ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-
خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،
حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............*
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے
مائی فیورٹ کولیکشن
میرے پاس ہر طرح کی کتابیں ہیں ،آپ بھی اپنی کولیکشن شیئر کر سکتے ہیں
20/12/2022
بنوں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ آپریشن میں 25 دہشت گرد ہلاک اور 10 گرفتار ہوئے، آئی ایس پی آر
---------------------------
راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بنوں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 7 دہشت گردوں نے ہتھیار پھینکے اور تین کو گرفتار کیا گیا جبکہ 3 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 18 دسمبر کو بنوں کینٹ کے اندر واقع سی ٹی ڈی کمپلیکس میں زیر حراست دہشت گرد نے ڈیوٹی کانسٹیبل کو قابو کیا اور اسلحہ چھیننے کے بعد دیگر زیر حراست 34 ساتھیوں کو آزاد کرایا، جس کے بعد تمام دہشت گرد باہر نکلے اور مال خانے سے مزید اسلحہ حاصل کر کے فائرنگ کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے 18 دسمبر کو کمپاؤنڈ پر قبضے کے فوری بعد 1 سی ٹی ڈی کانسٹیبل کو شہید جبکہ دوسرے کو زخمی کیا جو دوران علاج جانبر نہ ہوسکا جبکہ جونیئر کمیشنڈ افسر کو یرغمال بنا کر ریاست سے افغانستان تک محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کمپاؤنڈ پہنچی جہاں 18 دسمبر کو ہی دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گردوں کو جبکہ تین کو گرفتار کیا گیا۔ علاوہ ازیں سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہتھیار نہ پھینکنے پر بیس دسمبر کو سیکیورٹی فورسز نے طوفانی ایکشن کیا جس کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر 10 گرفتار ہوئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق آپریشن میں بہادری و جانبازی سے لڑتے ہوئے مادر وطن کے تین سپوت شہید ہوئے، جن میں صوبیدار میجر خورشید اکرم، سپاہی سعید، سپاہی بابر شامل ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسران سمیت 10 سپاہی زخمی ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ پر باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہدا کی عظیم تر قربانیاں ہمارے عزم کو بڑھاتی ہیں، سیکیورٹی فورسز ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ سے فرار کی کوشش کی جس کو بروقت ایکشن سے ناکام بنایا گیا اور اُن کے افغانستان محفوظ طریقے سے پہنچانے کے مطالبے کو رد کردیا گیا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے کینٹ ایریا میں قائم سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران اہلکار کا رائفل چھین کے فائرنگ کی اور عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔
دہشت گردوں نے مغوی اہلکاروں کے ساتھ ویڈیو بناکر جاری کی جس میں انہوں نے رہائی کے عوض مختلف مطالبات پیش کیے جس میں افغانستان کی طرف محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ حکام نے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مذاکرات کیے جو ناکام ہوگئے جس کے بعد صبح سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے کمپاؤنڈ سے دہشت گردوں کا قبضہ ختم کرایا اور تمام اہلکاروں کو بازیاب کرایا۔
مزید پڑھیں: بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ آپریشن میں تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے، وزیردفاع
آپریشن کے دوران کمپاؤنڈ میں موجود تمام دہشت گرد مارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ ایس ایس جی کمانڈو سمیت 15 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
دریں اثنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایوان کو بتایا کہ اٹھارہ دہشت گرد سی ٹی ڈی کی حراست میں تھے، ایک دہشت گرد نے سی ٹی ڈی اہلکار کے سر پر اینٹ مارکر اسلحہ چھین لیا۔
انکا کہنا تھا کہ بیس دسمبر کو ساڑھے بارہ بجے ایس ایس جی نے آپریشن شروع کیا جس میں تمام 33 دہشت گرد مارے گئے، ایس ایس جی کے ایک افسر سمیت دس سے پندرہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی دوبارہ سراٹھارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بنوں میں آپریشن مکمل ہوگیا ہے تاہم کلیئرنس کا عمل جاری ہے، واقعہ کی تفصیلات آئی ایس پی آر جاری کرے گا، ہمارے کچھ فوجی زخمی جبکہ دو شہادتیں ہوئی ہیں۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ دہشت گردوں کا تعلق مختلف گروہوں سے تھا، صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، سیکیورٹی فورسز ہی سب کام کریں، صوبائی ہیلی کاپٹر عمران خان کے استعمال میں ہیں، خیبرپختونخوا کے حکمران مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں، وزیراعلیٰ اور وزرا عمران خان کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔
*رشتے*
*دادا ابو ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ*
🤔
دین محمد کے بیٹے کی شادی تھی
*لیکن دین محمد کا بڑا بھائی کسی بات پر کچھ عرصے سے خفا تھا.*
بیٹے کی شادی قریب آئی تو دین محمد نے اپنے بڑے بھائی کو منانے کیلئے کوششیں شروع کر دیں.
*کیسے ممکن تھا کہ دین محمد کے بیٹے کی شادی میں دین محمد کا بڑا بھائی اور دلہے کا تایا ہی موجود نہ ہو؟*
کیونکہ پہلے اس بات کو بہت غلط سمجھا جاتا تھا کہ
*جس سے اپنے سگے رشتے نہیں سنبھالے جاتے وہ آنے والے رشتے یا بننے والے رشتے کیا خاک سنبھالے گا؟*
🧐
*آج کل تو خیر ہم لوگ ماڈرن ہو چکے ہیں اب تو باپ کے بنا بیٹے کی اور ماں کے بنا بیٹی کی بھی شادی ہو جاتی ہے تو پھر باقی رشتے کس کھیت کی مولی ہیں؟*
😈⛺😈
دین محمد اپنے بیٹے کو لے کر اپنے بڑے بھائی یعنی دلہا کے تایا کے گھر پہنچ گیا اور منانے کی ہر ممکن کوشش کی.
بڑے بھائی سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی اور پیر پکڑ کر ہر طرح کی منت سماجت بھی کی مگر کامیاب نہ ہو سکا.
اگلے روز ہی بارات لے کر لڑکی والوں کی طرف جانا تھا.
جب بڑا بھائی جانے کیلئے تیار نہیں ہوا تو دین محمد نے اپنے بیٹے یعنی دلہے کو بڑے بھائی کے گھر کے باہر ایک دیوار کے ساتھ بٹھا دیا
اور بڑے بھائی سے یہ کہتے ہوئے واپس پلٹ گیا کہ
*"صبح نو بجے بارات کا وقت مقرر ہے اور آپ کے بنا بارات لے کر نہ میں جا سکتا ہوں اور نہ ہی آپ کا بھتیجا اپنے تایا کے بغیر بارات لے کر جانے پر رضا مند ہے.*
فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے" .
*دین محمد کے جانے کے بعد دلہے کا تایا بار بار گلی میں جھانک کر دیکھتا رہا کہ شاید بھتیجا چلا گیا ہو لیکن بھتیجا جوں کا توں وہاں موجود تھا.*
رات کے تین بجے دلہے کے تایا نے اپنے کپڑے بدلے اور اپنا حقہ ہاتھ میں لے کر گلی میں پہنچا.
اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑ کر کہا چل یار چلتے ہیں.
*تیرا باپ تو ویسے بھی پاگل ہے.*
تایا اور بھتیجا شادی والے گھر پہنچے تو سب نے استقبال کیا اور دین محمد نے پوچھا کہ بھائی جان آ گئے آپ؟
جواب ملا کہ
کیسے نہ آتا؟
*لڑکی والے کیا سوچتے کہ دلہے کا تایا بارات میں کیوں نہیں آیا اور ایسے خاندان کی بدنامی ہوتی اور اوپر سے تم دلہے کو گلی میں بٹھا کر چلے گئے تھے.*
یوں ہنسی خوشی یہ شادی اپنے اختتام کو پہنچی.
*رشتے اس طرح جوڑے جاتے ہیں.*
یہ مقام ہوتا ہے رشتوں کا.
مگر خیر چھوڑیں ہم تو ماڈرن ہیں.
نئے زمانے کے لوگ ہیں.
با شعور ہیں تعلیم یافتہ ہیں.
*وہ تو پرانے لوگ تھے وہ تو جاہل تھے وہ تو ان پڑھ تھے.
[Copied From A Friend's Wall ]
میاں بیوی ہوں تو ایسے
👇👇👇👇
اک پیاری سی تحریر
ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔
بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا: کس کی بیوی ہے یہ؟
باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کےغلام فیروز کی بیوی ہے۔
بادشاہ نیچے اترا ، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔
اس نے فیروز کو بلایا۔
فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا : فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آٶ اور اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔
فیروز: اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزاری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا چال چلی ہے۔
ادھر فیروز جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا بادشاہ چپکے سے فیروز کے گھر پہنچا اور آہستہ سے فیروز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
فیروز کی بیوی نےپوچھا کون ہے؟
بادشاہ نے کہا: میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
تواس نے دروازہ کھولا۔ بادشاہ اندر آ کر بیٹھ گیا۔
فیروز کی بیوی نے حیران ہو کر کہا: آج بادشاہ سلامت یہاں ہمارے غریب خانے میں؟
بادشاہ نے کہا : میں یہاں مہمان بن کر آیا ہوں۔
فیروز کی بیوی نے بادشاہ کا مطلب سمجھ کر کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپکے اس طرح آنے سے جس میں مجھے کوئی خیر نظر نہیں آ رہی۔
بادشاہ نے غصے میں کہا: اے لڑکی کیا کہہ رہی ہو تم ؟ شاید تم نے مجھے پہچانا نہیں میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
فیروز کی بیوی نے کہا: بادشاہ سلامت میں جانتی ہوں کہ آپ ہی بادشاہ ہیں لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں
شیر کو اگرچہ جتنی بھی تیز بھوک لگی ہو لیکن وہ مردار تو نہیں کھانا شروع کر دیتا
اور کہا: بادشاہ سلامت تم اس کٹورے میں پانی پینے آ گئے ہو جس میں تمہارے کتے نے پانی پیا ہے۔
بادشاہ اس عورت کی باتوں سے بڑا شرمسار ہوا اور اسکو چھوڑ کر واپس چلا گیا لیکن اپنے چپل وہیں پر بھول گیا ۔
یہ سب تو بادشاہ کی طرف سے ہوا۔
اب فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ جو خط بادشاہ نے اسے دیا تھا وہ تو گھر پر ہی چھوڑ آیا ہے اس نے گھوڑے کو تیزی سے واپس موڑا اور اپنے گھر کی طرف لپکا۔ فیروز اپنے گھر پہنچا تو تکیے کے نیچے سے خط نکالتے وقت اسکی نظر پلنگ کے نیچے پڑے بادشاہ کے نعال (چپل) پر پڑی جو وہ جلدی میں بھول گیا تھا۔
فیروز کا سر چکرا کر رہے گیا اور وہ سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اس کو سفر پر صرف اس لیئے بیھجا تاکہ وہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔ فیروز کسی کو کچھ بتائے بغیر چپ چاپ گھر سے نکلا۔ خط لے کر وہ چل پڑا اور کام ختم کرنے کے بعد بادشاہ کے پاس واپس آیا تو بادشاہ نے انعام کے طور پر اسے سو ١٠٠ دینار دیئے۔ فیروز دینار لے کر بازار گیا اور عورتوں کے استعمال کے قیمتی کپڑے اور کچھ تحائف بھی خریدے گھر پہنچ کر بیوی کو سلام کیا اور کہا چلو تمہارے میکے چلتے ہیں۔
بیوی نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
کہا: بادشاہ نے انعام دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ پہن کر اپنے گھر والوں کو بھی دکھاٶ۔
بیوی : جیسے آپ چاہیں، بیوی تیار ہوئی اور اپنے والدین کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئی داماد اور بیٹی اور انکے لائے ہوۓ تحائف کو دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔
فیروز بیوی کو چھوڑ کر واپس آ گیا اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ بیوی کا پوچھا اور نہ اسکو واپس بلایا۔
پھر کچھ دن بعد اسکے سالے اس سے ملنے آئے اور اس سے پوچھا: فیروز آپ ہمیں ہماری بہن سے غصے اور ناراضگی کی وجہ بتائیں یا پھر ہم آپکو قاضی کے سامنے پیش کریں گے
تو اس نے کہا: اگر تم چاہو تو کر لو لیکن میرے ذمے اسکا ایسا کوئی حق باقی نہیں جو میں نےادا نہ کیا ہو۔
وہ لوگ اپنا کیس قاضی کے پاس لے گئے تو قاضی نے فیروز کو بلایا۔
قاضی اس وقت بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ لڑکی کے بھائیوں نے کہا: اللّٰه بادشاہ سلامت اور قاضی القضاہ کو قائم و دائم رکھے۔ قاضی صاحب ہم نے ایک سر سبز باغ، درخت پھلوں سے بھرے ہوئے اور ساتھ میں میٹھے پانی کا کنواں اس شخص کے حوالے میں دیا۔ تو اس شخص نے ہمارا باغ اجاڑ دیا سارے پھل کھا لیئے، درخت کاٹ لئیے اور کنویں کو خراب کر کے بند کردیا۔
قاضی فیروز کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ہاں تو لڑکے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب جو باغ مجھے دیا گیا تھا وہ اس سے بہتر حالت میں نے انہیں واپس کیا ہے۔
قاضی نے پوچھا: کیا اس نے باغ تمھارے حوالے ویسی ہی حالت واپس کیا ہے جیسے پہلے تھا؟
انہوں نے کہا : ہاں ویسے ہی حالت میں واپس کیا ہے لیکن ہم اس سے باغ واپس کرنے کی وجہ پوچھنا چاہتے ہیں۔
قاضی: ہاں فیروز تم کیا کہنا چاہتے ہو اس بارے؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب میں نے باغ کسی بغض یا نفرت کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اسلیئے چھوڑا کہ ایک دن میں باغ میں آیا تو اس میں، میں نے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے تو مجھے خوف ہوا کہ شیر مجھے کھا جائے گا اسلیئے شیر کے اکرام کی وجہ سے میں نے باغ میں جانا بند کردیا۔
بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا۔ فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاو۔ واللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر تمھارے باغ آیا تھا لیکن وہ وہاں پر نہ تو کوئی اثر چھوڑ سکا ، نہ کوئی پتا توڑ سکا اور نہ ہی کوئی پھل کھا سکا وہ وہاں پر تھوڑی دیر رہا اور مایوس ہو کر لوٹ گیا اور خدا کی قسم میں نے کبھی تمھارے جیسے باغ کے گرد لگے مظبوط دیواریں نہیں دیکھیں۔
تو فیروز اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو بھی واپس لے لیا۔ نہ تو قاضی کو پتہ چلا اور نہ ہی کسی اور کو کہ ماجرا کیا تھا!!!
کیا خوب بہتر ہے اپنے اہل وعیال کے راز چھپانا تا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے
اپنے گھروں کے بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دو*
اللہ آپ لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر دے آپکو، آپ کے اہل وعیال کو آپکے مال کو اپنے حفظ و امان میں رکھے.
(COPY)
*گندے خون کی گالی*
✍🏻 *بہترین تحریر........ قابل غور و فکر*
🍃ہمارے معاشرے میں ایک بات عموماً دیکھی جاتی ہے کہ اگر کسی شخص میں کوئی برائی دیکھ لیں تو اسے اسکے نسب سے جوڑ دیتے ہیں کہ اسکا تو خون ہی گندا ہے...
ویسے تو اگر خون کی بات کی جائے تو یہ فقط باپ کی طرف نسبت نہیں ہوتی بلکہ ماں اور باپ دونوں کی طرف ہی ہوتی ہے...
اور یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کو اسکے خون کے گندے ہونے کی گالی دی جاتی ہے تو وہ باپ سے زیادہ اسکی ماں کی طرف جاتی ہے...
اسکی دلیل یہ ہے کہ...باپ کا تو فقط نطفہ ہی ہوتا ہے جبکہ ماں اسکو نو مہینے اپنا خون ہی پلاتی ہے...
ماں کے پیٹ میں اسکے بچے کی غذا ماں کا خون ہی ہوتی ہے...
یہ بات اسلئیے واضح کردی کہ ہم لوگ گندے خون کی گالی کو عموماً باپ کی طرف ہی منسوب کرتے ہیں جوکہ غلط ہے...
یہ بات تو ہوگئی ایک الگ اب آتے ہیں کہ کیا کسی کو گندے خون یا بری نسل کا حوالہ دے کر گالی دینا کیسا ہے؟
بس چند باتیں ہی سامنے رکھنےکی اجازت چاہوں گا...
اگر کسی کے کردار کا اندازہ اسکے خون سے ہی لگایا جانا ہوتا تو.... انبیاء علیہم السلام کی اولادوں میں کبھی کوئی کافر نہیں ہوتا...
بہت سے اللہ والے اپنی سابقہ زندگی میں برے کردار کے مالک تھے...
بنی اسرائیل کی قوم کے ایک زانی کا واقعہ مشہور ہے جس نے توبہ کی تو اللہ نے اسکے جنازے میں شامل ہونے والوں کی مغفرت کا اعلان کردیا...
یہ تو چند گزارشات ہیں ورنہ تحریر کے طویل ہونے کی وجہ سے بات یہیں ختم کرنا چاہوں گا...
ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ... کسی کو نسب کی گالی ہرگز نہ دیا کریں... اور گالی تو ویسے بھی منافقت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے... اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گالی دینے والے کو سخت وعیدیں سنائی ہیں...
ہمارا دین ہمیں ہر اچھی بات کو لینے کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ کسی چھوٹے سے ہی کیوں نہ ملے... ہمارا دین کسی بھی شخص کے کردار میں پائی جانے والی اچھائی کو دیکھنے اور اسکی تقلید کرنے کی تعلیم دیتا ہے ناکہ اسکی برائی کو افشاں کرنےکا... آج ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھین گے تو ان شاء اللہ بروز محشر اللہ رب العزت ہماری برائیوں کی پردہ پوشی فرمائے گا...
آخر میں ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا اسی موضوع کےذیل میں...
کسی بھی انسان کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ کہیں یہ انگلی ہماری طرف تو لوٹ کر نہیں آرہی؟ کیونکہ اگر سامنے والا اسکا مستحق نہیں ہوا تو یقیناً وہ انگلی ہماری طرف ہی لوٹ کر آنی ہے... اور ویسے بھی ہم فقط اپنی ذات کے مکلف ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کسی اور کی تحقیق کرنے کی... ہم اگر اتنی ہی فکر اپنی ذات کی کرلیں تو یقیناً ہم دونوں جہانوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں ان شاء اللہ....،
طالبِ دُعا
لوگوں کے بُرے رویوں سے پیداہونے والے احساسات کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
زندگی ایک رولر کوسڑ کی طرح ہے جس میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں ،ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ہر وقت خوش رہیں یا غم میں مبتلا رہیں۔
اس دنیا میں بے شمار افراد اپنے ذہن اور اپنی سوچ کےمطابق زندگی گزارتے ہیں ،جبکہ کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو شعوری یا لا شعوری طور پر اپنے رویوں سے دوسرں کو دکھ پہنچاتے ہیں ۔جب ایک انسان کو کوئی دوسراانسان دکھ دیتا ہے تو تکلیف کے احساس کے ساتھ ساتھ وہ جذباتی طور پربھی ڈسڑب ہوجاتاہے۔دُکھ دینے والےافراد میں بعض اوقات انسان کے اپنے قریبی لوگ بھی شامل ہوتے ہیں ۔
*سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ہم دکھی کیوں ہوتے ہیں؟*
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دکھی ہونا یا تکلیف میں آنا ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جو کہ ہم اختیار کر لیتے ہیں اورجو ہمیں افسردہ کر دیتی ہے۔ اس کیفیت سے منسلک کچھ دوسرے خیالات اور احساسات بھی نمو پاتے ہیں جو کہ ناراضگی اور غصہ کے جذبات کو تشکیل دیتے ہیں ۔عام طور پر ان افراد کے رویے ہمیں زیادہ تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں جن سے ہم بہت محبت کرتے ہیں اور ان سے کافی ساری توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔
*ایسی کیفیت میں کیا کیا جائے؟*
۔ فردکو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے تمام واقعات اور باتوں کا ایمان داری سے جائزہ لے کہ کیا واقعی ان باتوں پر دکھی ہونے کی ضرورت ہے ؟
۔ اپنے جذبات کو دبانے کی بجائے تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کا اظہار کرے۔
۔ فرد جس انسان کے رویے سے دکھی ہوتا ہے اس کے رویے کو الارم کی طرح لے اور جان جائے کہ وہ انسان اس سے کتنا مخلص ہے ۔
۔ اپنی توجہ اپنی زندگی میں موجو د دیگر نعمتوں پر مرکوز کر لے ۔
۔ ہم اکثر اوقات انسانوں سے بے جا تو قعات وابستہ کر لیتے ہیں اور ان توقعات کا پورا نہ ہونا اصل میں تکلیف دیتا ہے ۔لہٰذا کسی سے توقعات نہ رکھے
۔ یہ بات ضرور مدِ نظر رکھیں کہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہے اور ہر انسان کے سوچنے،سمجھنے اور دیکھنے کا انداز مختلف ہے ۔
الغرض یہ کہ اپنی توقعات کو کم کر کے ،اپنے ردعمل پر کنٹرول کر کے اور توجہ کسی اور مثبت جگہ مرکوز کر کے ہم ان جذبات اور احساسات کو کنٹرول کر سکتے ہیں ۔
۔ انسان کو کسی بھی حالات میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ:
’’صبر تکالیف کو دور کرنے کے لیے بہترین ہتھیار ہے۔‘‘
۔ بحیثیت مسلمان ہمیں انسانوں کی بجائے اللہ سے توقعات وابستہ کرنی چاہیں اور اللہ پر توکل کریں ۔ قرآن پاک میں ہے:
’’میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔‘‘(سورہ آل عمران )
۔ فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر معاملے میں اللہ سے مدد لے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ذکر ہے:
’’اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔بے شک اللہ بندوں پر خوب نظر کرنے والا ہے۔‘‘
جو میں نے سیکھا
میری سروس کو دو سال ہوئے ہیں اور ان دو سالوں میں میں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ منافقت، خود پرستی، مطلب پرستی،موقع پرستی۔ اور ہر حال میں محض اپنا فائدہ سوچنا۔
اور میں خود پے حیران ہوں کہ میں کتنا بے حس ہوتا جا رہا ہوں ۔ اب ملاحظہ فرمائیے کیوں میں نے خود کو ان تمام عادتوں کے لیے آمادہ کیا۔
جب میں نیا نیا سکول گیا تھا تو میں نے اپنی پوری توجہ اس جاب پر لگا دی تھی بیسووں کے ساتھ نہایت مخلص رہا۔ اپنے کام کو وقت پے سر انجام دیا کرتا تھا۔
ایک دن پتہ چلا کہ 6th کلاس کے بچے نے میری شکایت کی ہے، گھر جا کے کہا تھا کہ استاد نے لیب میں مجھے نہیں جانے دیا اور مارا ہے۔
جناب پھر کیا تھا ! ماں باپ سکول پہنچ گئے ، ایک عدد ایپلیکیشن کے ساتھ جس میں درج تھا کہ استاد نے بچے کا سر پھوڑ دیا ہے ٹانگیں توڑ دی ہیں اور نا جانے کیا کیا۔ سچ بتاوں تو بہت تکلیف ہوئی مگر سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے ،
میرے پرنسپل نے مسئلہ جیسے تیسے ختم کروایا وہ بھی بس اس لیے کیوں کہ میں نیا تھا اور اندازہ نہیں تھا۔
اس واقعے کے بعد میں نے ہر قسم کی سختی چھوڑ دی اور چپ چاپ وقت گزارتا رہا۔
پھر اچانک ایک اور مصیبت گلے پڑ گئی
میرا سبجیکٹ کمپیوٹر ہے ، پھر بھی زبردستی مجھے فزکس پڑھانا پڑتا تھا جبکہ سکول میں میتھ فزکس کے اساتذہ بھی موجود ہیں۔
بہرحال فزکس ایسا سبجیکٹ ہے جو بغیر سختی کہ نالائق بچوں کے ذہین نشین کرانا نا ممکن ہے۔ اب اسی اثناء میں میں نے ایک نہایت نالائق بچے کے سر پہ کتاب رسید کر دی ۔
بس صبح ایک عدد ایپلیکیشن سی ای او اور ڈی ای او کے نام پہنچی ہوئ تھی ۔
اس بار بھی بہت تکلیف ہوئی اور اس بار میرے پرنسپل نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ جانتے ہوئے کہ میں بالکل ذمہ دار نہیں۔
خیر لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا کس طرح میری فیملی نے میری ان جاہلوں سے جان چھڑائی۔
پھر میں نے سوچ لیا یہ قوم اس لائق ہی نہیں کہ ان کے ساتھ مخلص رہا جائے۔
اب میں کلاس میں جاتا ہوں سبق پڑھاتا ہوں اور جو بچے خود سے سبق سناتے ہئں ان سے سبق سن کہ آرام سے واپس آتا ہوں۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ 50 کی کلاس میں سے بس 5 بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ مخلص کیوں ہیں۔ اور نہایت افسوس ہوتا ہے کہ جو بچے سختی سے پڑھ سکتے ہیں انکو ان کے حال پہ ہی چھوڑنا پڑ گیا ہے۔ اس میں قصور کس کا ہے؟
بس اب خود کو بچانا لازمی ہو گیا ہے۔ اب قوم بنانا، مقصد دینا ، زندگی بدل دینا یہ سب باتیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔
سٹاف سارا منافق ہے۔ سب بس ایک دوسرے کو گرا کے اوپر اٹھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی پرنسپل کو شکایتیں لگا کر اپنی ویلیو بناتا ہے کوئ تخریب کاری سے ۔ مگر الحمدللہ میں ایسی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہونا چاہتا ۔ بس پرنسپل جو مجھے کام کہتا ہیں ضرور وقت پے مکمل کرتا ہوں۔
باقی اس جاب میں آنے کے بعد پتا ہی نہیں ہے کہ میرا مقصد ہے کیا۔بس وقت گزر رہا ہے اور ہم سب گزار رہے ہیں۔
منقول
آپ نے کیا سیکھا ؟؟؟
*السلام علیکم!*
ایک شخص کو سزائے موت ہو گئی اس سے پوچھا گیا کہ زندگی کی آخری آرزو کیا ہے؟ اس نے کہا میں ہارون الرشید (بادشاہ وقت سے ملنا چاہتاہوں) آرزو پوری کر دی گئی قیدی جب دربار میں داخل ہوا تو اس نے بلند آواز میں کہا
“” السلام وعلیکم ””
بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا اس نے کہا وعلیکم السلام
بادشاہ نے کہا کوئی بات اس نے کہا کہ نہیں میرا کام ہو گیا
جلاد آئے اس قتل کرنے لگے
اس نے کہا اپ مجھے قتل نہیں کر سکتے
کہا کیوں
کہا بادشاہ نے مجھے سلامتی کی ضمانت دے دی ہے
بادشاہ نے کہا میں نے کب دی ہے
قیدی نے کہا ابھی اپ نے وعلیکم السلام نہیں کہا
بادشاہ مسکرا پڑا اور کہا اسے آزاد کر دو ۔۔۔۔
اور جب ہم السلام علیکم کہتے ہیں
تو ہم ضمانت دے رہے ہوتے ہیں کہ تیرا مال، جان، عزت سب مجھ سے محفوظ ہے
ہم ایک دوسرے کو السلام و علیکم بھی کہیں ہاتھ بھی ملائیں گلے بھی ملیں اور ایک دوسرے کی جڑیں بھی کاٹیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ .... 🤭 سوچئے گا ضرور 🌸
کہتے ہیں دولت خوشی نہیں دے سکتی، لیکن خالی جیب کے ساتھ آپ کیسے خوش رہ سکتے ہیں؟ فرض کریں آپ دوستوں کے ساتھ بیٹھے کافی پی رہے ہیں، آپ کی جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اگر آپ کو اس کافی کا بل دینا پڑ جائے تو آپ نہیں دے سکتے تو وہ کافی آپ کو زہر لگ رہی ہو گی۔ ابھی یہ طے نہیں کہ بل آپ نے دینا ہے، صرف دینے کے خطرہ نے آپ کا سکون غارت کر رکھا ہے تو آپ نے اس حالت میں خاک دوستوں کی رفاقت سے خوشی حا صل کرنی ہے۔
ایک کالم نگار اور اینکر اپنی خوشی کی خاطر ہر مہینے میں چند دن دوستوں کے ساتھ کسی دوسرے ملک میں سیرو تفریح کے لیے جاتے ہیں، وہ خوشیاں ضرور حاصل کرتے ہیں پرخرید کرمفت میں نہیں۔ موٹیویشنل اسپیکرز دن رات یہی درس دیتے ہیں کہ خوشیوں کے لیے دولت کے پیچھے نہ بھاگیں لیکن خود اس درس کو دینے کا لاکھوں روپے کا معاوضہ لیتے ہیں۔ نعت خواں کی زبان نبی علیہ السلام کی تعریف میں اس وقت رواں ہوتی ہے جب ہزاروں روپے کا معاوضہ طے ہوتا ہے۔
بے تحاشا دولت ہو سکتا ہے واقعی بے سکونی کا باعث بنتی ہو جیسا کہ لوگ کہتے ہیں پر بالکل خالی جیب کے ساتھ تو خوشیوں کا حصول نا ممکن ہے، دوستوں کی محفلیں تبھی آپ کو خوش رکھ سکتی ہیں جب آپ کو جیب کا اطمینان حاصل ہو۔
ایک مرتبہ جوش ملیح آبادی اپنے گھر میں چند بے تکلف دوستوں سے اپنی محبوباؤں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ذکر کرتے کرتے وہ اتنے جذباتی ہو گئے کہ ان کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ اس عالم میں اچانک ان کی بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔ اور جوش کو روتے دیکھ کر ان سے اس کا سبب پوچھا۔جوش صاحب بولے“بس ذرا اماں یاد آ گئی تھیں
💞💞😝😝“
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Address
Multan Nwan Sheher
Nur-Sultan
60000
