Ajman Glass and Aluminum

Ajman Glass and Aluminum

Share

Glass and aluminum

30/05/2026

✨ Project Completed in Dubai – Al Barsha ✨
Another quality shower partition installation completed by Al Badshah Haram Glass & Aluminum. Alhamdulillah!
📞 Contact us today for your next project:
058 883 4542

29/05/2026

🚿 Eid Special Offer by Al Badshah Haram Glass & Aluminum
✔ Full Shower – 180 AED / SQM
✔ Shower Fix – 200 AED / SQM
✔ Walk-In Shower – 250 AED / SQM
💎 Modern Design | Premium Quality | Perfect Finish
📍 Serving All UAE
📞 WhatsApp: 0588834542

23/05/2026

✨ AL BADSHAH HARAM GLASS AND ALUMINUM ✨
✅ Shower Partation
✅ Office Partation
✅ Glass Doors
✅ Aluminum Door
✅ Mirror Glass
📍 Location: Ajman
🚚 Service Available All Over UAE
📲 WhatsApp: 0588834542
We help you choose the best glass & aluminum solutions for your home and office.
MirrorGlass Ajman UAE InteriorDesign ModernDesign

19/04/2026

Frameless glass partitions with matte black aluminum profiles. Installed for a corporate client in Sharjah.
Sound-resistant, modern, and built to last.
Next office could be yours.
📞 0588834542
DM “OFFICE” for a free site survey

06/04/2026

We are working for all types of Glass and Aluminium works. Office Partitions, Shower Partitions, Glass Stair, Aluminium Doors and Windows and also work all types of Mirrors. WhatsApp/0588834542 just in 1200 Aed

01/03/2020

آسمان کی آفتیں
خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘

ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراء اور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کا استاد بھی تھا۔ اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالد مسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘

بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“

یحییٰ خالد رکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا ‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آ گیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘

اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔ یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔

دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کا متحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔ یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘

آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دنیا کے تمام مسائل اور ان کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز می ںہوتا ہے لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔

17/02/2020

پاکستان کا صوبہ خیبر پختون خواہ قدرتی حسن سے مالا

مال اگر حکومت توجوں دیں دے تو سیاحت کیلے بہت ہی

خوبصورت مقام تک رسائی ہو جایگی زیر نظر تصویرں خبیر

پختون خواہ کے ضلع دیر بالا کی ہے جو جنت سے کم نہی ل

لیکن بدقسمتی سے یہ خوبصورت مقامات سیاحوں کی نظر

سے دور ہے ۔ضلع دیر بالا کمراٹ ویلی کے نام سے پورے

پاکستان میں مشھور ہے لیکن کمراٹ کے ساتھ ساتھ
۔ #زخنہ
۔ #دوبندو
۔ #شنکلی
۔ #شینغر۔

۔ #کارودرہ
کے خوبصورت نظاروں سے سیاح مزے لیے سکتے ہے حکومت وقت سے درخواست ہے کے ان مقام تک انسانی زندگی کی سہولہت میسر کریں شکریہ شفیق اللہ

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Ajman Sanya 2
Peshawar
00000