19/09/2026
جعلی ریاستی بیانیہ’’فتنۃ الخوارج‘‘ اور ’’فتنۃ الہندوستان‘‘ کے پیچھے چھپا ریاستی پروپیگنڈہ
کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے حملے میں 21 لوگ شہید ہوئے، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری شامل ہیں، جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے۔ پشتون تحفظ موومنٹ شہداء کے خاندانوں، زخمیوں اور کوہاٹ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
پشتونخواہ میں ہر سانحے کے بعد ریاستی بیانیہ چند مخصوص اصطلاحات کے گرد گھومتا ہے: ”فتنۃ الخوارج“ ’’فتنۃ الہندوستان‘‘، ’’غیر ملکی سرپرستی‘‘ اور ’’دشمن کی سازش‘‘۔ لیکن پشتون تحفظ موومنٹ ریاست سے یہ بنیادی سوال پوچھتی ہے کہ کسی حملہ آور کو ایک نام دے دینا ریاستی ذمہ داری سے کیسے بری الذمہ ہونے کا جواز بن سکتا ہے؟
اگر ریاست کا دعویٰ ہے کہ اسے معلوم ہے کہ دہشت گرد کون ہیں، ان کے نیٹ ورک کہاں ہیں، انہیں کون سپورٹ کرتا ہے اور وہ کہاں سے آتے ہیں، تو پھر عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ وہی ریاست انہیں روکنے میں بار بار کیوں ناکام ہوتی ہے؟ کوہاٹ پولیس لائنز کوئی دور افتادہ پہاڑی چوکی نہیں تھی یہ ایک اہم پولیس کمپلیکس تھا، جہاں پولیس اور سیکیورٹی کے متعدد ادارے موجود تھے۔ اس کے باوجود ایک حملہ آور بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ کمپلیکس تک پہنچا، دھماکہ ہوا اور اس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے اندر کارروائی کی۔ اور ریاستی اداروں نے دھماکے کے فوراً بعد سارا ملبہ نام نہاد ”فتنہ الخوارج“ اور ”فتنہ الہندوستان“ پر ڈال دیا۔ یہ دو نام دراصل ریاست نے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے ایجاد کیے ہیں۔ ریاست بار بار افغانستان پر مزید حملے کرنے کے لیے دھشتگردی کا سارا ملبہ ایکسٹرنلائز کر دیتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’فتنۃ الخوارج‘‘ کے سرکاری بیانیے کا بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ اگر دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ریاستی پالیسی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل فوجی، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اقدامات پر مبنی ہے تو پھر اعداد و شمار ہمیں ایک مختلف تصویر کیوں دکھاتے ہیں؟ Center for Research and Security Studies کے مطابق 2024 میں پاکستان میں 2,546 تشدد سے متعلق ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 1,616 خیبر پختونخوا میں تھیں یعنی ملک کی مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 63 فیصد۔ 2025 میں پاکستان میں یہی تعداد بڑھ کر 3,417 ہوئی جبکہ خیبر پشتونخوا میں 2,331 افراد مارے گئے یعنی صرف ایک سال میں پشتونخواہ کی ہلاکتوں میں تقریباً 44 فیصد اضافہ ہوا۔
تو سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ سیکیورٹی پالیسی کامیاب ہے تو پشتونخوا میں دھشتگردی مسلسل بڑھ کیوں رہی ہے؟ اور اگر ریاست تسلیم کرتی ہے کہ پالیسی ناکام رہی ہے تو پھر اس ناکامی کا سیاسی اور ادارہ جاتی احتساب کیوں نہیں ہوتا؟
لہٰذا ہمارا سوال اس پالیسی اور طاقت کے اس ڈھانچے سے ہے جو دہائیوں سے جنگ کو پشتونخوا کی مستقل حقیقت بنائے ہوئے ہے۔ جب ایک خطہ بار بار جنگ کا میدان بنتا ہے، اس کی معیشت تباہ ہوتی ہے، لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، نوجوان مارے جاتے ہیں، اور پھر ہر سانحے کے بعد صرف ایک نیا آپریشن اور ایک نیا دشمن کا نام سامنے آتا ہے، تو ہمیں صرف ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ نہیں بلکہ اس پورے سیاسی معاشی ڈھانچے پر سوال اٹھانا ہوگا جس میں یہ جنگ مسلسل پیدا ہوتی اور دوبارہ پیدا ہوتی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ریاست دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی آرہی ہے تاکہ ریاست کے ساخت کو جو اندرونی اور بیرونی مسائل درپیش ہے ان سے نبرد آزما ہوسکے اور فوج کو مزید کنٹرول سنبھالے کا جواز حاصل ہو۔
ہم کوہاٹ دھماکے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ پولیس لائنز جیسے حساس مقام پر حملہ آور کیسے پہنچے؟ انٹیلی جنس معلومات کہاں تھیں؟ سیکیورٹی حصار کیسے ٹوٹا؟ حملہ آوروں کے نیٹ ورک کی نشاندہی کیسے ہوئی؟ ریاست جن بیرونی قوتوں پر الزام عائد کرتی ہے ان کے خلاف کیا قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ تمام پالیسیاں کب زیرِ بحث آئیں گی جن کے نتیجے میں پشتونخوا مسلسل جنگ کا میدان بنی ہوئی ہے؟
پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات