Voice of Socialism in PSF

Voice of Socialism in PSF

Share

Working for basic rights of students ,uniting studenrs against rising fees ,unemployement and for fr

18/01/2016

طلبہ یونینز سے خوفزدہ کون؟
| تحریر: لال خان |
11 جنوری کو سینیٹ میں طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھانے کی قراردار کا منظور ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ قرار دار پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی ضیاالحق کی رجعتی آمریت کے دوران نافذ کی گئی تھی۔ ضیا آمریت کے دوران ٹریڈ یونینز پر بدترین جبر روا رکھا گیا، کالونی ٹیکسٹائل مل کے ڈیڑھ سو محنت کشوں کو حقوق مانگنے کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا اور وحشت پر مبنی اس طرح کے دوسرے اقدامات کے ذریعے مزدور تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ طلبہ یونین پر پابندی بھی اسی بربریت کا حصہ تھی۔ اس کا مقصد طلبہ تحریکوں کی شکل میں ابھرنے والے بغاوت کے ریلوں کو دبانا اور غیر نظریاتی سیاست کو پروان چڑھانا تھا۔
1977ء میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد بدترین ریاستی جبر کے باوجود کئی ایسے واقعات ہوئے تھے جو ملک میں وسیع پیمانے پر نوجوانوں کی بغاوت کے امکانات ظاہر کر رہے تھے۔ ان میں سب سے اہم نشتر میڈیکل کالج ملتان میں بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی سٹوڈنٹس یونین کی ضیا آمریت کے خلاف جرات مندانہ لڑائی تھی۔ اس بغاوت کو پہلے ریاستی جبر کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی جس میں ناکامی کے بعد اکتوبر 1979ء میں پورے ملک میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ 1984ء میں اس پابندی کو باضابطہ شکل دے دی گئی۔
طلبہ اور نوجوانوں کی تحریکوں میں وہ چنگاری ہوتی ہے جو انقلاب کے شعلے بھڑکا سکتی ہے اور ایسی صورت میں محنت کش طبقہ تاریخ کے میدان میں داخل ہو کر جبر و استحصال کے نظام کو ہی اکھاڑ سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھرمیں اٹھنے والے بیشتر انقلابات کا آغاز طلبہ نے ہی کیا تھا۔اس کی بڑی مثال پاکستان میں 1968-69ء کی انقلابی تحریک ہے جس کا آغاز 6 نومبر 1968ء کو راولپنڈی پولی ٹیکنیکل کالج کے ایک طالب علم عبدالحمید کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت سے ہوا تھا۔ یہاں سے ابھرنے والی بغاوت پشاور سے لے کر چٹاگانگ تک، انقلاب بن کر پھیل گئی۔
دنیا بھر کی طرح یہاں بھی 1970ء کی دہائی تک تعلیمی اداروں اور طلبہ سیاست پر بائیں بازو کے انقلابی اور ترقی پسند نظریات حاوی تھے۔ اداروں کا ماحول خوشگوار ہوا کرتا تھا اور طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات بھی سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتی تھیں۔ رجعت، قدامت پسندی اور بنیادی پرستی کی قوتیں اس وقت تعلیمی اداروں میں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اسی طلبہ سیاست کے محنت کش طبقے کے ساتھ ملاپ سے انقلاب ابھرا تھا جس کے نتیجے میں سوشلسٹ نظریات پر قائم ہونے والی نو عمر پیپلز پارٹی چند مہینوں میں ایک عوامی سیاسی قوت کا درجہ اختیار کر گئی۔
رجعت پر قائم آمریت کی حفاظت کے لئے معاشرے کے ہر روشن اور ترقی پسند معمول کو توڑنا ضیا الحق کے لئے لازم تھا۔ ضیاآمریت نے جو کیا سو کیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ 1988ء کے بعد کئی بار جمہوری حکومتوں کو اقتدار ملا لیکن ان کی پالیسیاں ضیا آمریت کا ہی تسلسل ثابت ہوئیں، کیونکہ محض نظام کو چلانے کا سیاسی طریقہ کار تبدیل ہوا تھا، نظام اپنی جگہ موجود تھا اور آج بھی ہے۔ طلبہ یونینز پر پابندی بھی یہ جمہوریت آج تک نہیں اٹھا سکی۔ اعلانات کئی بار ہوئے لیکن یہ انتہائی بنیادی جمہوری مطالبہ عملی شکل میں کبھی پورا نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا نظریاتی انحراف بڑھتا چلا گیا اور اس کے ادوار میں طلبہ اور مزدور دشمن پالیسیاں ہی نافذ کی جاتی رہیں۔ آج جس آئین کو اتنا مقدس بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس میں ضیا الحق کی ڈالی گئی شقوں کو کوئی جمہوری حکومت ختم نہیں کر سکی۔
آج طلبہ یونین کی بحالی کی مخالفت کرنے والے زیادہ تر سیاسی رہنما اور ’دانشور‘ ضیاالحق کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہیں۔ دوسری جانب ایجوکیشن مافیا ہے جو تعلیم کا بیوپار کر کے تجوریاں بھر رہا ہے اور طلبہ یونینز کو کسی طور برداشت نہیں کرے گا۔ان کے مفادات نجی صنعتیں چلانے والے سرمایہ داروں سے مختلف نہیں ہیں جن کے لئے ٹریڈیونین ناقابل قبول ہوتی ہے۔
نہ صرف نجی بلکہ سرکاری تعلیمی ادارے بھی آج جیل خانوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی بدترین دھونس موجود ہے، ہر وقت نکالے جانے کا خوف اور بات بات پر جرمانے ہیں، شدید گھٹن کا ماحول ہے، نصاب قدامت پرست اور طریقہ تعلیم انتہائی غیر سائنسی ہے۔ طلبہ پر خود غرضی، مقابلہ بازی اور ’’کیریئر ازم‘‘ کی نفسیات مسلط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں نوجوان کسی صورت سماج کا صحت مند حصہ نہیں بن سکتے۔ ثقافتی گراوٹ، جرائم، منشیات اور بیگانگی اس عمل کی واضح علامات ہیں۔ طلبہ سیاست میں کلاشنکوف کلچر، تشدد، غنڈہ گردی، منشیات اور لسانی و فرقہ وارانہ تعصبات کی سرایت سب سے پہلے ضیاالحق کے دور میں کروائی گئی تھی۔آج طلبہ یونین پر پابندی کا یہی عذر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یونینز پر پابندی سے دہشت گردی اور غنڈہ گردی کم ہوئی ہے یا بڑھی ہے؟
1972ء کے بعد طلبہ سیاست میں بنیاد پرست تنظیموں کے بڑھتے کردار کاجائزہ لیا جائے تو اس کی سب سے کلیدی وجہ خود پیپلز پارٹی حکومت کی حکمران طبقے اور اس کے نظام سے مصالحت تھی۔ انقلاب کو ادھورا چھوڑ کر پارٹی کے بنیادی سوشلسٹ نظریات سے انحراف کیا گیا جس سے محنت کشوں اور نوجوانوں میں بددلی پھیلی اور رجعتی رجحانات کی راہ ہموار ہوئی۔ بعد ازاں انہی مذہبی پارٹیوں کو ضیا آمریت میں پروان چڑھایا گیا اور ان کی ذیلی طلبہ تنظیمیں تعلیمی اداروں پر مسلط کر دی گئیں۔ آج بھی ان تنظیموں کی طلبہ میں کوئی بنیاد نہ ہونے کے باوجود ریاستی پشت پناہی میں قائم رکھا گیا ہے۔
آمرتیوں کے بعد اس ’’جمہوریت کے تسلسل‘‘ نے جو کچھ عوام کے ساتھ کیا ہے اس سے سماج میں پراگندگی، گھٹن اور حاوی سیاست سے بیزاری میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ پورا معاشرہ تعفن اور اذیت کا شکار ہے۔سیاست کی کمرشلائزیشن کے اس دور میں طلبہ یونینز اگر بحال ہوتی ہیں تو یہاں بھی قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات کی طرح دولت کی پارٹیاں پیسے کے ذریعے اپنا جبر قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن ساتھ ہی حقیقی مسائل کی بات اور نظریاتی مباحث کا بھی آغاز ہو گا۔ دولت اور انقلابی نظریات کی یہ لڑائی اگر کھلتی ہے تو دولت کی شکست لازمی ہے۔ جن نظریات کا وقت آجاتا ہے انہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں کچل سکتی۔
طلبہ، مزدور، کسان آج اذیت ناک استحصال سے دو چار ہیں ، ایسے میں طلبہ سیاست بڑے پیمانے پر بحال ہوتی ہے تو یہ انقلاب کی نرسری کا کردار ادا کرے گی۔ حکمران اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں اور یہی ان کا خوف ہے۔ سینیٹ اور پارلیمنٹ جیسے ادارے، جن کی نشستوں میں کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور جو مکمل طور پر حکمران طبقے کے کلب بن چکے ہیں، ان کے ذریعے طلبہ یونین کی بحالی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ حق بھی طلبہ اور نوجوانوں کو جدوجہد کے ذریعے ہی چھیننا پڑے گا۔
مارکسزم کی سائنس واضح کرتی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ بلند پیمانے پر دہراتی ہے۔اگر اس بار بھی طلبہ یونینز پر پابندی نہیں اٹھائی جاتی تو نوجوانوں کا انقلابی کردار ختم نہیں ہوجائے گا۔ انہیں کب تک اس نظام کی چکی میں ڈگریوں اور کیرئیر کے پیچھے دوڑا کر کچلا جا سکتا ہے؟ قوی امکانات ہیں اس ملک میں ناگزیر ضرورت بن جانے والی انقلابی تحریک کی پہلی چنگاری طلبہ تحریک سے ہی ابھرے گی۔ طلبہ کو اپنے بنیادی حقوق کی لڑائی کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد سے جوڑنا ہوگا، جو تمام تر ذلتوں اور مسائل کی جڑ ہے۔اس عظیم مقصد میں انہیں محنت کشوں اور غریبوں کے لئے اپنے دل میں عاجزی اور احترام کے جذبات پیدا کرنا ہوں گے، ان سے سیکھنا ہو گا۔ اسی صورت میں وہ محنت کش طبقے کے ساتھ جڑت بنا کر تاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔
روس میں انسانی تاریخ کا عظیم ترین انقلاب برپا کرنے والی بالشویک پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی اوسط عمر 29 سال تھی۔ مخالفین ’’بچوں کی پارٹی‘‘ کہہ کر بالشویکوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔لیکن تاریخ ساز واقعات نے لینن کے اس قول کو سچ کر دکھایا کہ ’’جس کے پاس نوجوان ہیں، مستقبل اسی کا ہے۔‘‘

Photos 04/11/2015

Karl Marx in Communist Manifesto

Mobile uploads 20/09/2015
Mobile uploads 20/09/2015

پیداوار کے ذرائع کی نجی ملکیت ختم کر کے اور انہیں مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دینے سے ہی ایک منصفانہ نظام قائم کیا جا سکتا ہے

چلی: طلبہ تحریک کی نئی للکار کون روکے گا! 13/07/2015

ہم چلی کے نظام تعلیم میں کاسمیٹک تبدیلیوں کی بجائے ساختی اصلاحات چاہتے ہیں جنہیں پچھلے 20 سالوں کی اتفاق رائے کی سیاست نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چلی کا نظام تعلیم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے اور اسے تبدیل ہونا چاہئے

http://www.struggle.com.pk/students-movement-in-chile-for-rights/

چلی: طلبہ تحریک کی نئی للکار کون روکے گا! | تحریر: نادر گوپانگ | پچھلے ہفتے چلی میں ہونے والے طلبہ مظاہروں پر پولیس کے جبر کی وجہ سے

طلبہ کے مسائل 13/07/2015

اس سارے تناظر میں ایک طرف والدین ذہنی اذیت کا شکار ہیں تو دوسری طرف طالب علم مایوسی سے دوچارہیں۔ بھاری بھرکم فیسیں ادا کرکے ڈگریاں لینے کے باوجود بھی بیروزگاری کی تلوار مسلسل نوجوان نسل کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ بڑھتے ہوئے معاشی و سماجی دباؤ کی وجہ سے طلبہ کی خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ سرمایہ داری جہاں ایک طرف نام نہاد مقابلہ بازی کے ذریعے طالب علموں کو یہ سکھاتی ہے کہ دوسرے کو پچھاڑ کے آگے جانے والا ہی کامیاب ہوتا ہے تو دوسری طرف بیروزگاروں کی ایک فوج بھی کھڑی کردیتی ہے۔ ایسے میں بیگانگی سے دوچار نوجوان کوئی متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے یا تو جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں یا پھر منشیات میں غرق ہو کر اپنی زندگی برباد کر ڈالتے ہیں۔
http://www.struggle.com.pk/problems-of-students/

طلبہ کے مسائل 2008ء میں شروع ہونے والے سرمایہ دارانہ بحران کی قیمت پوری دنیا میں محنت کش طبقے اور عوام

بیکاری کا عذاب! 14/05/2015

لیکن آج ٹیکنالوجی اور جدید پیداواری طریقوں کی موجودگی میں بے روزگاری کا مطلب کچھ اور ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلے روزگار انسانوں کا متلاشی تھا آج انسان روزگار ڈھونڈ رہے ہیں۔ شکار کے زمانے سے لیکر قرونِ وسطیٰ کے زرعی معاشروں تک، بے پناہ افرادی قوت کی ضرورت کی وجہ سے لوگ بیکاری اور بے روزگاری سے نا آشنا تھے۔ اگرچہ روزگارکی شکلیں بھی بہت ظالمانہ، غیر انسانی اور غلامی پر مبنی تھیں لیکن سرمایہ داری کے اندر بھی کوئی پر کشش، قابلِ فخر اور ’’با عزت‘‘ روزگار نہیں ہے۔ پر کشش لباس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے محنت کرنے سے استحصال ختم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ گھناؤنا بن جاتاہے۔ سرمایہ دارانہ عروج و زوال کے معاشی چکر کے باوجود، بے روزگاری سرمایہ دارانہ نظام کا مستقل مظہر ہے۔ حتیٰ کہ بہترین معاشی حالات میں بھی بے روزگاری موجود رہتی ہے۔ مارکس نے ’’سرمایہ‘‘ میں پیشین گوئی کی تھی کہ ’’زیادہ منافعوں کی ہوس سرمایہ داروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کم سے کم مزدوروں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کر یں جس کے نتیجے میں غریبوں اور بے روزگاروں کی ’ریزرو صنعتی فوج‘ مجتمع ہوتی ہے۔ ایک طرف دولت کا بے تحاشہ اجتماع ہوتا ہے اور دوسری طرف غربت اور محرومی کا۔‘
http://www.struggle.com.pk/curse-of-unemployment/

بیکاری کا عذاب! | تحریر: ظفراللہ | بیروزگاری کی سرکاری تعریف ہی اس طرح سے کی جاتی ہے کہ اعداد و شمار میں

22/10/2014

چی گویرا کی برسی کے موقع پر

سچے لوگو!
انسانی آدرشوں کی بھٹی میں تپ کر
کندن بننے والے لوگو!
تھک مت جانا
جھوٹ کے بادل گہرے، کالے چھٹ جائیں گے
جبر کی صدیاں ، عشرے سارے کٹ جائیں گے
بارودی ارمان اچانک پھٹ جائیں گے
ازلی اور ابدی سچائی بھاڑ میں جائے
اپنے عہد کی گھائل روح کی خاموشی کوسنتے رہنا
خوابوں کی پوشاک لہو کے ہر قطرے سے بنتے رہنا
سانسوں کو تلوار بنا کر لڑنے والو!
لڑتے جانا
چہروں کو اخبار بنا کر پڑھنے والو!
پڑھتے جانا
جذبوں سے افکار بنا کر چلنے والو!
چلتے جانا
خوابوں کو پتوار بنا کر بڑھنے والو!
بڑھتے جانا
دل کو پالنہار بنا کر پلنے والو!
پلتے جانا
زخموں کو گلزار بنا کر کھلنے والو!
کھلتے جانا
غزلوں کو کوہسار بنا کر چڑھنے والو!
چڑھتے جانا
نظموں کو شاہکار بنا کر کرنے والو!
کرتے جانا
رسموں کی چکی میں پس کر رزقِ وفا بن جانے والو!
لاچاروں کے ننگے من کی سرخ قبا بن جانے والو!
اجڑے پجڑے گلزاروں میں بادِ صبا بن جانے والو!
سات سروں کے بہتے دریا کی موجوں سے سچے لوگو!
قسم ہے تم کو نومولود کی پہلی چینخ کی، اچھے لوگو!
تھک مت جانا۔ ۔ ۔

پارس جان

22/10/2014

جنوبی پنچاب میں وہ ’مخادیم‘ جن کے خلاف پیپلز پارٹی بنائی گئی تھی ان کو پیپلز پارٹی کے نحیف جسم پر لاد دیا گیا ہے۔ یہ سب ایسے حالات میں کرنا ممکن تھا جب پارٹی کو نظریات سے دور کرکے حکمران طبقے کے مفادات کی لونڈی بنا دیا گیا۔ آج ایک سانس میں چیئرمین بلاول بائیں بازو کی تعریف کرتے اور مداح محسوس ہوتے ہیں مگر شریک چیئرپرسن زرداری نے منصورے کی یاتراؤں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ کیا لوگ دیکھنے، سوچنے اور فیصلہ کرنے سے معذور ہوچکے ہیں۔ ایسا سوچنا قیادت کی خام خیالی ہے۔ عام کارکن اور ووٹر کی کمٹمنٹ کو اسکی کمزوری سمجھ کر اسکی خواہشات اور طبقاتی مفاد کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا کارکن کہاں جائے گا؟ کسی دشمن پارٹی کو تو ووٹ ڈالے گا نہیں لوٹ کر پھر اپنی پارٹی کی طرف آئے گا مگر پارٹی قیادت 1997ء اور 2013ء کے انتخابات کے نتائج سے یہ اخذ کرنے میں ناکام رہی ہے کہ ووٹر اور کارکن کے پاس تیسرا آپشن بھی ہے کہ وہ پارٹی کی عوام دشمن پالیسیوں، نظریاتی غداری اور لوٹوں کو ٹکٹ دینے پر اپنے گھر بیٹھ کر خود کو انتخابی عمل سے لاتعلق کرلے۔

18اکتوبر کی جستجو مٹ نہیں سکتی! 22/10/2014

اس حملے نے پھر ریاست اور پیپلز پارٹی (خواہ وہ ڈیل اور مفاہمت کے بندھنوں میں بندھی ہو) کے باہمی تعلق کو ایک بار پھر ’’ناقابل مصالحت‘‘ ثابت کیا۔ سانحہ کارساز سے راولپنڈی میں بے نظیر کے قتل تک کی داستان اسی قضیے کی خونی دلیلوں سے بھر ی پڑی ہے۔ جس سے پھر کسی نے نہیں سیکھا تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہی تھی۔ جس کو مصالحت اور مفاہمت کی علت نے ریاست کی فونڈری میں بننے اور پلنے والی ’’ مسلم لیگوں اور تحریکوں‘‘سے بھی نچلے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ اس گراوٹ نے پارٹی قیادت کو جس ہذیانی کیفیت سے دوچار کیا ہے وہاں پھر غلطیوں اور غلط حکمت عملیوں کا تکرا ر نظر آتا ہے۔ ہر حکمت عملی سے پہلے وہ نظریات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جس پر حکمت عملی کو وضع کیا جاتا ہے۔ اگر نظریات غلط ہوں تو ہر وضع کی گئی حکمت عملی غلط نتائج سے دوچارکرے گی۔ پارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول کے پارٹی کارکنوں سے معافی کے بیانات، بائیں بازو کے لفظ کا استعمال اور بانی چیئرمین کی باڈی لینگوئج کا استعمال ان مضمرات کا تدارک نہیں کرسکتا جو پارٹی کو حکمران طبقے کے مفادات کا آلہ کار بنانے پر منتج ہوئے تھے۔ http://www.struggle.com.pk/qamar-on-18-october-ppp/

18اکتوبر کی جستجو مٹ نہیں سکتی! کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل . . . کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل [تحریر: قمرالزماں خاں] جلسوں کی سیاست کا میدان گرم ہے۔ جلسوں کے شرکا کی تعداد کا تعین کرنے کے لئے ماہرین کا وجود عمل میں آچکا ہے۔ زیادہ تر تجزیات مبالغہ آرائی اور طے شدہ […]

یہ کس کا لہو ہے! کون مرا؟ 22/10/2014

اس قسم کی رجعتی قوم پرست تنظیموں کو ابھارنے اور فنانس کرنے والے بیوقوف نہیں ہیں۔ ان جرائم اور قتل عام کا مقصد بلوچ قوم کے حقوق یا آزادی کا حصول نہیں بلکہ بلوچستان کے انتشار کو بڑھاوا دینا اور مسلسل قائم رکھنا ہے تاکہ اس خطے کے وسائل پر ڈاکہ زنی کو آسان کیا جاسکے۔ آج کی صورتحال پر غور کیا جائے تو بلوچستان کی معدنی دولت وہاں کے باسیوں کے لئے عذاب مسلسل بن گئی ہے۔ مقامی، علاقائی اور عالمی گدھ ان معدنی زخائر کو نوچنے کے لئے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور اس لڑائی میں مختلف پراکسی گروہوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کا حکمران طبقہ اور قبائلی سرداروں کے بیشتر دھڑے اس خونی کھیل میں مختلف سامراجی قوتوں کے اتحادی ہیں۔ ان حکمرانوں کے محلات میٹروپولیٹن شہروں کے ان پوش علاقوں میں ہی واقع ہیں جہاں ’’پنجابی‘‘ اور ’’پاکستانی‘‘حکمران رہتے ہیں۔ قوم پرستی کی سیاست کرنے والے یہ لیڈر اپنا زیادہ تر وقت ان پرتعیش آماج گاہوں میں اپنی ’’دشمن قوم‘‘کی اشرافیہ کے ہمراہ عیاشی کرتے ہوئے گزارتے ہیں
http://www.struggle.com.pk/ethinic-killing-in-balochistan/

یہ کس کا لہو ہے! کون مرا؟ [تحریر: لال خان] 19 اکتوبر کی صبح بلوچستان کے اہم صنعتی شہر حب کے مضافاتی علاقے سکران میں ایک مرغی خانے کے 11 مزدوروں کو پہلے اغوا کیا گیا پھر شناخت کے بعد ان میں سے 9 پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ 8 جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک شدید […]

Want your business to be the top-listed Government Service in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Multan