04/09/2025
سیّد سید علی ثانی ایک باعمل پیر ہونے کے ساتھ ساتھ ، انسانوں کا دکھ درد خود پر محسوس کرنے والے باکمال "شخصیب"بھی ہیں ۔ ساہیوال سے جب اپنے علاقے شیخوشریف گئے تو سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کی حالت دیکھ کر بہت دکھ محسوس کیا اور اس بات کو اپنے دل پر اس حد تک لیا کہ 1500ویں سالانہ جشن میلاد النبی ؐ ملتوی کر کے اس کا سارا بجٹ سیلاب متاثرین کی بحالی پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور اس بات کا پیغام دیا کہ ہم صرف نارے لگانے والے نہیں بلکہ دین اسلام کی خدمت کرنے والے بھی ہیں اور پوری امت مسلمہ کو یہ درس دیا کہ دین اسلام مصیبت میں بھسے لوگوں کی خدمت کرنے کا بھی نام ہے ۔ انہوں نے یہ فیصلہ کر کہ یہ ثابت کر دیا کہ ہم صرف باتیں کرنے والے نہیں بلکہ عمل
سے ثابث کرنے والے ہیں ۔
منجانب : ادارہ صوت ہادی
30/08/2025
ہوالقادر
*ادارہ صوت ہادی شیخو شریف*
نے 1500 ویں سالانہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملتوی کرکے اس کا سارا بجٹ سیلاب متاثرین کی بحالی پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، دراصل میلاد النبی ﷺ کی حقیقی روح اور تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کی عملی تفسیر ہے۔
یہ قدم اس بات کا بین ثبوت ہے کہ میلاد مصطفیٰ ﷺ صرف محافل اور تقریبات کا نام نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت، دردِ دل اور ایثار و قربانی کا پیغام ہے۔
جماعت اہل سنت اور ہمارے خانقاہی نظام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ صرف نعرے لگانے والے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کر دکھانے والے ہیں کہ دین اسلام کا جوہر انسانیت کی خدمت اور انسان کو راحت پہنچانا ہے۔ ہم اس دفعہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جشن ولادت منانے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے دکھ میں شریک ہوں گے اور ان کی خدمت کو فرض عین سمجھیں گے ۔ البتہ میلاد شریف کے دن اپنے گھروں درود و سلام کی محافل کریں ۔ جلسے جلوسوں، ریلیوں اور کرایوں پر پیسا خرچ کرنے کی بجائے اپنے کلمہ گو مسلمان بھائیوں کی مدد کریں ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا
طالب دعا :
سید سید علی ثانی گیلانی ، خادم ادارہ صوت ہادی شیخو شریف
🙏🙏🙏
29/07/2025
ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد
ہر کہ خود را دید او محروم شد
آپ کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آپ کی تصنیف راے احمد خان کھرل شہید کو بھیل انٹرنیشنل ادبی میلہ 2025 کی طرف سے دلکش سرٹیفکیٹ اور گولڈ میڈلز دیے گئے۔
جناب سید علی ثانی گیلانی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کی تمام تصانیف ایک سے بڑھ کر ایک۔ اگر کتاب اور ان چھپے ہوئے الفاظ کی قدر کرنے والے آپ کی تصانیف کا مطالعہ، تحقیق اور مشاہدہ کریں تو آپ کی ہر تصنیف کو گولڈ میڈل ملے۔
زیر نظر کتاب کا مختصر تعارف کرواتا چلوں
یہ تاریخ کے طالب علموں کے لیے علمی مخزن ہے۔ 1857 کی انگریز سامراج سے نجات کی جنگ کے پس منظر، بر صغیر کے سیاسی حالات و واقعات اور بالخصوص اس وقت کے صدر مقام گوگیرہ سے راے احمد خان کھرل شہید مجاہد اسلام اور آپ کے جانثار حلیف کی برطانوی فوج کے خلاف یلغار، لارڈ برکلے کمشنر گوگیرہ کا قتل اور منٹگمری، اوکاڑہ اور پاکپتن کی تاریخ
حکومت برطانیہ کے خطوط بنام رائے شہید
علاقائی ڈھولا جات
شجرہ جات
گوگل سے لیے گئے اس علاقے کی خاص لوکیشنز
راۓ برادری اہم شخصیات کی تصاویر
راۓ احمد خان شہید کی جرات کو سلام اور
سید علی گیلانی کی ادبی خدمات کو سلام
دعا گو
پروفیسر فخر حسین خان
ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس
گورنمنٹ کالج ساہیوال
25/03/2025
الحمدللہ ، الحمدللہ ثم الحمدللہ " تذکرۃ الابرار" چھپ گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔
برادرم محترم علامہ پیر طاہر حسین القادری زید مجدہ کے الفاظ میں ۔ ۔ ۔ شکریہ کے ساتھ
۔ ۔ ۔ ۔
صدیوں کا قرض
’’تذکرۃ الابرار‘‘خانوادئہ گیلانیہ،قادریہ شیخو شریف کے نامور سادات و شیوخ کے حالات پر مشتمل ایک منفرد تذکرہ ہے۔اس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی دو چند ہےکہ یہ بزرگانِ شیخو شریف کے اڑھائی سو سالہ علمی و روحانی خدمات کا ایک مختصر جائزہ ہے۔یہ تزکرہ جہاں اہم سوانحی خدو خال پیش کرتا ہےوہیں شجرات ،صوفیانہ افکار اور نادر معلومات کے اعتبار سے بھی کسی دستاویزسے کم نہیں۔
مخدومی سید افضال حسین گیلانی نوراللہ مرقدہ،(1942ء,2020ء)سے میری پہلی ملاقات 2007ء میں ہوئی،آپ اس پُر فتن دور میں اپنے اسلاف کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔آپ نہ صرف ایک شاعر تھےبلکہ بہترین نقاد اور تذکرہ نویس بھی تھے۔آپ نے1975ءسے لے کر2006ء تک زیرعنوان ’’بسلسلہ تذکرہ الابرار‘‘اپنے بزرگان کے احوال و مناقب پر معتدد چھوٹے بڑے رسائل لکھ کر شائع کیے۔آپ کی درینہ خواہش تھی کے اپنے شیوخ کاتذکرہ جامع صورت میں مرتب کر سکیں اور اس کا اظہار آپ نے راقم الحروف کی کتاب ’’تاریخ ابن کرم‘‘کی اشاعت کےموقع پر اپنی تقریظ میں اس طرح فرمایا ’’آپ نے میری درینہ خواہش کی تکمیل کی ہے اور خوابوں کی تعبیر فرمائی ہے۔‘‘
آپ کے خلف الصّدق برادرم سید سَید علی ثانی جیلانی سلمہ ربہ، نے آپ کے انہی رسائل کو نہ صرف از سر نو مرتب فرمایا ہے بلکہ اس میں بہت سے مفید اضافہ جات بھی کیے ہیں۔’’تذکرۃ الابرار‘‘ کی موجودہ صورت ، تصنیف و تالیف سے لیکر ترتیب و تدوین کے مراحل تک نہایت محنت و جانفشانی سے مکمل کی گئی ہے۔
ایک بہترین اور جامع تذکرہ میں جو خوبیاں ہونی چاہیں وہ تمام اس تذکرہ میں موجود ہیں ایسے نافع کام نہ روز ، روز ہوتےہیں اور نہ ہر کوئی کر سکتا ہے ، یہ صدیوں کا قرض ہوتا ہے جو منتخب افراد سے ہی لیا جاتا ہے۔خیرالناس من ینفع الناس(لوگوں میں بہترین وہ ہےجس کا وجود دوسرں کے لیے فائدہ مند ہو)
یا خدا ، قادری میخانہ سلامت رکھنا
مے بغداد جھلکتی رہے پیمانوں سے
------
------
محمد طاہر حسین قادری غفرلہ،
خانقاہ منگانی شریف،ضلع جھنگ
۲۱،رمضان المبارک 1446ھ