Politics & Economy

Directions

Politics & Economy Deep insights on Politics, Economy & Global Affairs| Pakistan & World| Fact based Analysis

24/10/2026

"پہلی بار کسی غریب کا مکا امیر کے منہ پر پڑا ہے!"

اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنے اور معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے

عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج خیبر پختونخوا سے شروع ہوا، مگر پنجاب کہاں تھا؟ اور خود کے پی کے کے منتخب نمائندے کہاں غ...
23/10/2026

عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج خیبر پختونخوا سے شروع ہوا، مگر پنجاب کہاں تھا؟ اور خود کے پی کے کے منتخب نمائندے کہاں غائب تھے؟

تحریکِ انصاف کے نام پر ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہونے والوں سے آج ایک سوال تو بنتا ہے!

جب عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کی کال دی جاتی ہے تو سڑکوں پر کارکن نظر آتے ہیں، قیادت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر دوسری طرف پارٹی کے منتخب نمائندوں کی عملی جدوجہد پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔

پنجاب میں تحریکِ انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی پارٹی کی حکومت اور بڑی تعداد میں منتخب نمائندے ہیں۔ پھر جب سہیل آفریدی احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو باقی منتخب نمائندوں کی وہ بھرپور موجودگی کیوں دکھائی نہیں دیتی جس کی کارکن توقع کرتے ہیں؟

کیا عمران خان کی رہائی صرف کارکنوں کی ذمہ داری ہے؟

اگر عام کارکن گرفتاریوں، مقدمات اور مشکلات کا سامنا کرے، لیکن منتخب نمائندے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں اور احتجاج میں مؤثر کردار ادا نہ کریں، تو ان سے جواب طلب کرنا کارکنوں کا حق ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ ہر غیر حاضر نمائندے کے بارے میں یہ کہنا مناسب نہیں کہ وہ عمران خان کی رہائی نہیں چاہتا۔ کسی کو گرفتاری، مقدمات یا دوسری مجبوریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر پارٹی قیادت کو واضح کرنا چاہیے کہ کون کہاں ہے، کس نے کیا ذمہ داری ادا کی اور کون اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔

اگر احتجاج مؤثر نہیں ہو رہا تو اس کا سارا بوجھ کارکنوں پر ڈالنے کے بجائے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

اور سب سے اہم سوال: اگر یہ جدوجہد واقعی عمران خان کی رہائی کے لیے ہے تو کیا پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنی عملی کارکردگی سے اس دعوے کو ثابت کر رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو کارکن ان سے جواب کیوں نہ مانگیں؟

خیبر پختونخوا میں بھی کوئی عمر چیمہ، اعجاز چوہدری یا یاسمین راشد کیوں نظر نہیں آتا؟ کیا مسئلہ قیادت کا ہے یا پارٹی کے نظ...
23/10/2026

خیبر پختونخوا میں بھی کوئی عمر چیمہ، اعجاز چوہدری یا یاسمین راشد کیوں نظر نہیں آتا؟ کیا مسئلہ قیادت کا ہے یا پارٹی کے نظام کا؟

تحریکِ انصاف کو خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے عوامی حمایت حاصل رہی ہے، لیکن آج ایک اہم سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا صوبے میں ایسی قیادت موجود ہے جو اپنی سیاسی شناخت، اصولی مؤقف اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کے حوالے سے الگ مقام بنا سکے؟

پنجاب میں یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ جیسے رہنماؤں نے اپنی الگ پہچان قائم کی۔ ان کے سیاسی کردار اور مشکلات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی قیادت کا جائزہ اسی معیار پر کیوں نہ لیا جائے؟

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کا سیاسی نظام عمران خان کی شخصیت کے گرد زیادہ مرکوز رہا؟ کیا صوبائی سطح پر نئی قیادت کو آگے آنے کے مواقع کم ملے؟ کیا اندرونی اختلافات اور گروپ بندی نے قیادت سازی کو متاثر کیا؟ یا پھر خیبر پختونخوا کے سیاسی حالات اور قیادت کے چیلنجز پنجاب سے مختلف ہیں؟

یہ بھی ضروری ہے کہ علی امین گنڈاپور، مشال یوسفزئی اور دوسرے رہنماؤں کا جائزہ صرف بیانات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کی سیاسی کارکردگی، تنظیمی کردار، عوامی رابطے اور مشکل فیصلوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر لیا جائے۔

اصل سوال یہ ہے: کیا خیبر پختونخوا میں قیادت کی کمی ہے، یا ایسے رہنماؤں کو آگے آنے کا موقع نہیں مل رہا جو پارٹی کے اندر اپنی الگ اور مضبوط سیاسی شناخت قائم کر سکیں؟

آپ کی کیا رائے ہے؟

امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں اگر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو اس کے اثرات واشنگٹن سے نکل کر مش...
23/10/2026

امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں اگر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو اس کے اثرات واشنگٹن سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ، ایران، یورپ اور پاکستان تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

امریکہ کے 3 نومبر 2026 کے مڈٹرم انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں، کیونکہ ان انتخابات سے یہ طے ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مدت کے آخری دو سال کتنی سیاسی طاقت کے ساتھ گزاریں گے۔ تازہ تجزیوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات زیرِ بحث ہیں، جبکہ سینیٹ کا نتیجہ اب بھی غیر یقینی ہے۔

پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے امریکی پالیسیوں میں تسلسل یا تبدیلی اہم ہوگی، خصوصاً تجارت، پابندیوں، سفارتی تعلقات اور خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے۔ اگر امریکی داخلی سیاست کی وجہ سے خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے تو دوسرے ممالک کو بھی اپنی سفارتی حکمتِ عملی کے مطابق فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، پاکستان کے لیے کسی مخصوص تبدیلی کو ابھی یقینی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

صل بات یہ ہے کہ مڈٹرم انتخابات ٹرمپ کی صدارت ختم نہیں کریں گے، لیکن کانگریس میں طاقت کا توازن ان کے اگلے دو سال کی سمت ضرور متاثر کر سکتا ہے۔ دنیا کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ امریکی داخلی سیاست میں تبدیلی کا اثر عالمی معیشت، جنگوں، سفارت کاری اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر کس حد تک پڑتا ہے۔

آپ کی رائے میں، اگر ٹرمپ کی جماعت کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو سب سے بڑی تبدیلی کہاں آئے گی: ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ کے ساتھ تعلقات میں، یا پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے امریکی پالیسی میں؟

23/10/2026

ملتان کیس

ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جانے والے ملزم کو جب کچہری لایا گیا تھا اس وقت کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی کچہری سے واپسی پر وکلاء کے تشدد سے ملزم کے سارے کپڑے پٹ گئے بعد میں اسکو رکشہ میں بیٹھا کر وہاں سے نکالا گیا

22/10/2026

عراق کے نئے وزیر اعظم علی الزیدی نے نئی کابینہ سے قرآن مجید پر حلف لیا کہ

آج کے بعد ہمارا کسی جماعت گروہ یا تنظیم سے کوئی تعلق نہ ہوگا

ہم صرف اور صرف عراق اور عراقی قوم کے لیے کام کریں گے

کسی اندرونی بیرونی تنظیم یا گروہ سے کوئی لین دین نہ ہوگا

تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متاثرہ نوجوان پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیاچیف جسٹس عتیق شاہ سے ملاقات، کارروائی کے خلاف پشاور ہائیک...
22/10/2026

تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متاثرہ نوجوان پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا

چیف جسٹس عتیق شاہ سے ملاقات، کارروائی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

تجاوزات کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لیکن قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہو۔ ساتھ ہی، اگر کسی شخص کی زمین قانونی ملکیت ہے تو اس کے کاغذات اور قانونی اعتراضات کو بھی مناسب طریقے سے جانچنا ضروری ہے۔

\ #پشاور #خیبرپختونخوا

امریکہ نے ایک ہی رات میں خلیجی خطے کے 5 ممالک سے اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو نکالنے کے احکامات کیوں جاری کیے؟ کیا خ...
22/10/2026

امریکہ نے ایک ہی رات میں خلیجی خطے کے 5 ممالک سے اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو نکالنے کے احکامات کیوں جاری کیے؟ کیا خطے میں جنگ مزید پھیلنے والی ہے؟

امریکہ نے بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے پیشِ نظر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اردن میں اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ اقدامات خلیجی خطے میں حملوں کے خطرات اور امریکی مفادات کو لاحق سکیورٹی خدشات کے باعث کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں ریاض ایئرپورٹ پر حملے، سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کے قریب ڈرون واقعے اور عمان و عراق کے ساحلوں کے قریب دو آئل ٹینکروں پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، سعودی عرب میں غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی روانگی کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ دیگر چار ممالک میں سفارتی خاندانوں کی واپسی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ باضابطہ حکم سعودی عرب کے لیے تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے انتخابات قریب ہیں، اور ماہرین اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ جنگ سیاسی قیادت کے لیے انتخابی فائدے یا نقصان کا باعث کیسے بن سکتی ہے۔


ماخذ: Reuters، AFP اور Al Jazeera۔
Reuters

\ ٰ #ایران #اسرائیل #امریکہ

مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس دینے کی ہدایت، دو دن گزرنے کے باوجود نوٹس جاری نہ ہوا، فردوس شمیم نقوی مستعفی!پاکستان تحریکِ...
22/10/2026

مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس دینے کی ہدایت، دو دن گزرنے کے باوجود نوٹس جاری نہ ہوا، فردوس شمیم نقوی مستعفی!

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تقریباً دو روز قبل فردوس شمیم نقوی کو ہدایت کی تھی کہ وہ سینیٹر مشعال یوسفزئی کو پارٹی نظم و ضبط کی مبینہ خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کریں۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق مشعال یوسفزئی نے پارٹی کی سینئر قیادت کے بارے میں کھل کر بات کی تھی اور انہیں اس طرزِ عمل پر پہلے بھی تنبیہ کی جا چکی تھی۔& ;

تاہم، فردوس شمیم نقوی نے دو روز گزرنے کے باوجود مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے تاحال مشعال یوسفزئی کو نوٹس نہیں بھیجا۔

آخر میں سوال

کیا یہ معاملہ پی ٹی آئی کی اندرونی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، یا فردوس شمیم نقوی کے استعفے کے پیچھے کوئی اور وجہ بھی ہے؟

ماخذ: ARY News، Pakistan Point News

\

22/10/2026

فرانس کو ڈیزل کی ضرورت، سعودی عرب کو دفاعی مدد؛ ماکرون کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات
فرانسیسی صدر ایمانویل ماکرون نے 21 اکتوبر کو سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
عالمی توانائی بحران اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث فرانس کو ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے فرانس کو اضافی ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری جانب، فرانس سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور ینبع کی بندرگاہ کے تحفظ کے لیے فوجی اہلکاروں اور دفاعی نظام کی مدد فراہم کر رہا ہے۔
دونوں ممالک نے توانائی کی فراہمی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی ہے۔

اہم سوال: کیا عالمی توانائی بحران کے دوران تیل کی فراہمی اور دفاعی تعاون ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اسٹریٹجک مفادات بن چکے ہیں؟

Source: Arab News | Al Jazeera

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Politics & Economy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share