History of Islam

History of Islam

Share

اس صفحے پر خاص طور پر اسلامی تاریخی یا اسلامی ممالک کی یا ان سے ملتی جلتی تهذیبوں کے بارے میں معلومات مهیا کی جاتی هیں

17/12/2023

مسجد نبوی کی یادگار تصویر

12/12/2023
Photos from History of Islam's post 14/08/2021

کشمیر کے ترانے کی تاریخ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا قومی ترانہ ایک نظم ہے جسے سنہ 1949 میں حفیظ جالندھری نے تحریر کیا تھا اور سنہ 1958 میں اسے پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں ریکارڈ کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن پر اس نظم کو سب سے پہلے منور سلطانہ اور عنیقہ بانو نے گایا تھا۔

حفیظ جالندھری کی سنہ 1949 میں لکھی گئی نظم کو سنہ 1972 میں کشمیر کے قومی ترانے کا درجہ دیا گیا۔ جالندھری پاکستان کے قومی ترانے کے خالق بھی ہیں

حفیظ جالندھری کی اس نظم کو سنہ 1972 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے قومی ترانے کا درجہ دیا گیا۔
اس نظم کو قومی ترانے کا درجہ دینے سے قبل اس میں ایک آدھ مصرعہ بھی بدلا گیا۔ حفیظ صاحب کی نظم میں مصرعہ تھا ’جاگ اٹھے گی ساری وادی‘ جس کو دوبارہ ترتیب دے کر ’جاگ اٹھی ہے ساری وادی‘ لکھا گیا۔

اس نظم میں ’آزاد کشمیر‘ سے مراد صرف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر نہیں بلکہ متحدہ کشمیر (پاکستان اور انڈیا دونوں کے زیر انتظام منقسم کشمیر) هے۔

اس کی موسیقی عنایت شاہ اور رشید عطرے نے ترتیب دی ۔ ’فلمی دنیا میں آنے سے قبل رشید عطرے ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستہ تھے۔‘

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا قومی ترانہ پاکستان کے اپنے قومی ترانے سے بھی پہلے لکھا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان کے قومی ترانے کی موسیقی یا دھن سنہ 1950 میں منظور ہوئی تھی۔ ریڈیو پاکستان سے روز یہ دھن بجائی جاتی اور لوگوں کو کہا گیا کہ وہ اس دھن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترانے کے بول تجویز کریں۔ سات اگست 1954 کو حکومت پاکستان نے حفیظ جالندھری کے قومی ترانے کے بول منظور کیے جبکہ 13 اگست 1954 کو پاکستان کا ترانہ نشر ہوا۔‘
۔

حکومتِ کشمیر اپنے قومی ترانے کو ’ری کمپوز‘ کرنے کا سوچ رہی ہے اور اس حوالے سے آئندہ دنوں میں ایک میٹنگ بھی بلائی جائے گی۔

’ترانے میں الفاظ کی کافی تکرار ہے اور چند سطریں بار بار دہرائی گئی ہیں جیسا کہ ’وطن ہمارا آزاد کشمیر‘۔ اس کو مختصر کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘

ترانے کی دھن کو بھی تازہ (ریفریش) کیا جائے گا کیونکہ اصل ریکارڈنگ بہت پرانی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت چاہتی ہے کہ موسیقی کی کوئی بڑی کمپنی جیسا کہ ’کوک سٹوڈیو‘ یا کوئی نامور موسیقار یہ کام کرے تاکہ ترانے کو مزید پرجوش اور سننے میں بہتر بنایا جا سکے۔

حکومت کے اپنے

11/06/2021

درّہ خیبر: جہاں سکندرِ اعظم سے لے کر انگریزوں تک، سب کے غرور خاک میں مل گئے

بچپن سے جادو والی کہانیوں میں ایسے بہت سے مقامات کے قصے سنتے آئے ہیں جہاں سے ایک قدم آگے جانے والا یا تو فنا ہوجاتا یا پیچھے دیکھنے والا پتھر کا بت بن جاتا تھا۔

ایسے ہی حقیقی دنیا میں اگر کسی علاقے کو یہ مقام حاصل ہوسکا ہے تو وہ ہے پاکستان کے اندر افغانستان کی سرحد سے متصل درّہ خیبر، جہاں سے افغانستان جانے اور وہاں سے یہاں آنے والوں کو راستے کے حصول کے لیے یہاں پر آباد آفریدی قبائل کو خراج دینا پڑا اور دنیا کو فتح کرنے والے بڑے بڑے فاتحین کو بھی یہاں سر جھکانا پڑا۔

تقریباً تمام مؤرخین نے آفریدی قبائل کو وہ بلائیں لکھا ہے جو جنگ سے محبت کرتے ہیں اور یہی محبت ان کے دشمن کی بدترین شکستوں کا باعث بنتی رہی۔

غیر ملکی اور مقامی لکھاری اس بات پر متفق ہیں کہ جتنے زیادہ حملے درّہ خیبر پر ہوئے اتنے شاید ہی دنیا کے کسی شاہراہ یا گزر گاہ پر ہوئے ہوں گے۔

دنیا کا یہ مشہور درّہ خیبر پشاور سے 11 میل کے فاصلے پر یہاں بنے تاریخی دروازے باب خیبر سے شروع ہوتا ہے اور یہاں سے اندازاً 24 میل یعنی طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد پر ختم ہوتا ہے جہاں سے لوگ ڈیورنڈ لائن عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔

باب خیبر اور طورخم کے بیچ کا یہ علاقہ یہاں کسی بھی بری نیت سے آنے والے کے لیے خطروں سے اتنا بھرپور ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ دنیا اور اس خطے میں فاتح کہلانے والا کوئی حکمران اس درّے اور اس کے مکینوں کو قابو نہیں کر سکا۔

درّہ خیبر کا جغرافیہ اور جنگی حیثیت

اس راستے کے دونوں طرف تقریباً ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں اور ان کے بیچ ناقابل دریافت غار واقع ہیں۔ یہ درّہ یہاں کے لوگوں کے لیے جنگی لحاظ سے ایک ایسا قدرتی حصار ہے جسے دنیا کے کسی جنگی ہتھیار سے فتح نہیں کیا جا سکتا۔

اس کا سب سے خطرناک حصہ تاریخی علی مسجد کا مقام ہے جہاں پر یہ درّہ اتنا تنگ ہوجاتا ہے کہ اس کی چوڑائی صرف چند میٹر رہ جاتی ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کی پہاڑی چوٹیوں پر چھپے چند قبائل بھی سینکڑوں فٹ نیچے راستے سے گزرنے والے ہزاروں فوجیوں کے لیے قیامت بپا کرتے تھے اور اُنھیں زچ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اُنھیں لاشیں اٹھانے کے لیے بھی ان قبائل کی بات ماننی پڑتی تھی۔

’موت کی وادی کا دروازہ‘

پشاور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تحصیل جمرود میں بنے اس دروازے کو اگر دشمن کے لیے موت کی وادی کا دروازہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

اس دروازے سے ہی پورے درّہ خیبر کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے۔ سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں یہ دروازہ بنایا گیا۔ جون 1963 میں مکمل ہونے والے اس دروازے کی تعمیر اس وقت کے کیمبل پور اور آج کے اٹک کے دو مستریوں گاما مستری اور اُن کے بھتیجے صادق مستری نے کی۔

یہ تعمیر تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی۔ اس دروازے پر مختلف تختیوں پر ان حکمرانوں اورحملہ آوروں کے نام نصب ہیں جنھوں نے اس راستے کو استعمال کیا۔

اس دروازے کے قریب بحری جہاز نما قلعہ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے تعمیر کروایا تھا تاکہ درہ خیبر پر نظر رکھنے کے لیے فوجی یہاں رکھے جا سکیں۔

اس علاقے کی زیادہ تر آبادی آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ کوکی خیل سے تعلق رکھتی ہے۔

سنہ 1878 میں ایک برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی پینٹنگ جس میں خیبر پاس کے آفریدی قبائل کے ایک جرگے کا منظر دکھایا گیا ہے

سکندرِ اعظم کی پسپائی

پروفیسرڈاکٹر اسلم تاثیرآفریدی خیبر سے متصل ضلع اورکزئی میں گورنمنٹ ڈگری کالج غلجو کے پرنسپل ہیں اور یہاں کی تاریخ پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایران کو فتح کرنے کے بعد پختونوں کے صوبے گندھارا کا قصد کرنے والے سکندرِ اعظم کی فوجوں کو اسی درّہ خیبر پر سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اُنھیں اپنی ماں کی ہدایت پر راستہ بدلنا پڑا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ آفریدی قبائل کی اس سخت مزاحمت کی وجوہات جاننے کے لیے سکندرِ اعظم کی ماں نے اُنھیں ہدایت کی کہ اس علاقے کے چند مکینوں کو دعوت پر اس کے پاس بھیجا جائے۔

آفریدی قبائل کے یہ سردار سکندرِ اعظم کی ماں کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے جہاں پر اُنھوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ میں سے سردار کون ہے۔

اس پر ہر کسی نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ وہی سردار ہے اور یہ سب آپس میں الجھ پڑے۔ یہیں پر سکندرِ اعظم کی ماں کو احساس ہو گیا کہ یہ لوگ جب اپنوں میں سے کسی کو خود سے بڑا ماننے کو تیار نہیں تو وہ سکندرِ اعظم کو کیا مانیں گے۔

ماں نے بیٹے کو نصیحت کی کہ وہ ہندوستان جانے کے لیے درّہ خیبر کے راستے کا خیال دل سے نکال لے، یوں سکندرِ اعظم کو اپنا راستہ بدلنا پڑا اور وہ باجوڑ کے راستے اپنی منزل کی طرف چلے۔

سکندرِ اعظم کے آج کے پاکستان کے علاقوں میں داخلے کے حوالے سے سابق انگریز گورنر سر اولف کیرو نے اپنی کتاب ’پٹھان‘ میں لکھا ہے کہ سکندر پشاور میں داخل نہیں ہوسکا اور اس نے جو دریا عبور کیے وہ کوس یوسپلا اورگوریس تھے جن کے درمیان ایک پہاڑی چشمہ واقع تھا جو صرف کونٹر یعنی پنج کوڑہ کا بالائی حصہ ہوسکتا ہے جہاں سے آج کل ڈیورنڈ لائن گزرتی ہے اور اس نے آج کے باجوڑ کے ایری گایوں کے مقام نواگئی کا راستہ اختیار کیا۔

ستمبر 1996 میں لیڈی ڈیانا درّہ خیبر کے دورے کے موقعے پر مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کر رہی ہیں

بدھ مت کے بڑے آثار

معروف صحافی اللہ بخش یوسفی اپنی مشہور کتاب تاریخ آفریدی میں لکھتے ہیں کہ درّہ خیبر کے علاقے میں بڑی تعداد میں بدھ مت سے متعلق بہت زیادہ آثارِ قدیمہ نمودار ہوئے تاہم اپنے اعتقادات کی بدولت پختون ان مورتیوں کے خلاف تھے اور اُنھیں توڑ دیا کرتے تھے۔

اسی علاقے میں لنڈی خانہ کے قریب ایک پہاڑ پر عہد قدیم کی ایک قلعہ نما عمارت ہے جسے یہاں کےآفریدی ’کافر کوٹ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

اللہ بخش یوسفی لکھتے ہیں کہ سطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملوں میں پختونوں سے دشمنی مول لینے کے بجائے ان پر اعتماد کیا اور اُنھیں اپنا فخر کہہ کر متعارف کرواتے۔

جن سرداروں نے محمود غزنوی کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا ان میں ملک خانو، ملک عامو، ملک داور، ملک یحییٰ، ملک محمود، ملک عارف، ملک غازی، ملک شاہد اور ملک احمد وغیرہ شامل ہیں۔ محمود غزنوی نے سومنات کو فتح کیا تو پختون بے جگری سے لڑے اور اس طرز لڑائی نے اُنھیں پختونوں کو خان کا نام دینے پر مجبور کیا اور کہا کہ صرف پختون ہی خان کہلانے کے لائق ہیں۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہندوستان فتح کرنے کی خواہش میں جب ظہیرالدین بابر اپنی طاقت کے بھروسے پر خیبر کی طرف چلے تو آفریدی اُن کے راستے میں لوہے کی دیوار بن گئے اور بابر کو یہ سمجھ آ گئی کہ طاقت کے بل پر وہ درّہ خیبر کو عبور نہیں کر سکتے اور اگر ایسا ہووبھی گیا تو اُنھیں افغانستان کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے عقب کے غیر محفوظ ہونے کی فکر لاحق رہے گی۔

لہٰذا اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے بعد اُنھوں نے ایک بار پھر 1519 میں دوبارہ خیبر کو فتح کرنے کی ٹھانی۔ ظہیرالدین بابر کو سخت لڑائی کے بعد صرف ایک رات علی مسجد میں گذارنے کا موقع مل سکا۔ وہ جمرود تو پہنچ گئے لیکن اُنھیں خیال آیا کہ اگر وہ پنجاب جاتے ہیں تو ایسا نہ ہو کہ واپسی پر یہ قبائل اُن کی راہ کاٹ لیں۔

درّہ خیبر اس راستے سے گزرنے والے ہر حملہ آور کے لیے ایک مشکل خطہ رہا ہے

سکھ حکومت

سکھ حکمران رنجیت سنگھ کو یقین تھا کہ پختونوں پر اقتدار قائم رکھنے کے لیے کسی مضبوط ہاتھ کی ضرورت تھی، اس لیے سکھوں کے مشہورترین انتظامی جرنیل ہری سنگھ نلوہ کو بھاری لشکر کے ساتھ پشاور کا انتظامی افسر مقرر کیا گیا۔

ہری سنگھ نے پختونوں کو تو پریشان کیا تاہم وہ قبائلیوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور ان قبائل کے اقدامات کی بدولت خود رنجیت سنگھ پر ان کی دہشت طاری ہوگئی۔

اسی دہشت کا اثر تھا کہ ان قبائلیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہری سنگھ نلوہ نے باب خیبر کے مقام یعنی درہ خیبر کے دہانے پر قلعہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور 1836 میں اس پر کام کا آغاز ہوا۔

یوں تو سکھوں نے یہ قلعہ قبائل کے حملوں سے بچنے کے لیے بنایا تھا تاہم افغانستان کے امیر دوست محمد خان نے اسے اپنے خلاف عزائم کا نشان سمجھا اور سکھ فوجوں پر حملہ آور ہوگئے جہاں پر ہری سنگھ نلوہ مارے گئے۔

انگریز سرکار سے مواجب کا حصول

انگریز سکھ لشکر کے افغانستان میں قیام کے وقت یہ ضروری تھا کہ ان کے پیچھے واپسی کا راستہ یعنی درہ خیبر کھلا رہے لیکن یہ آفریدی قبائل کو مواجب یعنی معاوضہ دیے بغیر ممکن نہ تھا۔

انگریزوں کو بھی پتہ تھا کہ آفریدیوں کو مواجب نہ ملا تو وہ خود بھی سکون سے نہ رہ سکیں گے، چنانچہ اُنھیں درّہ خیبر میں سکون رکھنے کے لیے آفریدیوں کو سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے مواجب دینا پڑا۔

سنہ 1878 میں انگریز درّہ خیبر میں جمرود قلعے کے مقام پر

افغانستان میں دو سال تک قیام کے بعد جب انگریزوں کو شکست ہوئی تو وہ اپنی حلیف فوج یعنی سکھوں کو لے کر واپس روانہ ہوئے تاہم درّہ خیبر کے اندر آفریدی قبائل نے اُن کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ اُن کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔

درّہ خیبر کے اندر علی مسجد کے مقام پر انگریزوں کی توپیں اور بندوقیں سب کچھ آفریدی قبائل نے چھین لیا۔

ان آفریدی قبائل کے ساتھ معاہدوں کی رو سے ان قبائل کو تحفظِ راہ اور قیام امن وغیرہ کے لیے یہ رقوم دی جاتی ہیں جسے مقامی زبان میں مواجب کہتے ہیں۔

یہ رقوم سال میں دو بار ادا کی جاتی ہیں اور اسے وصول کرنے والا فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے قبائلی ملک اور عمائدین بھی ہیں جو ان قبائلی علاقوں سے دور رہتے ہیں اور اکثر اوقات اُنھیں اپنے حصے کے مواجب کے چند روپوں کو لینے کے لیے ہزاروں روپے خرچہ کرنا پڑتا ہے تاہم وہ اس خراج سے دستبردار نہیں ہوتے۔

حکومتیں ان قبائلی عمائدین کو احترام کے طور پر لنگی (دستار) کے نام سے بھی رقم ادا کرتی ہے۔

آفریدی کب سے یہاں ہیں؟

پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کہتے ہیں کہ ان آفریدیوں کی اس علاقے جمرود سے لے کر تیراہ اور چورہ تک موجودگی اور ان کے لیے جلال آباد سے پاکستان کے موجودہ شہر مردان تک ایک پختون ریاست بھی قائم کی گئی تھی جس کے بنانے والے بایزید انصاری یا پیر روخان تھے اور اس میں وزیرستان کے علاقے بھی شامل تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی زراعت اور سرسبز و شادابی ہی کی وجہ سے اسے سونے کی چڑیا سمجھا جاتا تھا اور اس لیے فاتحین نے ہمیشہ اس پر قبضہ کرکے اسے زیرِ نگیں کرنا چاہا اور ان فاتحین نے گندھارا یعنی پختونوں کے صوبے کا راستہ اختیار کیا جہاں پر درّہ خیبر ان کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بنا۔

سنہ 1879 میں ایک برطانوی جریدے میں شائع ہونے والا خاکہ جس میں علی مسجد کی چوٹی سے درّہ خیبر کا نظارہ دکھایا گیا ہے

وہ کہتے ہیں کہ باب خیبر کے ارد گرد کے علاقے میں قریبا 29 لڑائیاں خود ارد گرد کے مختلف قبائل کے مابین لڑی گئیں جس میں سکھوں، انگریز اور خود قبائل کے بیچ یہ جنگیں ہوئیں۔

آفریدی قبائل کی یوں تو اور بھی کئی شاخیں ہیں لیکن ہر شاخ الگ الگ علاقے میں آباد ہے۔ ان کی سب سے بڑی شاخ کوکی خیل باب خیبر سے لے کر درّہ خیبر اور پھر تیراہ کے بڑے علاقے میں آباد ہے۔

اس قبیلے کے ملک عطااللہ جان کوکی خیل کے بھتیجے اکرام اللہ کوکی خیل کا کہنا ہے کہ جمرود کا کنٹرول لینے کے لیے ان کے قبیلے کی مدد تہکال کے ارباب سرفراز خان نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں دنیا کے ہر حصے سے آنے والے جنگجوؤں نے اس علاقے کو فتح کرنا چاہا، وہیں پر اس علاقے میں اپنے قبائل کے مابین بھی اقتدار اور زمین کے لیے رسّہ کشی جاری رہی جس میں دشمنوں کے علاوہ اپنوں نے بھی کردار ادا کیا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اب کافی عرصے سے علاقے میں امن ہے اور تمام قبائل اپنی اپنی حدود میں پُرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

Photos from History of Islam's post 21/05/2021

بی اماں: تحریک خلافت کی سرگرم کارکن اور علی برادران کی والدہ آبادی بیگم کون تھیں؟
جب وہ 27 سال کی عمر میں بیوہ ہوئیں تو اُن کے کاندھوں پر چھ بیٹوں اور ایک بیٹی کی ذمے داری تھی۔ چونکہ جوانی ہی میں بیوہ ہو گئی تھیں اس لیے خاندان والوں نے عقدِ ثانی کا مشورہ دیا مگر انھوں نے سختی سے مسترد کر دیا۔

اپنا زیور بیچ بیچ کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور قسمت دیکھیے کہ بچے بھی کون، شوکت علی اور محمد علی، جو آگے چل کر ’علی برادران‘ کے نام سے معروف ہوئے۔

اُن کا اصل نام آبادی بیگم اور تعلق امروہے سے تھا۔ آبادی بیگم کے والد ملازمت کے سلسلے میں امروہے سے رامپور منتقل ہو گئے تھے۔ رامپور میں ہی آبادی بیگم کی شادی عبدالعلی خان سے ہوئی۔

شادی سے پہلے وہ پڑھنا لکھنا بالکل نہیں جانتی تھیں لیکن شوہر پڑھے لکھے شخص تھے، ریاست رامپور میں ملازم تھے اور اُردو، فارسی، عربی اور انگریزی کی کتابوں کے مطالعے کے رسیا تھے۔ انہی کی صحبت میں آبادی کو پڑھنے لکھنے کا شوق ہوا اور اتنی اُردو پڑھ لی کہ شوہر کی زندگی میں ہی ٹوٹی پھوٹی اُردو لکھنے اور پڑھنے لگیں۔

شوہر کی وفات کے بعد انھوں نے باقاعدہ اُردو پڑھی اور پھر جب جلسوں میں تقریر کرنے کا موقع ملا تو کوئی یقین ہی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ خاتون 18، 20 سال کی عمر تک اَن پڑھ تھیں۔

ان کے بیٹے مولانا محمد علی کہا کرتے تھے کہ میری والدہ عملی طور پر بالکل ان پڑھ تھیں مگر مجھے زندگی میں جن لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا اُن میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملا جو ان سے زیادہ صاحبِ فہم ہو۔ محمد علی یہ بھی کہتے تھے کہ وہ جو بھی کچھ ہیں اور جو کچھ اُن کے پاس ہے وہ خداوند کریم نے انھیں ان کی والدہ کے ذریعے سے پہنچایا تھا۔

بادی بیگم نے اپنے بیٹوں شوکت علی اور محمد علی کو پہلے علی گڑھ پڑھنے کے لیے بھیجا اور اس کے بعد انگلستان، جہاں ان دونوں بھائیوں نے اکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ دونوں بھائی وطن واپس لوٹے تو انھوں نے پہلے ریاستی ملازمتیں کیں مگر جلد ہی انھوں نے ملکی سیاست میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا۔

دونوں بھائی پہلے صحافت اور پھر عملی سیاست کے میدان میں جھنڈے گاڑنے لگے۔ سنہ 1914 میں اُن بھائیوں کو انگریزوں کے خلاف اداریہ لکھنے پر گرفتار کر لیا گیا، اُس وقت آبادی بیگم کی عمر 62 برس تھی۔ آبادی بیگم نے اپنے بیٹوں کی ہمت بندھانے کے لیے خود بھی عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ اب لوگ انھیں ’بی اماں‘ کے نام سے یاد کرنے لگے تھے۔

سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوا۔ شوکت علی اور محمد علی عوام کو انگریزوں کے خلاف جدوجہد پر ابھارنے کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے، اُن پر بغاوت کا الزام تھا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے انھیں کراچی جیل میں نظر بند کر دیا گیا۔

اسی زمانے میں ایک صاحب دل اقبال سہارنپوری نے سولہ بند پر مشتمل ’صدائے خاتون‘ کے نام سے ایک نظم لکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نظم کا ٹیپ کا مصرع ’بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پر دے دو‘ ملک بھر میں مقبول ہو گیا۔

نظم کچھ اس طرح ہے:

بولیں اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ساتھ تیرے ہے شوکت علی بھی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ہو تمھی میرے گھر کا اجالا، تھا اسی واسطے تم کو پالا

کام کوئی نہیں اس سے اعلیٰ، جان بیٹا خلافت پہ دے دو۔۔۔

بی اماں نے اپنے بیٹوں کی قید کا زمانہ بڑے صبر اور حوصلے سے گزارا، وہ ہندوستان کے گوشے گوشے میں گئیں اور اپنی تقریروں سے مسلمانوں کے جذبہ حریت کو گرماتی رہیں۔

شوکت علی اور محمد علی کو قید کی سزا ہوئی تو انھی اقبال سہارنپوری نے ایک اور نظم لکھی جس کا عنوان تھا ’صدائے مظلوم‘ اور اس کا پہلا بند تھا۔

’کہہ رہے ہیں کراچی کے قیدی

ہم تو جاتے ہیں دو دو برس کو

آبرو حق کے رستے میں دے دی

ہم تو جاتے ہیں دو دو برس کو‘

یہ ایک طویل نظم تھی جو اٹھارہ بند پر مشتمل تھی۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ دونوں نظمیں خاص طور پر ’صدائے خاتون‘ اس زمانے میں اتنی مقبول تھیں کہ دور افتادہ دیہاتوں کی ناخواندہ عورتوں تک، جنھیں سیاسی تو کیا سماجی شعور تک نہ تھا انھیں لکھ لکھ کر یا حفظ کر کے محفوظ کرنے کی کوشش کرتی تھیں اور ان کے مرد شہروں سے اپنے خطوط میں یہ نظمیں لکھ کر یا لکھوا کر انھیں بھیجا کرتے تھے۔

بی اماں جلسوں میں شرکت کرتیں، تقریریں کرتیں، ریل گاڑی کے ذریعے طویل سفر کرتیں اور اکثر بیل گاڑی کے ذریعے ریلوے سٹیشن سے جلسہ گاہ تک پہنچتیں۔

ایک دفعہ یہ خبر مشہور ہو گئی کہ مولانا محمد علی، بعض دوسرے افراد کی طرح، معافی مانگ کر جیل سے رہا ہو جائیں گے۔ بی اماں نے یہ خبر سُنی تو غضبناک ہو گئیں اور بولیں ’نہیں ایسا ہرگز نہیں ہو گا، محمد علی اسلام کا سپوت ہے، وہ انگریزوں سے معافی مانگنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر اس نے یہ حرکت کی تو میرے بوڑھے ہاتھوں میں ابھی اتنی طاقت ہے کہ اس کا گلا گھونٹ دوں، ایسی زندگی جس سے اسلام پر حرف آئے لعنت ہے۔‘

یہ زمانہ ہندو مسلم اتحاد کا زمانہ تھا۔ سنہ 1923 میں جامعہ ملیہ دہلی کا جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا جس کی صدارت حکیم اجمل خان نے کی اور بنگال کے سائنسدان سر پی سی رائے نے اسناد تقسیم کیں۔

سہ پہر کو طلبا محمد علی ہال میں جمع ہوئے، بی اماں نے بغیر برقعہ کے خطاب کیا اور کہا کہ ’میں نے اپنا برقعہ اس لیے اُتارا ہے کہ اس ملک میں اب کسی کی آبرو باقی نہیں رہی، میں نے سنہ 1857 میں اپنے جھنڈے کو لال قلعے سے اُترتے دیکھا، اب میری تمنا ہے کہ اب میں انگریزوں کے جھنڈے کو لال قلعے سے اترتے دیکھوں۔‘

بی اماں کے اس خطاب سے تمام طلبا میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی۔

حالات تبدیل ہوئے، ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے اور کانگریس میں پھوٹ پڑ گئی تو بی اماں کو بڑا صدمہ ہوا۔ بی اماں کے مداحوں میں گاندھی جی اورمسز اینی بیسنٹ بھی شامل تھیں۔ ان دونوں نے بی اماں کو خطوط لکھے کہ اس موقع پر آپ ہندو مسلم اتحاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

بی اماں کے کہنے پر گاندھی جی ان سے ملنے دہلی بھی آئے۔ انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کی خاطر 21 دن کے برت کا اعلان بھی کیا۔

11 مارچ 1924 کو بی اماں کو اپنی پوتی آمنہ کی موت کا صدمہ جھیلنا پڑا۔ اس کے چند ماہ بعد 12 اور 13 نومبر 1924 کی درمیانی شب بی اماں بھی وفات پا گئیں۔ انھیں دہلی میں درگاہ شاہ ابوالخیر میں سپرد خاک کیا گیا۔

بی اماں کی وفات پر ہندوستان بھر میں تعزیتی اجلاس ہوئے جس میں کیا ہندو اور کیا مسلمان سبھی نے بی اماں کی ہمت، جوش اور ولولے کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان خراج تحسین پیش کرنے والوں میں بڑے سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے عام اور گمنام لوگ بھی شامل تھے۔

Photos from History of Islam's post 20/05/2021

سر ظفراللہ کی مسئلہِ فلسطین پر جنرل اسمبلی میں تقریر اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا چیلنج

فلسطین کی تقسیم اور اسرائیلی ریاست کے قیام سے قبل، اُس وقت کے پاکستانی وفد کے سربراہ، سر محمد ظفر اللہ خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک پلینیری کمیٹی میں خطے کی تقسیم کی تجویز کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے یہودیوں اور فلسطینیوں کی ایک وفاقی ریاست بنانے کی تجویز دی تھی۔

مسئلہِ فلسطین کے بارے میں 28 نومبر، سنہ 1947 کو سر ظفراللہ خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب اس موضوع پر تاریخ کی بہترین تقاریر میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے سوا گھنٹے تقریر کی تھی جسے ایک عرب نمائندے نے عالمِ عرب کے مقدمے کی بہترین ترجمانی کہا تھا۔

سر ظفراللہ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ خطہِ فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ وہ کام کرنے جا رہا ہے جس کا اُسے اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ انھیں اک ایسی سمت کی جانب دھکیل رہا ہے 'جس کے بعد دشمنیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہر حل کا راستہ روکے گا۔'

'ہمیں بتایا جائے کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی زمین پر ان کا اپنا ملک قائم کیے بغیر یہودیوں کا ملک کیسے قائم کرے گا؟ اقوام متحدہ کے پاس ایسا کرنے کا کیا اختیار ہے؟ آزاد ریاست کو ہمیشہ کے لیے اقوام متحدہ کی انتظامیہ کے تابع بنانے کے لیے قانونی اتھارٹی کیا ہے، کونسا قانونی اختیار ہے؟''ہم پہلے فلسطین کی لاش کو یہودی ریاست کے تین حصوں اور ایک عرب ریاست کے تین حصوں میں کاٹ دیں گے۔ اس کے بعد ہمارے پاس جافا انکلیو ہو گا۔ اور فلسطین کا دل، یروشلم، ہمیشہ کے لئے ایک بین الاقوامی شہر رہے گا۔ یہ مسئلہِ فلسطین کی ابتدائی شکل ہے۔'
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ 'اس طرح فلسطین کو کاٹ ڈالنے کے بعد ہم اس کے جسم کو بہتے ہوئے خون کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ایک صلیب پر لٹکا دیں گے۔ یہ عارضی کام نہیں ہو گا۔ یہ مستقلاً ہو گا۔ فلسطین کبھی بھی اپنے عوام کا نہیں ہو سکے گا۔ اسے ہمیشہ صلیب پر کھینچا جائے گا۔'
اسرائیل کے پاکستان سے تاریخی خطرات
ایک اسرائیلی ریسرچر موشے یگر، اسرائیل کی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سنہ 1947 سے لے کر سنہ 1949 کے دوران اسرائیل کے قیام کے لیے جاری خانہ جنگی کے دوران واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتی مشن کو یہ اطلاع ملی تھی کہ پاکستان عربوں کو فوجی مدد بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
'یہاں تک کہ یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پاکستان عربوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے ایک بٹالین فوج بھی بھیج رہا ہے۔ پاکستان نے چیکوسلاواکیہ میں عربوں کو سپلائی کرنے کے لیے ڈھائی لاکھ رائفلیں بھی خریدی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے مصر کی فضائیہ کے لیے تین طیارے بھی خریدے ہیں۔'
جناح کی فلسطین پالیسی
فلسطین کے لئے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنا جناح کے سیاسی منشور کے مطابق فلسطینی مسلمانوں کے فطری حق آزادی کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبے کی عکاس تھی اور یہ اس وقت کی ایک آواز تھی۔
اپنی جماعت کے محدود وسائل اور بین الاقوامی سیاست میں مخالف حالات باوجود جناح نے ممکنہ طور پر فلسطین کی حمایت کے لئے بھرپور کوشش کی۔ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے اسے ایک اہم ایشو کے طور پر لیگ کے ہر سالانہ اجلاس کے تقریباً ہر ایجنڈے پر موجود رکھا۔
نومولود ریاست کے گورنر جنرل جناح نے فلسطین کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اقوام متحدہ اسرائیل کے قیام کے لئے ووٹ نہ دے۔ اس کوشش میں ایک مضبوط سفارتی لابی بنانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ سر ظفراللہ کی تقریر بھی انہی کی پالیسی کا مظہر تھی۔
وہ ناکام ہوئے مگر فلسطین کے لئے جناح کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے پہلی مرتبہ یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا تھا جب سرزمینِ فلسطین پر اسرائیلی ریاست قائم نہیں ہوئی تھی۔ نکولس مینسرگ کی تدوین شدہ جلدیں ’ٹراسنفر آف پاور‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے ریسرچر شہزاد قیصر لکھتے ہیں کہ جناح نے فلسطین کی حمایت لندن فلسطینی مسئلے کے لیے بلائی گئی ایک گول میز کانفرنس میں چوہدری خلیق الزمان کی قیادت میں ایک وفد بھی بھیجا تھا۔
محمد افضل کی تدوین کردہ جناح کی تقاریر پر ایک کتاب کے مطابق، فلسطین کی تقسیم پر جناح نے کہا تھا کہ اس کا نتیجہ بدترین تباہی کی صورت میں نکلے گا اور اتھارٹی کی عربوں سے ایسی جنگ شروع ہو گی جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔۔۔۔ تمام مسلمان اس منصوبے کے خلاف بغاوت کردیں گے، اور پاکستان کے پاس عربوں کی حمایت کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں ہوگا۔
پاکستان سنہ 2021 میں
اب پاکستان کے 26ویں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ترکی اور دیگر مسلم ممالک کے نمائندوں کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہِ فلسطین اور خاص طور پر اس وقت اسرائیل اور غزہ کے فلسطینیوں کے درمیان لڑائی پر تقریر کریں گے۔
مسئلہِ فلسطین کی اہمیت پاکستان کی مختلف حکومتوں میں مختلف درجوں پر رہی ہے۔ تاہم ہر حکومت نے فلسطینیوں کے حمایتی موقف میں تبدیلی نہیں کی۔ لیکن سب سے زیادہ اہم پالیسی ساز کردار تین ادوار میں دیکھا گیا ہے: جناح، ایوب اور بھٹو۔
محمد علی جناح کی زندگی میں ان کے پہلے وزیرِ حارجہ سر ظفراللہ کے زمانےمیں، پھر صدر ایوب کے زمانے میں جب ان کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تھے اور تیسری مرتبہ اس وقت جب خود ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر بنے اور وزیرِاعظم منتخب ہوئے تھے۔
سر محمد ظفراللہ خان کا اقوامِ متحدہ کی پلینیری کمیٹی سے خطاب دراصل جناح کی فلسطین پالیسی کا تسلسل تھا جو بعد میں بھی حسین شہید سہروردی کے زمانے تک جاری رہا۔ سہروردی نے فلسطین کے بارے میں موقف تو بدلا نہیں تھا، تاہم انھوں نے نہر سوئز پر عرب-اسرائیل جنگ کے دوران عرب ممالک کو ’صفروں کا مجموعہ صفر‘ کہہ کر ناراض کیا تھا۔
عرب-اسرائیل جنگ 1967
جنرل ایوب خان کے دور میں پاکستان عمومی طور پر فلسطین کے بارے میں زیادہ فعال نظر نہیں آیا تھا، البتہ اس دور تک جب بھی اسرائیلی نمائندوں یا اسرائیلی لابی کے لوگوں نے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کا کہا تو پاکستان ہمیشہ پہلے مسئلہِ فلسطین کو حل کرنے پر اصرار کرتا تھا۔
لیکن جب سنہ 1967 میں اسرائیل اور عربوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں اسرائیل نے عرب ممالک کے مختلف حصوں پر قبضہ کیا اور القدس (یروشلم) اور غزہ سمیت غرب اردن پر بھی قبضہ کیا تھا تو پاکستانیوں نے شام اور مصر کی فوجی امداد کی تھی۔
عملی اور سرکاری طور پر پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی سیاسی بساط پر عالمِ عرب کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ 17 جولائی سنہ 1967 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب آغا شاہی نے افغانستان، ایران، ترکی، گنی، مالی اور صومالیہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف ایک قراردار منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
لیکن سنہ 1970-71 میں پاکستان کے فوجی افسر بریگیڈیر ضیاالحق نے، (جنرل ضیا) جو اس دور میں اردن کی فوج کو تربیت دینے عمان میں مقیم تھے، اردن کے بادشاہ شاہ حسین کے کہنے پر اس وقت کے فلسطینی مہاجرین اور اردنی فوج کے درمیان لڑائی میں اردن کی فوج کی جانب سے ایک بڑی فوجی کارروائی کی تھی۔
سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار بروس ریڈل اپنی ایک کتاب 'واٹ وی ون' میں حوالے دے کر لکھا ہے کہ ہے کہ بریگیڈیر ضیاالحق نے اس فوجی آپریشن کی خود قیادت کی تھی۔ اس کارروائی میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل سنہ 1969 میں اسرائیلی یہودیوں نے مسجدِ اقصیٰ پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی جسے عرب ممالک نے مسجد کو شہید کرنے کی جسارت قرار دیا اور پھر آرگنائیزیشن آف اسلامک کانفرنس کی پہلی سربراہی کانفرنس رباط میں ہوئی تھی۔ صدر جنرل آغا یحیٰ خان نے خود اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔
پاکستان بنا فلسطینی کاز کا چیمپیئن
سنہ 1972 میں بھٹو پاکستان کے صدر بنے تو انھوں نے فلسطینی کاز کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم اور فعال حصہ بنایا تھا۔ سنہ 1973 میں عرب-اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان نے عربوں کا کھل کے ساتھ دیا تھا اور غیر اعلانیہ فوجی امداد بھی دی تھی۔ اسی جنگ میں عربوں نے تیل کو ہتھیار کے طور پر پہلی مرتبہ استعمال کیا تھا۔
سنہ 1974 میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اُن کی 'تنظیم آزادئِ فلسطین' کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم تسلیم کیا گیا۔ یاسر عرفات اور ان کی تحریک کو پہلی مرتبہ یہ سفارتی کامیابی حاصل ہوئی بعد میں انھیں اقوامِ متحدہ میں بھی مبصر کی نشست دی گئی۔
پاکستان کا فلسطین پر ایک ہی موقف رہا ہے
سینیٹر مشاہد حسین کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کی حمایت کرنا پاکستان کے ڈی این اے کا حصہ ہے کیونکہ فلسطینیوں کے حق آزادی کی حمایت پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح نے سنہ چالیس کی دہائی کے دور سے ہی زوردار طریقے سے کی تھی، اور پھر بعد میں گورنر جنرل کی حیثت میں انھوں نے امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیر اعظم ایٹلی کو اسی بارے خطوط بھی لکھے تھے۔
اس بات پر کے بعد میں آنے والی پاکستان کی کوئی حکومت اس پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکی، وہ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال سے چھیڑ خانی کی تھی، لیکن ملک کے اندرونی نظام اور عوامی رائے عامہ میں ماحمت کی وجہ سے پالیس میں تبدیلی نہیں آئی۔
سینیٹر مشاہد حسین کے مطابق جنرل مشرف کے زمانے میں سنہ 2006 میں حماس کے وزیر خارجہ محمود زہر کو پاکستان میں مہمان کے طور پر بلایا گیا تھا، اور حکومت نے غزہ میں قائم ہونے والی حماس کی نئی حکومت کو تیس لاکھ ڈالر کی امداد بھی دی تھی۔ جنرل مشرف ہی کہ دور میں اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانے کی تعمیر میں پاسکتان نے مالی امداد بھی دی تھی۔
اس سوال پر کہ کیا بیگم عابدہ حسین نے نواز شریف کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سفحر کی حیثیت سے اسرائیل سے معمول پر تعلقات لانے کی جو بات کہی تھی، سینیٹر مشاہد نے کہا کہ بیگم عابدہ نے اس بارے میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈین صحافی نے ان کے بیان کو مسخ کرکے پیش کیا تھا۔
مشاہد حشین کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے بعد جو تین حکومتیں بنیں، یعنی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومتیں، انھوں نے فلسطینیوں کی سیاسی، سفارتی سطح پر ایک ہی انداز میں ماضی کی حکومتوں کی روایات کے مطابق تسلسل کے ساتھ مدد کی کیونکہ فلسطینی معاملہ ایسا ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں اتفاقِ رائے ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے جو کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے مناسب اقدام ہیں۔

سر محمد ظفراللہ خان کی تقریر کے اقتباسات
پاکستان جو کبھی عالمِ عرب میں بھی ایک قائدانہ کردار ادا کرنے پوزیشن میں تھا، ایک ایٹمی طاقت بننے کے بعد اب زیادہ موثر کردار ادا کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ ایران اور ترکی اس کاز کے زیادہ فعال کردار نظر آتے ہیں۔ آج اگر سر ظفراللہ کی تقریر کو دیکھا جائے تو بہت کچھ بدل چکا ہے۔
لیکن جن معاملات اور سوالات کو سر ظفراللہ نے اُٹھایا تھا وہ آج بھی عالمی سیاسی بساط پر جوابات تلاش کر رہے ہیں۔ فلسطینی اور یہودی آج بھی اُس خطے میں بقائے باہمی کے کسی قابلِ عمل کلیے کی تلاش میں ابھی تک ناکام ہیں۔ اور غزہ اور اسرائیل کی مو جودہ جنگ نے حالات مزید نازک بنا دیے ہیں۔
سر ظفراللہ خان کی پیشن گوئیوں اور ان کی سیاسی زیرک کا اندازہ ان کی تقریر پڑھ کر ہوتا ہے۔ یہاں ان کی تقریر کے چند اقتباسات جو فلسطینی اور یہودی آبادی، صنعتی اور زراعتی، سیاسی اور انتظامی، معاشی اور ترقیاتی معاملات پر بحث کر کے فلسطین کی تقسیم کے حل کی سکیم کو مسترد کرنے کے بعد کے کچھ حصے ہیں:
'اب ہم اس سوال پر پہنچتے ہیں کہ آیا عمومی طور پر یہ منصوبہ قابل عمل ہے یا نہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا ہے، امریکہ کے نمائندے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آس پاس کی عرب ریاستوں اور فلسطین کے عوام کی حمایت ہو تو اس سکیم پر عملدرآمد کیا جاسکتا ہے۔'
'آس پاس کے عرب ممالک یقینی طور پر اس تجربے کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان سے جو بھی توقع کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ بحیثیت ریاستیں، وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے جو چارٹر کے تحت ان کی ذمہ داریوں کے منافی ہو۔ لیکن فلسطین کے عربوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ تعاون نہیں کریں گے۔'
'اور ممبران اسمبلی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ منصوبہ کوئی تجربہ نہیں ہے۔ یہ عبوری کمیٹی کے حوالے سے تجربے کی طرح نہیں ہے جو ایک سال کے لئے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ ناکام ہوتا ہے تو کیا اس کو ختم کیا جاسکتا ہے اور جنرل اسمبلی پھر سے کوئی اور سکیم اپنا سکتی ہے؟'
اس کے برعکس یہ منصوبہ مستقل حل کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ اگر یہ ناکام ہوتا ہے تو یہ اقوام متحدہ کی ناکامی ہوگی۔ یہ ایک مستقل نظام ہے اس سے اقوام متحدہ کی ساکھ، اُس کا اعزاز متاثر ہوگا۔ لہذا ہم اس مرحلے پر بہتر طور پر توجہ دیں جس کہ اس کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو رہن رکھوا رہے ہیں۔ کیا جنرل اسمبلی ایسا جوا کھیلنے کے لیے تیار ہے؟'
'آئیے ہم اقوام متحدہ کو کسی ایسے راستے پر گامزن کریں اور اُس سکیم پر عملدرآمد کا وعدہ کریں جس میں اخلاقی جواز کا فقدان ہے، جو اقوام متحدہ کے قانونی اور عدالتی اختیار سے بالاتر ہے، اور اس کا حصول ناممکن ہے۔'
'اس فضول کام کو ناکام بنانے میں آپ نے فلسطین کے چھیاسٹھ فیصد عوام کی خواہشات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ آپ آس پاس کے اور پڑوسی ریاستوں کے اعتماد کو ختم کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کو منصفانہ نفاست اور غیرجانبداری سے محروم کر رہے ہیں ۔۔۔'
'شمالی افریقہ کے بحر اوقیانوس کے ساحل سے لے کر وسطی ایشیاء تک کے تمام ممالک کی آبادی کے دلوں میں آپ مغربی طاقتوں کے عزائم اور مقاصد پر شکوک و شبہات کا بیج ڈال رہے ہیں۔ آپ مشرق اور مغرب کے مابین حقیقی تعاون کے کسی بھی امکان کو ختم کرکے، خرابی کا سنگین خطرہ مول لے رہے ہیں۔'
'کیا اقوام متحدہ نے اب تک عربوں اور یہودیوں کو ایک جگہ بٹھا کر کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوئی کوشش کی ہے جس پر دونوں قومیں مل کر کام کر کے اسے کامیاب بنانے کی کوشش کریں --- جو ایسا واحد حل ہو جس میں کامیابی کے ساتھ کام کرنے کا کوئی امکان موجود ہو؟'
تقسیم کا حل ٹھونسا جا رہا تھا
'اب ہمیں بتایا گیا ہے آپ کو تقسیم کی سکیم قبول نہیں کرنی ہوگی ورنہ کوئی حل نہیں ہوگا۔ لیکن کیا ایسا ہے؟ کیا یہ واحد انتخاب ہے؟ کیا تقسیم کی اسکیم کو اتنی حقیقی حمایت ملی ہے؟ ایڈہاک کمیٹی میں اسے پچیس وفود کی حمایت حاصل تھی۔'
'ان پچیس وفود میں سے کچھ نے کہا کہ انہوں نے بھاری دل سے تقسیم کے منصوبے کی حمایت کی۔ دوسروں نے کہا کہ انہوں نے ہچکچاہٹ کے ساتھ اس کی حمایت کی۔ کیوں؟ کیونکہ وہاں اور کوئی تجویز نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر جنرل اسمبلی کم از کم اس نام نہاد حل سے خوش نہیں ہے۔'
'کہا جاتا ہے کہ اگر تقسیم قبول نہیں کی گئی تو حل کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اس کے برعکس اگر تقسیم قبول کی گئی تو یہ حظے کے لیے ایک مہلک اقدام ہوگا۔ عرب اور یہودی دونوں اس حل سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لیں گے اور پھر انہیں کبھی اکٹھا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔'
'اس کے بعد دشمنیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہر حل کا راستہ روکے گا۔'
'اگر آپ تاخیر کرتے ہیں اور کوئی مہلک اقدام کرنے سے گریز کرتے ہی تو پھر بھی آپ عربوں اور یہودیوں کے لئے صلح کے حل کا موقع رہنے دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شاید آئندہ آپس میں مل کر کام کرسکیں۔'
'اس کے مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر آپ آج کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیتے ہیں تو کسی بھی شے کا فیصلہ کرنے کے آپ مجاز نہیں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں حلوں میں سے کوئی بھی قابل قبول نہیں ہے اور یہ کہ کچھ اور تلاش کرنا ضروری ہے جو ذمہ داری آپ کے پاس باقی رہتی ہے۔'
'اس موقع کو ضائع مت کریں۔ ایسا دروازہ بند نہ کریں جو دوبارہ نہ کھولا جا سکے۔ اقوام متحدہ کو ایک ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو نہ صرف عادلانہ اور منصفانہ ہو، بلکہ فلسطین میں یہودیوں اور عربوں کی سب سے بڑی تعداد کے لیے اس میں کامیابی کے بہترین مواقع موجود ہوں۔'
'آج ہمارا ووٹ اگر تقسیم کی حمایت نہیں کرتا ہے تو یہ دوسرے حل کو مسترد بھی نہیں کرتا ہے۔ اگر ہمارا ووٹ تقسیم کی حمایت کرتا ہے تو تمام پرامن حل کے راستے مفقود ہو جائیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کون اس ذمہ داری کو نبھائے گا۔'
'میری آپ سے اپیل ہے کہ اس امکان کو بند نہ کریں۔ اقوام متحدہ کو تقسیم کرنے اور لوگوں کو الگ کرنے کے بجائے انھیں متحد ہونے اور اکٹھا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔'
سر ظفراللہ کا امریکہ پر طنز
سر ظفراللہ نے اپنی تقریر میں مشرقِ وُسطیٰ میں ارضِ فلسطین کی تقسیم کے منصوبے پر یہودی ریاست کے حامی مغربی ممالک کی اس دلیل کا طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ 'دنیا کے بے گھر اور بے وطن یہودیوں کا ایک اپنا وطن ہونا چاہیے۔' سر ظفراللہ نے سوال یا کہ کیا امریکہ اور کینیڈا اتنے چھوٹے ملک ہیں کہ یہودیوں کو فلسطین جیسے بڑے ملک میں آباد کیا جائے!
سر ظفراللہ خان نے جب یہ سوال اٹھایا کہ کیا ان بے وطن یہودیوں کو انہی مغربی ممالک بھیج دیا جائے گا جہاں سے وہ آرہے ہیں تو انھوں نے اس کا خود ہی یوں جواب دیا: ' آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ نہیں، کینیڈا کا کہنا ہے کہ نہیں، امریکہ کا کہنا ہے کہ نہیں۔ یہ ایک لحاظ سے بہت حوصلہ افزا باتط تھی۔'
' کیا انہیں (بے وطن یہودیوں کو) ممبر ممالک میں ایک تناسب میں آباد کردیا جائے گا؟ آسٹریلیا، جو زیادہ آبادی والا ایک چھوٹا سا ملک ہے جس میں گنجان علاقے ہیں، کہتا ہے نہیں، نہیں، نہیں۔ کینیڈا، اتنا ہی گنجان اور زیادہ آبادی والا ہے، کہتا ہے نہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ایک عظیم انسان دوست ملک، ایک چھوٹا سا علاقہ، جس میں کم وسائل ہیں، وہ بھی کہتا ہے کہ نہیں۔'
'ان ممالک کا انسانیت کے اس اہم مسئلے پر یہ کردار ہے (کہ یہ بے گھر یہودیوں کو ان ممالک میں بھی واپس لینے کے لیے تیار نہیں جہاں سے ان کا تعلق رہا ہے)۔ لیکن انہی ممالک کا اصرار ہے کہ انہیں (بے گھر یہودیوں کو) فلسطین میں بھیج دو، جہاں وسیع و عریض سرزمین ہے، ایک بڑی معیشت ہے اور کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ وہاں آسانی سے جاسکتے ہیں (اور آباد ہو سکتے ہیں)۔'

Want your business to be the top-listed Government Service in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Multan