26/07/2019
Now a days Highly recommended Road for Tourists in Pakistan for it's Scenic Beauty Leswa Bypass
kel avery beautiful place atthe upper tip of the heaven valley of Neelum in kashmir valley
26/07/2019
Now a days Highly recommended Road for Tourists in Pakistan for it's Scenic Beauty Leswa Bypass
Heavy snowfall in Neelam Valley - Kashmir
برفانی موسم اور سفید چادر اوڑھے نیلم
03/01/2019
چلے آؤ کہ تم کو یہ برفیلی وادی بلا رہی ہے
نیلم
جنوری 2018
31/12/2018
Its look like there are yellow , brown, green and blue big dots on white carpet but it's Snow.
Kel, Neelum Valley
Dec 18
01/12/2018
Himalayanking
❤
20/11/2018
نہ خلشن جگر دور ہوئی نا حیات گزری قرار سے
میں خزاں پرست ہوں دوستو مجھے کیا غرض ہے بہار سے
25/10/2018
"She saw Waddington light a cigarette. A little smoke lost in the air, that was the life of man "
Landscape: Tarar, Rawalakot
30/09/2018
"The greatness of a nation and its moral progress can be judged by the way its animals are treated."
🍁🍁🍁
27/09/2018
30 جولائی 2018
رتی گلی، نیلم، کشمیر
طالب علم کے لیے رقم جمع کر کے کسی بھی دور افتادہ جگہ پر سیر کے لیے جانا بڑا دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے ۔ پہلے پہل تو مطلوبہ رقم ہی اک عرصے تک جمع نہیں ہو پاتی ۔ اگر کبھی ہو بھی گئی تو جس دوست نے آپ کو اس جگہ کے بارے میں بتا بتا کے تجسس پیدا کیا ، وہ کہتا ہے "امی نہیں مان رہی "۔
اب ان صاحب کی امی سے کوئی پوچھے کہ ہم کون سا ان کے بدشکل ، بد لباس اور بدبودار بیٹے کے لیے ان کی بھانجی اور بھتیجی کو چھوڑ کر کسی حور سے اس کا بیاہ کرانے جا رہے ۔ ویسے ہم تو پہلے ہی اس بارے میں صاف طور پر آگاہ ہیں کہ انہیں ان کی 500 کلو گرام والی پوپھی ذاد ہی ان کےمقدر بد میں ہے جو ان کے ناز و نخروں کے علاوہ پوری زندگی ان کو اٹھا رکھے گی۔ البتہ اس حور نما پہلوان کو ہمارے پیارے صرف نخروں کی حد تک اٹھا سکتے ۔
چند ہفتوں کی گزارشات کے بعد ہم غربا کو ہم سے بھی ذیادہ مالی حالت سے متاثرہ دو تین انمول ہیرے مل جاتے جن کا آپ کو نا صرف واگذاری کا بوجھ اٹھانا پڑتا بلکہ ان کے مالی بوجھ کو بھی ساتھ ہی گھسیٹنا بھی لازم ہو جاتا ۔
دوران صفر جب بھی کوئی کھانا کی بات آتی تو وہ ایسے حکمانہ انداز سے ان کے حصے کا بل ادا کرنے کو کہتے کہ "خدا کی پناہ" ۔
سیر کے دوران پنڈی بوائز کا انداز ہی نرالا ہوتا ۔ ان کے ہوتے ہوئے آپ شیطان کے چنگل سے آزاد ہو جاتے۔سیر سے خوب لطف اندوز ہونے کا سلسلہ چند روز جاری رہنے کے بعد جب اختتام ہونا ہوتا ہے تب آپ کا منشی مطلع کرتا ہے کہ صاحب کسی طرح ہر بندہ اپنا بوریا بستر گول کر کے کسی طرح بھی کسی اور کی گاڑی کے ساتھ لٹک کر گھر پہنچ جاؤ ۔
مگر دو گھنٹے ایک ہزار بندے سے ملاقات کے بعد آپ اس نتیجہ پر آ کر اٹک جاؤ کہ کس منحوس کی مان کر آپ یہاں آنے کو تیار ہو گئے تھے ۔
پھر واپس جمع ہو کر سب ایک گاڑی والے کو کم رقم میں منانا شروع کرو اور ایک گھنٹہ مسلسل تکرار کے بعد پچیس ہزار میں وہ مان جائے مگر آپ کے پاس صرف بیس ہی ہوں ۔
اور چند لمحوں بعد سب کی جامعہ تلاشی شروع ۔ وہ تلاشی بھی ایسی تلاشی کہ اس کے سامنے نیو یارک میں ہونے والی پاکستانی برادری کو تلاش کرنے والے بھی دیکھ کر شرما جائیں ۔ اس تلاشی کے بعد کوئی اپنی محبوبہ سے ملنے والی عیدی چھن جانے پر رو رہا، تو کوئی اپنے والد کے ہاتھوں وصول زندگی کے پہلے اور آخرے انعام کو واپس پانے کے لیے نوح کناہ ۔مگر ہمارے منشی بھی ہٹلر کے باقیات میں سے تھے ۔ اس تلاشی میں نرمی صرف اس پر برتی گئی جس نے سفر کے شروع میں منشی کے انتخاب کے لیے ویٹو کا بے جا استعمال کر کے اسے نامزد نما منتخب کروایا تھا۔
مگر مسئلہ ابھی بھی حل نہیں ہوا تھا کیوں کہ وہ محبوب کے دستخط شدہ نوٹ جو ہمارے گروپ کے چرسی کے بٹوے سے تین سال بعد رتی گلی جھیل کے کنارے باہر نکلے تھے وہ بھی اس لالچی ڈرائیور کا دل نرم نہ کر سکے۔
آخر تین گھنٹوں کی بحث کے بعد وہ صرف اس لیے تیئیس میں مانا کیونکہ اب اسے وہاں سے کوئی تگڑی سواری ملنا مشکل تھی ۔
جب یہ منظر عکس بند کیا گیا اس وقت کوئی گاڑی ملنے کی خوشی میں اس کی چھت پر چڑھ کر نعرہ بلند کر رہا تھا تو کوئی اپنے محبوب کی آخری نشانی کے چھن جانے کے غم میں ہجر و وصال کے پل یاد کر رہا تھا۔
مگر خوشی اور غم کی وہ فضا خاص تھی اور ہوتی بھی کیوں نہیں، کیونکہ وہ فضا تمام جھیلوں کی مرشد رتی گلی کی فضا تھی ۔
سرگوشی. کلیم زاہد۔۔۔۔۔ نیلمی
Mr.Neelami