22/05/2026
سراڑ واٹر سپلائی کی کہانی — میری زبانی
شروعات کی بات ہے کہ ایک دن میں اور کیپٹن بشارت مداٹراں ان کے گھر میں بیٹھے زیر تعمیر واٹر ٹینک کا معائنہ کر رہے تھے۔ مزاق مزاق میں کیپٹن صاحب نے کہا، ”یہ تو ہمارا سوئمنگ پول ہے!“
میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ”سوئمنگ پول تو بن جائے، مگر یہاں تو پانی ہی نہیں۔ علاقے میں سوئمنگ پول کہاں سے آئے گا؟“
باتوں باتوں میں ہم دونوں ایک پرانے خواب کی طرف چلے گئے جو ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ وہ خواب کہ اس خشک اور پیاسے علاقے میں ایک دن پانی آئے گا۔ اسی نشست میں ہم نے فیصلہ کر لیا کہ قریبی دریا سے پانی لفٹ کر کے سراڑ لایا جائے۔
اگلے ہی دن ہم نے جگہ کا معائنہ کیا، تمام تکنیکی باتیں کیں اور ایک ابتدائی پلان بنا لیا۔ پھر معاملہ میرے بھائی تک پہنچا، جو ایک فلاحی تنظیم چلاتے ہیں۔ اس فلاحی تنظیم زم زم ویلفیئر سوسائٹی کے تعاون سے انہوں نے سلیم بھائی چوٹری والے جو ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں ان کی مدد سے ایک واٹر پمپ منظور کروا لیا اور علاقے کے عوام کی مدد سے ابتدائی طور پر پانی لفٹ کر لیا۔ یوں بزرگوں کا ادھورا خواب کچھ حد تک حقیقت کا روپ دکھانے لگا۔
البتہ پانی لانے کے بعد روزانہ فنی خرابیاں، مرمتیں اور مشکلات کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران علاقے کے بہت سے لوگ لاہور پہنچ چکے تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ وہاں اچھی کاروباری زندگی گزار رہے تھے۔ ہم نے زم زم ویلفیئر سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے ان تک رسائی کی اور تجویز رکھی کہ اگر وہ پائپ لائن کا خرچہ اٹھا لیں اور میں فٹنگ کا خرچہ سنبھال لوں تو ہم پانی کو چھ ہزار فٹ کی بلندی سے بغیر کسی ماہانہ خرچے کے علاقے تک لا سکتے ہیں۔ بات طے ہو گئی۔
پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ اس کام میں علاقے کی سیاسی قیادت کو بھی شامل کیا جائے۔ سب سے پہلے میں ملک ایاز صاحب، سراڑ کے صدر ن لیگ سے ملا۔ انہوں نے فوراً ذمہ داری قبول کر لی۔ ان کی ٹیم، جس میں اویس صاحب، کیپٹن بشارت اور دیگر متحرک ساتھی شامل تھے، نے اس وقت کے وزیر جناب افتخار گیلانی صاحب سے رابطہ کیا اور ڈیڑھ کروڑ روپے کی ایک بڑی اسکیم منظور کروا لی۔
اس کے بعد زم زم ویلفیئر سوسائٹی نے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے دوسرے علاقے سے پانی لانے والے تمام کاغذات واپس لے لیے جن میں این او سی شامل تھی سے انکار کر دیا کہ ہم کوئی پیپر ورک نہیں دے سکتے۔ شاید ان کی کوئی مجبوریاں رہی ہوں تنظیمی جو ہماری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ البتہ اس مرحلے تک ان کا کردار یقیناً قابلِ قدر تھا۔
لیکن یہاں سے آگے مکمل طور پر ناقابل یقین ۔
(
(کچھ باتیں جان بوجھ کر چھوڑی ہیں )
)
مگر آگے کا سارا کام، لاکھوں مشکلات کے باوجود، ن لیگ کے کارکنان نے مکمل کیا۔ چودہ کلومیٹر دور سے پانی لانے کا خواب آخر کار پورا ہوا۔ آج الحمد للہ وہ پانی پوری آب و تاب سے بہہ رہا ہے اور علاقے کے سینکڑوں گھرانے اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔جو آج بھی وہ کیپٹن صاحب اپنی دن رات کی کوششوں سے رواں رکھے ہوے ہیں
یہ کوئی ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ ایک خواب، ایک اجتماعیت، کچھ سیاسی ارادے اور بہت ساری محنتوں کا نتیجہ ہے۔ سراڑ کا پانی نہ صرف پیاس بجھا رہا ہے بلکہ اس بات کی گواہی بھی دے رہا ہے کہ جب لوگ مل جائیں تو پہاڑ بھی ہٹائے جا سکتے ہیں۔
کہانی کے تمام کردار الحمدللہ حیات و سلامت ہیں ، ایک ایک لفظ کی تصدیق کی جا سکتی ہے
۔
از قلم
سہیل اختر اعوان
کارکن
پاکستان تحریک انصاف ۔/
ایکشن کمیٹی لورز

14/05/2026
05/05/2026
08/04/2026
24/01/2026