16/12/2025
یہ پوسٹ سیاسی نہیں
انسانی ھے
چار سئو پھیلانی ھے
یہ ایک دل سے نکلی، باشعور اور درد بھری آواز ہے۔
کیا چوتھے وزیراعظم آزاد کشمیر
اور اسپیکر اسمبلی آزاد کشمیر
کھاوڑہ، حلقہ نمبر 5 کا دورہ کریں گے؟
یا پھر یہ آخری سات ماہ بھی
روایتی سیاست، نعروں اور تصویروں کی نذر ہو جائیں گے؟
یہ سوال صرف ایک شخص کا نہیں،
یہ سوال ایک پورے خطے،
ایک پوری نسل کا ہے۔
محترم چوہدری لطیف اکبر صاحب!
اسپیکر اسمبلی آزاد کشمیر
کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے سوچا
کہ کھاوڑہ کے لیے کوئی میگا پروجیکٹ کیا ہو سکتا ہے؟
اگر ہے
تو وہ صرف اور صرف نالہ اغڑ روڈ ہے۔
یہ سڑک صرف سڑک نہیں،
یہ تعلیم ہے،
یہ صحت ہے،
یہ زندگی ہے۔
میرا المیہ یہ ہے کہ
میں دارالحکومت مظفرآباد کا باشندہ ہوں،
میرے پاس صرف رجسٹریشن نمبر ہے،
لیکن سہولتیں نہیں۔
CMH مظفرآباد،
AIMS مظفرآباد،
کارڈیک ہاسپٹل —
سب مجھ سے صرف 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
جامعہ کشمیر یونیورسٹی،
کیڈٹ کالج چھتر
میرے یوسی کٹکیر سے صرف 40 کلومیٹر دور ہیں۔
اگر نالہ اغڑ روڈ ہوتی
تو ایک مریض ڈیڑھ گھنٹے میں ہاسپٹل پہنچ جاتا،
کسی ماں کی سانس راستے میں نہ ٹوٹتی،
کسی بہن کا ڈیلیوری کیس گاڑی میں نہ ہوتا۔
میرے بچے
روز یونیورسٹی جا کر
شام کو گھر واپس آ سکتے تھے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ
مجھے چھتر پہنچنے کے لیے
کٹکیر رنگلہ ہنس چوکی دھیرکوٹ چمن کوٹ کوہالہ
کا طویل اور جان لیوا سفر کرنا پڑتا ہے۔
پانچ گھنٹے!
کیا یہ انصاف ہے؟
اگر میرے حلقے میں
کوئی حقیقی لیڈر ہوتا
تو وہ مجھے نالہ اغڑ روڈ دیتا،
میرے نوجوانوں کو تعلیم دیتا،
میرے غریب گھروں سے ٹیلنٹ نکالتا۔
نالہ اغڑ روڈ
کھاوڑہ کا CPEC ہے،
یہ ہماری آنے والی نسلوں کی ضمانت ہے۔
اب سوال یہ ہے:
کیا ہم اب بھی
آنے والے الیکشن میں
صرف
“جئے بھٹو”
یا
“جئے میاں صاحب”
کے نعرے لگاتے رہیں گے؟
یا پھر ہم
سوال پوچھیں گے؟
حساب مانگیں گے؟
اپنا حق مانگیں گے؟
خدارا نوجوانو!
جاگو!
آواز اٹھاؤ!
نالہ اغڑ روڈ کے لیے متحد ہو جاؤ!
یہ سیاست نہیں،
یہ ہماری زندگی،
ہمارا مستقبل
اور ہماری نسلوں کا حق ہے۔
📢 یہ پوسٹ شئیر کریں
📢 نالہ اغڑ روڈ کا

06/01/2023
23/12/2022
16/11/2022
16/11/2022
12/11/2022
10/11/2022