PTM Press & Information

Call Directions Contact the organization

PTM Press & Information PTM
Central Press & Information Official Page
(1)

29/09/2026

Pashtun Tahafuz Movement United States (PTM–U.S.) issues the following statement regarding its protest at the United Nations and its submission of the Pashtun case for international attention and accountability.

26/09/2026
26/09/2026
پشتون تحفظ موومنٹ کا بین الاقومی سطح پر پشتون سوال کا مقدمہ پشتون تحفظ موومنٹ کے زیرِ اہتمام ستمبر اور اکتوبر 2026 میں ج...
24/09/2026

پشتون تحفظ موومنٹ کا بین الاقومی سطح پر پشتون سوال کا مقدمہ

پشتون تحفظ موومنٹ کے زیرِ اہتمام ستمبر اور اکتوبر 2026 میں جنیوا، نیویارک اور ٹورنٹو میں ہونے والے احتجاجی اجتماعات اور بین الاقوامی کانفرنسیں پشتون مسئلے کو پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملے تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تناظر میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ اعلان کے مطابق 25 ستمبر کو جنیوا میں بروکن چیئر کے سامنے احتجاج، 26 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرہ، اور 11 اکتوبر کو ٹورنٹو میں پشتون تحفظ موومنٹ انٹر نیشنل کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ پر اکتوبر 2024 میں پابندی عائد کی گئی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پابندی اور پرامن سیاسی اجتماع پر قدغنوں پر اعتراض کیا۔ 2026 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی جبری گمشدگی کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے نزدیک پشتون سوال صرف کسی ایک واقعے یا علاقے کے مسئلے کا نام نہیں رہا بلکہ پشتون علاقوں میں ریاستی تشدد و دھشتگردی کے اثرات سے متعلق ایک وسیع سیاسی و انسانی مسئلہ ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی جدوجہد کو حالیہ علمی مطالعات بھی ایک ایسی عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں جو پشتونوں کو تشدد اور جنگ کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی تصورات کو چیلنج کرتے ہیں۔

اسی لیے پشتون سوال کی عالمی سطح پر پیشکش کا مقصد محض بیرونِ ملک احتجاج کرنا نہیں بلکہ پشتون علاقوں کے تجربے کو عالمی انسانی حقوق کے مباحث سے جوڑنا ہے۔ اقوام متحدہ میں پیش کیے گئے حالیہ ایک تحریری بیان میں بھی پشتون قوم کے حوالے سے عسکریت اور شہری و سیاسی آزادیوں پر پابندیوں کے مسائل کو ICCPR، ICERD اور اقوام متحدہ کے اقلیتی حقوق کے اعلامیے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

اس عالمی جدوجہد میں پشتون ڈائسپورا کا سیاسی کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان، افغانستان اور خطے سے باہر آباد پشتون اب یورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور دیگر خطوں میں موجود ہیں۔ ان کی اہمیت صرف تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ مختلف معاشروں کے شہری ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے تاریخی، سماجی اور سیاسی تجربات کو عالمی سول سوسائٹی، میڈیا، پارلیمانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ ڈائسپورا نیٹ ورکس نے لندن، جنیوا اور دیگر عالمی مراکز میں احتجاج اور آگاہی کی سرگرمیاں کی ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ سمجھتی ہے کہ آج پشتون ڈائسپورا کو محض تماشائی یا بیرونِ وطن موجود ہمدردوں کے طور پر نہیں بلکہ پشتون سماج اور عالمی دنیا کے درمیان ایک پل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ جنیوا، نیویارک اور ٹورنٹو کی سرگرمیاں اسی وسیع تر رابطے کا حصہ ہیں، جہاں پشتون علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کو عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔

پشتون سوال کا مقدمہ جہاں پشتون وطن میں جاری ہے، وہیں اب اس کی آواز عالمی شہری اور انسانی حقوق کے فورمز تک بھی پہنچ رہی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے لیے عالمی سطح پر یہ کام اس وقت بامعنی ہوگا جب یہ مقامی متاثرین کی آواز، قابلِ تصدیق شواہد، پرامن سیاسی جدوجہد اور عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے ساتھ مربوط رہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

افغانستان پر مسلسل فضائی حملے اور پنجابی استعمار کا بڑھتا ہوا بحرانپشتون وطن میں بڑھتی ہوئی دھشتگردی اور پاکستان کی مہین...
22/09/2026

افغانستان پر مسلسل فضائی حملے اور پنجابی استعمار کا بڑھتا ہوا بحران

پشتون وطن میں بڑھتی ہوئی دھشتگردی اور پاکستان کی مہینوں سے جاری افغانستان پر فضائی حملوں کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف کے پشتونوں کی نسل کشی جاری ہے۔ اور یہ واقعات ایک بار پھر عوام کو اسی سوال کے سامنے لے آیا ہے جس سے ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے فرار اختیار کرتی آرہی ہے کہ آخر پاکستان میں جنگ ختم کیوں نہیں ہوتی؟ ہر چند سال بعد دہشت گردی کا ایک نیا دور، ایک نیا آپریشن، ایک نیا فرضی دشمن، ایک نیا سیکیورٹی بیانیہ اور پھر ایک نئی جنگ۔ دشمن بدلتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، نعروں کی زبان بدلتی رہی، لیکن ایک چیز مسلسل قائم رہی اور وہ ہے پاکستانی ریاست کی اپنی بقا اور سیاسی ناگزیر حیثیت کو سیکیورٹی اور جنگ کے ساتھ جوڑنے کی سیاست۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس بات کے مستند شواہد موجود ہیں کہ پاکستان میں ہونے والا ہر دہشت گرد حملہ خود ریاست کے مفاد میں ہے اور جنگی بحران جان بوجھ کر پیدا کیا جاتا ہے، تاکہ استعماری ریاست کو عوام کی نظر میں محافظ ریاست بنائے رکھے۔ ایک سادہ سا سوال ہے کہ ایک ایسی ریاست جس کی داخلی سیاسی حکمرانی کے اختیار کی قبولیت (لیجٹمیسی)، معاشی کارکردگی اور وفاقی ساخت مسلسل بحرانوں کا شکار ہو، کیا اس کے لیے مستقل ’’قومی سلامتی‘‘ کا بحران ایک ایسا سیاسی میدان نہیں بن جاتا جہاں ریاست اپنے آپ کو معاشرے کے سامنے دوبارہ ضروری اور ناگزیر ثابت کرتی ہے؟

پاکستان کی ریاستی ساخت کو اس کے تاریخی تناظر سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ریاستی اداروں، خصوصاً فوج، نے ملکی سیاست میں غیر معمولی مرکزی کردار اور بے بہا طاقت حاصل کی۔ 1958ء کا مارشل لا، 1977ء کا مارشل لا، 1999ء کی فوجی حکومت اور اس کے درمیان کے ادوار صرف سیاسی واقعات نہیں بلکہ اس ریاستی ساخت کی علامتیں ہیں جس میں منتخب سیاسی اداروں کے مقابلے میں سیکیورٹی اداروں نے ریاست کی تعریف اور ’قومی مفاد‘ متعین کرنے میں غیر معمولی اختیار حاصل کیا۔ نتیجتاً ’’ریاست‘‘ اور ’’سیکیورٹی‘‘ ایک دوسرے کے مترادف بنتے گئے۔ جبکہ جبری ریاست سازی اور جبری قوم سازی کے لئے ریاستی اور مُلکی مفاد کو ’قومی‘ مفاد کہہ کر بیانیہ گڑھا گیا، جبکہ یہ مفاد عین محکوم قوموں کے خلاف رہا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ریاستی طاقت کو مسلسل ایک بیرونی یا داخلی دشمن کی ضرورت رہی ہے۔ کبھی بھارت، کبھی سوویت یونین، کبھی افغانستان، کبھی دہشت گردی، کبھی بلوچستان، کبھی ’’خوارج‘‘ اور آج ’’فتنۃ الہندوستان‘‘۔ اور پاکستانی ریاست ان خود ساختہ دشمنوں کو اور اس جنگی بیانیوں کو اپنی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتا آرہا ہے۔ بصورت دیگر پاکستانی ریاست کی کوئی عوامی بنیادیں نہیں ہے۔ جنگ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ریاست خود کو ناگزیر بناتی ہے۔

اگر ریاست مسلسل خود کو ’’خطرے میں گھری ہوئی ریاست‘‘ کے طور پر پیش کرے تو پھر غیر معمولی ریاستی اختیارات، عسکری بجٹ، سیکیورٹی اداروں کا پھیلاؤ، محکوم قوموں کے وسائل پر قبضے، اور سیاسی فیصلوں میں عسکری مداخلت کو معمول کی سیاست کے بجائے ’قومی ضرورت‘ بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے۔ جنگ اس طرح صرف سرحد پر نہیں لڑی جاتی بلکہ جنگ ایک سیاسی ادارہ بن جاتی ہے۔

جنگ کا سرکاری اعداد صرف ”دہشت گردوں“ کی طاقت کا ثبوت نہیں بلکہ یہ ریاستی سیکیورٹی ماڈل کی کارکردگی پر بھی سوال ہیں۔ اگر گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان نے اپنی سیاست، خارجہ پالیسی، بجٹ اور ریاستی مشینری کا ایک بڑا حصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے گرد منظم کیا ہے تو پھر ہر سال جنگ مزید پھیل کیوں رہی ہے؟ اگر جنگ کامیاب نہیں ہورہی تو پھر جنگی ریاست کی ضرورت مسلسل کیوں بڑھ رہی ہے؟

یہاں ریاستی بجٹ بھی بہت کچھ بتاتا ہے۔ پاکستان کے وفاقی بجٹ 2026-27 میں ’ڈیفنس افئیرز اینڈ سروسز‘ کے لیے تقریباً 3.011 ٹریلین روپے مختص کیے گئے، جبکہ 2025-26 میں دفاعی اخراجات کا بجٹ تقریباً 2.558 ٹریلین روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے 2.122 ٹریلین روپے بجٹ کیے گئے تھے، لیکن اصل خرچ 2.194 ٹریلین روپے تک پہنچا، وہ بھی ان جنگوں پر جو کبھہ ہماری تھی ہی نہیں۔

’’فتنۃ الخوارج‘‘ اور ” فتنہ الہندوستان“ کا سرکاری بیانیہ بھی ایک دھوکا ہے آخر کار وہ اتنی طاقت حاصل کیسے کرتے ہیں؟ ان کی ریکروٹمنٹ، حرکت، فنانسنگ، اور کراس باڈر نیٹ ورکس کیوں برقرار رہتے ہیں؟ ریاست کی اینٹلی جنس اور سیکوریٹی آپریٹس کہاں ناکام ہوتا ہے؟ اور گزشتہ پالیسیوں نے اس پورے بحران کو کس طرح پیدا کیا؟ کیونکہ یہاں ایک بنیادی تضاد موجود ہے کہ افغانستان کا موجودہ بحران پاکستانی ریاست کے لیے مسئلہ بھی ہے اور سیکیورٹی بیانیے کے لیے سیاسی سرمایہ اور سٹریٹیجک اثاثہ بھی۔

جتنا زیادہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع بڑھے گا، اتنا ہی ’’قومی سلامتی‘‘ ریاستی سیاست کا مرکزی موضوع بنے گا۔ اور جب قومی سلامتی سیاست کا مرکزی موضوع بن جائے تو معاشی ناکامی، بے روزگاری، مہنگائی، وفاقی عدم مساوات، آئینی بحران، سیاسی جبر اور ریاستی جوابدہی کے سوال پیچھے چلے جاتے ہیں۔ گویا جنگ اور دہشت گردی ایک سموک سکرین کا کام کرتے ہیں، جس کے دھویں میں محکوم قوموں، اور عوام کے حقوق کا سوال ڈوب جاتا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان کے فوجی اور سویلین حکمران طبقے نے اپنے داخلی استعماری حکمرانی کے جواز کا متبادل خارجی سٹریٹیجک اہمیت کو بنا لیا ہے؟ لیکن اگر جنگ ختم ہوجائے، اگر افغانستان کے ساتھ امن ہوجائے، اگر بھارت کے ساتھ مستقل تنازع ختم ہوجائے، اگر دہشت گردی ختم ہوجائے اور اگر ریاست کو ہر وقت ’’قومی سلامتی‘‘ کے بحران کے ذریعے اپنی طاقت جسٹیفائی کرنے کی ضرورت نہ رہے، تو پھر عوام ریاست سے وہ بنیادی سوال پوچھیں گے جن سے جنگ انہیں مسلسل دور رکھتی ہے۔یہی وہ بنیادی بحران ہے جسے پشتون تحفظ موومنٹ ریاستی بیانیے کے پیچھے دیکھتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ استعماری ریاستی ساخت کے لیے جنگ صرف ایک خارجہ پالیسی کا آلہ نہیں رہی بلکہ جنگ ایک داخلی سیاسی ضرورت بھی بن چکی ہے۔ حالتِ جنگ میں ریاست اپنے آپ کو ’’ضروری‘‘ ثابت کرتی ہے۔ سیکیورٹی ادارے اپنی توسیع کا جواز حاصل کرتے ہیں۔ سیاسی سوال ’’قومی سلامتی‘‘ کے سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اختلاف کو خطرہ قرار دینا آسان ہوجاتا ہے۔ اور عوامی محرومیوں کے بجائے’’ملک کے دشمن‘‘ بحث کا مرکز بن جاتا ہے۔

اسی لیے پاکستان میں جنگ کا خاتمہ صرف دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کا سوال نہیں۔ یہ ریاستی ساخت کی ٹرانسفارمیشن کا سوال ہے، اور محکوم قوموں اور محنت کش عوام کے حق حمکرانی کا سوال ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

جعلی ریاستی بیانیہ’’فتنۃ الخوارج‘‘ اور ’’فتنۃ الہندوستان‘‘ کے پیچھے چھپا ریاستی پروپیگنڈہکوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے...
19/09/2026

جعلی ریاستی بیانیہ’’فتنۃ الخوارج‘‘ اور ’’فتنۃ الہندوستان‘‘ کے پیچھے چھپا ریاستی پروپیگنڈہ

کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے حملے میں 21 لوگ شہید ہوئے، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری شامل ہیں، جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے۔ پشتون تحفظ موومنٹ شہداء کے خاندانوں، زخمیوں اور کوہاٹ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
پشتونخواہ میں ہر سانحے کے بعد ریاستی بیانیہ چند مخصوص اصطلاحات کے گرد گھومتا ہے: ”فتنۃ الخوارج“ ’’فتنۃ الہندوستان‘‘، ’’غیر ملکی سرپرستی‘‘ اور ’’دشمن کی سازش‘‘۔ لیکن پشتون تحفظ موومنٹ ریاست سے یہ بنیادی سوال پوچھتی ہے کہ کسی حملہ آور کو ایک نام دے دینا ریاستی ذمہ داری سے کیسے بری الذمہ ہونے کا جواز بن سکتا ہے؟

اگر ریاست کا دعویٰ ہے کہ اسے معلوم ہے کہ دہشت گرد کون ہیں، ان کے نیٹ ورک کہاں ہیں، انہیں کون سپورٹ کرتا ہے اور وہ کہاں سے آتے ہیں، تو پھر عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ وہی ریاست انہیں روکنے میں بار بار کیوں ناکام ہوتی ہے؟ کوہاٹ پولیس لائنز کوئی دور افتادہ پہاڑی چوکی نہیں تھی یہ ایک اہم پولیس کمپلیکس تھا، جہاں پولیس اور سیکیورٹی کے متعدد ادارے موجود تھے۔ اس کے باوجود ایک حملہ آور بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ کمپلیکس تک پہنچا، دھماکہ ہوا اور اس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے اندر کارروائی کی۔ اور ریاستی اداروں نے دھماکے کے فوراً بعد سارا ملبہ نام نہاد ”فتنہ الخوارج“ اور ”فتنہ الہندوستان“ پر ڈال دیا۔ یہ دو نام دراصل ریاست نے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے ایجاد کیے ہیں۔ ریاست بار بار افغانستان پر مزید حملے کرنے کے لیے دھشتگردی کا سارا ملبہ ایکسٹرنلائز کر دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’فتنۃ الخوارج‘‘ کے سرکاری بیانیے کا بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ اگر دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ریاستی پالیسی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل فوجی، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اقدامات پر مبنی ہے تو پھر اعداد و شمار ہمیں ایک مختلف تصویر کیوں دکھاتے ہیں؟ Center for Research and Security Studies کے مطابق 2024 میں پاکستان میں 2,546 تشدد سے متعلق ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 1,616 خیبر پختونخوا میں تھیں یعنی ملک کی مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 63 فیصد۔ 2025 میں پاکستان میں یہی تعداد بڑھ کر 3,417 ہوئی جبکہ خیبر پشتونخوا میں 2,331 افراد مارے گئے یعنی صرف ایک سال میں پشتونخواہ کی ہلاکتوں میں تقریباً 44 فیصد اضافہ ہوا۔

تو سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ سیکیورٹی پالیسی کامیاب ہے تو پشتونخوا میں دھشتگردی مسلسل بڑھ کیوں رہی ہے؟ اور اگر ریاست تسلیم کرتی ہے کہ پالیسی ناکام رہی ہے تو پھر اس ناکامی کا سیاسی اور ادارہ جاتی احتساب کیوں نہیں ہوتا؟

لہٰذا ہمارا سوال اس پالیسی اور طاقت کے اس ڈھانچے سے ہے جو دہائیوں سے جنگ کو پشتونخوا کی مستقل حقیقت بنائے ہوئے ہے۔ جب ایک خطہ بار بار جنگ کا میدان بنتا ہے، اس کی معیشت تباہ ہوتی ہے، لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، نوجوان مارے جاتے ہیں، اور پھر ہر سانحے کے بعد صرف ایک نیا آپریشن اور ایک نیا دشمن کا نام سامنے آتا ہے، تو ہمیں صرف ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ نہیں بلکہ اس پورے سیاسی معاشی ڈھانچے پر سوال اٹھانا ہوگا جس میں یہ جنگ مسلسل پیدا ہوتی اور دوبارہ پیدا ہوتی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ریاست دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی آرہی ہے تاکہ ریاست کے ساخت کو جو اندرونی اور بیرونی مسائل درپیش ہے ان سے نبرد آزما ہوسکے اور فوج کو مزید کنٹرول سنبھالے کا جواز حاصل ہو۔

ہم کوہاٹ دھماکے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ پولیس لائنز جیسے حساس مقام پر حملہ آور کیسے پہنچے؟ انٹیلی جنس معلومات کہاں تھیں؟ سیکیورٹی حصار کیسے ٹوٹا؟ حملہ آوروں کے نیٹ ورک کی نشاندہی کیسے ہوئی؟ ریاست جن بیرونی قوتوں پر الزام عائد کرتی ہے ان کے خلاف کیا قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ تمام پالیسیاں کب زیرِ بحث آئیں گی جن کے نتیجے میں پشتونخوا مسلسل جنگ کا میدان بنی ہوئی ہے؟

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

پشتونخواہ وطن میں استعماری کرفیو، چیک پوسٹیں، کواڈ کاپٹر ڈرون اور ناکہ بندیاں ریاستی دہشتگردی کی بہترین مثال ہےپشتون تحف...
11/09/2026

پشتونخواہ وطن میں استعماری کرفیو، چیک پوسٹیں، کواڈ کاپٹر ڈرون اور ناکہ بندیاں ریاستی دہشتگردی کی بہترین مثال ہے
پشتون تحفظ موومنٹ

9/11 کے حملوں کو 25 سال گزر چکے ہیں، جنہوں نے دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ نام نہاد ’’عالمی جنگِ دہشت گردی‘‘ بش انتظامیہ نے چند ہی دنوں بعد شروع کی، اور اس کے بعد سے پاکستان نے پشتون سرزمین پر تباہی و بربادی کا جو سلسلہ شروع کیا، وہ آج تک جاری ہے۔

نظریاتی اداروں، بشمول ثقافتی صنعت، نے نوجوانوں اور بزرگوں کی کئی نسلوں کو اس یقین میں مبتلا کیا ہے کہ ’’دہشت‘‘ ہر جگہ موجود ہے اور ریاست کو اسے ختم کرنے کے لیے لامحدود اختیارات دیے جانے چاہئیں، خواہ اس کی قیمت بنیادی آزادیوں کی پامالی ہی کیوں نہ ہو۔

پاکستان ’’جنگِ دہشت گردی‘‘ کے بڑے اڈوں میں سے ایک رہا ہے، جہاں پشتون سرزمین پر بے شمار فوجی آپریشنز کیے گئے، جو آج بھی جاری ہیں۔ تشدد کو کم کرنے یا روکنے کے بجائے ریاست کے مختلف ’’انسدادِ دہشت گردی‘‘ اقدامات پشتونوں کے قتل کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ قتل و غارت بدستور جاری ہے اور اس میں مزید شدت آئی ہے۔

اب ریاستی پشت پناہی رکھنے والے سیکڑوں مسلح گروہ پشتونخوا کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں پشتونوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں بنوں، جانی خیل، بکا خیل، شمالی وزیرستان، میر علی، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان شامل ہیں۔

وزیرستان اور ٹانک میں کرفیو اب معمول بن چکا ہے۔ صرف ایک روز قبل وزیرستان کی تحصیل سرواکئی میں مسلسل چار روز تک کرفیو نافذ کیا گیا۔ ٹانک میں کرفیو نافذ کرنا گویا پورے خطے کو بند کر دینے کے مترادف ہے؛ برطانوی بھی تقریباً 70 سال قبل یہی طریقہ اختیار کرتے تھے۔

پشتونخوا، خصوصاً وزیرستان اور ٹانک میں، شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہے جب کواڈ کاپٹر ڈرون کے حملوں میں کوئی پشتون زخمی یا شہید نہ ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مستقبل کی کسی بڑی جنگ کے لیے ایک وسیع تر اڈہ بنانے کی خاطر ٹانک کو آبادی سے خالی کیا جا رہا ہے۔

لوگوں کی جارحانہ تلاشیوں اور چیک پوسٹوں پر طویل انتظار کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ متنازعہ انٹری سسٹم کو بھی ایک بار پھر فعال کر دیا گیا ہے۔ ٹانک–ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر ایک بڑی ڈائیورژن بنائی گئی ہے، جو بظاہر صرف لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے ہے۔ ٹانک اور وزیرستان کا پورا خطہ ناکہ بندی اور کرفیو کی زد میں ہے۔

جو لوگ پشتونوں کے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے حوالے سے عسکریت زدہ حکمرانوں کے سامنے سچ بولتے ہیں، انہیں قید کیا جاتا ہے یا جبری طور پر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ پشتونوں کی جدوجہد اور مزاحمت کو ہر بار دبانے اور چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ ہر واقعے کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دے کر ریاست اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے، جس میں تمام تر عقل و شعور کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

نام نہاد ’’جنگِ دہشت گردی‘‘ کے 25 سال گزرنے کے باوجود، پشتون سرزمین پر فوجی آپریشنز کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ خطہ آج بھی ناکہ بندی، کرفیو، ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں، کواڈ کاپٹر ڈرون حملوں، سخت چیک پوسٹوں، انٹرنیٹ کی بندش اور شدید عسکریت پسندی کی زد میں ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

پاکستانی ریاست کی افغان دشمن پالیسیاں نا منظور پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے خلاف ریاستی فیصلے ...
09/09/2026

پاکستانی ریاست کی افغان دشمن پالیسیاں نا منظور

پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے خلاف ریاستی فیصلے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ افغان طلبہ کے نئے داخلے روکنا اور پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنے تعلیمی ادارے چھوڑنے پر مجبور کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ ریاست نے اپنے سیاسی ناکامی کا بوجھ بھی عام افغان عوام اور طلبہ پر ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حالیہ حکومتی ہدایات کے مطابق میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں افغان طلبہ کے داخلے روکنے اور موجودہ طلبہ کو واپس بھیجنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ فیصلہ پاکستان کی کئی دہائیوں پر محیط افغان پالیسی کا تسلسل ہے۔ جس ریاست نے برسوں تک افغانستان کو اپنی ”اسٹریٹجک ڈیپتھ“، پراکسی جنگوں اور علاقائی طاقت کے کھیل کا میدان بنائے رکھا، آج اسی پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کی قیمت افغان عوام سے وصول کر رہی ہے۔ پشتون عوام نے ان پالیسیوں کے نتیجے میں جنگ، تباہ شدہ معیشت اور تباہ حال سماجی ڈھانچہ دیکھا ہے۔ اب اسی جنگ کی سزا ان نوجوانوں کو دی جا رہی ہے جو کتاب اور قلم کے ذریعے اپنا مستقبل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے بارہا کہا ہے کہ ریاستوں کے باہمی تنازعات کا بوجھ عوام پر ڈالنا سامراجی اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کی علامت ہے۔ پاکستان کسی مسلح گروہ کی کارروائی کو بنیاد بنا کر افغان طلبہ، یا عام افغان شہریوں کو سزا دے رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے سراسر خلاف ہے۔

افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ 2026ء میں پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی اقوام متحدہ کی جانب سے بھی تصدیق ہوئی ہے جون میں UNAMA نے 13 شہریوں کی ہلاکت اور 10 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ پشتون تحفظ موومنٹ ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے نام پر پورے خطے کے عوام کو نشانہ بنانے کی پالیسی بھی کسی صورت قبول نہیں کرتی۔

بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول ہے کہ جنگ میں بھی شہری آبادی کو تحفظ حاصل ہے۔ امتیاز (Distinction)، تناسب (Proportionality) اور احتیاط (Precautions) کے اصول ریاستوں کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کو بلاامتیاز نشانہ نہ بنایا جائے۔
اسی طرح افغان طلبہ کو ان کی قومیت کی بنیاد پر تعلیم سے محروم کرنا بھی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ Universal Declaration of Human Rights کا آرٹیکل 26 ہر شخص کے حقِ تعلیم کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights (ICESCR) کا آرٹیکل 13 ریاستوں کو تعلیم کے حق کا احترام کرنے کا پابند بناتا ہے۔ لہٰذا تعلیم کو ریاستی انتقام کا ہتھیار بنانا قابلِ مذمت ہے۔

اسی طرح جبری واپسی کا مسئلہ بھی بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ 1951 Refugee Convention کے آرٹیکل 33 میں non-refoulement کا اصول موجود ہے، جس کے تحت ایسے پناہ گزین کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اس کی زندگی یا آزادی کو سنگین خطرہ لاحق ہو۔ پاکستان اگرچہ 1951 Refugee Convention کا فریق نہیں، لیکن کسی بھی واپسی کے عمل میں انسانی حقوق اور non-refoulement سے متعلق وسیع تر بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پشتون تحفظ موومنٹ سمجھتی ہے کہ افغان عوام دشمن نہیں بلکہ اسی جنگی نظام کے سب سے بڑے متاثرین ہیں جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون خطے کو میدانِ جنگ بنا رکھا ہے۔ پاکستان کی ناکام افغان پالیسی کی سزا آج ہر افغان کو مل رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی پاکستانی ریاست میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ جسکا اظہار وہ بار بار عام پشتونوں کے قتل عام کے ذریعے کرتے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف روز اول سے واضح ہے کہ پشتونوں کو مزید کسی ریاستی جنگ کا ایندھن نہیں بننے دیا جائے گا۔ ہماری سرزمین کسی ریاست کی ”اسٹریٹجک ڈیپتھ“ نہیں، یہاں انسان بستے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

مریم نواز کو ہندوستان سے مسئلہ نہیں ہے، مگر محکوم صوبوں سے مسئلہ ہے۔مریم نواز!کیا پختونخوا اور بلوچستان میں عام عوام پر ...
07/09/2026

مریم نواز کو ہندوستان سے مسئلہ نہیں ہے، مگر محکوم صوبوں سے مسئلہ ہے۔
مریم نواز!
کیا پختونخوا اور بلوچستان میں عام عوام پر جیٹ طیاروں کی بمباریاں، ڈرون حملے، لاپتہ افراد، ٹارگٹ کیلنگ، جعلی عدالتی سزائیں، قومی رہنماؤں کی ناحق قید و بند ہندوستان نے کی ہے یا پڑوسی صوبے پنجاب کے جرنیلوں نے؟
پختون اور بلوچ کے وجود کو پنجاب سے خطرہ ہے۔تم خطرے کی بات کر رہی ہو ہم تو عملاً انتہائی وحشیانہ انداز سے تباہ برباد ہورہے ہیں ، صرف گزشتہ تین مہینے کا ریکارڈ دیکھ لیں کہ پختونخوا میں فوج کے کاڈ کاپٹر حملوں سے کتنے بچے اور عورتیں شہید ہو گئے ہیں۔
اج تک ہم پر سارے مظالم، قتل عام ، بدامنی، وسائل کی لوٹ مار، لاپتہ افراد، ہمارے سیاسی رہنماؤں کی قید، کاڈ کاپٹر حملوں میں روزانہ بچوں اور عورتوں کی شھداتیں ان سب کے پیچھے پنجاب کے جرنیل اور سیاستدان ہے۔
پشتون، بلوچ، سندھی، کشمیری، سرائیکی اور گلگت بلتستانیوں کے اپنے اپنے تاریخی وطنوں کو پنجابی فوج نے تباہ و برباد کیا ہے اور مزید کر رہے ہیں۔
محکوم قوموں کے تیل، گیس، بجلی، پانی، ساحل اور دیگر وسائل کی مسلسل چوری کرنے والے پنجابی اشرافیہ، محکوم قوموں کے لاکھوں انسانوں کے قاتل پنجابی فوج، اور محکوم قوموں کی تاریخ، ثقافت اور زبان تک ان سے چھیننے والی پالیسیاں بنانے والے پنجابی سیاستدانوں کے منبع پنجاب کو کوئی حق نہیں کہ وہ پنجابی فوج کے پالیسیوں کے ماتحت بنے کرنل امام کے ٹریننگ کیمپوں کی شکایت پختونخوا سے کرے۔
مشر منظور احمد پشتین

د مرکزی ډیسپلین کمېټې د اسلام اباد  تنظیم په اړه  پرېکړهد پشتون ژغورنې غورځنګ (PTM) مرکزي  ډیسپلین کمیټي  او اسلام اباد ...
07/09/2026

د مرکزی ډیسپلین کمېټې د اسلام اباد تنظیم په اړه پرېکړه

د پشتون ژغورنې غورځنګ (PTM) مرکزي ډیسپلین کمیټي او اسلام اباد ډیسپلین کمیټي په مشوره پرېکړه کړې چې
سرم جان، طیب صافي او ارعسان د تنظیمي اصولو او فیصلو د نه مراعتولو، بې‌تنظیمه فعالیتونو او د تنظیم د نظم او یووالي د زیانمنولو له امله، د پنځو (۵)میاشتو لپاره له غړیتوبه تعلیق/کینسل شي.

په دې موده کې به د دوی فعالیتونه وڅارل شي؛ که بیا د تنظیم د اصولو خلاف فعالیت وکړي، غړیتوب به یې دایمي لغوه شي.

د یادې مودې په جریان کې به دوی د پی ټي ایم په رسمي پروګرامونو، غونډو او تنظیمي فعالیتونو کې د ګډون حق نه لري، او د دوی شخصي څرګندونې به د پی ټي ایم له رسمي دریځ سره تړاو نه لري.

مرکزي ډیسپلین کمېټي
پښتون ژغورنې غورځنګ

Address

Peshawar

Telephone

+923249069687

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Press & Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PTM Press & Information:

Shortcuts

Share