Institute of Research and Development Studies (IRDS)

Institute of Research and Development Studies (IRDS)

Share

Since its establishment in 2000, IRDS has been offering training and consulting services in proposal development, report writing, M&E, and social research.

IRDS specializes in agriculture, livelihoods, community development, and gender mainstreaming. Established in 2000 as training and consulting firm, IRDS is mandated to strengthen the efforts for sustainable social development through provision of training and consulting services to profit and non-profit organizations, development projects and the government institutions.

21/11/2025

Introducing Stayzay — Your New Home Away From Home.

Experience comfort, style, and serenity in our fully furnished 2-bed luxury apartment in Gulberg Greens, Islamabad.
Whether you’re visiting for work, family, or a peaceful getaway — your perfect stay begins here.

📍 Prime Location | 🌙 Cozy Ambience | 🏡 Designed for You.

Book your stay today!
☎️ +92 3329938547

Stayzay.pk

28/07/2025

ابن خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک عجیب بات کہی!
اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیے ہیں
سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.

25/07/2025

Mexico made plastic from cactus — and it disappears like a leaf in the dirt

In a small lab in Guadalajara, surrounded by desert succulents and the sharp scent of green nopal, Mexican chemical engineer Sandra Pascoe Ortiz has done something that could rewrite the future of packaging. She has created plastic — not from oil, but from cactus juice. And when it’s tossed into the soil, it vanishes like a fallen leaf in the rain.

The key ingredient? The common prickly pear cactus, known as “nopal” in Mexico — a plant so abundant it’s found in gardens, fields, even on dinner plates. Ortiz’s breakthrough lies in extracting the viscous, sticky juice from its thick green pads and turning it into a polymer film that mimics the flexibility and strength of plastic — without any of the toxins or environmental cost.

What sets this cactus plastic apart isn’t just that it’s plant-based — it’s how fast it disappears. In regular garden soil, it biodegrades in just 2 to 3 months. In water, it dissolves in less than a week. No microplastics. No residues. No landfill centuries. The material is also edible and non-toxic, making it safe for wildlife and ocean life alike — a vital factor in a planet drowning in plastic waste.

Even more impressive, the process doesn’t harm the cactus. Only mature leaves are trimmed, allowing the plant to regenerate naturally. The juice is mixed with glycerin, natural waxes, and proteins, then poured into molds and dried — no synthetic chemicals, no industrial waste. It’s low-energy, low-cost, and perfectly tailored to the arid Mexican climate.

Today, Ortiz’s cactus plastic is being prototyped for use in bags, packaging, and even edible wrappers. In rural markets and coastal towns where plastic pollution is devastating ecosystems, the cactus could become more than a crop — it could be the future of circular design.

Mexico’s deserts may have just handed us the solution to a global crisis — one green paddle at a time.
Courtesy: Mr. Wonder

25/07/2025

Deserts, often seen as lifeless and infertile, are now being transformed into fertile farmland through an innovative technique developed by the Norwegian company **Desert Control**. Their breakthrough technology involves mixing clay and water to create **Liquid Natural Clay (LNC)**, which is then sprayed onto sandy soil. This mixture allows sand to retain water and nutrients, dramatically improving its ability to support plant life. Within just seven hours of application, desert sand can behave like fertile soil, making agriculture possible in regions once deemed unsuitable.

The environmental and economic potential of this technology is immense. It drastically reduces the need for irrigation—up to 50% less water is required—making it a powerful tool in regions facing water scarcity. This method not only combats desertification but also supports food security by expanding arable land. As climate change intensifies, solutions like LNC may help restore degraded ecosystems and offer hope for sustainable farming in arid zones.
Courtesy: The Knowledge Factory 🙏

25/07/2025

بابوسر سیلاب: لالچ اور بے حسی کی انوکھی کہانی

تحریر: عامر حسین

تھک نالے میں، بابوسر کے قریب گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں آنے والا تباہ کن سیلاب کوئی قدرتی حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک نا خوشگوار تنبیہ تھی کہ کیسے بے لگام لالچ، سیاسی گٹھ جوڑ اور اداراتی ناکامی، ماحولیاتی تبدیلی کو انسانی المیے میں بدل سکتی ہے۔ تھک نالے کا سانحہ — جہاں تندوتیز پانی نے گاڑیاں، سیاحوں اور پوری پوری زندگیاں بہا دیں — محض بارش یا موسمی تغیر کا نتیجہ نہ تھا۔ یہ دانستہ اور مسلسل جنگلات کی کٹائی کا شاخسانہ تھا، جہاں ایک مخصوص طبقہ قدرتی ماحول کو انسانی بقاء کا ضامن نہیں بلکہ منافع کمانے کی ایک دکان سمجھتا ہے۔
دیامر ڈویژن، جو کبھی پاکستان کے چند بچے ہوءے مقامی صنوبری اور جنیپر کے جنگلات کا گھر تھا، گزشتہ دو دہائیوں سے منظم طریقے سے لٹتا چلا آیا ہے۔ وہ جنگلات جو ماحول کے تحفظ اور زمین کے کٹاوکو روکنے اور قدرتی افات کے سامنے صف اول دستے کی طرح کھڑے تھے، پہاڑی در پہاڑی، درخت در درخت، افسر شاہی، سیاسی خاندانوں اور کاروباری اتحادیوں کی عیاشی کی بھوک مٹانے کے لیے کاٹ ڈالے گئے۔ گلوبل فاریسٹ واچ کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق 2001ء سے 2022ء تک پاکستان میں 1,46,000 ہیکٹر سے زائد درختوں پر مشتمل رقبہ بے دردی کے ساتھ کاٹ کر ختم کر دیا گیا — اور دیامر اس تباہی میں سرِ فہرست ہے۔ صرف تھک نالے میں گزشتہ چھ سالوں میں جنگلاتی رقبے میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ اعداد و شمار محض کتابی حقائق نہیں؛ یہ بڑھتے ہوئے آبی خطرات کے براہِ راست مظہر ہیں۔
سائنسی لحاظ سے، جنگلات کی کٹائی اور سیلاب کے درمیان تعلق ناقابلِ تردید ہے۔ جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرتے، زمین کو مستحکم رکھتے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران بہاؤ کی شدت کم کرتے ہیں۔ جب درختوں کا سایہ اٹھ جاتا ہے، بارش بے درخت اور بنجر زمین پر براہِ راست گرتی ہے، جس سے زمین کھسکتی ہے، اچانک سیلاب آتے ہیں اور دریا گدلے ہو جاتے ہیں۔ پہاڑی ماحولیات پر متعدد تحقیقی مطالعات ثابت کرتے ہیں کہ جنگلات سے محروم علاقوں میں پانی کے بہاؤ کا ردِعمل جنگلاتی علاقوں کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔ بابوسر میں ابرِ باراں کا واقعہ، جو عام حالات میں جنگلاتی ڈھال کے تحت قابو کیا جا سکتا تھا، مہلک اس لیے بنا کہ ڈھلانیں ننگی تھیں اور مٹی پانی جذب کرنے کا وصف کھو چکی تھی۔
اور پھر سب سے زیادہ مجرمانہ ثبوت تھا: لکڑی کے تختے۔ سیلاب کا پانی جڑوں سے اکھڑے درختوں کو بہا لے جائے، یہ قدرتی جنگلات میں عام بات ہے۔ لیکن تھک نالے کے سیلاب میں تیرتی ہوئی جو لکڑی نظر آئی، وہ مختلف تھی۔ ویڈیو فوٹیج اور چشم دید گواہوں کے بیانات میں تازہ کٹی ہوئی لکڑی نظر آئی، جس پر اکثر انسانی بنائے ہوئے نشانات تھے۔ یہ طوفان سے گرائے گئے درخت نہہں تھے۔ یہ لالچ کے زخم تھے — وہ لکڑی جو ایک مافیا نے کاٹی، بیچی اور ذخیرہ کی تھی، اور ستم ظریفی دیکھیے یہ سب اُنہی اداروں کے سرپرستانہ سائے میں ہوا جو دراصل جنگلات کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔
یہاں گلگت بلتستان حکومت کی کا ذکر ہمارے شہ سرخیاں دینے والے صحافیوں کی طرح محض اتفاقی نہیں؛ یہ سارے المیے کا مرکزی محور ہے۔ 2024ء میں موجودہ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ نے لکڑی کی کٹائی کے لیے سرکاری کوٹے کا ایک عجیب اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع پالیسی متعارف کرایا۔ اسے "دیہی معاش کو سہارا دینے" کے غریب نواز اقدام کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت میں یہ پالیسی صنعتی پیمانے پر درخت کاٹنے کے لیے قانونی چھتری بن گئی۔ نہ کوئی معتبر ماحولیاتی منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا، نہ آزاد نگران کمیٹیاں بنائی گئیں۔ بلکہ، جنگلات کی نیلامی ان پالیسی ساز کمروں میں ہوئی جو ان جنگلات پر انحصار کرنے والی مقامی ابادی سے کوسوں دور تھے۔
زخم پر نمک چھڑکنے والی بات ریاستی مشینری کا منافرانہ رویہ ہے۔ جہاں سرکاری مہمات میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے جنگلات کے تحفظ کی تبلیغ کرجاتی ہے۔ وہیں موجودہ اور سابقہ اسمبلی ارکان، اعلیٰ بیوروکریٹس اور سیاسی تعلقات رکھنے والے تاجروں کے محلات نما گھروں میں تراشیدہ دیودار کی چھتیں، لکڑی سے چلنے والی انگیٹھیاں اور پر تعیش لکڑی کے اندرونی نقش و نگار کی دھوم ہے۔ اعلیٰ طبقے کے رہائشی منصوبوں میں لکڑی کے استعمال کا کوئی عوامی حساب کتاب نہیں۔ کوئی جوابدہی کا نظام نہیں جو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور وزرا کے لیے مخصوص رہائش گاہوں میں ایندھن کی لکڑی کے ماخذ کو ٹریک کرے۔ یہ افراد کی ذاتی بدانتظامی کے الگ تھلگ واقعات نہیں — یہ ریاستی ڈھانچے کی سرپرستی میں عوامی قدرتی وسائل کی اجتماعی لوٹ ہے۔
محکمہ جنگلات، جس کو ماحول کا محافظ ہونا چاہیے، اس ماحولیاتی لوٹ میں ایک سہولت کار دلال بن کر رہ گیا ہے۔ یہ اجازت نامے جاری کرتا ہے، غیر قانونی کٹائی کی رپورٹ ہونے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے، اور اکثر صورتوں میں اسمگل شدہ لکڑی کی نقل و حرکت کو بڑے تپاک کے ساتھ ط آسان بناتا ہے۔ جو فیلڈ افسر مزاحمت کرتے ہیں، انہیں سیاسی طور پر تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا اس سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے۔ جو لوگ تعاون کرتے ہیں، انہیں ترقیوں اور سیاسی پشت پناہی سے نوازا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ایک ایسا ماحول پیدا ہوا ہے جہاں ماحولیاتی جرائم نہ صرف نظر انداز کیے جاتے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
اس سارے المیے کا سب سے المناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاں ہے۔ تھک نالے کے سیلاب میں جو لوگ ہلاک ہوئے، وہ عام شہری اور بے خبر سیاح تھے۔ وہ فیصلہ سازی کرنے والی اشرافیہ کا حصہ نہ تھے، نہ ہی جنگلات کی تباہی سے انہیں کوئی منافع پہنچا۔ پھر بھی، یہ انہی کی جانیں گئیں، انہی کے خاندان تباہ ہوئے، اور انہی کا مستقبل اس سیلاب کی گار اور ملبے میں دفن ہو گیا جو روکا جا سکتا تھا۔ یہ مبالغہ نہ ہو گا کہ جنگلات کی کٹائی کی اجازت دینے، اسے ممکن بنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد، قانونی طور پر نہ سہی مگر اخلاقی طور پر بابوسر کی اموات کے ذمہ دار ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ فوری احتساب ہو۔ گلگت بلتستان بھر میں نجی اور سرکاری دونوں طرح کی جائیدادوں میں لکڑی کے استعمال کا جامع اور آزادانہ حساب کتاب یا اڈٹ ہونا چاہیے۔ جنہوں نے چوری کے جنگلات سے شاہانہ گھر بنائے ہیں، ان کے نام نشر ہونے چاہئیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو نہ صرف اپنی ناکام پالیسیوں بلکہ اس آفت کے سامنے خاموش رہنے پر بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اسی طرح ان طاقتور حلقوں کا کردار بھی اہم ہے — جو گلگت بلتستان کے اندر اور باہر سے — ایسے لوگوں کو سرپرستی کے ذریعے اقتدار تک لائے۔ اس ماحولیاتی تباہی میں ان کی معاونت کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ماحولیاتی تباہی غیر سیاسی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ایک گھناونی اور گہری سیاست ہے۔ دیامر کے جنگلات حادثاتی طور پر نہیں کاٹے گئے؛ انہیں پالیسی، طاقت اور منافع کی بھٹی میں جھونکا گیا۔ بابوسر کے سیلاب قدرت کا بے ترتیب مظاہرہ نہیں ہیں۔ یہ قدرتی وسائل پر اشرافیہ کے قبضے کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ جب تک ہم ان جالوں کو نہیں توڑتے جو درختوں کو سکے اور آفتوں کو بھلائے جانے والے سرخیوں میں بدلتے ہیں، بابوسر جیسے المیے بار بار دہرائے جاتے رہیں گے۔
گلگت بلتستان ایشیا کا ماحولیاتی اعتبار سے نازک ترین اور جغرافیائی سیاسی لحاظ سے اہم ترین خطہ ہے۔ یہاں کے دریاؤں، گلیشیئرز اور جنگلات پر جو گزرتی ہے، وہ اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا اثر سارے وسیع و عریض دریائے سندھ کے طاس پر پڑتا ہے، لاکھوں افراد کی خوراک اور پانی کی سلامتی متاثر ہوتی ہے، اور برصغیر کے موسمی مستقبل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ محض ایک مقامی مسئلہ نہیں — یہ ایک بین ریاستی مسئلہ ہے۔ اور اس کے لیے ہمدردی سے کہیں زیادہ ضرورت انصاف کی ہے.



25/07/2025

International Writers’ Workshop 2026, Hong Kong | Fully Funded

Dates: 2 March to 29 March 2026.

Link: https://scholarshipscorner.website/hkbu-international-writers-workshop/

Benefits: Participants will receive round-trip economy airfare, four weeks of on-campus accommodation at HKBU, and a per diem.

Founded in 2004, HKBU’s International Writers’ Workshop has hosted 150+ writers from 55+ countries.

Deadline: 7 September, 2025.

Credit: ASIA-EUROPE FOUNDATION (ASEF) 2017
This content is based on and adapted from information available on the official website. Details are subject to change. For any credit or content inquiries, please contact us.

24/07/2025

The Corporate Approach to Problem-Solving.
Courtesy: Lean Six Sigma Global 🙏

10/06/2025

جو مال سرمایہ دار کے کارخانے میں بنتا ہے وہ کبھی سستا نہیں ہوگا۔

PULSE – Punjab Urban Land Systems Enhancement 16/05/2025

Punjab Urban Land Systems Enhancement (PULSE) Project
Board of Revenue, Punjab with the technical & financial support of World Bank is preparing Punjab Urban Land System Enhancement (PULSE) project for the establishment of a unified central database of all types of urban properties (societies / authorities / development agencies), rights and charges. The proposed system will not merely a GIS & Parcel based one but has all possible functionalities to serve as a robust platform for creation of ‘Spatial Data Infrastructure’ (SDI), an inevitable need of the future. The project will provide a complete and transparent record of title in land and immovable property. Digitization of remaining parts of rural land, digitization of katchi abadi record, automation of sub-registrar record rooms are also part of the project.

PULSE – Punjab Urban Land Systems Enhancement W świecie kasyn internetowych 2024 rok zapowiada się naprawdę obiecująco. Jako entuzjasta gier online nie mogę przejść obojętnie obok różnorodnych bonusów, które oferują polskie platformy. Od klasycznych premii powitalnych po bardziej kreatywne rozwiązania, takie jak cashbacki czy darm...

Modi’s water war bound to fail, warns Indian expert 29/04/2025

کیا بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟

Modi’s water war bound to fail, warns Indian expert ISLAMABAD: A prominent Indian water expert has termed the Modi government’s plan to stop water flows to Pakistan an exercise in futility, warning that abrogating the Indus Waters Treaty would...

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Peshawar
25100