ابوبکرؓ میری جان عمرؓ میری شان
عثمانؓ میری آن علیؓ میرا ایمان
Ma to panjaten ka gulam ho
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ma to panjaten ka gulam ho, Library, MDA multan, Multan.
21/05/2020
بکھری پڑی ھـے طیبہ میں خوشبو گلی گلی
جیسے ادھر سے گزرے ہیں آقاﷺ ابھی ابھی
💞 صَلَّی اللَّهُ عَلَیْہِ وَاٰلِه وَسَلّم 💞
07/12/2018
🕋السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه🕋
حمدوثنا اس رب کے لئے
جنت مانگ لو
جو شخص اللہ عزوجل سے تین مرتبہ جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے
اے اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرما
اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے
اے اللہ اسے جہنم سے پناہ عطا فرما.
(ترمذی,کتاب صفة الجنہ,رقم 2581,ج 4,ص 257)
YA ALLAH PAK
hamain jannat ata farma
hamain jannat ata farma
hamain jannat ata farma
YA ALLAH PAK
Hamain jahannam sy baccha
Hamain jahannam sy baccha
Hamain jahannam sy baccha
عنوان: بد زبان سے بےزبان اچھا
حضرت کی خدمت میں اسلامُ علیکم۔
اللہﷻ کا فضل اور سرکار ﷺ کی رحمتیں ہوں آپ پر۔
ختمِ نبوت ﷺ پر جان بھی قربان۔ یہی ہمارا ایمان بھی ہے۔
جناب ممبر پر بیٹھنے والا ہر انسان دین کی عملی شکل ہوتا ہے اسی لئیے اُس پر بہت زمہ داریاں ہوتی ہے۔ میں آپ کے حضور ایک شکایت پیش کر رہا ہوں۔ میری اس شکایت پر امید ہے کہ آپ نظرِ ثانی کریں گیں۔
جناب قبلہ خادم حسین رضوی صاحب ایک بڑے عالم ہیں اور کافی لوگ ان کے پیروکار بھی ہیں۔ وہ اپنی کشادہ زبان کی وجہ سے کافی مشہور بھی ہیں لیکن جب یہ کشادہ زبان جب دین کی تعلیمات کے لئیے استعمال ہوگی تو کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہ ہو گی۔ رضوی صاحب نے ایدھی مرحوم کے لئیے نہایت گستاخانہ الفاظ ستعمال کئیے ہیں۔ جو کہ نہایت شرم ناک ہے کہ ایک مرحوم کے لئیے ایسے الفاظ کون استعمال کرتا ہے سوائے ایک کم عقل انسان کے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ رضوی صاحب نے اُن لاوارث بچوں کو ناجائز جیسے غلیظ الفاظ سے پکارا ہے۔ ایسے بیہودہ الفاظ استعمال کئیے ہیں کہ دین میں جن کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ، انسانیت سے گرے ہوئے الفاظ معصوم اور نومولود بچوں کے لئیے۔ جن کو ایدھی مرحوم کی فاؤنڈیشن پال رہی ہے اللہ کے فضل و کرم سے۔ ہم سب شاید شاباشی کے جزبات میں آ کہ اسلام کی اصل بھول چکے ہیں۔ کتے کو پانی پلانے پر جسے جنت کی بشارت مل جائے، جانور دودھ پی رہا ہو تو صحابہ قافلے کا رخ موڑ دیں کہ جانور کا بچہ ڈر کہ دودھ پینا نہ چھوڑ دے، میرے نبیﷺ نے ایک بچھڑے ہوئے بچے کے باپ کو اس کا بچہ واپس ملنے پر حکم دیا تھا کہ اپنے بچے کا سب بچوں کے بیچ میں بیٹا کہہ کہ نہ بلانا ، اس کو اس کےُ نام سے بلانا، کہیں وہاں بچوں میں کھیلتے ہوئے کسی یتیم کی دل شکنی نہ ہو جائے کہ کاش آج میرا بھی باپ ہوتا تہ مجھے بھی بیٹا کہہ کے بلاتا ۔ہم ایسے نبی ﷺ کے امتی ہیں اور رضوی صاحب ان بچوں کو جن کا قصور بھی کوئی نہیں ،ناجائز بچوں کا لقب دے کے بلاتے ہیں۔ مجھے شرم آتی ہے انہیں عالم کہتے ہوئے بھی۔ اللہﷻ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھے عالم عطا کرے جو امت میں فتنہ فساد کی بجائے سرکار دو عالم ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات دیں جیسا کہ اولیا کرام نے دی تھیں۔
اللہ پاک ہم سب پر اپنا فضل رکھے۔ آمین۔
آپ کا مشکور
ایک مسلمان
بنی اسرئیل میں ایک شخص کو ایک ہزار اشرفیوں کی ضرورت پڑی تو وہ کسی کے پاس گیا اور اس کو کہا مجھے ہزار اشرفیوں کی ضرورت ہے مجھے قرض دے دو ۔ اس نے کہا کہ قرض تو دےدوں گا مگر کوئی گواہ لاؤ جس کے سامنے میں تمہیں دوں تا کہ واپس بھی لے سکوں۔
اِس شخص نے کہا کہ اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے ۔ قرض دینے والے نے کہا کہ چلو کوئی ایسا شخص ہی لے آؤ جو تمہاری ضمانت لے سکے ۔ تو اس نے کہا کہ ضمانت کے لیے بھی اللہ ہی کافی ہے ۔ قرض دینے والے نے کہا کہ آپ نے ٹھیک کہا کہ ضمانت کے لیے خدا ہی کافی ہے ۔ یہ کہہ کر اس نے ہزار اشرفیاں اس کو دے دیں اور بولا کہ خدا کو ضامن بناتے ہوئے یہ اشرفیا ں آپ کو دے رہا ہوں اور فلاں تاریخ کو مجھے واپس کر دینا ۔
وہ شخص وہ اشرفیاں لے کر کمانے کے غرض سے سمندر پار چلا گیا ۔ جب مدت پوری ہونے کے قریب آئی تو وہ شخص قرض واپس کرنے کے لیے سمندر پر آ گیا اور کسی جہاز کا انتظار کرنے لگا ۔مگر کوئی جہاز اسے نہ مل سکا ۔ ادھر جہاز ملنے کے کوئی آثار نہیں تھے اور ادھر مدت پوری ہوتی جا رہی تھی ۔
جب اس شخص کو کوئی حل نہ ملا تو اس نے ایک لکڑی لی اس میں سوراخ کر کے اس میں اشرفیاں ڈال دیں اورساتھ ہی قرض دینے والے کے نام ایک خط لکھ کر اس میں ڈال دیا اور سوراخ کو اچھی طرح بند کر کے اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا اور کہا ’’ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے تیری ضمانت پر فلاں شخص سے یہ اشرفیاں لی تھیں اور وہ شخص تیری ضمانت پر دینے کو راضی ہو گیا تھا ۔ اب چونکہ مدت پوری ہو گئی ہے اور کوئی جہاز نہیں مل رہا کہ میں اس کا قرض واپس کر سکوں ۔ اب میں یہ امانت تیرے سپرد کرتا ہوں تو یہ اشرفیاں اس شخص تک پہنچا دے ‘‘ یہ کہہ کر اس نے وہ لکڑی سمندر میں بہا دی اور خود واپس چلا گیا ۔
ادھر وہ قرض دینے والا اس امید پر ساحل تک آیا کہ شاید وہ سوداگر اس کا قرض لیکر آیا ہو ۔ اس نے دیکھا کہ یہاں کوئی جہاز تو نہیں ہے مگر ایک لکڑی بہتی ہوئی آ رہی ہے ۔ جب وہ لکڑی کنارے تک آ لگی تو وہ اسے اٹھا کر جلانے کی خاطر گھر لے آیا ۔ جب اسے کاٹا تو اس میں سے ایک ہزار اشرفیاں اور ایک خط نکلا جو اسی کے نام تھا۔
ایک مدت کے بعد جب وہ سوداگر واپس آیا تو یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں وہ لکڑی اس کو ملی بھی ہو گی یا نہیں وہ ایک ہزار اشرفیاں لیکر اس قرض دینے والے کے گھر گیا اور اسے بولا کہ خدا کی قسم میں تمہارا قرض لیکر ساحل تک آیا مگر مجھے کوئی جہاز نہیں ملا ۔اب میں آیا ہوں تو یہ لواپنا قرض ۔
قرض دینے والے نے پوچھا کہ پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے کوئی ایک ہزار اشرفیاں اور خط میری طرف بھیجا تھا ؟ وہ بولا کہ جب مجھے کوئی جہاز نہ ملا تو میں نے ایک لکڑی میں سوراخ کر کے اس میں خط اور اشرفیاں رکھ کر اللہ کے سپرد کر دیا تھا کہ وہ آپ تک پہنچا دے ۔
قرض دینے والا بولا : تو سن لو کہ وہ لکڑی مجھ تک پہنچ گئی تھی اور میرا سب مال مجھے مل چکا ہے ۔ اب تم یہ اشرفیاں واپس لے جاؤ ۔ صحیح بخاری ؛ حدیث : 2291
نتیجہ نیت صاف منزل آسان۔ معلوم ہوا کہ دینے والے کی نیت درست ہو تو اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی سبب پیدا فرما دیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور اگر مجبوراً کبھی قرض لینا بھی پڑ جائے تو اپنے وقت پر اتار دینے کی ہمت اور توفیق عطا ء فرمائے ۔ ۔۔ آمین ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Multan
