DGPR Mirpur AJ&K

Call Directions Website Contact the organization

DGPR Mirpur AJ&K Divisional Directorate Public Relations Mirpur Azad Jammu & Kashmir

09/10/2026
میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ءکشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر جاتلاں روڈ پر واقع کورٹ کمپ...
09/10/2026

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ء
کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر جاتلاں روڈ پر واقع کورٹ کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ادارے کی دو دہائیوں پر محیط رفاہی، تعلیمی اور انسان دوست خدمات کو سراہا گیا۔

تقریب میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کا خودمختار اور باوقار شہری بنانے کے لیے KORT کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ، معروف امریکی کمیونٹی رہنما اور امریکہ میں KORT کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ تھے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان، معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ اور ان کے ساتھیوں نے بھی امریکہ سے خصوصی طور پر شرکت کی۔

KORT کے بانی و منتظم اعلیٰ چوہدری محمد اختر،مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ میں کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ) کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ، نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان، سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس (ر) اعظم خان، کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ فیاض حیدر نوابی، ڈپٹی کمشنر میرپور سید عمران عباس نقوی، ایس ایس پی میرپور خرم اقبال، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور راجہ محمد زبیر خان اور نجم الحسن جاوید ایڈووکیٹ، کمانڈنگ آفیسر ایس سی او، سابق صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اعظم خان کے صاحبزادے، معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ، چوہدری محمود پلاکوی ایڈووکیٹ، اوورسیز رہنما چوہدری محمد یونس، ملک امانت اعوان اور جاوید نجم الثاقب ایڈووکیٹ سمیت کونسلرز، بلدیاتی نمائندگان، سماجی کارکنان، سینئر صحافیوں، مخیر حضرات، رضاکاروں، اساتذہ، کورٹ کے طلبا و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی تقریب میں شریک ہوئی۔

تقریب میں KORT کے بچوں نے متعدد رنگا رنگ اور سبق آموز پروگرام پیش کیے، جن میں انسانیت کی خدمت، بنیادی تعلیم کی اہمیت، صحت کی سہولیات، بنیادی انسانی حقوق، مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ بچوں نے دلکش ٹیبلو، خوبصورت لوک گیتوں، ثقافتی پرفارمنس اور دیگر دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور و آگاہی کا پیغام بھی دیا۔

مختلف پروگراموں میں کشمیری ثقافت و روایات، مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھی نمایاں کیا گیا۔

بچوں کی پُراعتماد اور شاندار کارکردگی کو شرکاء نے سراہا اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منتظم اعلی چوہدری محمد اختر نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا قیامت خیز دن آج بھی ان کے قلب و ذہن پر نقش ہے، جب آباد گھر اجڑ گئے، ماؤں کی گودیں ویران ہوئیں، خاندان بکھر گئے اور بے شمار معصوم بچے والدین کی شفقت سے محروم ہوگئے۔

KORT کا سفر کسی ذاتی مفاد یا تشہیر کے لیے نہیں بلکہ دردِ دل، احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے شروع کیا تھا۔

اس وقت بنیادی عزم یہ تھا کہ زلزلے کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ انہیں تعلیم، تربیت، محبت اور باوقار مستقبل فراہم کیا جائے گا۔

چوہدری محمد اختر نے کہا کہ آج KORT کے بچوں کو تعلیم حاصل کرتے، زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھتے اور اپنے قدموں پر کھڑا ہوتے دیکھ کر دل بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں شکرگزاری سے لبریز ہوجاتا ہے، تاہم ان بچوں کی ابتدائی محرومیوں اور سانحۂ زلزلہ کی یادیں آج بھی آنکھیں نم کر دیتی ہیں۔

انہوں نے KORT کے ساتھ تعاون کرنے والے اہلِ خیر، مخیر حضرات، رضاکاروں، کارکنان، اساتذہ اور بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانی و کشمیری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروانِ خدمت کسی ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی احساس، اخوت اور ایثار کا مظہر ہے۔

ان کے خطاب کے دوران تقریب میں موجود شرکاء بھی جذباتی ہوگئے، چوہدری محمد اختر نے اپنے خطاب میں KORT کے زیرِ اہتمام جاتلاں میں زیرِ تعمیر جدید ہسپتال کے منصوبے کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً ساڑھے 12 ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی جائے گی، یہ منصوبہ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے، محروم اور نادار طبقات کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے اور خطے کے غریب عوام کے لیے امید کی نئی کرن روشن کرنے کی عملی کاوش ہے۔

ہسپتال کا مقصد مستحق افراد کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں مدد دینا ہے تاکہ وسائل کی کمی کے باعث کسی ضرورت مند کو علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

صحت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور کسی غریب کی بے بسی اس کے علاج میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔

چوہدری محمد اختر نے کہا کہ KORT کا مقصد صرف یتیم بچوں کی کفالت تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ان طبقات تک پہنچنا بھی ہے جو وسائل کی کمی کے باعث بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ادارے کے منصوبے خدمتِ خلق کو محض الفاظ اور نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے دیرپا اقدامات کے ذریعے انسانیت کی خدمت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ KORT آئندہ بھی خدمتِ انسانیت کا سفر پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گا اور جہاں کوئی مجبور، بے کس، یتیم یا نادار انسان مدد کا منتظر ہوگا، وہاں دستِ تعاون دراز کرنا اپنی سعادت سمجھے گا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی ساجد تارڑ نے اپنے خطاب میں KORT کی 21 سالہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے نے کشمیر کے لوگوں کو ناقابلِ فراموش صدمے سے دوچار کیا، تاہم اس سانحے کے بعد خدمت، اخوت اور ایثار کے جذبے نے بھی جنم لیا، جس نے بے شمار یتیم بچوں کی زندگیوں میں امید کی کرن پیدا کی۔

KORT نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یتیم اور مستحق بچوں کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ محض امداد نہیں بلکہ نسلوں کی تعمیر اور مستقبل کی تشکیل کا عمل ہے۔ کسی یتیم بچے کو تعلیم، تربیت اور عزتِ نفس کے ساتھ معاشرے کا باوقار فرد بنانے میں

مدد دینا ایک عظیم انسانی خدمت ہے۔ساجد تارڑ نے امریکہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جانب سے KORT کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم اہلِ خیر یتیم بچوں کی کفالت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ KORT نے سمندر پار پاکستانیوں اور کشمیریوں کو بھی خدمتِ انسانیت کے اس عظیم کارواں سے جوڑا ہے، جو جغرافیائی حدود سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کا عملی مظہر ہے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے، جس نے چند لمحوں میں ہزاروں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔

آباد بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، والدین اپنے بچوں سے اور بچے اپنے والدین سے جدا ہوگئے، جبکہ لاتعداد معصوم بچے شفقتِ پدری اور آغوشِ مادری سے محروم ہوگئے۔

ایسے کربناک حالات میں KORT کا قیام یتیم بچوں کو سہارا دینے، ان کی تعلیم و تربیت اور بہترین مستقبل کی تعمیر کے عزم کی عملی صورت تھا۔

انہوں نے کہا کہ KORT نے اپنی خدمات کو وقتی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے یتیم اور مستحق بچوں کی مستقل کفالت، تعلیم، صحت، رہائش اور تربیت کو اپنا نصب العین بنایا۔ گزشتہ 21 برس کے دوران ادارے نے عزم، اخلاص، ایثار اور استقامت کے ساتھ خدمتِ خلق کا سفر جاری رکھا ہے۔

ادارے کی کوششوں کا مقصد بچوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے ساتھ تعلیم، شعور، خود اعتمادی اور خود انحصاری کے مواقع دینا ہے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید اور باوقار شہری بن سکیں۔

دیگر مقررین نے کہا کہ KORT کی 21 سالہ جدوجہد اس امر کی عکاس ہے کہ خلوصِ نیت، عزم اور اجتماعی تعاون سے محروم بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

ادارے نے بچوں کو چھت، کھانا اور لباس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں علم، شعور، اعتماد اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی ہے۔

تقریب کے اختتام پر سانحۂ زلزلہ 2005 کے شہداء کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور KORT کے زیرِ کفالت بچوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خدمتِ خلق، کفالتِ ایتام اور دکھی انسانیت کی دستگیری کا یہ سفر آئندہ بھی اخلاص، ایثار اور باہمی تعاون کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ءآزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ حکومت  اور ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعی...
09/10/2026

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ء
آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ حکومت اور ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید نے کہا ہے کہ تعلیم اور تحقیق کے ساتھ کھیل بھی انسانی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ کھیلوں کے ذریعے نوجوان نسل کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے ساتھ مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی روابط کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں میں کھیلوں کا مثبت جذبہ انہیں مستقبل کی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھانے اور ملکی ترقی و خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم ہینڈز اکیڈمی میرپور کے اسٹرو ٹرف فٹ بال گراؤنڈ میں کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے زیرِ اہتمام تین روزہ فٹ بال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ٹورنامنٹ میں لداخ، سری نگر، جموں، پونچھ، میرپور اور مظفرآباد کی چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ایونٹ کا انعقاد مسلم ہینڈز میرپور، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور گورنمنٹ کالج میرپور کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔سابق وزیر حکومت و ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعیدچوہدری محمد سعید نے کہا کہ میرپور ایک خوبصورت شہر اور مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کھیلوں کے بڑے مقابلوں کا انعقاد مختلف شہروں سے آنے والے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے ساتھ مقامی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ ایسے ایونٹس سے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، مارکیٹوں اور دیگر کاروباری شعبوں کو فائدہ پہنچنے کے امکانات بڑھتے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کی ثقافت اور روایات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیل رنگ، نسل اور علاقائی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں قائم ہونے والے روابط مستقبل میں تعلیمی، ثقافتی اور سماجی تعاون کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ طلبہ و طالبات کو کھیلوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، برداشت، ٹیم ورک، قیادت اور مثبت مقابلے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ صحت مند سرگرمیوں کے فروغ سے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔سابق وزیرِ حکومت اور ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید نے مسلم ہینڈز کی فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستحق افراد کی معاونت اور معاشرے کی بہتری کے لیے جاری فلاحی منصوبے قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی، صاف ماحول اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ کھیلوں کے ساتھ صفائی، صحت اور سماجی ذمہ داری کا پیغام بھی عام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی تنوع اور مہمان نوازی کے حوالے سے منفرد اہمیت رکھتا ہے۔ کھیل، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کو باہم مربوط کرکے نوجوانوں اور عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ معاشرے کے غریب اور مستحق بچوں کو بھی کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع اور ضروری معاونت فراہم کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے، تاکہ وسائل کی کمی کسی باصلاحیت بچے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ٹورنامنٹ کے پہلے روز کھیلے گئے افتتاحی میچ میں مظفرآباد اور پونچھ کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، جبکہ دوسرے میچ میں جموں اور لداخ کی ٹیموں نے دو، دو گول کیے۔ تیسرے میچ میں میرپور کی ٹیم نے مظفرآباد کو تین گول سے شکست دے دی۔ میچوں کے دوران رواں کمنٹری کے فرائض مرزا ہمایوں بیگ نے انجام دیے، جبکہ نور العین وحید، آئرہ احتشام اور احمد تیمور نے کمپیئرنگ کی۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انور خطاب، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور کے پرنسپل ڈاکٹر فیصل بشیر، سابق پرنسپل میاں عبدالرشید، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد چوہدری، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور ڈاکٹر اعجاز احمد راجہ، ڈائریکٹر کالجز عظمیٰ فاروق، مسلم ہینڈز میرپور کے ہیڈ آف آپریشنز جاوید الحسن، ہیڈ آف پروگرامز انجم بلال کاظمی، ہیڈ آف فنانس احمد فراز، میڈیا کوآرڈینیٹر ظفر مغل، مختلف ٹیموں کے کپتانوں، طلبہ و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے، مختلف علاقوں کے عوام کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور معاشرے میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

09/10/2026

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ء
آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ حکومت اور ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید نے کہا ہے کہ تعلیم اور تحقیق کے ساتھ کھیل بھی انسانی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ کھیلوں کے ذریعے نوجوان نسل کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے ساتھ مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی روابط کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں میں کھیلوں کا مثبت جذبہ انہیں مستقبل کی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھانے اور ملکی ترقی و خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم ہینڈز اکیڈمی میرپور کے اسٹرو ٹرف فٹ بال گراؤنڈ میں کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے زیرِ اہتمام تین روزہ فٹ بال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ٹورنامنٹ میں لداخ، سری نگر، جموں، پونچھ، میرپور اور مظفرآباد کی چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ایونٹ کا انعقاد مسلم ہینڈز میرپور، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور گورنمنٹ کالج میرپور کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔سابق وزیر حکومت و ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعیدچوہدری محمد سعید نے کہا کہ میرپور ایک خوبصورت شہر اور مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کھیلوں کے بڑے مقابلوں کا انعقاد مختلف شہروں سے آنے والے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے ساتھ مقامی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ ایسے ایونٹس سے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، مارکیٹوں اور دیگر کاروباری شعبوں کو فائدہ پہنچنے کے امکانات بڑھتے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کی ثقافت اور روایات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیل رنگ، نسل اور علاقائی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں قائم ہونے والے روابط مستقبل میں تعلیمی، ثقافتی اور سماجی تعاون کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ طلبہ و طالبات کو کھیلوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، برداشت، ٹیم ورک، قیادت اور مثبت مقابلے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ صحت مند سرگرمیوں کے فروغ سے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔سابق وزیرِ حکومت اور ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید نے مسلم ہینڈز کی فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستحق افراد کی معاونت اور معاشرے کی بہتری کے لیے جاری فلاحی منصوبے قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی، صاف ماحول اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ کھیلوں کے ساتھ صفائی، صحت اور سماجی ذمہ داری کا پیغام بھی عام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی تنوع اور مہمان نوازی کے حوالے سے منفرد اہمیت رکھتا ہے۔ کھیل، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کو باہم مربوط کرکے نوجوانوں اور عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ معاشرے کے غریب اور مستحق بچوں کو بھی کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع اور ضروری معاونت فراہم کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے، تاکہ وسائل کی کمی کسی باصلاحیت بچے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ٹورنامنٹ کے پہلے روز کھیلے گئے افتتاحی میچ میں مظفرآباد اور پونچھ کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، جبکہ دوسرے میچ میں جموں اور لداخ کی ٹیموں نے دو، دو گول کیے۔ تیسرے میچ میں میرپور کی ٹیم نے مظفرآباد کو تین گول سے شکست دے دی۔ میچوں کے دوران رواں کمنٹری کے فرائض مرزا ہمایوں بیگ نے انجام دیے، جبکہ نور العین وحید، آئرہ احتشام اور احمد تیمور نے کمپیئرنگ کی۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انور خطاب، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور کے پرنسپل ڈاکٹر فیصل بشیر، سابق پرنسپل میاں عبدالرشید، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد چوہدری، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور ڈاکٹر اعجاز احمد راجہ، ڈائریکٹر کالجز عظمیٰ فاروق، مسلم ہینڈز میرپور کے ہیڈ آف آپریشنز جاوید الحسن، ہیڈ آف پروگرامز انجم بلال کاظمی، ہیڈ آف فنانس احمد فراز، میڈیا کوآرڈینیٹر ظفر مغل، مختلف ٹیموں کے کپتانوں، طلبہ و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے، مختلف علاقوں کے عوام کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور معاشرے میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

کشمیر پریمیئر لیگ مختلف علاقوں کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے دوستی، بھائی چارے اور مثبت مقابلے کی فضا کو فروغ...
09/10/2026

کشمیر پریمیئر لیگ مختلف علاقوں کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے دوستی، بھائی چارے اور مثبت مقابلے کی فضا کو فروغ دے رہی ہے۔ مسلم ہینڈز میرپور، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (MUST) اور گورنمنٹ کالج میرپور کے تعاون سے کشمیر پریمیئر لیگ فٹ بال ٹورنامنٹ کے مقابلے جاری ہیں ۔

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ءوزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیل...
09/10/2026

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ء
وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کے ویژن کے مطابق عوام کو معیاری اور جدید طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے محکمہ صحت عامہ کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کی ضرورت کے پیش نظر اقدامات اٹھانے اور تمام غیر ضروری اٹیچمنٹس ختم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، صحت پہلی ترجیحی ہے ، صحت عامہ کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسلم ہینڈز میرپور کے دفتر کے دورے کے دوران ادارے کے ایگزیکٹو منیجر محمد سلیمان اور دیگر حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی ایچ او میرپور ڈاکٹر فدا حسین کیانی، ڈاکٹر سرجن وسیم عباسی اور محکمہ صحت کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔وزیر صحت عامہ ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر شعبہ صحت کو اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے عوام کو معیاری علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور سمیت آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے مثبت نتائج آئندہ چند ماہ میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے 100 روزہ پلان کے تحت ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور کلینک آن ویلز کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر کام جاری ہے۔ ان اقدامات سے عوام کو اپنے علاقوں میں بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ طبی تعلیم اور تربیت کے مواقع میں اضافے کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران اور طبی عملے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بلاامتیاز بہتر طبی سہولیات فراہم کریں اور مریضوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملے کی دستیابی، ہسپتالوں میں ادویات اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی اور علاج معالجے کے نظام میں بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت کے مشن کو جاری رکھے گی ۔اس موقع پر مسلم ہینڈز کے ایگزیکٹو منیجر محمد سلیمان نے وزیر صحت کو آزاد کشمیر بھر میں ادارے کے تحت جاری صحت عامہ کے منصوبوں اور مستقبل میں شروع کیے جانے والے پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم ہینڈز میرپور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں مستحق مریضوں کو موتیے کے مفت آپریشن کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی اور آنکھوں کے امراض کے معائنے کے لیے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں مریضوں کو طبی معائنے کے ساتھ ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔محمد سلیمان نے بتایا کہ مسلم ہینڈز ماحولیاتی تحفظ کے لیے آزاد کشمیر میں زیتون، پھل دار اور سایہ دار درخت لگانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ میرپور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ری سائیکلنگ کے منصوبے کے تحت استعمال شدہ مواد سے ٹف ٹائلز، گملے، کرسیاں اور بینچ تیار کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ اسی طرح خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے الکبریٰ سلائی سینٹرز کے ذریعے انہیں ہنر مند بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ضلع میرپور کے شہریوں، متاثرینِ منگلا ڈیم اور تارکینِ وطن کے خاندانوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے متعدد واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں، جن کی مرمت، بحالی اور فعالیت برقرار رکھنے کے لیے عطیہ دہندگان کے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے مسلم ہینڈز کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود اور صحت عامہ کے شعبے میں جاری منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سرکاری اداروں کی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور فلاحی اداروں کے باہمی تعاون سے صحت عامہ کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور عام آدمی کو معیاری علاج معالجے کی فراہمی کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ءکشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر جاتلاں روڈ پر واقع کورٹ کمپ...
09/10/2026

میرپور (پی آئی ڈی) 9 اکتوبر 2026ء
کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر جاتلاں روڈ پر واقع کورٹ کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ادارے کی دو دہائیوں پر محیط رفاہی، تعلیمی اور انسان دوست خدمات کو سراہا گیا۔ تقریب میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کا خودمختار اور باوقار شہری بنانے کے لیے KORT کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ، معروف امریکی کمیونٹی رہنما اور امریکہ میں KORT کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ تھے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان، معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ اور ان کے ساتھیوں نے بھی امریکہ سے خصوصی طور پر شرکت کی۔ KORT کے بانی و منتظم اعلیٰ چوہدری محمد اختر،مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ میں کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ) کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ، نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان، سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس (ر) اعظم خان، کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ فیاض حیدر نوابی، ڈپٹی کمشنر میرپور سید عمران عباس نقوی، ایس ایس پی میرپور خرم اقبال، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور راجہ محمد زبیر خان اور نجم الحسن جاوید ایڈووکیٹ، کمانڈنگ آفیسر ایس سی او، سابق صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اعظم خان کے صاحبزادے، معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ، چوہدری محمود پلاکوی ایڈووکیٹ، اوورسیز رہنما چوہدری محمد یونس، ملک امانت اعوان اور جاوید نجم الثاقب ایڈووکیٹ سمیت کونسلرز، بلدیاتی نمائندگان، سماجی کارکنان، سینئر صحافیوں، مخیر حضرات، رضاکاروں، اساتذہ، کورٹ کے طلبا و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی تقریب میں شریک ہوئی۔تقریب میں KORT کے بچوں نے متعدد رنگا رنگ اور سبق آموز پروگرام پیش کیے، جن میں انسانیت کی خدمت، بنیادی تعلیم کی اہمیت، صحت کی سہولیات، بنیادی انسانی حقوق، مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ بچوں نے دلکش ٹیبلو، خوبصورت لوک گیتوں، ثقافتی پرفارمنس اور دیگر دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور و آگاہی کا پیغام بھی دیا۔ مختلف پروگراموں میں کشمیری ثقافت و روایات، مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھی نمایاں کیا گیا۔ بچوں کی پُراعتماد اور شاندار کارکردگی کو شرکاء نے سراہا اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منتظم اعلی چوہدری محمد اختر نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا قیامت خیز دن آج بھی ان کے قلب و ذہن پر نقش ہے، جب آباد گھر اجڑ گئے، ماؤں کی گودیں ویران ہوئیں، خاندان بکھر گئے اور بے شمار معصوم بچے والدین کی شفقت سے محروم ہوگئے۔KORT کا سفر کسی ذاتی مفاد یا تشہیر کے لیے نہیں بلکہ دردِ دل، احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے شروع کیا تھا۔ اس وقت بنیادی عزم یہ تھا کہ زلزلے کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ انہیں تعلیم، تربیت، محبت اور باوقار مستقبل فراہم کیا جائے گا۔چوہدری محمد اختر نے کہا کہ آج KORT کے بچوں کو تعلیم حاصل کرتے، زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھتے اور اپنے قدموں پر کھڑا ہوتے دیکھ کر دل بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں شکرگزاری سے لبریز ہوجاتا ہے، تاہم ان بچوں کی ابتدائی محرومیوں اور سانحۂ زلزلہ کی یادیں آج بھی آنکھیں نم کر دیتی ہیں۔انہوں نے KORT کے ساتھ تعاون کرنے والے اہلِ خیر، مخیر حضرات، رضاکاروں، کارکنان، اساتذہ اور بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانی و کشمیری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروانِ خدمت کسی ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی احساس، اخوت اور ایثار کا مظہر ہے۔ ان کے خطاب کے دوران تقریب میں موجود شرکاء بھی جذباتی ہوگئے، چوہدری محمد اختر نے اپنے خطاب میں KORT کے زیرِ اہتمام جاتلاں میں زیرِ تعمیر جدید ہسپتال کے منصوبے کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً ساڑھے 12 ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی جائے گی، یہ منصوبہ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے، محروم اور نادار طبقات کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے اور خطے کے غریب عوام کے لیے امید کی نئی کرن روشن کرنے کی عملی کاوش ہے۔ہسپتال کا مقصد مستحق افراد کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں مدد دینا ہے تاکہ وسائل کی کمی کے باعث کسی ضرورت مند کو علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صحت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور کسی غریب کی بے بسی اس کے علاج میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔چوہدری محمد اختر نے کہا کہ KORT کا مقصد صرف یتیم بچوں کی کفالت تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ان طبقات تک پہنچنا بھی ہے جو وسائل کی کمی کے باعث بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ادارے کے منصوبے خدمتِ خلق کو محض الفاظ اور نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے دیرپا اقدامات کے ذریعے انسانیت کی خدمت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ KORT آئندہ بھی خدمتِ انسانیت کا سفر پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گا اور جہاں کوئی مجبور، بے کس، یتیم یا نادار انسان مدد کا منتظر ہوگا، وہاں دستِ تعاون دراز کرنا اپنی سعادت سمجھے گا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ساجد تارڑ نے اپنے خطاب میں KORT کی 21 سالہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے نے کشمیر کے لوگوں کو ناقابلِ فراموش صدمے سے دوچار کیا، تاہم اس سانحے کے بعد خدمت، اخوت اور ایثار کے جذبے نے بھی جنم لیا، جس نے بے شمار یتیم بچوں کی زندگیوں میں امید کی کرن پیدا کی۔KORT نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یتیم اور مستحق بچوں کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ محض امداد نہیں بلکہ نسلوں کی تعمیر اور مستقبل کی تشکیل کا عمل ہے۔ کسی یتیم بچے کو تعلیم، تربیت اور عزتِ نفس کے ساتھ معاشرے کا باوقار فرد بنانے میں مدد دینا ایک عظیم انسانی خدمت ہے۔ساجد تارڑ نے امریکہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جانب سے KORT کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم اہلِ خیر یتیم بچوں کی کفالت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ KORT نے سمندر پار پاکستانیوں اور کشمیریوں کو بھی خدمتِ انسانیت کے اس عظیم کارواں سے جوڑا ہے، جو جغرافیائی حدود سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کا عملی مظہر ہے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے، جس نے چند لمحوں میں ہزاروں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ آباد بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، والدین اپنے بچوں سے اور بچے اپنے والدین سے جدا ہوگئے، جبکہ لاتعداد معصوم بچے شفقتِ پدری اور آغوشِ مادری سے محروم ہوگئے۔ ایسے کربناک حالات میں KORT کا قیام یتیم بچوں کو سہارا دینے، ان کی تعلیم و تربیت اور بہترین مستقبل کی تعمیر کے عزم کی عملی صورت تھا۔انہوں نے کہا کہ KORT نے اپنی خدمات کو وقتی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے یتیم اور مستحق بچوں کی مستقل کفالت، تعلیم، صحت، رہائش اور تربیت کو اپنا نصب العین بنایا۔ گزشتہ 21 برس کے دوران ادارے نے عزم، اخلاص، ایثار اور استقامت کے ساتھ خدمتِ خلق کا سفر جاری رکھا ہے۔ ادارے کی کوششوں کا مقصد بچوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے ساتھ تعلیم، شعور، خود اعتمادی اور خود انحصاری کے مواقع دینا ہے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید اور باوقار شہری بن سکیں۔دیگر مقررین نے کہا کہ KORT کی 21 سالہ جدوجہد اس امر کی عکاس ہے کہ خلوصِ نیت، عزم اور اجتماعی تعاون سے محروم بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ادارے نے بچوں کو چھت، کھانا اور لباس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں علم، شعور، اعتماد اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی ہے۔تقریب کے اختتام پر سانحۂ زلزلہ 2005 کے شہداء کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور KORT کے زیرِ کفالت بچوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خدمتِ خلق، کفالتِ ایتام اور دکھی انسانیت کی دستگیری کا یہ سفر آئندہ بھی اخلاص، ایثار اور باہمی تعاون کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

میرپور : وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا مسلم ہینڈز میرپور کے دفتر کا دورہ، ایگزیکٹو منیجر محمد سلیمان نے...
09/10/2026

میرپور : وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا مسلم ہینڈز میرپور کے دفتر کا دورہ، ایگزیکٹو منیجر محمد سلیمان نے جاری فلاحی و طبی منصوبوں پر بریفنگ دی۔

مسلم ہینڈز میرپور کے دفتر میں وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کی ادارے کے حکام سے ملاقات، صحت عامہ کی سہولیات اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال

وزیر صحت عامہ مصطفی بشیر عباسی کی گفتگو

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کے ویژن کے مطابق عوام کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، وزیر صحت عامہ

حکومت کے 100 روزہ پلان کے تحت ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور کلینک آن ویلز کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی

ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور سمیت آزاد کشمیر کے دیگر ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، وزیر صحت عامہ

دور دراز اور مضافاتی علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی

طبی عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی اور علاج معالجے کے نظام میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر

وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے مسلم ہینڈز کے عوامی فلاح و بہبود اور صحت عامہ کے شعبے میں جاری منصوبوں کو سراہا۔

صحت مند معاشرہ ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، وزیر صحت عامہ

عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گے، وزیر صحت آزاد کشمیر

مسلم ہینڈز کی جانب سے مستحق مریضوں کو موتیے کے مفت آپریشن، ادویات اور آنکھوں کے معائنے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ایگزیکٹو منیجر محمد سلیمان

مسلم ہینڈز کے تحت خواتین کو ہنرمند بنانے، صاف پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں پر کام جاری ہے، ایگزیکٹو منیجر محمد سلیمان

09/10/2026

میرپور : کشمیر پریمیئر لیگ کے زیرِ اہتمام تین روزہ فٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز

ٹورنامنٹ میں لداخ، سری نگر، جموں، پونچھ، میرپور اور مظفرآباد کی نمائندگی کرنے والی چھ ٹیمیں شریک ہیں

سابق وزیرِ حکومت اور ممبر آزاد جموں و کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید نے مسلم ہینڈز اکیڈمی میرپور میں تین روزہ فٹ بال ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، برداشت، ٹیم ورک اور مثبت مقابلے کا رجحان پیدا کرتے ہیں، ممبر کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید

کشمیر پریمیئر لیگ فٹ بال ٹورنامنٹ میں لداخ، سری نگر، جموں، پونچھ، میرپور اور مظفرآباد کی نمائندگی کرنے والی چھ ٹیمیں شریک ہیں

کھیلوں کے مقابلے مختلف علاقوں کے عوام کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی روابط کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہیں، سابق وزیر حکومت چوہدری محمد سعید

کھیلوں کے انعقاد سے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع میسر آتے ہیں، ممبر کشمیر کونسل چوہدری محمد سعید

کھیل، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کو باہم مربوط کرکے نوجوانوں اور عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، چوہدری محمد سعید

میرپور میں فٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد مسلم ہینڈز، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور گورنمنٹ کالج میرپور کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔

09/10/2026

میرپور : کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر تقریب کا انعقاد

تقریب میں بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت اور روشن مستقبل کے لیے خدمات کو شاندار خراجِ تحسین

تقریب میں 8 اکتوبر 2005 کے شہداء کو خراجِ عقیدت اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہارِ کیا گیا

تقریب میں امریکہ میں کورٹ کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ کی تقریب میں خصوصی شرکت، ادارے کی خدمات کو سراہا

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان اور معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ کی بھی تقریب میں شرکت

سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس ریٹائرڈ اعظم خان، کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان ، ڈپٹی کمشنر میرپور سید عمران عباس نقوی، ایس ایس پی میرپور خرم اقبال، وکلا صاحبان ، سماجی شخصیات، مخیر حضرات، سینئر صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی تقریب میں شریک

کورٹ سے خطاب میں بانی و منتظمِ اعلیٰ چوہدری محمد اختر کا خدمتِ انسانیت کا مشن جاری رکھنے کا عزم

جاتلاں میں تقریباً ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے جدید ہسپتال کی تعمیر یقینی بنائیں گے ، چوہدری اختر

مستحق اور نادار افراد کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے ، منتظم اعلی کورٹ

ساجد تارڑ کا کورٹ کی 21 سالہ فلاحی جدوجہد کو خراجِ تحسین

سمندر پار پاکستانی و کشمیری برادری کی جانب سے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

تقریب میں کورٹ کے بچوں کے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام، لوک گیتوں اور دلکش ٹیبلو کے ذریعے انسانیت، بنیادی تعلیم، صحت، انسانی حقوق اور بھائی چارے کا پیغام

کورٹ کی دو دہائیوں پر محیط جدوجہد محروم بچوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور خود انحصاری کے ذریعے روشن مستقبل کی تعمیر کی قابلِ تحسین مثال ہیں، مقررین

کورٹ کی 21 سالہ جدوجہد اجتماعی تعاون، اخلاص اور ایثار کے ذریعے یتیم و مستحق بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا عملی نمونہ ہے، مقررین

تقریب کے اختتام پر زلزلہ 2005 کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گی

Address

Mirpur

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
Tuesday 08:00 - 15:00
Wednesday 09:00 - 15:00
Thursday 08:00 - 15:00
Friday 08:00 - 15:00
Saturday 08:00 - 15:00

Telephone

+925827920703

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DGPR Mirpur AJ&K posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to DGPR Mirpur AJ&K:

Shortcuts

Share