Engr.Shahid Official

Call Directions Contact the organization

Engr.Shahid Official i am a professional Mechanical Engineer

12/10/2026

اک امیر کاروباری مرنے سے پہلے اپنی اولاد سے بات کرتے ہوئے اچانک وکٹری کا نشان بنایا اور کچھ کہنے سے پہلے ہی مر گیا
فوراً ڈاکٹر بلوایا اور کہا
ہمارے والد کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن یہ ✌️دکھاتے ہی ان کی جان نکل گئی
ڈاکٹر نے کہا، 20 لاکھ کا انجیکشن لگے گا,اور آپ کے والد صرف 2 منٹ کے لئے زندہ ہو سکیں گے
اولاد نے کہا ٹھیک ہے
ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا
بوڑھا آدمی زندہ ہوگیا اور کہنے لگا
بیٹا فلاں فیکٹری والے سے دو ✌️کروڑ روپے لینے ہیں بھولنا نہیں
اور یہ کہ کر بوڑھا پھر سے مر گیا
ادھر مراثیوں کا باپ قریب المرگ تھا
وہ بھی بات کرتے کرتے ✌️ کا نشان بنایا اور فوت ہو گیا
مراثیوں نے بھی ڈاکٹر کو بلوایا
اور کہا ہمارے ابا جی بھی کچھ کہنے والے تھے لیکن ✌️کا نشان بنا کر فوت ہوگئے
ڈاکٹر نے ان سے بھی کہا 20 لاکھ کا انجیکشن لگے گا
مراسی مان گئے
گھر، سونا ، ہر چیز بیچ کر 20 لاکھ لے آئے
ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا
تو بوڑھا مراسی زندہ ہوگیا
اس کی اولاد پوچھنے لگی ابا جی آپ نے یہ ✌️ نشان کیوں بنایا؟
بوڑھا مراسی کہنے لگا پتر میں کہنا چاہتا تھا کہ

" ذرا اک سگریٹ دا کش ✌️ تے لوائیں "

ڈراپ سین

04/10/2026

فیس بک پر خود کو اتھارٹی بنائیں

فیس بک پر لوگ تفریح کے لیے آتے ہیں، لیکن اگر آپ نے وہاں خود کو ایک “اتھارٹی” کے طور پر منوانا ہے تو آپ کو عام صارفین والے مائنڈ سیٹ سے نکل کر ایک بزنس لیڈر کی طرح سوچنا ہوگا۔ فیس بک کی 24 کروڑ کی منڈی میں اپنا لوہا منوانے کے 12 کڑوے اور پریکٹیکل مراحل درج ذیل ہیں

1۔ اپنا کینوس محدود کریں
آپ ہر مرض کی دوا نہیں بن سکتے۔ اپنی مہارت کے مخصوص ستون چن لیں (جیسے نفسیات، بزنس، اور کامیابی) اور خود کو صرف انہی تک محدود رکھیں۔ جب آپ ایک ہی موضوع کے مختلف زاویوں پر مسلسل اور گہری بات کریں گے، تو فیس بک کا الگورتھم اور لوگ دونوں آپ کو اس فیلڈ کا حتمی ماہر مان لیں گے۔
2۔ پروفائل کو لینڈنگ پیج بنائیں
آپ کا فیس بک پیج یا پروفائل کوئی سستی دکان نہیں ہونی چاہیے۔ آپ کا کور فوٹو، بائیو (Bio) اور پروفائل پکچر واضح اور دو ٹوک انداز میں بتائے کہ آپ کون ہیں، کیا مسئلہ حل کرتے ہیں، اور آپ کو کیوں سنا جائے۔
3۔ کہانی کے عناصر کا جادو
لوگ خشک لیکچرز، نصیحتوں اور بورنگ فلسفوں سے بھاگتے ہیں۔ اپنے کڑوے پیغامات اور مارکیٹ کے حقائق کو “کہانی کے عناصر”میں ڈھال کر بیان کریں۔ جب آپ بات کو کہانی کے سانچے میں پیش کرتے ہیں، تو آپ قاری کے دماغ کے منطقی فلٹرز کو بائی پاس کر کے سیدھا اس کے لاشعور میں اتر جاتے ہیں۔
4۔ قاری کی دکھتی رگ پر وار کریں
عام لوگ فیس بک پر اپنی کامیابیاں اور گاڑیاں بیچتے ہیں۔ آپ نے قاری کا ”درد” اور اس کی الجھن بیچنی ہے۔ انسانی نفسیات کو سمجھیں اور ان مسائل پر لکھیں جن کا حل لوگ شدت سے ڈھونڈ رہے ہیں۔ جب آپ ان کا مسئلہ ان سے بہتر الفاظ میں بیان کر دیں گے، تو وہ لاشعوری طور پر مان لیں گے کہ حل بھی آپ ہی کے پاس ہے۔
5۔ بے دریغ ویلیو بانٹیں
اپنی بہترین معلومات اور راز، جن کے لیے لوگ پیسے دیتے ہیں، انہیں فیس بک پر مفت بانٹنا شروع کریں۔ جب آپ بغیر کسی لالچ کے ایسی سچی اور دو ٹوک باتیں لکھیں گے جو لوگوں کے دماغ کے جالے صاف کر دیں، تو وہ آپ کو سیلز مین کی بجائے اپنا مینٹور تسلیم کر لیں گے۔
6۔ بحث سے گریز اور “لیڈرشپ” مائنڈ سیٹ
اتھارٹی رکھنے والے لوگ کمنٹس میں ٹرولز (Trolls) کے ساتھ الجھ کر اپنی انا کی تسکین نہیں کرتے۔ منفی یا جاہلانہ تبصروں کو مکمل نظرانداز کریں۔ آپ کا کام ہر راہ گیر سے بحث جیتنا نہیں، بلکہ اپنی مارکیٹ کو لیڈ کرنا ہے۔
7۔ نظامی محنت اور مستقل مزاجی
اتھارٹی ایک دن کی وائرل ویڈیو سے نہیں بنتی۔ یہ ڈسپلن اور سسٹمز کا کھیل ہے۔ ایک ایسا کیلنڈر بنائیں جس میں آپ تسلسل کے ساتھ اپنا مواد پوسٹ کریں۔ فیس بک پر آپ کی غیر حاضری آپ کی اتھارٹی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
8۔ ویڈیو مواد کا استعمال
تحریر کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو، جو اثر آپ کی آنکھوں کا رابطہ اور آپ کی آواز کا اتار چڑھاؤ پیدا کرتا ہے، وہ کسی اور چیز سے ممکن نہیں۔ کیمرے کے سامنے بیٹھ کر پورے اعتماد سے مارکیٹ کے حقائق بیان کریں، یہ انسانوں کے درمیان اعتبار بنانے کا سب سے تیز طریقہ ہے۔
9۔ اپنا قبیلہ ( کمیونٹی ) بنائیں
آپ کی پوسٹ پر جو لوگ باقاعدگی سے معیاری کمنٹ کرتے ہیں، انہیں پہچانیں۔ ان کے سوالوں کے تفصیلی اور ماہرانہ جوابات دیں۔ جب آپ ان کے مسائل کو ذاتی توجہ دیتے ہیں، تو وہ محض فالوورز نہیں رہتے، بلکہ آپ کے برانڈ کے وفادار سپاہی بن جاتے ہیں۔
10۔ سوشل پروف کا مظاہرہ
اگر آپ کی کسی تحریر، تکنیک یا مشورے سے کسی کی زندگی یا بزنس میں کوئی مثبت تبدیلی آئی ہے، تو اس کا سکرین شاٹ یا ریویو شیئر کریں۔ لوگ آپ کے دعوؤں سے زیادہ دوسروں کے نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔
11۔ دوسرے ماہرین کے پلیٹ فارمز کا استعمال
اپنے موضوع سے جڑے دوسرے کامیاب لوگوں کے پیجز پر جائیں اور وہاں انتہائی ماہرانہ اور ویلیو سے بھرپور کمنٹس کریں۔ جب آپ دوسری بڑی کمیونٹیز میں جا کر اپنا علم بانٹیں گے، تو وہاں کے باشعور لوگ خود بخود آپ کی پروفائل کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔
12۔ ٹریفک کو اپنے سسٹمز میں لانا
فیس بک ایک کرائے کا مکان ہے،مارک زکربرگ جب چاہے آپ کی پہنچ زیرو کر سکتا ہے۔ ایک سچی اتھارٹی اپنے مداحوں کو صرف فیس بک تک محدود نہیں رکھتی۔ اپنی ہر مضبوط تحریر یا ویڈیو کے ساتھ قارئین کو اپنے ذاتی سسٹمز (جیسے کہ آپ کی اپنی موبائل ایپلی کیشن، واٹس ایپ لسٹ یا سبسکرپشن ماڈل) پر آنے کی دعوت دیں تاکہ وہ مستقل طور پر آپ کے ایکو سسٹم کا حصہ بن جائیں۔


30/08/2026

مجھے بچپن سے ہی انگریزی میں فیل ہونے کا شوق تھا لہٰذا میں نے ہر کلاس میں اپنے شوق کا خاص خیال رکھا
ویسے تو مجھے انگریزی کوئی خاص مشکل زبان نہیں لگتی تھی ، بس ذرا اسپیلنگ ، گرائمر اور Tenses نہیں آتے تھے ۔ مجھے یاد ہے جو ٹیچر ہمیں کلاس میں انگریزی پڑھایا کرتے تھے وہ بھی کاٹھے انگریز ہی تھے 😅😳
دو سال تک سی یو پی "سَپ" پڑھاتے رہے ۔ مشین کو مچین اور نالج کو کنالج کہتے رہے ۔ ایسی تعلیم کے بعد میری انگریزی میں اور بھی نکھار آ گیا
کالج میں داخلہ کے وقت فارم کے پہلے کالم میں اپنا نام انگریزی میں لکھنا تھا لیکن انگریزی سے نابلد ہونے کی وجہ سے مجھے یہ نام لکھنے کے لئے اسلام آباد کا سفر کرنا پڑا کیونکہ فارم پر لکھا ہوا تھا "Fill in Capital"
انگریزی فلمیں دیکھتے ہوئے بھی مجھے کہانی تو سمجھ آ جاتی تھی ، اسٹوری پلّے نہیں پڑتی تھی ۔
سِکس مِلین ڈالر مَین ، نائٹ رائڈر ، چِپس ، ائیر وُولف اور کوجیک جیسی مشہورِ زمانہ فلمیں میں نے صرف اور صرف اپنی ذہانت سے سمجھیں اور انجوائے کیں
آج سے کچھ سال پہلے تک مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میں فارسی ، عربی ، پشتو اور اشاروں کی زبان تو سیکھ سکتا ہوں لیکن انگریزی نہیں ، لیکن اب جو حالات چل رہے ہیں اُن کو مدِ نظر رکھ کر میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یا تو مجھے انگریزی آ گئی ہے یا سب کو بھول گئی ہے
کچھ بھی ہو ، میری خوشی کی انتہا نہیں
اب سارے اسپیلنگ بدل گئے ہیں اور دو تین لفظوں میں سما گئے ہیں
اب Coming لکھنا ہو تو صرف cmg سے کام چل جاتا ہے ۔ گَرل فرینڈ GF ہو گئی ہے اور فیس بُک FB بن گئی ہے
اب کوئی انگریزی کا لمبا لفظ لکھنا ہو تو اُس سے پہلے کے چند الفاظ لکھ کر ہی ساری بات کہی جا سکتی ہے
میں نے ساڑھے تین سال کی ٹیوشن با مشقت کے بعد Unfortunately کے اسپیلنگ یاد کئے تھے ، آج کل صرف unfort سے کام چل جاتا ہے یعنی جیاں سے مشکل اسپیلنگ شروع وہیں پہ ختم
بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن اب تو اِس مختصر انگریزی میں بھی ایسی ایسی مشکلات آن پڑی ہیں کہ کئی دفعہ جملہ سمجھنے کے لئے استخارہ کرنا پڑتا ہے
ابھی کل مجھے ایک دوست کا میسیج آیا ، لکھا تھا "u r inv in bk crmy"
میں نے حیرت سے میسیج کو پڑھا ، اللہ جانتا ہے تین چار دفعہ مجھے شک گزرا کہ اُس نے مجھے کوئی گندی سی گالی لکھی ہے
دل مطمئن نہ ہوا تو ایسی ہی انگریزی لکھنے اور سمجھنے کے ماہر ایک اور دوست سے رابطہ کیا ۔
اُس مردِ مجاہد نے ایک سیکنڈ میں ٹرانسلیشن کر دی کہ لکھا ہے "you are invited in book ceremony"
انگریزی سے نمٹنے کا ایک اور اچھا طریقہ میرے ہمسائے شاکر صاحب نے نکالا ہے
جہاں جہاں انہیں انگریزی نہیں آتی ، وہاں وہ اطمینان سے اردو ڈال دیتے ہیں
مثلاً اگر کھانا کھاتے ہوئے اُنہیں کسی کا میسیج آ جائے تو جواب میں لکھ بھیجتے ہیں "پلیز ، اِس ٹائم ناٹ ڈسٹرب۔ آئی ایم کھانا کھائینگ"
ایک دفعہ موصوف کو فیس بُک پر ایک لڑکی پسند آ گئی ، فوراً لکھا ...
"آئی وانٹ ٹُو شادی وِد یو ۔ ۔ ۔ آر یُو راضی؟"
لڑکی کا جواب آیا
"ہاں ، آئی ایم راضی۔ بَٹ پہلے ٹرائی ٹُو راضی میرا پیو تے بے بے"😍
آج کل یہ دونوں میاں بیوی ہیں اور اکثر اسی انگریزی میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ، تاہم اب وہ درمیان میں اردو کی بجائے پنجابی بولتے ہیں اور ایک جملہ بار بار دہراتے ہیں
"آئی سَیڈ ، کھَصماں نُوں کھا ۔ یوور سارا خاندان اِز چَوَل.🤣🤣

منقول

15/08/2026

ان موٹر سائیکل سواروں کو سڑک پار کرنے، بریک لگانے اور آہستہ گاڑی چلانے کے آداب کوئی نہیں سکھاتا ہے۔ پاکستان میں 90 فیصد حادثات موٹر سائیکل سواروں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ وہ بریک لگانے اور صبر کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ملتان میں سیمنٹ سے لدا ٹرک موٹر سائیکل سوار کو بچاتے ہوئے مہران کار پر الٹ گیا۔ مہران میں ایک شخص اور اس کا تین سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔ ٹرک ڈرائیور اور مزدور بھی شدید زخمی، موٹر سائیکل سوار معمولی زخمی ہوا تاہم تباہی ہوئی۔ خدا کے لیے سڑک پر اتنی افراتفری نہ پھیلائیں کہ کئی لوگوں کی جانیں لے جائیں۔ مجھے اس موٹر سائیکل سوار سے ایک فیصد بھی ہمدردی محسوس نہیں ہوتی بلکہ غصہ آیا۔ اس نے اکیلے ہی اپنی نالائقی کی وجہ سے کئی زندگیوں سے کھیلا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ٹرک کو بھی گول چکر میں سپیڈ کو کم رکھنے کے ساتھ ساتھ محتاط رہنا چاہیے تھا لیکن ہنگامی صورتحال میں بھاری ٹرک کے لیے بریک لگانا مشکل تھا۔ اگر وہ اسے کچل کر گزر جاتا تو نقصان کم ہوتا لیکن اس نے جبلّی طور پر ایک انسان نما گدھے کو بچانے کی کوشش میں زیادہ نقصان کر دیا۔

۔ہر تعلق میں ایک حد ہوتی ہے، ایک دائرہ ہوتا ہے جس کا احترام کرنا ہی اصل شرافت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کی کوئی بات آپ...
15/08/2026

۔

ہر تعلق میں ایک حد ہوتی ہے، ایک دائرہ ہوتا ہے جس کا احترام کرنا ہی اصل شرافت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کی کوئی بات آپ سے شیئر نہیں کرنا چاہتا، تو بار بار سوال کر کے، اشاروں کو جوڑ کر یا دوسروں سے پوچھ کر اُس راز تک پہنچنے کی کوشش نہ کریں۔ ہر بات جان لینا آپ کا حق نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی ہم تجسس کو محبت، فکر یا اپنائیت کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ہم سامنے والے کی نجی حدود میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔ کسی کی خاموشی کو خاموشی رہنے دینا بھی ایک خوبصورت اخلاق ہے۔ جو شخص آپ کو اپنی بات بتانا چاہے گا، وہ خود بتا دے گا؛ آپ کو اُس کے لفظوں کے پیچھے چھپی ہوئی باتیں کھوجنے کی ضرورت نہیں۔

یاد رکھیں، اعتماد صرف راز بتانے سے نہیں بنتا، راز چھپا رہنے دینے سے بھی بنتا ہے۔ کسی نے اگر آپ کے سامنے ایک دروازہ بند رکھا ہے تو ادب یہی ہے کہ اُس دروازے پر دستک دے کر بار بار اندر جھانکنے کی کوشش نہ کریں۔

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جان لینے کے بعد رشتوں میں پہلے جیسی معصومیت باقی نہیں رہتی۔ اس لیے ہر حقیقت جاننا ضروری نہیں، ہر سوال کا جواب حاصل کرنا ضروری نہیں، اور ہر پردے کے پیچھے دیکھنا بھی ضروری نہیں۔

جو آپ کے لیے ہوگا، وہ آپ سے چھپ کر نہیں رہے گا؛
اور جو آپ سے چھپایا گیا ہے، اُس کی تلاش میں اپنی عزتِ نفس مت کھوئیں۔

بس اتنا ظرف رکھیں کہ سامنے والے کی خاموشی کو بھی ایک جواب سمجھ سکیں۔
کبھی کبھی نہ پوچھنا ہی سب سے خوبصورت ادب ہوتا ہے۔

13/08/2026

This Independence Day, don’t just raise the flag make a promise:

Take care of your health.
Check your parents’ blood pressure.
Teach your children healthy habits.
And value every life in our beloved country.

Healthy Nation Strong Pakistan 🇵🇰

Pakistan Zindabad! 💚


In today's world, heart disease is rising rapidly among young people and is no longer limited to older adults.An increas...
28/06/2026

In today's world, heart disease is rising rapidly among young people and is no longer limited to older adults.
An increasing number of individuals between the ages of 20 and 40 are experiencing heart attacks, chest pain, irregular heart rhythms, and even sudden cardiac death, which is becoming a serious public health concern.
As an HSEQ professional, I sincerely urge all parents to pay close attention to their children's health. Va**ng, e-cigarettes, and cigarette smoking are among the major risk factors for heart disease. In addition, excessive consumption of soft drinks, fast food, and an unhealthy lifestyle is contributing to a sharp increase in diabetes, obesity, high blood pressure, and cardiovascular diseases among young people.
Remember, heart attacks are no longer a disease of old age.
Encourage your children to adopt healthy eating habits, engage in regular physical activity, get adequate sleep, and stay completely away from to***co in all its forms. The care and attention you give today could save their lives tomorrow.
Take care of your heart, because a healthy heart is the foundation of a healthy future.
Sobia Aqeel
Asma Shirazi
Ministry of Information and Broadcasting, Pakistan
Yousaf Jamil
Muhammad Amjad Bhatti
Asma Tariq
Nasir Mahmood Kayani

⚠️ Before Moving to the Gulf, Know These Facts!Nowadays, many young people dream of a better future, higher income, and ...
27/06/2026

⚠️ Before Moving to the Gulf, Know These Facts!
Nowadays, many young people dream of a better future, higher income, and a more comfortable life for their families by moving to Saudi Arabia, the United Arab Emirates, Qatar, Kuwait, Oman, and other Gulf countries. Social media often creates the impression that life changes overnight once you reach the Gulf, but the reality is often very different.
If you do not have a specialized skill, work experience, or professional qualification, and you are planning to move for a salary of only 600, 800, or 900 Saudi Riyals per month, please take a moment to think carefully before making your decision.
Many people spend PKR 400,000 to 600,000 to obtain a work visa. After arriving, they realize that such a low salary is barely enough to cover their daily expenses, and even after several years, they may not recover the money they invested in getting the visa.
It is also important to understand that saving money in the Gulf is no longer as easy as it used to be. The cost of accommodation, food, transportation, mobile services, personal needs, and other living expenses has increased significantly. If your employer does not provide these facilities, surviving on a low salary can become extremely difficult.
Some people assume that "the company will provide food and accommodation," but not every employer offers the same benefits. While some companies provide decent living conditions, others offer accommodation and meals of poor quality, forcing workers to live with many hardships. Therefore, before accepting any job offer, make sure you thoroughly verify the company's reputation, accommodation, medical coverage, transportation, overtime policy, and other employment benefits.
Those working in construction, road works, steel factories, farms, or other outdoor jobs should also be prepared for extreme heat, long working hours, physically demanding labor, and harsh weather conditions. These jobs may sound easy, but in reality they require physical strength, patience, and endurance.
If you already have enough money to spend hundreds of thousands of rupees on a visa, ask yourself whether investing that same amount in a small business, a shop, a workshop, online work, or learning a valuable skill in your own country might provide a better long-term future. Many people today are earning a respectable living while staying in Pakistan.
If you still plan to work abroad, try to acquire a valuable skill before you leave, such as:
✔️ Electrician
✔️ Solar Technician
✔️ Air Conditioning (AC) Technician
✔️ Plumber
✔️ Welder
✔️ CNC Operator
✔️ Heavy Vehicle Driver
✔️ Machine Operator
✔️ IT or Computer Skills
Skilled workers generally receive higher salaries, better job opportunities, and greater career growth.
In my personal opinion, if accommodation and other essential facilities are not provided, it is more reasonable to consider jobs offering at least 1,500 Saudi Riyals or more per month. However, the ideal salary depends on the company, the city, the benefits provided, and the nature of the work.
Remember, working abroad is not a bad decision, but making such an important choice without proper information, careful planning, and realistic expectations can lead to serious difficulties later.
Ultimately, Allah Almighty is the One who provides sustenance. Our responsibility is to plan wisely, choose lawful means of earning, develop valuable skills, and work hard with sincerity.
May Allah bless every hardworking person with lawful, honorable, and abundant sustenance, whether they are in their homeland or living abroad.

‏لا حولا ولا وقوتہہ الا بالا پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو لگاتار ساتویں میچ میں بھی بنگلہ دیش سے بدترین شکست۔ 50 اوورز ...
21/06/2026

‏لا حولا ولا وقوتہہ الا بالا
پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو لگاتار ساتویں میچ میں بھی بنگلہ دیش سے بدترین شکست۔
50 اوورز کے ورلڈ کپ میں بھی تمام میچز میں شکست فاش اور اب ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پریکٹس میچز سے لیکر ورلڈ کپ کے میچز تک تمام میں بدترین شکستوں کا سامنا۔
وومن کرکٹ ایک ایسی بہتی گنگا ہے جس میں نااہل، جاہل کوچنگ اور مینجمنٹ کو اوبلائج کیا جاتا رہا ہے۔ خواتین کی کرکٹ کا مکمل جنازہ نکال دیا گیا ہے۔
جتنے نااہل incompetent اور جاہل قذافی اسٹیڈیم اور کرکٹ اکیڈمی کے آس پاس گدھوں کی طرح منڈلاتے رہتے ہیں انکو پکڑ کر کوچنگ مینجمنٹ میں لگوا دیا جاتا رہا ہے اور رزلٹ صفر۔
نہ ان لوگوں کے پاس سپورٹس کی کوئی ایجوکیشن ہے۔
نہ انکو خواتین کی سائیکالوجی کے بارے میں کوئی ایجوکیشن ہے۔
نہ کوچنگ کے basic principles کا علم ہے۔
مگر پیسہ ہر ایک نے اس کرکٹ بورڈ سے کمانا ہے۔ رزلٹ بد سے بدترین۔ کارکردگی ناقص سے ناقص ترین۔
انسان افسوس ہی کر سکتا ہے۔
سپورٹس کی زرد صحافت کرنے والے نام نہاد گھناونے صحافی اپنے اپنے شہروں کے گماشتوں کی پروجیکشن میں زمین آسمان کے قلابے ملا کر انکی لابنگ کرتے ہیں۔ آپ نے ان منحوس لوگوں کے منہ سے آج تک کسی ایمان دار صاف ستھرے کریکٹر یا ایجوکیشن کا نام تک نہیں سنا ہوگا۔
ایسے گدھ پاکستان سپورٹس کی لاش کو نوچ کر کھا رہے ہیں۔
بیس بیس سال سے یہاں پر بیٹھے کردار ابھی پیسہ بنانے کیلئے مزید وقت کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ سپورٹس کدھر جائے گی۔

Address

Multan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923213810884

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engr.Shahid Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Engr.Shahid Official:

Shortcuts

Share

Category