ والی تجارت نیکی بھی ہو سکتی ہے اور برائی بھی۔ نیٹ سے سامان پرکھ کرلیں کہ جسے آگے پھیلانے جا رہے ہو وہ کس قبیل کی ہے۔ کیونکہ لینے والا وہ چیز اب آپ کے نام اور پہچان سے خریدے گا۔
⬅ کہیں تبصرہ یا کمنٹ پیش کرنے سے قبل دیکھ لیں کہ معاملہ اللہ کی ناراضگی والا تو نہیں۔
نا ہی کسی کی شخصیت کا تصور اس کی تحریروں کے مطابق باندھ لیں۔
کیونکہ:
🎯 لوگ اپنے چہروں پر پردہ چڑھا کر رکھتے ہیں۔
🎯 تصویریں ایڈیٹ کر کے پیش کرتے ہیں
🎯 باتیں بنا بنا کر پیش کرتے ہیں۔
🎯 اخلاق کو مٹھاس میں گھول کر دکھاتے ہیں۔
🎯 جھوٹ پر سچ کی ملمع کاری کرتے ہیں۔
🎯 رواداری اور اخلاقیات کا چورن ڈالتے ہیں۔
🛑 ایک بات ذہن میں بٹھا لیں :🛑
🔔اِدھرآپ لکھتے ہیں ، اُدھر آپ کے فرشتے لکھتے ہیں۔ اور دونوں کے اوپر اللہ ہے جو سب دیکھ رہا ہے اور ہر چیز کا حساب رکھ رہا ہے۔
🛑 جو بات سب سے زیادہ ڈراتی ہے وہ انٹرنیٹ کے سمندر میں حرام کا دیکھنا، فسق و فجور کا مشاہدہ کرنا اور راہ راست سے انحراف کرتی چیزوں میں پڑ جانا ہے۔
✅ اگر آپ کو لگے کہ آپ غلط نہیں کر رہےتو پھر خود بھی مستفید ہوں اور دوسروں کو بھی فائدہ دیں۔
☝🏻اور اگر آپ کو لگے کہ آپ کچھ غلط کر رہے ہیں تو پھر اس سے دور بھاگیں ، بالکل ایسے جیسے کوئی. خونخوار جانور کو دیکھ کر بھاگ.
یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں نا کہ انٹرنیٹ آپ کو استعمال کر رہا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں ہدایت دیئے رکھے۔۔۔۔۔ آمین 🤲
23/08/2019
پاکستان
۔
نام
اسلامی جمہوریہ پاکستان
قیام
27 رمضان المبارک 1366ھ ( اسلامی کلینڈر )
14 اگست 1947ء ( عیسوی کلینڈر )
۔
کل رقبہ ( 796,096 مربع کلومیٹر )
زمینی حدود ( 770,875 مربع کلومیٹر )
سمندری حدود ( 25,220 مربع کلومیٹر )
۔
نوٹ = ( رقبہ میں جارجیا کے پانچ گنا سے تھوڑا زیادہ جبکہ کیلیفورنیا کے دو گنا سے تھوڑا کم اس ملک کا دنیا میں 37 سینتیسواں نمبر ہے )
۔
صوبے ( 5 )
بلوچستان
رقبہ = 347,190 مربع کلومیٹر
اضلاع = 32
پنجاب
رقبہ = 205,345 مربع کلومیٹر
وزیراعلیٰ = عثمان بزدار ( تحریک انصاف)
گورنر = سرور خان
اضلاع = 36
۔
خیبر پختونخواہ
رقبہ = 74,521 مربع کلومیٹر
اضلاع = 26
۔
سندھ
140,914 مربع کلومیٹر
اضلاع = 24
۔
اسلام آباد
رقبہ = 906 مربع کلومیٹر
اضلاع = 1
۔
فاٹا
رقبہ = 27,220 مربع کلومیٹر
اضلاع = 13
۔
آزاد جموں کشمیر
رقبہ = 13,297 مربع کلومیٹر
اضلاع = 10
۔
گلگت بلتستان
رقبہ = 72,971 مربع کلومیٹر
اضلاع = 10
۔
براعظم
ایشیا
علاقہ
جنوبی ایشیا
سرحدی شراکت
بھارت، چین، افغانستان، ایران
حدود اربعہ
شمال میں چین
جنوب میں بحیرہ عرب
مشرق میں بھارت
مغرب میں ایران
شمال مغرب میں افغانستان
سرحدی خطوط
پاک بھارت سرحدی خط ( ریڈکلف لائن )
کشمیر کی عارضی حد بندی ( کنٹرول لائن )
پاک افغان سرحدی خط ( ڈیورنڈ لائن )
۔
سرحدی حدود ( 7,257 کلومیٹر )
افغانستان ( 2,670 کلومیٹر )
چائنہ ( 438 کلومیٹر )
بھارت ( 3,190 کلومیٹر)
ایران ( 959 کلومیٹر )
۔
اہم برآمدات
روئی
الیکڑک آلات
چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات
چاول
کھیلوں کا سامان
کپڑا
آلات جراحی
ہلکا اسلحہ
انجینئرنگ کا سامان
۔
اہم درآمدات
مشینیں
معدنی تیل
سوتی و ریشمی دھاگہ
کیمیکل
گاڑیاں
چاۓ
پٹرولیم اور تیل
صنعتی آلات
نباتیات
صنوبر
بلوط
دیودار ( قومی درخت )
شہتوت
پوپلر
میپل
علاقائی جانور و حیاتیات
تیتر
مارخور ( قومی جانور )
چکور
ہمالیائی کالا بھالو
چیتا
پہاڑی بکرا
سبز کچھوا
نیل گاۓ
مارکوپولو بھیڑ
ہرن
کالا ہرن
مگرمچھ
ڈلفن ( قومی ممالیہ)
برفانی چیتا
مرغابی و بطخ کی مختلف اقسام
سانپ کی اقسام
بھیڑیے و دیگر نایاب اقسام کی جنگلی حیاتیات
سیاحتی مقام
مری
کاغان
کوئٹہ
ہنزہ
زیارت
سوات
چترال
گلگت
قدیم تہذیب و آثار
موہنجودڑو
ہڑپہ
ٹیکسلا
تخت بھائی
مہرگڑھ
کوٹ دیجی
۔
سڑک
( 251,845 کلومیٹر )
۔
پاکستان ریلوے
( 7,791 کلومیٹر + 781 سٹیشن )
۔
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن
44 ہوائی جہاز
کل ہوائی اڈے ( 151 )
بین الاقوامی ( 33 )
علاقائی ہوائی اڈے ( 21 )
معہ پکا رن وے ( 108 )
معہ کچا رن وے ( 43 )
ہیلی پیڈ ( 23 )
اہم ہوائی اڈے
جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا ( کراچی )
بے نظیر بین الاقوامی ہوائی اڈا ( اسلام آباد )
علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا ( لاہور )
ملتان بین الاقوامی ہوائی اڈا ( ملتان )
کوئٹہ بین الاقوامی ہوائی اڈا
پشاور بین الاقوامی ہوائی اڈا
فیصل آباد بین الاقوامی ہوائی اڈا
گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈا
۔
۔
اہم پہاڑی دررے
دررہ خیبر
دررہ گومل
دررہ بولان
دررہ ٹوچی
دررہ خنجراب
دررہ لواری
۔
اہم ڈیم
تربیلا ڈیم
منگلا ڈیم
وارسک ڈیم
۔
تعلیم
۔
پرائمری سکول ( 164,200 )
مڈل سکول ( 19,100)
ہائی سکولز ( 12,900 )
آرٹس و سائنس کالجز ( 925)
پیشہ ورانہ کالجز ( 374)
جامعات ( 29 )
۔
اہم جامعات و تعلیمی ادارے
قائد اعظم یونیورسٹی ( اسلام آباد )
بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی ( اسلام آباد )
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ( ملتان )
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
پنجاب یونیورسٹی ( لاہور )
نشتر میڈیکل کالج ( ملتان )
اسلامیہ کالج ( پشاور )
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ( فیصل آباد )
سمندر
بحیرہ عرب
بندرگاہیں
پورٹ کراچی
پورٹ قاسم
پورٹ پسنی
پورٹ گوادر
صحرا
تھر پارکر ( سندھ )
تھل ( 71,306 ہیکٹر )
چولستان ( 2,032,667 ہیکٹر )
بلند ترین مقام
کے ٹو ( 8,611 میٹر )
پست ترین مقام
بحیرہ عرب
دالحکومت
اسلام آباد
موجودہ سربراہان
ڈاکٹر عارف علوی ( صدر)
عمران خان ( وزیراعظم)
شاہ محمود قریشی ( وزیر خارجہ )
پرویز خٹک ( وزیر دفاع )
فواد چوہدری ( وزیر سائنس وٹیکنالوجی)
شفقت محمود ( وزیر تعلیم )
فردوس عاشق اعوان ( وزیر اطلاعات)
شیریں مزاری ( وزیر انسانی حقوق)
سرتاج گل ( وزیر موسمیات)
۔
آبادی
کل آبادی= 204,924,861+
۔
آبادی بلحاظ علاقہ
36.7% ( شہری )
63.5% ( دیہاتی)
۔
بلحاظ زبان و صوبہ
۔
44.7% ( پنجابی )
15.4% ( پٹھان )
14.1% ( سندھی )
8.1% ( سرائیکی )
7.6% ( مہاجر )
3.6% ( بلوچی )
6.3 % ( دیگر )
۔
بلحاظ عمر
حد عمر = ( 0 - 14 سال )
فیصد = 31.36 %
مرد = 33,005,623
عورت = 31,265,463
حد عمر ( 15-24 سال )
فیصد = % 21.14
مرد = 22,337,897
خواتین = 20,980,455
۔
حد عمر ( 25-54 سال )
فیصد = %37.45
مرد = 39,846,714
خواتین = 36,907,683
۔
حد عمر ( 55-64 سال)
فیصد = % 5.57
مرد = 5,739,817
خواتین = 5,669,495
حد عمر ( +65 سال )
فیصد = % 4.48
مرد = 4,261,917
خواتین = 4,910,094
۔
آبادی میں اضافے کی شرح
1.43% (دنیا کے ممالک میں نمبر = 80 )
۔
شرح پیدائش
1000 آبادی / 21.9 پیدائش
دنیا کے ممالک میں نمبر = 74
۔
شرح اموات
1,000 آبادی / اموات 6.3
دنیا کے ممالک میں نمبر = 150
۔
شرح خواندگی
56.40 فیصد
۔
ذرائع مواصلات
ٹیلی فون ( 3.1 ملین مستقل لائنز)
موبائل فون ( 67/100 فیصد آبادی)
کوڈ = 92+
لینڈنگ پوائنٹ = ME-WE -3 ME-WE-4
۔
سٹیلائٹ ارتھ سٹیشن ( کل - 3 )
یٹلانٹک اوشن ( 1 )
انڈین اوشن ( 2 )
۔
آپشنل انٹرنیشنل گیٹ وے ایکچینج
کراچی ( 1 )
اسلام آباد ( 2 )
۔
اہم کمپنیاں
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ( 66+ )
جاز / وارد ( 0301/ 0321 )
زونگ ( 0311 )
یوفون ( 0331)
ٹیلی نار ( 0341 )
۔
نوٹ = 90 فیصد پاکستانیوں تک سگنل کی فراہمی ہے۔
۔
براڈکاسٹ میڈیا
ماتحت ( پیمرا )
پاکستان ٹیلی ویژن ( 8 - چینل )
ہم ٹی وی
جیو انٹرٹینمنٹ
اے - آر - وائے ڈیجیٹل
۔
اہم میڈیا چینل
پاکستان ٹیلی ویژن
بول چینل
جیو نیوز
دنیا نیوز
ایکسپریس نیوز
سماء نیوز
اب تک نیوز
جی این این نیوز
روہی نیوز
۔
ریڈیو
حکومتی سٹیشن - 30
علاوہ ازیں = 200
۔
انٹرنیٹ یوزر
31.34 ملین ( % 15.5 )
۔
قومی علامات
۔
قومی رہنما ( قائد اعظم )
قومی شاعر ( علامہ اقبال)
قومی شہید ( لیاقت علی خان)
مادرملت ( فاطمہ جناح)
قومی لائبریری ( نیشنل لائبریری اسلام آباد )
قومی مذہب ( اسلام )
قومی یادگار ( پاکستان مونومنٹ )
قومی زبان ( اردو )
قومی دن ( 23 مارچ )
قومی لباس ( قمیض شلوار)
قومی درخت ( دیودار )
قومی رنگ ( سبز و سفید )
قومی پرندہ ( چوکور )
ریاستی پرندہ ( شاہین )
قومی جانور ( مارخور )
قومی شکاری جانور ( برفانی چیتا )
قومی رینگنے والا جانور ( مگرمچھ)
قومی ممالیہ جانور ( ڈالفن)
قومی مچھلی ( مہاشیر)
قومی پہاڑ ( کے ٹو)
قومی نعرہ ( پاکستان کا مطلب کیا - لاالہ الا الله )
قومی نشان ( ہلال ستارہ )
قومی مٹھائی ( گلاب جامن )
قومی مشروب ( گنے کا رس)
قومی کھانا ( نہاری)
قومی دریا ( دریائے سندھ)
قومی کھیل ( ہاکی)
قومی پھول ( چنبیلی)
قومی پھل ( آم )
قومی سبزی ( بھنڈی )
قومی کتاب ( قرآن پاک)
قومی مسجد ( فیصل مسجد ( اسلام آباد) )
قومی تہوار ( عیدین)
قومی موٹو ( ایمان، اتحاد، تنظیم)
بین الاقوامی رابطہ کوڈ
+92
بین الاقوامی وقت
( UTC +5 )
انڑنیٹ سرور
pk
کرنسی
پاکستان روپے
طرز حکومت
وفاقی و پارلیمانی ( جمہوری)
ویب لنک
https://en.wikipedia.org/wiki/Pakistan
اہم شہر
کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد
اہم زبانیں
ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ ڈاکٹر آتش درانی کا خیال ہے کہ یہ تعداد 76 ہے۔ تاہم دنیا بھر کی زبانوں پر تحقیق کرنے والی ایک ویب سائٹ ایتھنالوگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کل 73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔
اردو، پنجابی، سرائیکی، سندھ، پشتو، انگریزی
اعلیٰ ترین اعزاز
نشان پاکستان ( سول )
نشان حیدر ( ملٹری )
مسلح افواج اور ہیڈکوارٹر
پاک بری فوج ( راولپنڈی )
پاک نیوی ( اسلام آباد )
پاک ائیر فورس ( پشاور )
سب سے بڑی چھاونی ( کھاریاں )
سب سے بڑا فوجی فارم ( اوکاڑہ )
۔
خفیہ ایجنسی
انٹر سروس انٹیلی جنس
اہم دریا
سندھ ( 2896 کلومیٹر )
چناب ( 1087 کلومیٹر )
ستلج ( 1370 کلومیٹر )
جہلم ( 725 کلومیٹر )
راوی ( 765 کلومیٹر)
اہم جھیلیں
خوش دل خان ( بلوچستان )
ڈروت ( سندھ )
ست پارا ( بلتستان )
سیف الملوک ( کاغان )
فنڈر ( گلگت )
کلرکہار ( پنجاب )
کھادیجی ( سندھ )
کچھورا ( بلتستان )
کلری ( سندھ )
منچھر ( سندھ )
کینجھر ( سندھ )
لالو سر ( کاغان )
ہالیجی ( سندھ )
ہنہ ( بلوچستان )
اہم فصلیں ( پیدوار )
گندم،کپاس، چاول، آم، گنا، باجرہ، چنا۔
اہم کھیل
ہاکی، کرکٹ، کبڈی، سکواش، ٹینس، سنو کر
اہم پہاڑی سلسلے
ہمالیہ
ہندوکش
قراقرمقراقرم
کوہستان نمک
کوہ سلیمان
اہم پہاڑی چوٹیاں
کے ٹو ( 8,611 میٹر ) عالمی نمبر 2
نانگا پربت ( 8,126 میٹر ) عالمی نمبر 9
گیشربرم 1 ( 8,068 میٹر) عالمی نمبر 11
براڈ پیک ( 8,051 میٹر ) عالمی نمبر 12
گیشربرم 2 ( 8,035 میٹر ) عالمی نمبر 14
گیشربرم 3 ( 7,952 میٹر) عالمی نمبر 15
گیشربرم 4 ( 7,925 میٹر ) عالمی نمبر 17
عام تعطیلات
یوم یکجہتی کشمیر
یوم پاکستان
یوم مزدور
یوم آزادی
یوم اقبال
یوم قائد و کرسمس ڈے
یوم عیدین
یوم عاشورہ
شب معراج
یوم دفاع
یوم قائد ( برسی)
۔
اہم سیاسی پارٹیاں
1) پاکستان تحریک انصاف ( عمران خان)
2) پاکستان مسلم لیگ ( شہباز شریف)
3) پاکستان پیپلز پارٹی ( بلاول / زرداری)
4) جماعت اسلامی ( سراج الحق )
5) جمیعت علماء اسلام ( مولانا فضل الرحمان )
6) مسلم لیگ ق ( چوہدری پرویز الہی)
7) متحدہ قومی موومنٹ ( فاروق ستار/ ندیم نصرت )
8) عوامی نیشنل پارٹی ( میاں افتخار حسین )
9) بلوچستان نیشنل پارٹی ( میر اسرار الله زہری / سردار اختر خان مینگل )
10) پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ( محمود خان اچکزئی)
11) نیشنل پارٹی ( میر حاصل خان بزنجو)
12) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ( پیر پگاڑا)
13) پاک سرزمین پارٹی ( مصطفی کمال)
14) قومی وطن پارٹی ( آفتاب احمد شیرپاؤ)
۔
منفرد اعزازات
* مدینہ کے بعد واحد اور پہلی ریاست جو اسلام کے نام پر بنی۔
* واحد اسلامی ایٹمی طاقت
* دنیا کی ساتویں بڑی اور بہترین فوج
* دنیا کی درجہ اول کی خفیہ ایجنسی
* واحد کرکٹ ٹیم جس نے ہر فارمیٹ کے عالمی مقابلے جیتے
* سب سے زیادہ بار ہاکی کا عالمی مقابلہ جیتنے والی ٹیم
* دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم
اہم مسائل
دہشت گردی، بےروزگاری، کرپشن ،کشمیر، جمہوری و معاشی عدم استحکام
▪▫▪▫▪▫▪▫▪
*═════ ♢.✰.♢ ═════*
*彡★ہم سب کا پاکستان★* 彡*
*═════ ♢.✰.♢ ═════*
Pakistan - Wikipedia Pakistan,[b] officially the Islamic Republic of Pakistan,[c] is a country in South Asia. It is the world’s sixth-most populous country with a population exceeding 212,742,631 people.[19] In area, it is the 33rd-largest country, spanning 881,913 square kilometres (340,509 square miles). Pakistan ha...
*وتر* کسے کہتے ہیں؟؟؟
جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز *الله* سے ایک وعدہ کرتے ہیں اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے۔ *دعائے قنوت* ایک عہد ہے *الله سبحانہ و تعالی* کے ساتھ ۔ ایک معاھدہ ہے۔ ایک وعدہ ہے۔
*الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ* ۔۔۔ اے *الله*! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
*وَنَسْتَغْفِرُکَ* ۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں۔
*وَنُؤْمِنُ بِکَ* ۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔
*وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ* ۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں۔
*وَنُثْنِیْ اِلَیْکَ الْخَیْر* ۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں۔
*وَنَشْکُرُکَ* ۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔
*ولا نَکْفُرُکَ* ۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے۔
*وَنَخْلَعُ* ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں۔
*وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ* ۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے۔
*اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ* ۔۔۔ اے *الله*! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔
*وَلَکَ نُصَلّیْ* ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں۔
*وَنَسْجُدُ* ۔۔۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں۔
*وَاِلَیْکَ نَسْعٰی* ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں۔
*وَنَحْفِدُ* ۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔
*وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ* ۔۔۔ اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں۔
*وَنَخْشٰی عَذَابَکَ* ۔۔۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
*انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ* ۔۔۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔
کبھی کبھی کچھ باتیں بڑی دیر سے پتہ چلتی ہیں یا شاید پتہ تو ہوتی ہیں لیکن ان کی اصل سے ان کے راز سے واقف ہونے کا بھی کوئی وقت کوئی لمحہ ہوتا ہے۔ سارا علم کتابوں میں تو نہیں ہوتا نا کچھ دلوں پر اترتا ہے۔ دل بھی وہ جو *الله* کے نور اور اس کے *رسول صلی الله علیہ وسلم* کی محبت سے بھرے ہوں۔ سادہ سے۔ ریا سے پاک جو الله کے حکم کا سنتے ہی کوئی دلیل نہ مانگیں بس آمنّا اور صدّقنا کہہ دیں۔ ارے یہ تو واقعی ہم ہر روز *الله سبحانہ وتعالی* سے وعدہ کرتے ہیں سونے سے پہلے اور کتنے نادان ہیں صبح ہوتے ہی سب کچھ بُھلا دیتے ہیں۔
کیا ہم حقیقتا جانتے ہیں کہ نماز وتر دعائے قنوت *الله سبحانہ تعالی* سے ایک وعدہ ہے ایک معاھدہ ہے؟
اور کیا ہم اسے پورا کرتے ہیں؟
یا پورا کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں؟
Please Share...
11/09/2018
ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ مایوس کبھی نہیں ہونا چاہیے
زندگی کہیں سے بھی شروع ھو سکتی ھے ❤❤❤
19/06/2018
ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔
اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔۔اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔
مولوی عبد الحق
بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق (پیدائش: 20 اپریل، 1870ء - وفات: 16 اگست، 1961ء) برِ صغیر پاک ہند کے عظیم اردو مفکر، محقق، ماہر لسانیات، معلم اور انجمن ترقی اردو اور اردو کالج کراچی کے بانی تھے۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی اردو کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کردی۔
بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق
پیدائش 20 اپریل 1870 ءسراواں (ہاپوڑ)، میرٹھ ضلع ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان
وفات 16 اگست 1961 ءکراچی، پاکستان
آخری آرام گاہ احاطہ وفاقی اردو یونیورسٹی (عبدالحق کیمپس)، پاکستان
قلمی نام مولوی عبدالحق
پیشہ محقق، اردو مفکر، ماہر لسانیات، معلم
زبان اردو
قومیت پاکستانی
شہریت پاکستانی
تعلیم بی اے
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
صنف لغت نویسی، خاکہ نگاری، تحقیق،
نمایاں کام افکارِ حالی
اُردو صرف و نحو
اُردو انگریزی ڈکشنری
اسٹنڈرڈ انگلش اُردو ڈکشنری
چند ہم عصر
قواعد اُردو
اُردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا کام
اہم اعزازات بابائے اردو
صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی
حالات زندگی ترميم
پیدائش و خاندانی پس منظر ترميم
مولوی عبدالحق 20 اپریل،1870ء کو سراواں (ہاپوڑ)، میرٹھ ضلع ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[]۔ مولوی عبدالحق کے بزرگ ہاپوڑ کے ہندو کائستھ تھے، جنہوں نے عہدِ مغلیہ میں اسلام کی روشنی سے دلوں کو منور کیا اور ان کے سپرد محکمہ مال کی اہم خدمات رہیں۔ مسلمان ہونے کے بعد بھی انہیں (مولوی عبدالحق کے خاندان کو) وہ مراعات و معافیاں حاصل رہیں جو سلطنت مغلیہ کی خدمات کی وجہ سے عطا کی گئیں تھیں۔ ان مراعات و معافیوں کو انگریز حکومت نے بھی بحال رکھا۔[3]
تعلیم و ملازمت ترميم
مولوی عبدالحق نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی پھر میرٹھ میں پڑھتے رہے۔ 1894ء میں علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔ علی گڑھ میں سرسید احمد خان کی صحبت میسر رہی۔ جن کی آزاد خیالی اور روشن دماغی کا مولوی عبدالحق کے مزاج پر گہرا اثر پڑا۔ 1895ء میں حیدرآباد دکن میں ایک اسکول میں ملازمت کی اس کے بعد صدر مہتمم تعلیمات ہوکر اورنگ آباد منتقل ہوگئے۔ ملازمت ترک کرکے عثمانیہ کالج اورنگ آباد کے پرنسپل ہوگئے اور 1930ء میں اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔[4]
انجمن ترقی اردو ترميم
جنوری 1902ء میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشن کانفرنس علی گڑھ کے تحت ایک علمی شعبہ قائم کیا گیا جس کانام انجمن ترقی اردو تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اس کے سیکرٹری رہے تھے۔ 1905ء میں نواب حبیب الرحمن خان شیروانی اور 1909ء میں عزیز مرزا اس عہدے پر فائز ہوئے۔ عزیز مرزا کے بعد 1912ء میں مولوی عبدالحق سیکرٹری منتخب ہوئے جنھوں نے بہت جلد انجمن ترقی اردو کو ایک فعال ترین علمی ادارہ بنا دیا۔ مولوی عبد الحق اورنگ آباد (دکن ) میں ملازم تھے وہ انجمن کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس طرح حیدر آباد دکن اس کا مرکز بن گیا۔ انجمن کے زیر اہتمام لاکھ سے زائد جدیدعلمی ، فنی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا گیا۔ نیز اردو کے نادر نسخے تلاش کرکے چھاپے گئے۔ دو سہ ماہی رسائل، اردو اور سائنس جاری کیے گئے۔ ایک عظیم الشان کتب خانہ قائم کیاگیا۔ حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی انجمن ہی کی کوششوں کی مرہون منت ہے۔ اس یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ انجمن نے ایک دار الترجمہ بھی قائم کیا جہاں سینکڑوں علمی کتابیں تصنیف و ترجمہ ہوئیں۔ اس انجمن کے تحت لسانیات، لغت اور جدید علوم پر دو سو سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعدانہوں نے اسی انجمن کے اہتمام میں کراچی، پاکستان اردو آرٹس کالج، اردو سائنس کالج، اردو کامرس کالج اور اردو لا کالج جیسے ادارے قائم کیے۔ مولوی عبدالحق انجمن ترقی اردو کے سیکریٹری ہی نہیں مجسّم ترقّی اردو تھے۔ ان کا سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، پڑھنا لکھنا، آنا جانا، دوستی، تعلقات، روپیہ پیسہ غرض کہ سب کچھ انجمن کے لیے تھا۔[1]
بابائے اردو کا خطاب اور دیگر اعزاز ترميم
1935ء میں جامعہ عثمانیہ کے ایک طالب علم محمد یوسف نے انہیں بابائے اردو کا خطاب دیا جس کے بعد یہ خطاب اتنا مقبول ہوا کہ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ 23 مارچ، 1959ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔[1]
تصانیف وتالیفات ترميم
وہ کتابیں جو مولوی صاحب نے لکھیں یا جن کو تحقیق و حواشی کے ساتھ شائع کیا:
نکات الشعرا
دیوان ِ تابان
گلشن ِ عشق
قطب مشتری دیوانِ اثر
تذکرہ ریختہ گویاں
مخزن شعرا
ریاض الفصحا
عقد ِ ثریا
کہانی رانی کیتکی اور اودھ بھان
تذکرہ ہندی
چمنستان ِ شعرا
ذکر ِ میر
مخزن نکات
اُردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا کام
قواعد اُردو
معراج العاشقین
باغ و بہار
سب رس از ملاّ وجہی
قدیم اُردو
سرسیّد احمد خاں - حالات و افکار
چند ہم عصر
نصرتی-حالات اور کلام پر تبصرہ
مرحوم دہلی کالج
پاکٹ انگریزی اُردو ڈکشنری
اسٹوڈنس انگریزی اُردو ڈکشنری
اُردو انگریزی ڈکشنری
اسٹنڈرڈ انگلش اُردو ڈکشنری
لغت ِکبیر جلد اول
انتخاب کلامِ میر
دریائے لطافت
گل عجائب
انتخابِ داغ
اُردو صرف و نحو
خطبات گارساں د تاسی
دی پاپولر انگلش اُردو ڈکشنری
افکارِ حالی
پاکستان کی قومی و سرکاری زبان کا مسئلہ
سر آغا خاں کی اُردو نوازی
ناقدین کی رائے ترميم
ڈاکٹر عبادت بریلوی کے مطابق
” اگر بابائے اردو مولوی عبد الحق نہ ہوتے اور اردو سے انہیں یہ والہانہ وابستگی اور مجنونانہ لگاؤ نہ ہوتا تو کیا واقعی موجودہ دور میں اردو کو وہ مرتبہ حاصل ہوتا جو آج بہت سی زبانوں کے لیے باعث رشک ہے انھوں نے اردو کو اس کی اہمیت کا احساس دلایا اس کو اپنے پیروں پر کھٹر ا ہونا سکھایا زندگی کی راہوں پر دوڑایا اس کے بازؤں میں حریفوں سے مقابلہ کی سکت پیدا کی اردو کی تاریخ ، مخالفت کی تاریخ کشمکش کی تاریخ ہے ہنگاموں کی تاریخ ہے بابائے اردو کی ذات نہ ہوتی تو اردو کے لیے ان منزلوں سے گزرنا آسان نہ ہوتا ممکن تھا کہ وہ ان معرکوں میں کام آجاتی اور آج کوئی اس کا نام بھی نہ لیتا۔ بابائے اردو کے طفیل ہی وہ زندہ اور سرخ رو ہے دنیا میں شاید ہی کوئی مثال، زبان سے اس قدر بے پناہ محبت کی کہیں اور ملتی ہو وہ سپردگی اور انہماک اور استغراق اور وہ دُھن جو جنون کی سرحد سے ٹکراتی ہے دینا کے عظیم ترین دماغوں ہی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ بابائے اردو کی اردو سے یہ لگن تحریک پاکستان کی ریڑ ھ کی ہڈی بنی[5]۔ “
وفات ترميم
بابائے اردو مولوی عبداحق 16 اگست، 1961ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے عبدالحق کیمپس کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔[
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Khaki Meira Azizabad
Mansehra
