23/10/2026
عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج خیبر پختونخوا سے شروع ہوا، مگر پنجاب کہاں تھا؟ اور خود کے پی کے کے منتخب نمائندے کہاں غائب تھے؟
تحریکِ انصاف کے نام پر ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہونے والوں سے آج ایک سوال تو بنتا ہے!
جب عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کی کال دی جاتی ہے تو سڑکوں پر کارکن نظر آتے ہیں، قیادت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر دوسری طرف پارٹی کے منتخب نمائندوں کی عملی جدوجہد پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔
پنجاب میں تحریکِ انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی پارٹی کی حکومت اور بڑی تعداد میں منتخب نمائندے ہیں۔ پھر جب سہیل آفریدی احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو باقی منتخب نمائندوں کی وہ بھرپور موجودگی کیوں دکھائی نہیں دیتی جس کی کارکن توقع کرتے ہیں؟
کیا عمران خان کی رہائی صرف کارکنوں کی ذمہ داری ہے؟
اگر عام کارکن گرفتاریوں، مقدمات اور مشکلات کا سامنا کرے، لیکن منتخب نمائندے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں اور احتجاج میں مؤثر کردار ادا نہ کریں، تو ان سے جواب طلب کرنا کارکنوں کا حق ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ ہر غیر حاضر نمائندے کے بارے میں یہ کہنا مناسب نہیں کہ وہ عمران خان کی رہائی نہیں چاہتا۔ کسی کو گرفتاری، مقدمات یا دوسری مجبوریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر پارٹی قیادت کو واضح کرنا چاہیے کہ کون کہاں ہے، کس نے کیا ذمہ داری ادا کی اور کون اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔
اگر احتجاج مؤثر نہیں ہو رہا تو اس کا سارا بوجھ کارکنوں پر ڈالنے کے بجائے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
اور سب سے اہم سوال: اگر یہ جدوجہد واقعی عمران خان کی رہائی کے لیے ہے تو کیا پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنی عملی کارکردگی سے اس دعوے کو ثابت کر رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو کارکن ان سے جواب کیوں نہ مانگیں؟