UrDu Novel Iktibasaatاردو ناول اقتباسات

UrDu Novel Iktibasaatاردو ناول اقتباسات

Share

السلام علیکم!یہ صفحہ اردو ادب سے پیار اور لگاءو رکھنے والے احباب کے لئے ہے.

19/07/2025

*Novel*:تیرا عشق جان لیوا #
*Writer*:مرم خان
*Episode*:2
*Post by*: 𝄟≛⃝●⃝🇰‌Ϧ♬⩎᭄⍣͢ 🇿‌♬♬ᖱι ≛⃝𝄟
-------------------------------------------
نازر اعوان شدید غصے کے زیر اثر تھا اور بات چھوٹی بھی نہ تھی برزل ابراہیم ایک ایس پی کے گھر میں نہ صرف آسانی سے داخل ہوا تھا بلکہ نازر اعوان کو اپنی بے خوفی کا کُھلا چیلنج کر گیا تھا اور یہی چیز نازر اعوان کو سکون نہ لینے دے رہی تھی۔
"رات کو کون آیا تھا یا کیا ہوا تھا یہ بات اس گھر سے باہر نہیں جانی چاہیئے میں نہیں چاہتا لوگوں کو ہم پر ہسنے کا موقع ملے اور آگے کسی اور کی ہمت پڑے اعوان ہاوس کی طرف نگاہ کرنے کی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"صبح ناشتے کی ٹیبل پر نازر اعوان نے سب کو باور کروایا اور اپنی کیپ پکڑتا پورچ کی طرف بڑھا۔
"میں سیکیورٹی بڑھا رہا ہوں پھر بھی اب آنکھیں کھول کر رہنا تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنے سیکیورٹی گارڈ کو گھورنے لگا جو نادم سا ہو کر سر جھکا گیا وہ کہنا چاہتا تھا کہ جب ایک ایس پی ہو کر آپ بے بس ہو گئے تھے تو وہ بے چارہ کیا کرسکتا تھا مگر کہہ نہ سکا کیونکہ کہنے کی صورت میں وہ نوکری کیا دنیا سے بھی جا سکتا تھا کیونکہ نازر اعوان اس وقت ایک زخمی شیر کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا جس کے جنگل میں ہی کوئی اُسے مات دے گیا تھا۔
آفس آ کر اُس نے سب سے پہلے ایس ایچ او نسیم کو بلایا تھا۔
"برزل ابراہیم کے بارے میں جو کچھ جانتے ہو یا جو کچھ ملے جلدی سے میرے ٹیبل پر لا کر رکھو،پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سختی سے آڈر کرتا اُسے جانے کا اشارہ کیا اور اپنے موبائل سے ریئس کا نمبر ری ڈائل کیا۔
"نہیں مجھے یہ خود ہی ہینڈل کرنا ہوگا،ایک عام سے آدمی کے ساتھ لڑنے کے لیے مجھے ریئس کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کال ڈسکنٹ کر کے موبائل ٹیبل پر رکھا اور برزل ابراہیم کے بارے میں سوچنے لگا جس سے اسکی آنکھیں غم و غصے کی شدت سے سُرخ ہو رہی تھیں۔
"تُم نہیں جانتے برزل ابراہیم کہ تم نے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالا ہے،بچنا نہ ممکن ہے اب تمہاراایسی سزا دونگا کہ سات پُشتیں یاد رکھیں گئیں کہ نازر اعوان کے گھر میں گھسنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس سے مخاطب ہوتا وہ زور سے ٹیبل پر ہاتھ مار گیا۔
نسیم کے آنے پر وہ اُسکی طرف متوجہ ہوا۔
"سر،برزل ابراہیم گاڑیوں کے شوروم بی_سکائے کا اونر ہے،پاکستان میں ٹوٹل اُسکی نو برانچ ہیں جو ہر بڑے شہر میں ہے،باہر کے ملکوں کے ساتھ بھی اسکا لین دین ہے،بی_سکائے پیلس میں اکیلا رہتا ہے،ماں باپ مر چکے ہیں اور سوائے ایک چچا زاد کے اُسکا کوئی رشتےدار نہیں،سلیمان اُسکا رائٹ ہینڈ ہے جو اُس کے تمام معمالات پر نظر رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نسیم کی انفارمیشن پر نازر اعوان سر نفی میں ہلاتا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
"ایک ایس پی کے گھر میں بلا خوف گھسنے والا ایک عام آدمی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسکی بڑبڑاہٹ پر نسیم نے نہ سمجھی سے دیکھا تھا۔
"اُس دن حیدر کو پکڑا تھا کہ وہ اسمگلنگ کر رہا تھا تو پھر۔۔۔۔۔۔۔"
"صوری سر بات کاٹنے کی معافی چاہتا ہوں مگر حیدر ہی وہ بندہ تھاجس نے اسمگلنگ کی نشانداہی کی تھی اور اُن بندوں کو پکڑوانے کے لیے وہ اُدھر رُکا تھا مگر ہماری غلطی کی وجہ سے اصل مجرم بھاگ گئے اور اُسے ہم نے پکڑ لیا حالانکہ پانچ منٹ بعد آتے فون نے ہمیں اُسے چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھامگر وہ بے گناہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"تم سے جتنا پوچھا جائے اُتنا جواب دیا کرو نسیم،اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نازر اعوان کو اُسکا حیدر کی فیور میں بولنا ناگوار گُزرا تھا اس لیے جھڑکتے ہوئے باہر کی راہ دکھائی۔
"کُچھ تو ایسا ہے جو اُس کے بارے میں یہ پولیس نہیں جانتی،پتہ لگانا ہوگا اور یہ کام دلاور ہی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس نے اپنے خاص مخبر کا نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگا لیا۔

__________________________________________

وہ بیلو جینز پر وائٹ شرٹ ذیب تن کیے شرٹ کے کف لنکس کو فولڈ کرتا سیڑھیاں اُتر رہا تھا حیدر اُسے دیکھتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
"آپ کہیں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"؟حیدر کے سوال پر برزل ابراہیم نے ابرو اُچکا کر اُسے دیکھا تھا جو گڑبڑا گیا تھا۔
"میرا مطلب ہے کہ آپ نے آج مجھے لنچ باہر کروانے کا بولا تھا،میں مس زونا کے ہاتھ کے بد زائقہ۔۔۔۔۔۔۔"اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتا مس زونا کے نمودار ہونے پر وہ زبان کو روک گیا تھا مگر برزل ابراہیم نے اُس کی کوشش کو اپنے پاؤں سے کچلتے ہوئے خود ہی اُسکا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔
"سُن لیا آپ نے مس زونا،آپ میری غیر موجودگی میں جو اسے چٹ پٹے کھانے بنا بنا کر کھلاتی ہیں نہ یہ اُنکا صلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم نے پلٹ کر مس زونا کو کہا جبکہ حیدر کا دل کیا کہ اپنا سر کسی بھاڑی چیز سے ٹکڑا دے کیونکہ سامنے والے کا تو وہ کُچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔
"میرا وہ مطلب نہیں تھا مس زونا۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر جلدی سے اُس کے قریب آیا تھا آخر ایک واحد مس زونا ہی تو تھی جو اُسکی مان لیتی تھی۔
"جی کیا مطلب تھا آپکا سر حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔"مس زونا کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی خفگی دیکھ کر حیدر بے چارگی سے برزل ابراہیم کو دیکھنے لگا جو کہ اسکی حالت سے کافی محفوظ ہو رہا تھا۔
"میرے خیال میں مس زونا آج سے دو ہفتے تک آپ حیدر کی ہر فرمائش کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیں تو بہتر ہے،اتنی سی سزا تو بنتی ہے آپ کے محنت سے بنائے گئے فاسٹ فوڈ اور باربی کیو کی توہین پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"جی بلکل سر۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ سر ہلاتیں چلی گئیں تو برزل ابراہیم نے مسکراتی نظر حیدر پر ڈالی جو منہ لٹکائے بیٹھ گیا تھا حیدر نے تو بس اسکے ساتھ لنچ پر جانے کی وجہ سے کہا تھا ورنہ مس زونا کے کھانوں کی وجہ سے ہی تو وہ زندہ تھا یہ حیدر کی زاتی رائے تھی اپنے بارے میں۔
"میں سوچتا ہوں تمہیں باہر لنچ کروانے کے بارے میں،فلحال تو تم مس زونا کے ہاتھ کے دال چاول انجوائے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس پر اپنی شاندار مسکراہٹ اُچھالتا اُسے تپانے کا آخری پتہ بھی استمال کر گیا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا لاؤنج سے نکلتاچلاگیا۔
"ماما پاپا،جاتے ہوئے مجھے اس پتھر دل بندے کے سُپرد کر کے کس گناہ کی سزا دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر کی حالت اس وقت اُس انسان کی تھی جو اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار چکا تھا۔
__________________________________________

فارسیہ اعوان گیٹ سے باہر نکلتی اپنی گاڑی کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگی مگر جس مخصوص جگہ پر اُسکی گاڑی اور ڈرائیور امتیاز ہوتے تھے آج وہ جگہ خالی تھی اور اس کالچ میں آئے چار سالوں میں ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا۔
"یہ انکل کہاں رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔؟وہ کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی تبھی دس قدم کے فاصلے پر موجود برزل ابراہیم پر نظر پڑتے ہی اُسکی حالت رات سے کُچھ مختلف نہ تھی وہ پتھرائی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کا تفصیلی جائزہ لیتا اس کے قریب آ گیا تھا فارسیہ اعوان جو اُسے یہاں اپنے سامنے دیکھ کر جامد ہو گئی تھی ہوش کی دُنیا میں آتے ہی وہ کالج کے گیٹ کی طرف قدم موڑ گئی مگر برزل ابراہیم کی سرد آواز پر نہ صرف اُسکے قدم تھمے تھے بلکہ دل بھی ایک پل کے لیے رُکا تھا۔
"تو تم رات والی غلطی دوہرانا چاہتی ہو،اوکے ویل،مگر میں ایک دفعہ ہی کسی کی غلطی کو لائٹ لیتا ہوں،اب کی بار کالج نہیں تمہارے گھر میں تم سے ملاقات ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔"
"م_میر_میرے_گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بے یقینی سے بولی تو برزل ابراہیم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر ریلیکس انداز میں کہا۔
"ہاں تمہارے گھر پر اور اس دفعہ تمہارے باپ کے روم میں نہیں سب کے سامنے تمہارے روم میں آؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ کہہ کر اس کے خوف سے پڑتے سفید چہرے کی طرف دیکھنے لگا پھر اسکی نگاہ اُس کے ہاتھ کی دوسری اُنگلی میں پڑی انگوٹھی پر پھسلی تھی۔
"کیا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟"وہ کن انکھیوں سے اردگرد گُزرتے سٹوڈنٹس کو دیکھتی اصل مدعے پر آئی اصل میں وہ اپنے ڈرائیور کے آنے سے پہلے اسے یہاں سے بھیجنا چاہتی تھی کیونکہ وہ کبھی بھی نازر اعوان کو اپنی طرف سے مشکوک نہیں کرنا چاہتی تھی اور اسکی وجہ اُسکا یہ خوف تھا جس کی وجہ سے وہ کبھی اپنی صفائی پیش نہیں کر سکتی تھی اور یہ خوف اُس کے دل و دماغ میں بٹھانے والا خود اُسکاباپ تھا اسی لیے وہ کبھی کسی کے سامنے کھل کر نہ بات کر سکی تھی اور نہ کبھی اپنے سیلف ڈیفنس میں کچھ کر پائی تھی بس اپنی کم ہمتی کی وجہ سے جسکا سب نے فائدہ اُٹھایا تھا اور شاید برزل ابراہیم بھی اُٹھا رہا تھا۔
"تم سے کل رات کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں تم کچن میں کیوں نہیں رُکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم کی نگاہ دوسری دفعہ اُسکی اُنگلی میں پڑی اُس ہیرے کی انگوٹھی سے اُلجھی تھی مگر چہرہ بے تاثر تھا۔
"وہ_میں_میں مما کے ساتھ_اُنہوں نے کہاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فارسیہ نے اپنے دائیں جانب کھڑی اپنی کلاس فیلوز کو دیکھا جو برزل ابراہیم کو بڑے اشتیاق سے دیکھتیں شاید نہیں یقیننا اُس کی وجاہت اور پرسنالٹی پر کمنٹس دے رہی تھیں۔
"میرا کہا زیادہ ضروری تھا فارسیہ اعوان،اسکی سزا ملے گی۔۔۔۔۔۔۔"برزل نے اُسکے رنگ بدلتے چہرے پر اپنی نگاہیں فوکس کیں۔
"صوری_صوری پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسکی کوئی بھی سزا سُنے بغیر وہ معافی مانگ گئی تھی جس پر برزل نے گہرا سانس بھرا تھا وہ اُسکی معافی نہیں چاہتا تھا۔
"اللہ کے نام پر کچھ دے دو بابا،اللہ جوڑی سلامت رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔"یکدم ایک فقیر دونوں کے پاس رُکا جس کی آواز پر فارسیہ ڈر کر پیچھے ہوئی تھی۔
"بابا جی کو کچھ دو گی نہیں تم۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم کی بات پر فارسیہ نے کُچھ اچنبھے سے دیکھا۔
"کیونکہ میرے پاس کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔"یہ برزل ابراہیم کہہ رہا تھا اگر یہاں سلیمان ہوتا تو شاید چکرا کر رہ جاتا اور اگر حیدر یہ سن لیتا کہ برزل ابراہیم کے پاس کچھ نہیں تو وہ صدمے سے شاید بے ہوش ہو جاتا۔
"میں کیا دوں۔۔۔۔۔۔۔"فارسیہ اپنے ہاتھ میں پکڑے نوٹ بک کو پیچھے کرتی اپنے کاندھے پر لٹکے بیگ میں سے تلاشنے لگی مگر اگلے ہی پل وہ ٹھٹھک کر برزل ابراہیم کو دیکھ رہی تھی جو اُس کے ہاتھ کو پکڑ چُکا تھا۔
"یہ لیں بابا جی اور دُعاوں میں یاد رکھیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ کمال سادگی سے اُس کی اُنگلی سے وہ ہیرے کی انگوٹھی اُتار کر اُس فقیر کو دیتا پھر پہلے والی پوزیشن میں کھڑا ہو چکا تھاوہ جو اس سارے عمل میں فریز ہوئی تھی بے یقینی سے اُس فقیر کو دیکھنے لگی جو خود بھی اُلجھا سا اس انگوٹھی کو دیکھتا آگے جا رہا تھا۔
"وہ_میری انگوٹھی_رُکیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔"صدمے اور بے یقینی کی کیفیت سے نکلتی وہ اُس فقیر کی طرف قدم بڑھانے لگی مگر برزل اُس کے راستے میں آ کھڑا ہوا کہ وہ بمشکل اُس سے ٹکڑاتے بچی۔
"کیا تمہارے باپ نے یہ نہیں بتایا کہ فقیروں کو جو چیز دی جائے وہ واپس نہیں لیتے اس سے وہ ناراض ہو کر بددُعائیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ پُرسکون تھا جیسے بہت بڑا بوجھ سر سے اُتر گیا ہو مگر فارسیہ تو ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی وہ اُسکی منگنی کی انگوٹھی تھی اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ جب اُسکی ساس نے یہ انگوٹھی اُسکی اُنگلی میں پہنائی تھی تو کہا تھا۔
"یہ ہادی نے سپیشل دبئی سے خریدی تھی فاریسہ کے لیے وہ بھی پورے دس لاکھ کی۔۔۔۔۔۔۔۔"
"اتنا چھوٹا سا دل ایس پی کی بیٹی کا،افسوس کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُس کے تاثرات کا جائزہ لیتا مایوسی سے سر نفی میں ہلاگیا فاریسہ نے اب کی بار نم آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا۔
"وہ رنگ_میری_میری نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"اوہ تو پہلے بتانا تھا چلو کوئی بات نہیں جس کی بھی ہو اُسے ثواب ہی ملنا ہے ویسے وہ کونسا اتنی مہنگی تھی یہی کوئی ایک دو ہزار تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ معصوم دکھنے کی اداکاری اچھے سے کر رہا تھا کیونکہ کہ برزل ابراہیم کبھی معصوم بن نہیں سکتا تھا۔فارسیہ اُسے کہنا چاہتی تھی کہ یہ رنگ قیمتی تھی سب سے بڑی بات کہ منگنی کی تھی مگر اُس کے گلے میں جیسے آنسوؤں کا پھندا سا پڑ گیا تھا وہ مہ پارہ بیگم اور نازر اعوان کے متوقع ردعمل کو سوچ کر پریشان ہو گئی تھی کہ کیا کہے گی اُنکو رنگ کہاں گئ؟
"تمہارے انکل کے آنے میں تیس سینکڈ رہ گئے ہیں،باقی باتیں اگلی ملاقات میں سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُسکی نم آنکھوں لرزتے ہونٹوں پر نگاہ ڈالتا چل دیا فاریسہ رنگ کے غم میں مبتلا اُسکے الفاظ پر غور ہی نہ کر سکی۔
برزل ابراہیم نے اپنی گاڑی کے پاس آ کر دیکھا جہاں اُسکا ڈرائیور گم صُم کھڑی فاریسہ کے پاس آ چُکا تھا اور یقیننا کار خراب ہونے کا بتا رہا تھا برزل نے موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کیا اور نظریں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتی فاریسہ پر ٹکائیں۔
"یاسر مجھے ڈائمنڈ کی رنگ چاہیئے آج رات تک،نہیں ڈیزائن میں بتاؤنگا ویسی سیم ہونی چاہیئے اور اُسکی قیمت بیس لاکھ سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کال بند کرتا اب وہ نظروں سے اوجھل ہوتی گاڑی پر سے نظریں ہٹا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔

____________________________________________

فارسیہ اعوان سارے راستے ہی رنگ کی پریشانی اور سب کے سوال جواب پر سوچتی ہلکان ہوتی آئی تھی اپنے بائیں ہاتھ کو ڈوپٹے کی اوٹ میں چھپاتی ہال میں بیٹھیں تنزیلہ بیگم اور مہ پارہ بیگم سے سرسری سلام دعا کرتی وہ اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کیے بیٹھ گئ۔
"ماما کو پتہ چل جائے گا،نہیں چچی کو پتہ لگے گا وہ پوچھیں گی کیا کہوں گی میں،گم گئی، نہیں بابا غصہ کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بڑبڑاتی دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی۔
"مجھے مما کو بتا دینا چاہیئے اُس کے بارے،وہ کالج آ گیا پر میرے کالج کا کیسے پتہ لگا اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ واقع میں شیدید پریشان تھی اس لیے اُسکا دماغ کام نہیں کر پا رہا تھا ورنہ اُسکی سوچ کی سُوئی بس اسی سوچ پر آ کر نہ رُکتی۔
"میں کیا کروں،کس سے مدد لوں،اگر بابا کو پتہ لگ گیا کہ میں اُس سے ملی تھی یا اُس نے میری رنگ فقیر کو دے دی تو وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گئے،اور چچی لوگ سمجھیں گئے وہ میری وجہ سے گھر آیا تھا،کیا کروں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ گہرے اضطراب میں مبتلا گالوں میں پھسلتے آنسوؤں کو بے دردی سے رگڑتی برزل ابراہیم سے آج دوسرا رشتہ قائم کر گئی تھی وہ تھا نفرت کا اور پہلا رشتہ جو ان دو ملاقاتوں میں اُبھر کر آیا تھا وہ خوف کا تھا۔
"اس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُس کے نام سے ناواقف تھی اور ناواقف ہی رہنا چاہتی تھی۔
پھر وہ سارا دن کسی نہ کسی بہانے سے اپنے کمرے میں ہی مقید رہی تھی مگر رات کے ڈنر کے وقت اُسے نیچے آنا پڑا تھا ہاتھ کو ڈوپٹے کی اوٹ میں کرتی وہ سب کو سلام کرتی چیئر گھسیٹ کر ٹک گئی۔
"کُچھ پتہ چلا بھائی صاحب اُس لڑکے کا،کون تھا کیا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔"تنزیلہ بیگم نازر اعوان سے پوچھنے لگی جبکہ اُنکی بات پر فاریسہ اپنی جگہ چور سی ہو کر رہ گئی۔
"میں نے صبح بھی کہا تھا کہ وہ ایک مجرم تھا میرا،مجھے دھمکانے یہاں تک آ گیا،اُس کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ بھی مجھے پتہ ہے آپ لوگ بے فکر ہو کر رہیں۔۔۔۔۔۔۔"نازر اعوان نے دو ٹوک بات کر کے اپنی توجہ کھانے کی جانب مبذول کی۔
"بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بے اختیار پُکار بیٹھی تھی مگر جس طرح اُنہوں نے سر اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا اُس کے الفاظ اُس کے منہ میں ہی دب گئے تھے۔
"کیا بات تھی۔۔۔۔۔۔۔"وہ بے زاری سے بولے فاریسہ کی آنکھیں پُرنم سی ہو گئیں نازر اعوان اپنے انداز سے ہمیشہ اُسے باور کرواتا تھا کہ وہ اُس کے لیے عام ہے اوررہے گی۔
"اب بول بھی چُکو کم عقل لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔"اب تو اُن کے لہجے میں ناگواری صاف محسوس کی جا سکتی تھی جس کو مہ پارہ بیگم نے تاسف سے دیکھا تھا جبکہ باقی سارے اس چیز سے لا تعلق ہو کر کھانے میں مصروف تھے۔
"وہ_میرے کالج میں_کالج میں سپیچ کمپیٹیشن ہے_ بوائز کالج کے ساتھ_میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"ہرگز نہیں،جب ایک دفعہ کہہ دیا کہ تم بس کالج اور گھر کی حد تک رہو گی تو پھر؟ اور بات ختم اب۔۔۔۔۔۔۔"کہہ کر وہ پانی کا گلاس منہ سے لگا گئے فارسیہ نے ڈبڈائی آنکھوں سے مہ پارہ بیگم کی طرف دیکھا جو افسوس سے سر ہلا کر رہ گئیں تھیں ہمیشہ سے اُنکو نازر اعوان کا فارسیہ کے ساتھ رویعہ بُرا لگتا تھامگر وہ اُسکی "وجہ" کی وجہ سے خاموش ہو جاتی تھیں۔۔
"ویسے ڈیئر سسٹر،کیا تم بول لو گی سب کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔"یہ قمر تھا اُسکا چچازاد بھائی اُسکی بات پر فارسیہ نے غصے سے دیکھا مگر قمر کے ساتھ بیٹھے احسن کی ہنسی دیکھ کر وہ لب کاٹ کر رہ گئی پھر بڑی بے دلی سے وہ کھانا کھا کر مردوں کے اُٹھنے کے بعد اُٹھی مگر تنزیلہ چچی کے سوال پر رُکی تھی۔
"تمہاری منگنی کی رنگ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔"اُن کے سوال پر خشک ہوتے گلے کو تر کرتی مُڑی۔
"اُس کے روم میں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مہ پارہ بیگم نے اُسکی مُشکل آسان کی تھی وہ گہرا سانس بھرتی سر ہلاتی اپنے کمرے میں آ گئی۔
"آج روم میں تھی کل روم میں ہو گی اور ایک دن سب کو پتہ لگ جائے گا میں کیا کہونگی سب کو۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ سر تھامے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی وہ اس وقت اُس بیلو جینز اور وائٹ بٹن ڈاؤن شرٹ والے برزل ابراہیم کو سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر وہ اُس گرے آنکھوں والے برزل ابراہیم کو سوچ رہی تھی۔

____________________________________________

"میرا کام اچھے سے ہو جانا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بات ختم کرتا وہ کھانے کی ٹیبل پر آیا تھا جہاں ہمیشہ کی طرح وہ دونوں اسکا انتظار کر رہے تھے۔
"شروع کرو تم دونوں۔۔۔۔۔۔"مس زونا کو اشارہ کرتا وہ دونوں سے بولا مس زونا نے کھانا پلیٹ میں نکال کر اُس کے سامنے رکھا اور خود زرا سا پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔
"ارے یہ کیا،اپنے حیدر میاں آج دال چاول کھا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان جو سارے واقع سے لاعلم تھا حیدر کے آگے پڑی پلیٹ کو دیکھ کر حیران ہوا تھا جو دل پر پتھر رکھ کر کھا رہا تھا۔
"اوہ حیدر تم کافی سادہ ہوتے جا رہے ہو،کھانے میں سادگی بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر اُسے سراہا تھا جو ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔
"لگتا ہے حیدر میاں کو سزا دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کو اُسکا دال چاول کھانا اور پھر خاموش رہنا ہضم نہیں ہو رہا تھا اس لیے مس زونا کی طرف دیکھا جس نے کندھے اُچکا دیے سب جانتے تھے کہ مس زونا سوائے برزل ابراہیم کہ کسی کو وضاحت نہیں دیتی تھی.
"کس نے دی ہے بتائے گا کوئی مجھے،کس کی اتنی ہمت کہ میرے بھائی کو اس طرح کی سزا دے۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم اُس کے سُرخ چہرے کے تاثرات دیکھ کر لُطف اندوز ہو رہا تھا۔
"تھنکیو سو مچ،آپ نے میرے لیے اسٹینڈ لیا،مجھے بہت اچھا لگا ہے،اب کیا میں یہ سادہ کھانا کھا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔"بڑے تحمل سے بولتا سلیمان کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا کیونکہ وہ ساری گیم سمجھ چُکا تھا۔
"شیور مائے لٹل برو۔۔۔۔۔۔۔"برزل مسکراہٹ دبا گیا۔
"بھائی ایس پی آپ کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔"سلیمان کی اطلاع پر برزل نے سر ہلایا۔
"اچھا ہے سلیمان،اُسے میرے بارے میں جاننے کی کوشش بھی کرنی چاہیئے کیونکہ یہ اُس کے لیے اب اشد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔"
"اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے بھائی کہ وہ آپ کے بارے میں جان تو لے گا مگر کُچھ کر نہیں پائے گا کیونکہ بی_سکائے جو بھی کام کرتے ہیں اُنکے ثبوت نہیں چھوڑتے۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کا لہجہ مُسکراتا تھا جس کو سمجھ کر برزل کے لب پھیلے تھے۔
"اس بار نازر اعوان کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل کھیلنے کو دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔"کھانے سے ہاتھ کھینچتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
"اس کھیل میں چوہا تو نازر اعوان ہوگا مگر بلی۔۔۔۔۔۔؟خاموشی سے کھانا کھاتے حیدر نے پہلی دفعہ اس گفتگو میں حصہ لیا تھا غصہ تو اُسے بھی تھا نازر اعوان پر جس نے جان بوجھ کر اسے پکڑا تھا۔
برزل ابراہیم کی آنکھوں کے سامنے وہ خوفزدہ ہرنی آئی تھی اُس کے لب مسکرا اُٹھے۔
"ہے ایک ڈرپوک اور معصوم بلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کہتا ہوا وہ چلا گیا حیدر نے نا سمجھی سے سلیمان کی طرف دیکھا جو خود اسکی بات کا مطلب سمجھ رہا تھا۔
"فاریسہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کے زہن میں جھمکا ہوا وہ حیرانگی سے سیڑھیاں چڑھتے برزل ابراہیم کو دیکھنے لگا۔
"ڈرپوک بلی۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر ابھی تک اُلجھن میں تھا۔

________________________________________

فارسیہ ابھی تک سوچوں میں ڈوبی تھی کہ دستک کی آواز پر اپنے خیالوں سے نکل کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں انجم کھڑی تھی۔
"آ جائیں۔۔۔۔۔۔۔"وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تو انجم کمرے میں آئی اُس کے ہاتھ میں کُچھ تھا۔
"چھوٹی بی بی یہ آپ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔"ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا اس کے سامنے رکھتی وہ چلی گئی فارسیہ جو پوچھنے لگی تھی کہ اس میں کیا ہے اور کس نے بھیجا مگر اُسکی جانے کی پُھرتی دیکھ کر چُپ ہو گئی اور ڈبہ کھولا جس کے اندر ایک چھوٹی سے میرون ویلوٹ کلر کی ڈبی اور ساتھ ایک چِٹ تھی۔
"یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔"وہ سوچتی ڈبی کو کھولنے لگی تو اُس کے اندر ہیرے کی رنگ دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی وہ بلکل اُس جیسی رنگ تھی بس فرق تھا اُس کے اندر " بی" کا وہ بھی بڑے غور سے دیکھنے پر نظر آتا تھا ورنہ کوئی سرسری دیکھتا تو یہ پہچان ہی نہ پاتا کہ یہ وہ رنگ نہیں ہے۔
"یہ کیسے؟کس نے بھیجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُلجھن کا شکار ہونے لگی پھر اُس چِٹ کو کھول کر دیکھا تو اُس پر لکھی عبارت پڑھ کر وہ حیرانگی کے شدید جھٹکے کے زیر اثر چلی گئی۔
"یہ رنگ پہن لینا اور اُتارنے کا کبھی سوچنا مت ورنہ پھر تُم مجھے تو جان گئی ہو گی کہ میں جو کہتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں،
اب شکریہ تو فرض ہے تم پر اور خود کو تیار رکھو بہت جلد شُکریہ وصول کرنے آؤنگا۔۔۔برزل ابراہیم"
وہ جیسے جیسے پڑھتی گئی ویسے ویسے اُسکا دم خُشک ہوتا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

19/07/2025

*Novel*:تیرا عشق جان لیوا #
*Writer*:مرم خان
*Episode*:1
*Post by*: 𝄟≛⃝●⃝🇰‌Ϧ♬⩎᭄⍣͢ 🇿‌♬♬ᖱι ≛⃝𝄟

---------------------------------------------
وہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا مسلسل ٹانگ ہلا رہا تھا یہ چیز جانتے ہوئے بھی اُس کے سامنے بیٹھے برزل ابراہیم کو یہ حرکت کس طرح ناگوار گُزر رہی تھی۔
"سکون سے خود بیٹھو گئے یا مجھے کوشش کرنی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابرہیم کے سپاٹ انداز پر وہ سر ہلاتا اپنی ٹانگ پر ہاتھ رکھ کر جیسے اُسے ہلنے سے روک رہا تھا یہ اُسکی شروع سے عادت تھی کہ وہ جب پریشان ہوتا تھا تو ٹانگ ہلانا شروع کر دیتا تھا اور کچھ عادتیں چاہنے کے باوجود بھی نہیں چھوڑی جاتی ہیں۔
"اوکے مسٹر دانیال میں آپکا یہ کام کر دونگا آپ رقم سلیمان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابرہیم نے کال منقطع کر کے موبائل سامنے ٹیبل پر رکھا اور نظروں کے فوکس میں حیدر کو لیا جو کہ اپنا سانس سینے میں اٹکتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
"بھا_بھائی_وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ ہکلایا تھا جبکہ برزل ابرہیم کے دائیں جانب کھڑا سلیمان اُسکی حالت سے محفوظ ہو رہا تھا۔
"سیلمان میں فریش ہونے جا رہا ہوں،میرے آنے تک ایس پی کی ساری ڈیٹیل اس ٹیبل پر ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابرہیم نے اُٹھتے ہوئے سلیمان سے کہا جبکہ حیدرنے جان چُھوٹ جانے پر شکر ادا کیا مگر اگلے ہی لمحے اُس کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
"اور حیدر کی ٹائیگر کے ساتھ ریس کرواؤ جو ہار گیا اُس کا انجام تم لوگ جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"بھائی پلیز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر جلدی سے منت کرتا اُٹھ کر اُس کے پاس آیا۔
"حیدر تمہیں پانی پی کر خود کو ریس کے لیے تیار کرنا چاہیئے،اور مجھے یقین ہے تم ہار کر مجھے شرمندہ نہیں کرو گئے۔۔۔۔۔"وہ حیدر کا شانہ تھپتھپا کراندر کی جانب بڑھ گیا سلیمان نے تب کا ضبط کیا قہقہ ہوا کہ سُپرد کیا۔
"ویسے ایک کُتے کے ساتھ ریس لگاتے اچھے لگوگئے تم۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کے مسکراتے لہجے پر حیدر دانت پیس کر رہ گیا اور اس کے زہن کے پردوں میں آج سے دو دن پہلے کا منظر گھوم گیا جب سجاد نے ٹائیگر کے ساتھ ریس لگائی تھی اور ہارنے کی شکل میں سجاد ٹائیگر کا ہی ڈنر بن گیا تھا۔۔

_____________________________________

"بھائی ایک بات کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"جب وہ دس منٹ بعد آیا تو سلیمان نے ایس پی کی ساری انفارمیشن اُس کے سامنے رکھتے ہوئے اجاذت چاہی جو کہ سر ہلانے کی صورت میں دی گئ تھی۔
"حیدر کی پہلی اسائمنٹ تھی یہ سزا اُس کے لیے زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"وہ میرا چچا زاد بھائی ہے سلیمان،مجھے اسکا خیال ہے پر اُسے سبق بھی سکھانا ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی کوشش میں ناکام نہ ہو اور فکرنہ کرو ٹائیگر اُسے ہارنے نہیں دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابرہیم کی بات پر سلیمان نے تشکر بھری سانس خارج کی تھی۔
"ایس پی نازر اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابرہیم نے ٹیبل پر پڑی فائل اُٹھائی تھی۔
"بھائی، اعوان ہاوس میں ٹوٹل نو مالکان اور چار ملازم ہیں جن میں ایس پی نازر اعوان اُسکی بیگم مہ پارہ بیگم دو بیٹے احسن اور حسنین اعوان جبکہ ایک بیٹی فاریسہ اعوان اور شاہ زر اعوان اُسکی بیگم تنزیلہ اور دو بیٹے ثمر اور قمر باقی کی تفصیل اس فائل میں موجود ہے اُن کے کاروبار سے لے کر اُن کے جن جن لوگوں کے ساتھ تعلقات اور لین دین ہے۔۔۔۔۔۔"سلیمان کے بتانے پر وہ ایک نظر فائل پر ڈالتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
"تو کیا خیال ہے آج رات ایس پی کو کوئی تحفہ نہ دیاجائے اب اُس نے برزل ابراہیم کے راستے میں ٹانگ آرائی ہےکُچھ تو انعام بنتا ہےنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے لہجے میں چھپی معنی خیزیت دیکھ کر سلیمان مسکرا دیا۔
"تو پھرمیں جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ پوچھنے لگا۔
"تُم نہیں سلیمان،مجھے تعارف کروانا ہے اپنا،اُس نے حیدر سے کہا تھا کہ وہ کسی برزل ابرہیم کونہیں جانتا اب اُسے اپنی پہچان بھی تو کروانی ہےنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس کی آنکھوں میں جو سرد پن نظر آ رہا تھا سلیمان نے دل ہی دل میں ایس پی کے بچ جانے کی دُعا کی تھی۔

____________________________________

"فاریسہ جب تمہارے بابا نے منع کیا تھا پھر بھی کیوں تُم نے اپنا نام لکھوایا،بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔"مہ پارہ بیگم کڑھے تیوروں سے اُسکی طرف بڑھیں تھیں جو کہ سہم گئی تھی۔
"جب تم اچھے سے جانتی ہو کہ تمہارے بابا کو یوں اکیلی لڑکی کا کہیں بھی جانا گوارہ نہیں ہوتا اور کالج ٹرپ پر مری جانے کی بات کر رہی ہو وہ بھی دو دن کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔"
"مما ،پلیز بس دو دن کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ ہلکا سا ممنائی تھی مگر مہ پارہ کی گھوری نے اُسکی زبان کو وہی روک دیا تھا۔
"دو دن تو دور دو گھنٹے کی بات ہی کیوں نہ ہو فاریسہ،تم جانتی ہو کہ تمہارےبابا جتنے مرضی پڑھے لکھے اور آزاد خیال ہیں پر وہ بیٹی کے معاملے میں بلکل نہیں ہیں تمہیں پڑھنے کی اجاذت بھی بس اس صورت دی گئی کہ تمہارارشتہ کسی اونچی فیملی ہو جائے اور لوگ تمہارے بابا کو باتیں نہ سُنائیں کہ نازر اعوان کی بیٹی ان پڑھ ہے،چودہ سال ہو گئے تمہیں پڑھتے ہوئے کیا ایک دفعہ بھی اکیلی کو گھر سےباہرجانے کی اجاذت دی گئی؟تو اتنی دور وہ تمہیں کبھی نہیں بیھجیں گئے اس لیے فضول کی تکرار مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مہ پارہ بیگم کے دو ٹوک انداذ پر وہ آنسو پیتی وہی ٹک گئی ایک موہوم سے اُمید تھی کہ اب منگنی ہو جانے کے بعد تو وہ کہیں جا سکتی تھی پر مہ پارہ بیگم نے وہ بھی ختم کر دی تھی۔
"پھپھو آپ کے کیے کی سزا کب تک مجھے ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ دلگرفتگی سے دل ہی دل میں عائشہ پھپھو سے مخاطب ہوئی۔
"دو ماہ صبر کر لو شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان کیا پوری دنیا دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔"مہ پارہ نے اس کے لٹکے منہ کو دیکھ کر اسے ایک اور اُمید کی کرن تھمانی چاہی۔
"کیا پتہ ماما اس سونے کے پنجرے سے نکل کر دوسرے گھر جاؤں تو وہ بھی فاریسہ کے لیے ایک پنجرہ ہی ہو جس میں مجھے بس اپنی مرضی سے سانس لینے کی اجاذت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنی خواہش کے ٹوٹ جانے پر وہ خود بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی تھی مہ پارہ بیگم کے دل پر لگی تھی وہ نم آنکھوں سے اُسکی پیشانی چومتیں اسے اپنے ساتھ لگا گئیں۔
"ایسا کیوں سوچتی ہو تم،ہادی امریکہ سے پڑھ کر آیا ہے بہت آزاد خیال اور زندگی کو جینے والا ہے دیکھ لینا تمہیں بہت خوش رکھے گا،کئی دفعہ وہ اشاروں میں تم سے بات کرنے کا کہہ چُکا ہے مگر تمہارےبابا کی وجہ سے میں چپ ہو جاتی ہوں،کل تو وہ تمہیں موبائل گفٹ کرنے کا بھی کہہ رہا تھا مگر میں نے منع کر دیا کہ دوماہ رہ گئے شادی میں تب ہی دے لینا پھر تم بھی موبائل سے اپنی تصویریں بھی بنانا اور دوستوں کے ساتھ بھی گپ شپ کرنا کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مہ پارہ بیگم نے اُسکی جھولی میں اُمیدوں کے نئے جُگنو ڈالے تھے تو وہ بھی آنکھوں میں مستقبل کے خوش نما سپنے بنتی مسکرا دی تھی۔
"پھر کیا میں یونی سے ماسٹرز بھی کر لونگی۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے مسکراتے لہجے پر انہوں نے مُسکراتے ہوئے سر ہلا دیا تھا۔

______________________________________


رات کا پچھلا پہر تھا وہ اعوان ہاوس کی ساری سیکیورٹی پہلے سے ہی دیکھ چُکا تھا اس لیے کمال مہارت سے دیوار پھلانگتا لان سے گزرتا ہوا وہ گھر کے اندر داخل ہو گیا تھا وہ چاہتا تو چوری چپکے بھی نازر اعوان کے روم میں جا سکتا تھا مگر وہ بے خوف ہو کر اپنے دُشمن کو خوفزدہ کرتا تھا۔
تفصیلی نگاہوں سے ہال کا جائزہ لیتا وہ پانی پینے کے خیال سے کچن میں گیا فریج میں سے پانی کی بوتل نکالی گلاس پکڑا اور پانی ڈال کر منہ سے لگاتا پانی چڑھا گیا۔
"دُشمن کے گھر کا پانی پی لیا ہے تم نے برزل ابراہیم،کیا اب اس پانی کو حلال کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ خود سے بولتا گلاس واپس رکھتا باہر کی جانب بڑھنے لگا مگر کچن کی طرف آتے کسی وجود کو محسوس کرتا وہی رُک گیا اور آنے والے کا انتظار کرنے لگا قدموں کی رفتار سے اتنا تو اسے بخوبی علم ہو گیا تھا کہ کچن کی طرف آتا نسوانی وجود تھا۔
"عورتوں کی چیخ و پکار کو برداشت کرنے کا زرا موڈ نہیں برزل ابرہیم۔۔۔۔۔۔۔"وہ بڑبڑایا تبھی فارسیہ اعوان نے کچن میں پاؤں رکھا تھا اور چھ فٹ سے نکلتے قد والے ایک انجان آدمی کو اپنے کچن میں دیکھ کر اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں وہ اس قدر بھونچکی رہ گئی تھی کہ اُس کے حلق سے چیخ تک نہ نکل سکی تھی جبکہ دوسری طرف برزل ابرہیم نے گہری نگاہوں سے اس فریز ہوئی لڑکی کو دیکھا تھا جو اپنی چیخ حلق میں ہی دباتی اسے حیران کر گئ تھی۔
"مجھے بہت کم لوگ حیران کرتے ہیں جن میں تم بھی شامل ہو چُکی ہو،اچھا لگا تمہارا چپ ہونا کیونکہ اگر تم زرا بھی آواز نکالتی تو جان سے جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل اُسے سرہاتا پسٹل نکال کر شیلف پر رکھ گیا فاریسہ جو پہلے ہی ڈر سے دم سادھے کھڑی تھی پسٹل کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی وہ اس کے آخری الفاظ پر خوف سے سفید پڑ گئی تھی۔
"تم_چ_چور_ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فارسیہ ہکلائی۔
"تمہارے اس عالیشان گھر میں ایسا کچھ بھی نہیں جو میرے کسی کام کا ہو سوائے تمہارے باپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسکی بات کا مطلب سمجھ کر وہ اپنے بابا کے لیے پریشان ہوئی تھی ایک سوچ اُس کے زہن میں آئی شاید کوئی مجرم جو اُس کے باپ سے اب بدلہ لینے آیا تھا۔
"کیا تمہارا باپ بھی تمہاری طرح ڈرپوک ہے پھر تو زرا مزہ نہیں آنے والا مجھے۔۔۔۔۔۔۔"پسٹل کو دوبارہ اپنی جیب میں رکھتا وہ باہر نکلنے لگا مگر پھر کُچھ یادآنے پر اس کی طرف مُڑا جو کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی واپس مڑتا دیکھ کر لرزنے لگی۔
"بنا کوئی آواز نکالے یہی بیٹھ جاؤ،جب تک میں تمہارے باپ سے نہ مل کر آؤں تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُنگلی اُٹھا کر اُسے وارن کرگیاوہ زور زور سے سر ہلاتی وہی کرسی پر ٹک گئی۔
برزل کو یقین تھا کہ وہ جس قدر ڈری سہمی تھی کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گی اس لیے وہ ایس پی نازر اعوان کے کمرے کی فوٹیج اپنے زہن میں لاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا اور دائیں طرف مُڑا جہاں ایس پی نازر اعوان کا روم تھا۔
"کھڑکی سے اندر جانا بُری بات برزل،میاں بیوی کی پرائیوسی کا خیال رکھا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔"کھڑکی سےہٹتا وہ دروازے کو ناک کرنے لگا اور تمیزدار بن کر دروازہ کُھلنے کا انتظار کرنے لگا اگر یہاں حیدر یا سلیمان ہوتے تو اسکے مینرز پر حیران رہ جاتے۔دو دفعہ دستک دینے کے بعد دروازہ کُھلا تھا مہ پارہ بیگم رات کے اس پہر جہاں دروازہ ناک کرنے پر حیران ہو کر اُٹھیں تھیں وہ بھی فارسیہ کا خیال کر کے کہ وہ کئی دفعہ رات کو ڈر جاتی تھی مگر سامنے کھڑے اس اجنبی کو دیکھ کر وہ بھی ششدر رہ گئی تھیں۔
"ہیلو آئی ایم برزل ابراہیم،اصل میں مجھے آپ کے شوہر سے کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ براہ مہربانی پانچ منٹ کا ٹائم دیں اور کچن میں جا کر پانی پی کر خود بھی ریلکس ہو جائیں اور اپنی بیٹی کوبھی ریلکس کریں،شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ جتنے آرام وسکون سے بولتا اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر گیا تھا مہ پارہ بیگم کو اُتنے ہی زور کا کرنٹ لگا تھا۔
"یہ،چور،فارسیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فارسیہ کا خیال آتے ہی وہ کچن کی طرف بھاگیں تھیں۔
دوسری طرف برزل نے آرام سے سوئے نازر اعوان کو گھورتے ہوئے دیکھا اور جب اُسے اُٹھایا تو اُسکی حالت بھی مہ پارہ بیگم سے مختلف نہ تھی۔
"تم ہو کون؟اتنی جُرت کہ ایس پی اعوان کے گھر تک آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نازر اعوان نیند بھگاتا اُٹھ کر پسٹل پکڑنے لگا جوکہ پہلے ہی برزل کے قبضے میں جا چُکا تھا۔
"گُڈ کوئسچن،میں برزل ابراہیم ہوں اور جُرت تو ابھی دیکھی کہاں ہے تم نے میری،دوسری بات تمہارے گھر تک نہیں تمہارے کمرے میں موجود ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کُرسی کھینچ کر اُس کے مقابل بیٹھتا ہوا اُسے غصہ دلا گیا۔
"اوہ تو تم ہوبرزل ابراہیم،تمہارے کارندے کو پکڑا تو تم اُسکی تڑپ میں یہاں تک آ گئے،اب جو میرے گھر تک آئے ہو اسکی سزا بھی ملے گی تم جانتے نہیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نازر اعوان نے اپنے خوف پر قابو پا لیا تھا آخر پولیس والا تھا اس طرح کے کاموں سے کئی دفعہ پالا پڑا تھا مگر برزل ابراہیم کے طریقے پر وہ ڈر ضرور گیا تھا۔
"ایک بات وہ میرا کارندہ نہیں بھائی تھا،دوسری بات تم نے اُسے پکڑا اور پانچ منٹ بعد ہی اُسے چھوڑ دیا کیسے چھوڑا اُسے یہ بھی تم جانتے ہو،تیسری بات میں غلطی ایک دفعہ معاف کرتا ہوں اور آخری بات میرے راستے میں آنے کی بُھول دوبارہ ہرگز نہ کرنا ایس پی ورنہ اس بار نتیجہ بُرا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُٹھ کھڑاہوا۔
"تُم یہ تو جانتے ہو گے کہ کسی پولیس والے کے گھر آنا اُسے دھمکانے کی سزا کیا ہو سکتی ہے،ایسا کیس بنا دونگا کہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اپنی وردی کا روب ڈالنے لگا برزل کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا جیسے کسی بچکانہ بات پر مسکرایا جاتا ہے۔۔
"پر افسوس کے تم میرے خلاف ہر کوشش میں ناکام ہو جاؤ گئے،خیر اب چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔"پسٹل اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا نازر اعوان نے جلدی سے پسٹل پکڑنا چاہا مگر برزل نے پھر سے پسٹل اچک لیا۔
"مجھے کیوں لگتا ہے کہ تم پھر سے کوئی بیوقوفی کرو گئے،ادھر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم اُسے لیے ونڈو کے پاس آیا جس باہر گیٹ کامنظر صاف نظر آ رہا تھا جہاں اس کے باڈی گارڈز کو برزل کے بندے گھیرے بیٹھے تھے اور دو لوگ اس کے گھر میں داخل ہو رہے تھے۔
"تمہیں کیالگتا ہے کہ تم مجھ پر پیچھے سے وار کرو گئے تو بچ جاؤ گئے،یہ لوگ ایک منٹ میں تمہاری فیملی اور گھر کو بھون ڈالیں گئے اس لیے سوچ سمجھ کر اب برزل ابراہیم کے راستے میں آنا کیونکہ اب کی بار میرا کوئی بھائی نہیں بلکہ میں تمہارا مقابلہ کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسکا پسٹل اُس کے ہاتھ میں تھماتا وہ پُر اعتماد قدموں سے چلتا اُس کے کمرے سے نکلنے لگا ایس پی اعوان نے پہلے پسٹل اُس کی پیٹھ پر تانہ مگر اُسکا ہاتھ ٹریگر پر کانپنے لگا تو غصے سےپسٹل بیڈ پر پھینک دیا۔
برزل ابراہیم لمبے لمبے ڈگ بھرتا نیچے آیا تو اعوان ہاوس کی ساری فیملی باہر موجود تھی۔
"تم،تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر آنے کی۔۔۔۔۔۔۔"احسن کا جوان خون گرم ہوا تھا اس سے پہلے کہ وہ اسکی طرف لپکتا برزل ابراہیم کے پسٹل کی نوک نے اُسے وہی روک دیا تھا۔
"مجھے اس طرح کی بتمیزیاں کُچھ خاص پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔"وہ سپاٹ لہجے میں بولا اور ایک سرد نظر سب کے چہروں پر ڈالی جو خوف سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
"اور تم جو ہمارے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"احسن خاموش ہو جاؤ،کوئی نہیں آئے گا اس کے راستےمیں۔۔۔۔۔۔۔"نازر اعوان کی آواز پر احسن نے اپنے لب بھینچ لیے تھے برزل نے پسٹل اپنے بلیک لیدر کی جیکٹ میں رکھا اور آگے بڑھ گیا مگر پھر اُس کے Lقدم رُکے تھے فارسیہ جو مہ پارہ بیگم کی اوٹ سے اسے دیکھ رہی تھی اسکی خود پرنظر پڑتے دیکھ کر چُھپنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
"میں نے تمہیں وہی کچن میں رُکنے کا کہا تھا مگر تُم نے ثابت کیا کہ تم ڈرپوک ہونے کے ساتھ ساتھ نالائق بھی ہو،اس کی سزا ملے گی تمہیں فارسیہ اعوان،انتظار کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ اس پر گہری نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا۔
"بھائی آپ نے ہمیں باہر رُکنے کا کیوں کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔"گاڑی میں بیٹھتے ہی سلیمان نے پوچھا۔
"اندر تم لوگوں کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔"وہ گاڑی چلانے کا اشارہ کر گیا۔
"ایس پی نے میڈیا کے سامنے اپنی واہ واہ کے لیے حیدر کو نہیں پکڑا تھابلکہ وہ رئیس کے آدمیوں کو بچانا چاہتا تھا،ایس پی کا کُچھ لنک ہے اُن کے ساتھ پتہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔"
"جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"پر سب سے پہلے مجھے فارسیہ اعوان کےبارے میں ساری انفارمیشن چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم کی بات پر سلیمان نے چونک کر دیکھا اُسے برزل ابراہیم کے منہ سے شاید اس بات کی توقع نہیں تھی دس سال ہو گئے تھے اُنہیں ساتھ کام کرتے کبھی بھی برزل ابراہیم کے منہ سے کسی لڑکی کا نام نہیں سُنا تھا۔
"جی،جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنی حیرت پر قابو ڈالتا وہ مودب انداز میں گویا ہوا تو برزل اپنے موبائل کے ساتھ چھیڑ کھانی کرنے لگا۔

____________________________________________

برزل ابراہیم کے جانے کےبعد وہ سب نازر اعوان کی طرف لپکے تھےجبکہ مہ پارہ بیگم فارسیہ کی طرف مُڑی جو ابھی تک برزل ابراہیم کی آخری بات کے خوف کے زیر اثر تھی۔
"تم ڈرو مت وہ صرف دھکما کر گیا ہے تمہارے پاپا ہیں نہ وہ سب سمبھال لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔"مہ پارہ بیگم نے اُسے خوف سے نکالا تھا۔
"بابا یہ کون تھا جس کی اتنی ہمت کے وہ اس ٹائم ہمارے گھر میں آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"احسن کا غصے سے بُرا حال تھا۔
"ایک مجرم تھا بس،جاؤ تم لوگ اپنے اپنے کمرے میں،میں ہوں نہ سب سمبھال لونگا۔۔۔۔۔۔۔"نازر اعوان کی پُرسوچ نگاہیں کہیں ٹکیں تھیں۔
"کیسے سو جائیں بھائی صاحب،پہلی دفعہ آپکی موجودگی بھی اس خوف کو ختم نہیں کر پا رہی کہ کوئی اتنی آسانی سے ہمارے گھر میں آ گیا ہے کل کو وہ ہماری جان تک لے جائے گا تو آپ کیا کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"شاہ زر اعوان کی بات پر باقی بھی متفق ہوئے تھے۔
"ایسا نہیں ہوگا، تم لوگ سکون سے جا کر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔"وہ اس وقت سوال جواب کے موڈ میں نہ تھے اس لیے سب کو کہتے وہ باہر گارڈز کی باز پرس کرنے کی طرف بڑھے۔

__________________________________________

سلیمان فارسیہ اعوان کی تفصیلات لیے اندر کی جانب بڑھا کہ حیدر کو ٹائیگر سے پیار کرتے دیکھ کر رُکا۔
"میرے شہزادے میرے ٹائیگر تم نے ثابت کر دیا کہ تم نے میرا نمک کھایا ہے مجھ سے ہار کر تُم نے میرا دل جیت لیامیرے لال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر کے پچکارنے پر سلیان قہقہ لگا گیا حیدر اُسکی موجودگی پر کچھ خفیف سا ہوتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
"تمہارے جیسے بھائی سے یہ ٹائیگر اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر کو اُس کے دانتوں کی نمائش ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔
"وہ تومیں دیکھ چُکا ہوں مگر اتنابھی پیار نہ جتاؤ پرائی چیز سے،یہ بھائی کا وفادار ہے اگر اب کی بار کُچھ ایسا کیا تو یہ بھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کے کہنے پر وہ منہ لٹکا گیا۔
"اُس ایس پی کو میں نے معاف نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"حیدر نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
"تم اُسکی فکرنہ کرو اُسے بھائی خود دیکھ رہے ہیں،تم نئی اسائمنٹ پر کام کرو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کے کہنے پر وہ سر ہلا گیا تو سلیمان ہال میں آیا جہاں اُسے مس زونا ملی۔
"بھائی کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ پوچھنے لگا۔
"سر اس وقت جم میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے بتانے پر وہ جم کی طرف بڑھ گیا۔
"بھائی یہ مس اعوان کی انفارمیشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ بلیک ٹرازور اور بلیک ٹی شرٹ میں ملبوس برزل ابرہیم سے بولا جو کہ تولیے سے منہ پر آیا پسینہ صاف کرتا اُسے گلے میں ڈال کر پانی کی بوتل منہ سے لگا گیا۔
"بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"فاریسہ اعوان نازر اعوان کی اکلوتی بیٹی ہے،جو اسی شہر کے گرلز کالج میں گریجویشن کر رہی ہے پڑھائی میں اچھی ہے مگر اس کے باوجود وہ کسی اچھے ادارے میں نہیں گئی،وہ صبح آٹھ بجے اپنے ڈرائیور کے ساتھ کالج جاتی ہے اور ایک بجے واپس،صرف گھر تک محدود ہے اگر کبھی شاپنگ کرنے بھی گئی ہے تو اپنی مدر کے ساتھ اس کے علاوہ وہ کہیں اتنا آتی جاتی نہیں حتی کے وہ نہ کسی سکول ٹرپ اور نہ کسی کالج ٹرپ کے ساتھ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کی بات پر اُس نے سر ہلایا تھا۔
"اور کُچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔
"چھ ماہ پہلے اُسکی منگنی رائل انڈسٹری کے مالک کے چھوٹے بیٹے ھادی انصار کے ساتھ ہوئی تھی اور دو ماہ بعد شادی کا پلان ہے،آج تک وہ اپنے فیانسی سے نہ ملی ہیں اور نہ کوئی بات چیت کیونکہ اُسےموبائل کی سہولت نہیں دی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"منگنی کے بارے بتاتے ہوئے سلیمان نے غور سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا تھاجو بلکل بے تاثر تھا وہ کچھ بھی اُخذ کرنے میں ناکام رہا تھا۔
"اوکے تم جاؤ اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سلیمان کو جانے کا کہہ کر وہ ٹائم دیکھنے لگا جہاں گھڑی دس بجا رہی تھی۔
"تو آج ملتے ہیں تم سے فاریسہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُس کا خوفزدہ چہرہ آنکھوں کے سامنے لاتا مسکرایا تھا۔

جاری ہے
______________________________________

Want your business to be the top-listed Government Service in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Multan
59300