15/10/2026
ایک چھاپہ جو فلمی کہانی بن گیا: دلیری یا اندھی بیوقوفی؟
کیا ایک پولیس آفیسر کا دوسرے ضلع میں گھس کر بلا وارنٹ کارروائی کرنا فرض کی ادائیگی ہے یا پھر سراسر لاپرواہی؟ ملتان کے وقاص ٹاؤن میں ہونے والی ایک بڑی چوری—جس میں 100 تولے سونا اور 80 لاکھ روپے غائب ہوئے—نے ایک ایسا سنسنی خیز موڑ لیا ہے جس نے سب کو دنگ کر رکھا ہے۔
کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب سب انسپکٹر ندیم کو ایک اہم سراغ ملتا ہے کہ چوری شدہ مال مظفر گڑھ کے صرافہ بازار میں فروخت کیا گیا ہے۔ بس پھر کیا تھا، ندیم اپنی ٹیم کے ساتھ ملتان سے مظفر گڑھ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے جو کچھ کیا، وہ کسی ایکشن فلم سے کم نہیں تھا۔
مظفر گڑھ پہنچ کر انہوں نے مبینہ طور پر ایک سنارے عمیر کی دکان کا سیف توڑا، لاکھوں کا سونا اور 25 لاکھ روپے نکالے، اور جاتے جاتے دکان میں توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کا بیک اپ بھی اڑا دیا۔ جب وہ عمیر کو گرفتار کر کے لے جانے لگے تو غصے میں بپھرے تاجروں کی کثیر تعداد وہاں جمع ہو گئی۔
جب تاجروں نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے وارنٹ طلب کیے، تو ٹیم کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ سادہ لباس اہلکار تو سنارے کو لے کر جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن سب انسپکٹر ندیم تاجروں کے ہتھے چڑھ گئے۔ طیش میں آئے تاجروں نے ان کے ساتھ بدتمیزی اور مار پیٹ کی اور انہیں اٹھا کر ایک دکان میں بند کر دیا۔
معاملہ اس وقت مزید بگڑا جب مظفر گڑھ کی ایلیٹ فورس کے دستوں نے موقع پر پہنچ کر سب انسپکٹر ندیم کو بازیاب کروایا۔
دوسری طرف، تاجروں کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بغیر کسی قانونی ثبوت یا وارنٹ کے اس قسم کی غنڈہ گردی ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ لیکن سوچنے کا پہلو یہ بھی ہے کہ آخر ایک ضلع کی پولیس اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسرے ضلع میں ایسے اندھا دھند کارروائی کیوں کرے گی؟ ادھر مظفر گڑھ پولیس کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ تاہم، قانون یہ کہتا ہے کہ عوام کو قانون کا احترام کرنا چاہیے تھا، اور اگر کوئی مسئلہ تھا تو فوری طور پر 15 پر کال کی جا سکتی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی نظر میں یہ سب کیا تھا—ایک فرض شناس پولیس والے کی بے مثال دلیری، یا پھر ضابطے کی دھجیاں اڑانے والی ایک صریح بیوقوفی؟