27/09/2026
آخر استاد کون ہوتا ہے ؟
کیا خوب زمانہ آ گیا ہے۔ استاد طالبہ سے یہ نہیں پوچھ سکتا کہ سبق کیوں یاد نہیں کیا، ٹیسٹ کی تیاری کیوں نہیں کی، نمبر کم کیوں آئے اور بار بار سمجھانے کے باوجود پڑھائی پر توجہ کیوں نہیں دی۔ استاد ذرا سخت لہجے میں بات کر دے تو والدین کی طرف سے شکایات کا نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ میری بچی بہت حساس ہے، میری بچی کو پینک اٹیک ہو گیا، اس کا ذہن کمزور ہے، اس سے کبھی کسی نے اونچی آواز میں بات نہیں کی، استاد نے ڈانٹا ہی کیوں۔
کبھی صورتحال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بچی بے ہوش ہو گئی اور استاد خود توبہ توبہ کرتے ہوئے سوچنے لگتا ہے کہ آخر ڈانٹا ہی کیوں تھا۔ پھر استاد آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ سبق پوچھنے سے پہلے سوچنا ہے، ٹیسٹ کا نتیجہ بتانے سے پہلے سوچنا ہے، ذرا آواز بلند ہونے سے پہلے سوچنا ہے کیونکہ کہیں کسی والدین کی طرف سے یہ سوال نہ آ جائے کہ استاد کون ہوتا ہے میری بچی کو ڈانٹنے والا۔
لیکن اسی معاشرے میں جب کسی تصویر میں کسی بچی کا دوپٹہ اپنی جگہ پر نظر نہ آئے تو کمنٹ سیکشن کے فلسفی، ماہرین تعلیم اور مذہب کے خود ساختہ ترجمان فوراً میدان میں آ جاتے ہیں کہ استاد نے ادارے نے بچیوں کو دوپٹہ لینے کا کیوں نہیں کہا۔ تب اچانک استاد یاد آ جاتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں بھی یاد آ جاتی ہیں۔ تب سوال ہوتا ہے کہ استاد تربیت کیوں نہیں کرتا اور بچیوں کو دین اور حیا کیوں نہیں سکھاتا۔
تو آخر استاد کون ہوتا ہے۔ ؟؟؟؟
جب استاد پڑھائی پر سختی کرے تو کہا جاتا ہے استاد کون ہوتا ہے اور جب لباس یا رویے کے بارے میں سمجھائے تو پھر بھی سوال ہوتا ہے استاد کون ہوتا ہے۔ لیکن جب سوشل میڈیا پر کوئی تصویر سامنے آئے تو اچانک استاد سے پورے گھر کی تربیت کا حساب مانگا جانے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ استاد سمجھا سکتا ہے، رہنمائی کر سکتا ہے، اچھا مشورہ دے سکتا ہے اور ادارے کے اصولوں کی پابندی بھی کروا سکتا ہے، مگر استاد والدین کا متبادل نہیں ہے۔ بچے کی پہلی تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔ حیا کا شعور، لباس کا سلیقہ، دینی اقدار اور بنیادی اخلاقی تربیت گھر سے آتی ہے۔ ادارہ اس تربیت کو مضبوط کر سکتا ہے لیکن ہر گھر کی تربیت اپنے ذمے نہیں لے سکتا۔
اس لیے کمنٹ سیکشن کے محترم فلسفیوں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جس استاد کو آپ سبق نہ پڑھنے پر سختی سے سوال کرنے کا اختیار نہیں دیتے اسی استاد کو پورے معاشرے کی اخلاقی اور دینی تربیت کا ذمہ دار بھی نہ بنائیں۔ 100 یا اس سے بھی زیادہ طالبات کی کلاس سنبھالنا، ہر بچی کے مزاج کا خیال رکھنا، پڑھانا، ٹیسٹ لینا، نتائج بنانا اور پھر ہر معاملے پر جواب دہ ہونا صرف کمنٹ سیکشن میں بیٹھ کر سمجھ نہیں آتا۔
استاد کو ہر طرف سے پابندیوں میں باندھ کر پھر یہ پوچھنا کہ بچے سنبھل کیوں نہیں رہے، ہمارے تعلیمی معاشرے کا شاید یہی سب سے بڑا تضاد ہے۔یقین کریں استاد کچھ بھی اپنی ذات کے لئے نہیں کر رہا نا ہی تصاویر لینے میں اساتذہ کو دلچسپی ہے اور نا ہی تصویر لگانے میں
جو کچھ بھی ہو رہا وہ آج کے نئے تعلیمی ماحول کا تقاضا ہے
اب اچھا یا برا
اس پر بحث کرنے پر بھی بے بس ہیں ہم
استاد کو صرف نصیحت نہیں اعتماد بھی چاہیے۔ اسے صرف ذمہ داری نہیں مناسب اختیار بھی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک بچے کی شخصیت صرف استاد نہیں بناتا۔ گھر، والدین، ادارہ اور معاشرہ سب مل کر نسلوں کی تربیت کرتے ہیں۔اکیلے بیٹھ کر سوچیں کہ آپ کا Tik Tok زدہ معاشرہ آج کہاں کھڑا ہے ۔۔۔
استاد کا پیغام ہر فلسفی کے نام