URDU ADAB

URDU ADAB

Share

All urdu stuff at one place.

12/05/2022
19/03/2021

پگڑیوں کے اکثر فیصلے
دوپٹوں کو ہی جھیلنے پڑتے ہیں

04/12/2020

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں..
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے.

12/03/2019

وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
خاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم

یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیں
جیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

اس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں
زر کی جھنکار پہ بلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس کا جی چاہے وہ انگلی پہ نچا لیتا ہے
جیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

ہنسی آئے بھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی یوں تیرے زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم

آسمان اپنا، زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھر
جانے کس بات پہ اترائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس طرح چاہے بنا لے ہمیں وقت قتیل
درد کی آنچ پہ پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

( قتیل شفائی)

28/09/2018

’’(فلم) مغلِ اعظم کی جو زبان تھی نہ وہ اکبر جانتا تھا نہ سلیم جانتا تھا نہ انارکلی جانتی تھی۔ اس زمانے میں اردو اتنی ڈویلوپ ہی نہیں تھی مجھے شک ہے کہ اکبر کو معلوم بھی تھا کہ اردو نام کی کوئی زبان ہے دنیا میں، وہ تو بیچارہ فارسی بول لیتا تھا، کاٹھیا واڑی بولتا تھا، ہندی بولتا تھا پنجابی بولتا تھا، کیا آپکو معلوم ہے وہ (اکبر) پنجابی بولتا تھا؟ اردو تو (اس زمانے میں) تھی ہی نہیں۔ پنجابی بولنا اتنا برا کام نہیں۔ مغل دربار میں اردو تو تب گئی جب مغل دربار تباہ ہو چکا۔ مغلوں کا اردو سے کوئی واسطہ تھا ہی نہیں۔ اکبر کا حلیہ جو آٓپ مغل اعظم میں دیکھتے ہیں یہ اسکا حلیہ تھا ہی نہیں۔ وہ ایک لنگی پہنتا تھا ایک چھوٹی سی بنڈٰ پہنتا تھا اور سر پر سفید کپڑا باندھتا تھا۔ یہ اسکا حلیہ تھا۔
زبان علاقوں کی ہوتی ہے مذہب کی ہو نہیں سکتی۔ جتنا اچھا حصہ لٹریچر کا پروڈیوس ہوا ہے. پچھلے سو سال میں اسکا میجر حصہ پنجاب سے آیا ہے۔ پنجاب نے بڑے رائٹرز پیدا کیے ہیں۔

یہ یک جھوٹ بولا گیا کہ لینگویج جو ہے وہ ایک ریلیجن کی ہے۔ رائٹ ونگ مسلم اور رائٹ ونگ ہندو دونوں نے جھوٹ بولا۔ 1798 میں شاہ عبدالقادر نے قرآن کا ترجمہ اردو میں کیا۔۔۔ قرآن کا ترجمہ سندھی میں اس سے سات سو سال پہلے ہو چکا تھا۔ دس کروڑ مسلمان جو بنگلہ دیش میں تھے انھوں نے کہا کہ ہم اردو نہیں پڑھیں گے ہم بنگلہ پڑھیں گے، میری مادری زبان اردو ہے مگر میں انکے ساتھ ہوں۔ انکو پورا حق ہے اپنی ماں بولی پڑھنے کا اور انھیں کوئی مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اردو اپنی ماں بولی کی قیمت پر پڑھیں۔ جب دس کروڑ نے کہہ دیا سات کروڑ سے ہمیں اردو نہیں پڑھنی ہمیں بنگالی پڑھنی ہے تو کس منہ سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ اردو انکی زبان ہے؟

میں لکھنؤ کا رہنے والا ہوں میں نے آج تک کوئی مسلمان لڑکا لڑکی نہیں دیکھے جو اپنے باپ کو ابا حضور کہتے ہوں۔ یہ سب بنایا ہوا ہے (جعلی ہے)۔ یہ جو مسلمان رکشے والا ہے یا جسکی پنکچر لگانے کی دکان ہے وہ بہت خوش ہو گیا کہ میرے باپ دادا ایسے تھے۔ قہ یہ نہیں کہتا کہ اسکا دادا بھی پنکچر ہی لگاتا تھا۔ وہ سمجھ رہا ہے کہ میں انکی (فلموں میں دکھائے جانے والے کرداروں کے کلچر سے) اولاد ہوں۔ باقی لوگ جو ہیں وہ جو مسلمان نہیں ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ دیکھو مسلمان ہو تو ایسا ہو اب ہمارا پڑوسی کوئی مسلمان ہے جو پنکچر لگاتا ہے۔ تو اب فلموں میں یہ طے ہو چکا ہے کہ یا تو آپ شاعر ہونگے یا نواب ہونگے آپکے گھرم میں فانوس لگے ہونگے اور چک کے پیچھے ایک انتہائی خوبصورت لڑی کھڑی ہوگی۔ ساری مسلمان لڑکیاں سادھنا کی شکل کی ہوتی ہیں۔ یہ جو متھ ہے یہ فلموں کا creat کیا ہوا ہے. اب کچھ شکر ہے اب کچھ مسلمان دہشت گرد بھی دکھائے جاتے ہیں۔ کم سے کم فلموں سے نوابی تو گئی‘‘
جاوید اختر

22/04/2018

غار کا مثالیہ

افلاطون کہتا ہے تصور کیا جائے کے کچھ لوگوں کو ایک ایسے غار میں پیدائش سے قید کر دیا گیا جہاں سورج کی روشنی نہیں آتی ان کے ہاتھ پاوں ایسے باندھے گئے ہیں کے وہ صرف سامنے والی دیوار کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان قیدیوں کے پیچھے ایک بڑی آگ جل رہی ہے آگ اور قیدیوں کے درمیان ایک راستہ ہے جس پر سے لوگ اپنا سامان اٹھائے گزرتے ہیں۔

جب لوگ اس راستے سے گزرتے ہیں تو قیدیوں کے سامنے والی دیوار پر سائے بنتے ہیں اور کیونکہ ان قیدیوں نے کبھی کچھ اور نہیں دیکھا وہ سائے کو ہی حقیقت سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ ایک کھیل شروع ہو جاتا ہے کے اگلا سایہ کون سا ہوگا اور جو بھی قیدی درست اندازہ لگاتا ہے وہ سب سے عقلمند کہلاتا ہے۔

ایک قیدی ایک روز اپنی زنجیر کو توڑ کر بھاگ نکلتا ہے اور باہر کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ باہر نکل کر بھی وہ سائے دیکھنے کی کو شش کرتا ہے پر اس دنیا کی خوبصورتی رنگ اور روشنی اس کو حیران کردیتی ہے۔ جب وہ ان سب باتوں کا عادی ہونے لگتا ہے تو اسے سمجھ آتا ہے کے سائے کو حقیقت مان لینا اس کی غلطی تھی وہ اس نئی دنیا، روشنی اور زندگی کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کے سائے کا کھیل جو وہ کھیلا کرتا تھا بیکار تھا۔

وہ قیدی جلدی جلدی واپس غار میں آتا ہے تاکہ اپنے ساتھیوں کو آزاد کروا کر واپس لے جا سکے۔ پر پہلے تو وہ اس کی باتوں کو سن کر یقین نہیں کرتے اس کا مزاق بناتے ہیں اور کہتے ہیں کے سفر نے اس کو پاگل کردیا ہے پھر یہ مزاق غصے میں بدل جاتا ہے اور آخر کار وہ اتنے غضب ناک ہو جاتے ہیں کے ان کو آزاد کرنے کی کوشش کرنے والے کو قتل کی دھمکی دے ڈالتے ہیں۔

افلاطون کی یہ کہانی کئی پیغامات دیتی ہے پر مجھے اس کو پڑھتے فیسبک پر موجود لوگ یاد آ رہے تھے جن کا رویہ اکثر غار میں موجود ان لوگوں کی طرح ہوتا ہے جو اپنے اندھیرے غار کو منزل اور سائے کو حقیقت سمجھ کر اتنے تنگ نظر ہو چکے ہوتے ہیں کے آزادی کی طرف بلانے والے کی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں۔

پر غار سے باہر نہیں آنا چاہتے تو نا آو پر جو روشنی کی داستان سنا رہا ہے اس کو سن تو لو کیا پتا وہ داستان سائے دیکھنے سے بہتر ہو۔

23/12/2017

درج ذیل الفاظ کا آغاز زیر(-) سے ہوتا ہے ـ
کِرایہ ـــــ نِچوڑ ـــــ نِڈر ـــــ صِحاح ـــــ عِطر ـــــ وِزارت ـــــ ذِھانت ـــــ رِفعت ـــــ زِراعت ـــــ اِمارت ـــــ دِلاسا ـــــ فرِارـــــ نِقاب ـــــ مِٹی (مَٹی) ـــــ سِفارش ـــــ اِکسیرـــــ عِرق النساء ـــــ نِوالہ ـــــ عِظام (جمع ،عظیم و عظم ) ـــــ نِنانوے ـــــ رِٹ ـــــ عِجلت ـــــ اِذن (اجازت و حکم ) ـــــ ذِمہ داری ـــــ شِفاء ـــــ جِھاد ـــــ تِجارت ـــــ قِیام ـــــ خِزانہ ـــــ سردمِھری ـــــ مِثل ـــــ نِکات

درج ذیل الفاظ کا پہلا حرف مفتوح یعنی زبر(ـ) والا ہے ـ
غَلَط ـــــ وَراثت ـــــ ھَذیان ـــــ مَذمت ـــــ مَحبت ـــــ بَھت ـــــ سَحری ــــــ غَلط فھمی ـــــ سَمت ـــــ مَحلہ ـــــ مَرمت ـــــ حَجتہ الوداع ـــــ مَبلغ ـــــ نَشاط ـــــ نَشاتہ ثانیہ ــــــ نَشَاستہ ـــــ شَکل ـــــ نَظارہ ـــــ سَرقہ ـــــ حَجم ـــــ مَشھور ـــــ آذان ـــــ سَفید ـــــ سَپید ـــــ سَمندر ـــــ تَجربہ ـــــ تَرجمہ ـــــ شَکویٰ ـــــ ھَونھار ـــــ باَھَر ـــــ لَذَت ـــــ نَجات ـــــ اَمانت ـــــ نَفل ـــــ

درج ذیل الفاظ کے پہلے حرف پر پیش (ُ ) ہے
وؑصول ـــــ فؑصول ـــــ اؑصول ـــــ ھؑویدا ـــــ مؑطلع ـــــ نؑمائش ـــــ نؑمونہ ـــــ نؑمونیا ـــــ عؑشر عشیر ـــــ دَرخشان ـــــ عؑنصرـــــ عؑجوبہ ـــــ عؑمرانیات ـــــ مؑحال ـــــ عؑظام (واحد ـــ بزرک ـ بڑا) ـــــ فؑضول ـــــ وؑجوہ ـــــ سؑقم ـــــ نؑقاط ـــــ حؑدود ـــــ قؑیود ـــــ

یاد رکھیں !
(()) تمام دنوں کے نام مذکر ہیں (صرف جمعرات مؤنث ہے )
(()) تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں
(()) تمام دریاؤں کے نام مذکر ہیں (صرف گنگا اور جمنا مؤنث ہیں )
(())تمام دھاتوں کے نام مذکر ہیں (قلعی اور چاندی مؤنث ہے )
(())تمام شہروں کے نام مذکر ہیں (دہلی کو دلی لکھیں تو مؤنث ہے)

درج ذیل الفاظ مذکر ہیں :
اوقات ، کرتوت ، قالین ، جزم ، پستول ، ٹکٹ ، حلیم ، زہر ، عطر ، سگریٹ ، کمپوزنگ ، پیش ، لالچ ، بریک ، رنگ ، نب ، تار ، دہی ، جھاگ ، ٹی وی ، ٹیب ، فوٹو ، پت ، میل ، چرس ، تھوک ، ف*ج ، عوام(عامی کی جمع ہے ، سارے عوام بولا جائے گا ) مزاج ، ہوش ، عیش ، جہنم ، دوزخ ، مرض ، قبض ، کلام ، انتظار ، گوند ، ماضی ، انجیر ، لغت ، اخبار ، درد ، پٹ سن ، مرہم ، روڈ ـ

درج ذیل الفاظ مؤنث ہیں :
شانِ نزول ، درگزر، ترازو ، جدول ، جمپر ، چپل ، محراب ، منبر ، گھاس ، ناک ، بارود ، ڈکار ، پتنگ ، جامن ، شطرنج ، مانند ، زیر ، سڑک ، قوم (واحد اور مؤنث ہے جبکہ عوام جمع اور مذکر ہے )

درج ذیل الفاظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح بولے جاسکتے ہیں :
گیند(لکھنو میں مذکر ، دہلی میں مؤنث)
شرائط (لکھنؤ ، مذکر اور دہلی میں مؤنث)
سانس (مؤنث ، اہل دہلی مذکر بھی بولتے ہیں )
فِکر(مؤنث ، لکھنو میں مذکر بھی مستعمل ہے ، بعض کے نزدیک خیال کے معنیٰ میں مذکر ، پریشانی کے معنیٰ میں مونث )
بؑلبؑل (مذکر و مؤنث دونو طرح )
موتیا(دہلی ، مؤنث ـــ لکھنو، مذکر)
وجوہ (لکھنو، مذکر ـــ دہلی ، مؤنث)
ہراس (لکھنو ، مذکر ــ دہلی ، مؤنث)
تراکیب (مؤنث ، لکھنو میں مذکر)
قمیص (مؤنث ، بعض نے مذکر باندھا ہے )
جلق (مؤنث ، دہلی میں مذکر)
نشوونما(دونوں طرح )
کلمات ( دہلی میں مؤنث ، لکھنو میں مذکر)
بٹیر(دہلی ، مذکر ـ لکھنؤ ، مؤنث)
گزند (دونوں طرح )
نِقاب (دونوں طرح )
طرز(دونوں طرح ، ترجیح مذکر کو )
مالا ( دہلی میں مؤنث ، لکھنو میں مذکر)
متاع (دونوں طرح)
اِملا (مذکر ، بعض نے مؤنث باندھا )
کِلک (دونوں طرح)
جِہات ( لکھنو میں مذکر ، دہلی میں مؤنث)
نفل (مؤنث ، دہلی میں مذکر ، لکھنو میں جمع نفلیں )
پریٹ (دہلی ، مذکر ـــ لکھنو میں مؤنث)
حکایات ( دہلی ، مؤنث ـــ لکھنو ، مذکر)
مَخمل (ترجیح مذکر کو ، بعض نے مؤنث بھی باندھا ہے )
مَحک (دونوں طرح ، ترجیح مؤنث کو )
قؑلقؑل (دونوں طرح )
قلم (لکھنے کا آلہ ، مذکر ، پہلے مؤنث بھی کہتے تھے )
قیود(مذکر ، دہلی میں مؤنث )
حدود ( لکھنو ، مذکر ـــــ دہلی ، مؤنث)

یہ بھی یاد رکھیں !
خط کتابت (خط و کتابت غلط ہے )
معرکہ آراء (معرکتہ الآراء صحیح نہیں)
وتیرہ(وطیرہ ، غلط ہے )
روداد(روئیداد غلط ہے )
خاصا مشکل (کافی مشکل ، غلط ہے )
چاق چوبند(چاق و چوبند غلط ہے )
بلند بانگ (بلند وبانگ ، صحیح نہیں )
خوردنوش( خوردونوش غلط ہے )
بے نیل مرام (بے نیل و مرام ، غلط ہے )
ان شاء اللہ (انشاء اللہ ، صحیح نہیں ، یہ ایک شاعر کا نام تھا اور انشاء مضمون نویسی کو کہتے ہیں )
استفادہ کرنا (استفادہ حاصل کرنا غلط ہے )
دوران کے ساتھ '' میں '' بھی لکھنا چاہے ـ درمیان کے ساتھ '' میں '' نہیں ـ
تابعدار نہیں صرف تابع ـ
بمعہ ، غلط ہے صرف '' مع '' (مع اہل و عیال ) ''ذریعے '' فصیح ہے
قسم کھانا ، حلف اٹھانا ، صحیح ہے ـ (قسم اٹھانا غلط ہے )
درستی (درستگی غلط ہے )
ناراضی (ناراضگی ، غلطی ہے )
علانیہ (اعلانیہ ، صحیح نہیں )
قرآت (قرات لکھنا ٹھیک نہیں )
دھوکا( دھوکہ نہیں )
ٹھکانا (ٹھکانہ نہیں )
دکان ( دوکان نہیں ، دوکان تو انسانی اعضاء میں سے ہیں ) اور دکان دار(دکاندار نہیں )
اذان (آذان ، نہیں )
ائمہ (آئمہ نہیں )
عجز و انکسارِ(عجز و انکساری نہیں ، ہاں عاجزی اور انکسار ٹھیک ہے )
غیظ وغضب (غیض وغضب نہیں)

اسی طرح لکھتے وقت دو الگ الگ لفظو کو اکٹھے نہیں لکھنا چاہے ـ
مثلا ::
'' اھل حدیث'' صحیح ہے ، '' اہلحدیث '' صحیح نہیں
اسی طرح '' اھل حدیث '' میں جمع بھی ہے ـ '' اھل حدیثوں '' اہل سنتوں وغیرہ لکھنا اور بولنا صحیح نہیں ـ
ایسے ہی '' کے لیے '' الگ الگ لکھیں (کیلئے ، غلط ہے )
اھلِ لاہور (اھلیانِ لاہور ، صحیح نہیں )
بد (برا) ، بدتر (بہت برا) ، بدترین ( بہت ہی برا)
بہہ (اچھا ) ، بہتر(بہت اچھا ) ، بہترین (بہت ہی اچھا) جب ''ترین '' لگ جائے تو ساتھ '' سب سے '' لگانا عبث ہے
دیہہ(واحد) ، دیہات (جمع)(دیہاتوں ، صحیح نہیں )
نہیں کے بعد '' ہیں '' لکھنا بولنا زائد ہے ـ
خوب ، کا معنی اچھا ہے ، خوب تر(بہت اچھا) ، خوب ترین (بہت ہی اچھا) ،خوب صورت ، خوب سیرت وغیرہ (خوب صورت مزرا ، خوب صورت تقریر وغیرہ صحیح نہیں ـ آپ کہ لیں ''تقریر خوب تھی ، مزا خوب تھا ''

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Peshawar
Peshawar
2500