۱۔اے میرے آقاو مولا حسین۔۔۔اشھد انک قد اقمت الصلوہ۔۔۔۔۔میں گواھی دیتا ھوں کہ آپ نے نماز کو قائم کیا۔۲۔اے میرے مولا حسین آپ نے عصر تاسوعا ایک رات کی مھلت مانگی اور فرمایا مجھے نماز سے محبت ھے میں آج رات نماز پڑھنا ٖچاھتا ھوں۔۳۔ اے میرے مولا حسین،جب ظھر کے وقت ابو ثمامہ صیداوی نے روز عاشور نماز ظھر کی یاد آوری کی تو آپ نے اسے دعا دی۔۴اے میرے مولا حسین عاشورا کی نماز ظھر میں آپ نے اور آپکے جانثاروں نے دشمن کے تیروں کی بارش میں نماز قائم کی۔۵ اے میرے مولا حسین روز عاشورا علی اکبر کی اذان کی صدا ھمیں اب بھی آتی ہے۔۶اے میرے مولا حسین۔ظھر عاشورا (سخت ترین لمحات میں بھی )آپ نے آذان، اقامت،اور نمازاول وقت جیسے مستحبات کا بھی آپ نے خیال رکھا۔۷۔اے میرے مولا حسین آپ نے اپنی بھن سے فرمایا ۔مجھے نماز شب میں نہ بھولنا۔۸ اے میرے مولا حسین آپکی عزت و عظمت کا ایک پھلو یہ بھی ھے کہ آپ کے پدر گرامی ھیں جو خانہ کعبہ میں متولد ھوے اور محراب عبادت میں شھید ھوے اور آپکی مادر گرامی کی نماز کے نور کی ؒضیا سے آسمان منور ھیں۔۸اے میرے مولا حسین آپکی کربلا کی تربت پر سجدہ کرنے سے نماز قبول ھوتی ھے۔ اے میرے مولا ھمارے لیے دعا کریں کہ ھم بھی نماز کی لذت کو چکھ سکیں اور ھماری اولادیں اور نسلیں بھی نماز کی لذت چکھ سکیں آمین اقتباس از کتاب نماز عشق حسین۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان
Majlis e Wahdat Muslimeen (MWM) Pakistan, is a religio-political party in Pakistan. (http://www.mwmpak.org/)
Majlis e Wahdat Muslimeen (MWM) Pakistan, is a religio-Political party in Pakistan. MWM is struggling for the supremacy of Islam and teachings of Prophet Mohammad (peace be upon him and his progeny). We believe in religious tolerance, Inter-faith harmony and Muslim brotherhood to foil the American and Zionist conspiracies against Islamic Republic of Pakistan and Muslim Ummah.
29/01/2014
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان تاریخ کی بدترین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی کے سائے پاراچنار سے کراچی تک منڈلا رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن بے گناہوں کا خون نہ بہایا جاتا ہو۔ بظاہر تو سب دہشت گردی کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں لیکن جب آپریشن کی بات آتی ہے تو مختلف طریقوں سے اُنہیں محفوظ کارنر دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یعنی اس طرح کے بیانات اور گفتگو کی جاتی ہے کہ جن سے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور حمایت نظر آتی ہے اور بعض اوقات ایسا بھی لگتا ہے کہ ان دہشتگردوں کا سیاسی چہرہ یہ لوگ ہیں اور ان دہشتگردوں کے بارے میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو 70 ہزار لوگ شہید کر دیئے گئے وہ کس کے لوگ ہیں؟ اگر یہ دہشت گرد اور انتہاپسند اپنے لوگ ہیں تو کراچی میں جن کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے وہ کس کے لوگ ہیں۔؟ جو سندھ میں علیحدگی کا نعرہ لگاتے ہیں وہ کس کے لوگ ہیں؟ اگر دہشت گردوں کو اپنے ہی لوگ کہا جائے تو سارے ہی اپنے لوگ ہیں۔؟ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے مجلس وحدت مسلمین وحدت یوتھ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری وحدت یوتھ سید فضل عباس نقوی، ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی اور میڈیا کوارڈینیٹر ثقلین نقوی موجود تھے۔
علامہ حسن ظفر نقوی نے مزید کہا کہ کراچی میں آپریشن کی بات کی جاتی ہے تو ہم نے سب سے پہلے آپریشن کی حمایت کی کہ فوجی آپریشن کیا جائے اور تمام پارٹیوں نے کہا کہ وہاں بدامنی ہے آپریشن کیا جائے کیونکہ وہاں بدامنی ہے، لیکن دوسری جگہوں پر جہاں بدامنی ہے وہاں آپریشن کی بات کی جاتی ہے تو اُن کی سیاست کیوں بدل جاتی ہے؟ اُن کا رویہ کیوں بدل جاتا ہے؟ جنہیں دہشت گرد شہید نظر آتا ہے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ اُنہوں نے ہنگو میں شہید ہونے والے اعتزاز حسن کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ جو سینکڑوں بے گناہوں کو مارے اور مرجائے وہ شہید اور جو سینکڑوں کی جان اپنی جان دے کر بچالے اُس کے لیے کچھ نہیں کہا؟ کیونکہ اُن کی نظر میں دہشت گرد تو شہید ہوسکتا ہے، لیکن وہ بچہ جس نے سینکڑوں بچوں کی جان بچائی وہ اُن کی نظر میں شہید نہیں ہے۔ جب تک یہ منافقت اور دوغلاپن ہمارے معاشرے میں موجود ہے، دہشت گردوں کو کوئی خوف نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہماری حمایت اور پشت پناہی کرنے والے موجود ہیں۔ دہشت گردوں کی حمایت میں کتنے رہنمائوں نے آکر مختلف چینلز پر گفتگو کی اور ہم مسلسل اس لعنت میں دھنستے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہزاروں فوجی، پولیس اور رینجرز جوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ان کو کون ہے مارنے والا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اپنے لوگوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ لوگ کلیئر نہیں ہیں، ہم نے کب کہا کہ نہ کریں؟ مذاکرات کب ہوں گے؟ مذاکرات کس سے ہوں گے مذاکرات؟ کوئی کہتا ہے کہ 56 گروپس ہیں، کوئی کہتا ہے کہ 36 گروپس ہیں۔
علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ ابھی خود حکومت کو معلوم نہیں کہ کب اور کس سے مذاکرات کرنے ہیں۔ آپ نے کہا تھا کہ ہماری حکومت دہشت گردی ختم کر دے گی، لیکن ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ نے بھی کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ کبھی کوئی وسیلہ تلاش کیا جا رہا ہے کبھی کوئی؟ 19 کروڑ لوگوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دہشت گرد جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں کارروائی اور ظلم کرتے ہیں۔ بلوچستان اور کراچی میں آپریشن کے نام پر ڈرامہ ہو رہا ہے۔ اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ روزانہ ہو رہی ہے۔ اب یہ سلسلہ کراچی سے نکل کر تمام بڑے شہروں میں پہنچ چکا ہے، دہشت گرد پورے پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں کیونکہ اُنہیں پتہ ہے کہ ہمیں سپورٹ کرنے والے ہر شہر میں بیٹھے ہیں۔ بجائے اس کہ دہشتگردوں کے خلاف ایک جگہ جمع ہونا چاہیے تھا لیکن لگتا ایسا ہے کہ ہماری حکومت نے دہشت گردوں کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں۔ بار بار مذاکرات کا موقع دیا جاتا ہے اور ہر بار وہ پہلے سے زیادہ سفاک کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی علمائے کرام ایک جگہ جمع ہوئے تو خفیہ ہاتھوں نے ان کے درمیان اختلافات ڈال دیئے۔ لوگوں میں فرقہ واریت کا بیج بویا جاتا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس پاکستان کو بنانے میں شیعہ سنی علماء اور رہنمائوں نے مل کر کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ اسی طرح آج جب ہم یہاں اتحاد کی بات کرتے ہیں تو دشمن ہماری خلاف کارروائیاں کرتا ہے اور ہمارے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ ربیع الاول میں شیعہ سنیوں نے مل کر جلوس نکالے اور میلاد منائے اور اسی طرح محرم الحرام میں شیعہ سنی علمائے کرام نے مل کر بڑی بڑی سازشوں کو ناکام بنا دیا، اگر یہ سازشیں کامیاب ہو جاتیں تو ملک کا کافی نقصان ہوتا۔ جب بھی اتحاد کی ایسی فضا بنتی ہے تو خفیہ ہاتھ حرکت میں آتے ہیں اور اپنی کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ گذشتہ دو دنوں سے کراچی میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، ہم یہ سمجھے تھے کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد حکومت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے گی، لیکن کراچی میں ہمارے دوماہ قبل اُٹھائے گئے نوجوانوں کو میڈیا کے سامنے قاتل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مسلسل دو دن سے میڈیا پر سازش کی جا رہی ہے، ہمارے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے ہمارے بے گناہ نوجوانوں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہمارے دھرنوں سے خوفزدہ ہوگئی ہے، ہمارے دھرنوں کی کامیابی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں ہمارے بے گناہوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ملک بھر میں شہید ہونے والے علمائے کرام کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ علامہ ناصر عباس آف ملتان اور علامہ دیدار حسین جلبانی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ بعد ازاں اُنہوں نے علامہ ناصر عباس کے بھائی پروفیسر شاہد عباس سے اُن کی بھائی کی شہادت پر تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔
29/01/2014
29/01/2014
مورخہ 29 جنوری 2014 پی بی 2 کوئٹہ 2 کے عوامی نمائندہ اور رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا ، کونسلر کربلائی رجب علی ، کامران حسین، سید ابرار حسین ، خادم حسین ، حاجی عمران علی ، مہدی بلدستانی اور عمار نے ایک وفد کی شکل میں مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے ارکان نے بلوچستان کے وزیر اعلی جناب ڈاکڑ عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی۔
ملاقات میں صوبے کی موجودہ امن و امان کی صورتحال پر گفتگو ہوئی اور وزیر اعلی صاحب نے امن و امان کے حوالے سے وفد کو اپنی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وفد نے امن و امان کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعلی ڈاکڑ عبدالمالک بلوچ صاحب کی کوششوں کو سراہا اور بلوچستان میں قومی، مذہبی، سیاسی اور فرقہ وارانہ ہمانگی اور رواداری کے فروغ کے لیے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ آغا رضا کا کہنا تھا کہ جہاں دوسری اقوام صوبے میں قیام امن کے لیے اپنا پسینہ بہائینگے وہاں ہزارہ قوم صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت کے شانہ بشانہ اپنا خون بہانے سے دریغ نہیں کرینگی۔حس کی زندہ مثال گزشتہ چند سالوں کے دوران ملت تشیع اور ہزارہ قوم کی بے لوث قربانیاں ہیں۔
آغا رضا صاحب نے مزید کہا کہ ہزارہ قوم اور ملت تشیع پاکستان کے دور دراز علاقوں سے ایران ، عراق زیارات مقدسہ پر جانے والے زائرین کو کوئٹہ تفتان کے راستے آباد اپنے پشتون اور بلوچ بھائیوں پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے لیکن صوبے اور ملک میں جاری دہشت گردی کا کسی قوم، مذہب یا فرقہ سے کوئی تعلق نہیں۔ شیعہ سنی آپس میں بھائی بھائی ہیں اور گزشتہ سینکڑوں سالوں سے پاکستان خصوصا کوئٹہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔۔
وزیر اعلی صاحب کا کہنا تھا کہ جب تک کوئٹہ تفتان راستہ محفوظ نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہم زائرین کے لیے رعایتی نرخ پر ہوائی سروس کا انتظام کرینگے جس پر آغا رضا نے وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سروس کے ساتھ ساتھ کوئٹہ تفتان روٹ کو بند نہں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس روٹ سے ہزاروں غریب لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔
اجلاس کے دوران آغا رضا نے وزیر اعلی صاحب کو بینظیر ہسپتال کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے اور ہسپتال میں مزید ڈاکڑز اور طبی ماہرین کی تعیناتی کے حوالے سے تجاویز سے آگاہ کیا اور گورنمنٹ گرلز حسن موسی کالج کو بلوچستان وومن یونیورسٹی کے ساتھ منسلک کرنے اور گورنمنٹ بوائز موسی کالج کو بلوچستان یونیورسٹی کے ساتھ ماسٹر ڈگری کلاسز کے لیے منسلک کرنے کے حوالے سے بھی اپنی سفارشات پیش کیں۔
علاوہ ازیں آغا رضا نے مقامی ہسپتال میں موجود سانحہ مستونگ کے زخمیوں کو فوری طور پرکراچی بھجوانے کے حوالے سے بھی وزیر اعلی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تا حال دو انتہائی شدید زخمی سی ایم ایچ پسپتال میں موجود ہیں جنکی حالت تشویشناک ہے اور جنہیں کراچی منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلی جناب ڈاکڑ عبدالمالک بلوچ صاحب نے مجلس وحدت مسلمین کے وفد کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ بہت جلد ان سفارشات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔
29/01/2014
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، ہزاروں بے گناہوں کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات شریعت کے منافی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں کراچی میں پاک محرم ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ علامہ باقر زیدی، علامہ علی انور جعفری، علی حسین نقوی، علامہ عباس وزیری، علامہ موسیٰ کریمی، اصغر عباس زیدی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ علامہ امین شہیدی نے مزید کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے طالبان دہشتگردوں سے مذاکرات کا اعلان مایوس کن ہے، ان کے اس اعلان سے 18 کروڑ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوچکا ہے کہ خودکش دھماکوں میں شہید ہونے والے ہزاروں افراد کے خون کی حکومت کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے، پاکستان کسی مخصوص فرقہ کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے۔ علامہ امین شہیدی نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں ہزاروں اہل تشیع شہداء کا ذکر نہ کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حکومت طالبان کے ہاتھوں یرغمال ہوچکی ہے اور اپنی بزدلی کو حکمت کا نام دے کر وطن سے غداری کی مرتکب ہورہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی شریعت کا نفاذ 18 کروڑ عوام کو قبول نہیں ہے، نواز شریف طالبان سے مذاکرات کرکے طالبان کی شریعت کو نافذ کرنے کی کوشش کا حصہ بن رہے ہیں، اگر معاشرے میں امن قائم کرنا ہے تو طالبان سے مزاکرات کا راستہ ترک کرکے ملک گیر آپریشن کرنا ہوگا ورنہ پاکستان دہشت گردوں کی جنت بن جائے گا۔ چار رکنی کمیٹی کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ یہ وقت ثابت کرے گا کہ طالبان سے مذاکرات کی مخالفت میں ہمارا مؤقف درست ہے اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں ہے کہ جب دنیا ہمارے مؤقف کو درست ہوتا ہوا دیکھے گی۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی ہم سے یہ تقاضہ کررہی ہے کہ تمام محب وطن قوتیں طالبان سے مذاکرات کے خلاف متحد ہوں اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف اپنی مؤثر آوازکو بلند کریں۔
29/01/2014
انچارچ سی آئی ڈی راجہ عمر خطاپ کے پریس کانفرنس پر ایرانی قونصل خانے کا رد عمل
29/01/2014
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں اور فوجی جوانوں کے قاتلوں سے مذاکرات ملک دشمنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم پاکستان نوا ز شریف کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب اسمبلی میں اپنی تقریر میں شیعہ نسل کشی کا تذکرہ نہ کرنے سے شہداء کے خانوادوں کی دل آزاری ہوئی ہے،دہشت گردوں سے مذاکرات پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے عظیم خطرہ ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ طالبان سے ایک بار پھر مذاکرات کا فیصلہ دہشت گردوں کو حوصلہ اور دہشت گردی کا موقع فراہم کرنا ہے،طالبان سے مذاکرات کا اعلان خانوادہ شہداء کی تضحیک کے مترادف ہے۔
آئندہ کسی سیاسی مداری کو عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دینگے، آغا علی رضوی
آغا علی رضوی نے کہا عوام نے ووٹ دے کر سیاسی نمائندوں کو اس لیے منتخب کیا تھا تاکہ وہ عوام کو سہولیات فراہم کریں اور اسمبلی میں عوامی حقوق کی جنگ لڑیں، لیکن انہوں نے ہر وہ اقدام اٹھائے جس سے غریب عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے۔ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ، گندم سبسڈی کو اٹھانا، اقربا پروری اور فلاحی و ترقیاتی پروگراموں میں خردبرد گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ خیانت ہے۔ عوام کو مشکلات، مسائل، مہنگائی، بیروزگاری میں دھکیلنے والوں کو حق نہیں کہ عوامی نمائندگی کے دعوے کریں۔
گلگت بلتستان میں بھرپور آواز بلند کیجائے گی اور نام نہاد سیاسی رہنماوں کو عوامی طاقت کے ذریعے واضح کر دیں گے کہ کس طرح حقوق حاصل کیے جاتے ہیں اور آئندہ کسی سیاسی مداری کو عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے
29/01/2014
کراچی: علامہ امین شہیدی کی مجلس ذاکرین امامیہ کے اراکین سے ملاقات
29/01/2014
مورخہ 27 جنوری 2014 کو ممبر بلوچستان اسمبلی آغا رضا نے محلہ امام رضا ع کے لوگوں سے ملاقات کی اور لوگوں کے مسائل سنے اور 11 مئی سے ابتک اپنی کارکردگی علاقے کے معززین سے شیئر کی۔ اور آئندہ پروجکٹس کے بارے میں بریفنگ دی۔ معززین نے کہا کہ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ الیکشن کے بعد نمائندہ ووٹ کے بجائے احتساب کےلیے نمائندہ اپنے آپ کو عوام میں پیش کر رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
Multan
60000
