31/01/2026
All Municipal Workers UNION WSSP Peshwar - Reg CBA
ملازمین کی خدمت ہمارا مشن
31/01/2026
01/01/2026
18/12/2025
یونائٹڈ یونین کے الزامات، وعدے اور کارکردگی پر سنگین سوالات
آل میونسپل ورکرز یونین کا اجلاس، حقائق منظرِ عام پر لانے اور قانونی چارہ جوئی کا اعلان
آل میونسپل ورکرز یونین کا ایک اہم اجلاس چیئرمین ریاض خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں جنرل سیکرٹری عابد سمیت سہیل، شکیل ہاشم خیل، اکبر خان، اول سید، صدیق اللہ مشوانی، نصیر خان،اکبر بھٹی،اجمل خان،شکیل خان،، انور گل، نسیم اکبر، حسین خان، سہیل سلیم، آصف خان،امجد خان ساجد خلیل، شفاعت باچا، علی حیدر، کوثر، اورنگزیب خان اور شہزاد گل سمیت دیگر عہدیداران و ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے یونائٹڈ یونین کے سرپرستِ اعلیٰ کی جانب سے آل میونسپل ورکرز یونین پر عائد الزامات کو غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات تاحال کسی بھی فورم پر ثابت نہیں ہو سکے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اگر الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انہیں میڈیا کے ذریعے منظرِ عام پر لایا جائے یا تین یوم کے اندر تردیدی بیان جاری کریں بصورتِ دیگر یونین قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
شرکاء نے سی بی اے یونین کے سرپرستِ اعلیٰ کو دو ٹوک پیغام دیا کہ کمپنی کی ایک گاڑی ان کے یونین عہدیدار کے استعمال میں پائی گئی، جس پر کمپنی نے باقاعدہ انکوائری کی اور گاڑی اسی عہدیدار سے برآمد ہوئی۔ اجلاس میں الزام لگایا گیا کہ بعد ازاں اسی انکوائری کو انتظامیہ سے منت سماجت کر کے ختم کروایا گیا۔ یونین نے واضح کیا کہ وہ محض الزامات نہیں لگاتی بلکہ ثبوت کے ساتھ بات کرتی ہے، اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ تفصیلات میڈیا کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔
سن کوٹہ سے متعلق الزامات پر وضاحت کرتے ہوئے اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین کا ایک بیٹا کارپوریشن میں ملازم ہے، تاہم یہ تقرری یونین کے قیام سے قبل ہوئی تھی۔ اس وقت یونین کا کوئی وجود نہیں تھا، لہٰذا اس معاملے کو یونین یا عہدے سے جوڑنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
مطالبہ کیا گیا کہ اگر اس کے برعکس کوئی مثال موجود ہے تو اس کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔
چیئرمین ریاض خان نے سن کوٹہ پر واضح کیا کہ 1980 سے لیکر 2017 تک ریٹائرڈ ملازمین کے تقریبا 400 سے 450 تک ملازمین کے بچوں کو سن کوٹہ کے تحت کمپنی میں بھرتی کرائے ہے
ریفرنڈم سے قبل کیے گئے وعدوں کے حوالے سے اجلاس میں کہا گیا کہ یونائٹڈ یونین نے کمپنی کیڈر ملازمین کو مستقل کرنے کے اعلانات کیے، مگر تاحال اس ضمن میں کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
یونائٹڈ یونین کی کارکردگی زیرِ سوال
اجلاس میں یونائٹڈ یونین کی مجموعی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جو یونین خود بدانتظامی اور مفاد پرستی کے الزامات کی زد میں ہو، اسے ادارے پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے سے قبل اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ ایک متنازع پروموشن کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جس پر متعلقہ اداروں کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اسلحہ لائسنس فیس تاحال ملازمین کو ادا نہیں کی جا سکی، حالانکہ یہ ان کا تسلیم شدہ حق ہے، مگر سی بی اے یونین نے اس معاملے پر مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
قرضوں میں امتیاز اور اقربا پروری
قرضوں کے معاملے پر اجلاس میں بتایا گیا کہ متعدد غریب ملازمین برسوں سے منظوری کے باوجود چیکس کے منتظر ہیں، جبکہ یونائٹڈ یونین نے سی ایف کے ساتھ مل کر منظور شدہ قرضے روک کر اپنے مخصوص عہدیداران کو ترجیحی بنیادوں پر قرضے دلوائے۔ اس طرزِ عمل کو کھلی ناانصافی اور ملازمین پر ذاتی کنٹرول قائم رکھنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
تنخواہیں اور اوور ٹائم: حقیقت کیا ہے؟
اجلاس میں اس تاثر کو مسترد کیا گیا کہ تنخواہوں اور اوور ٹائم کی بروقت ادائیگی سی بی اے یونین کی کامیابی ہے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ یہ بہتری موجودہ چیف ایگزیکٹو یاسر علی خان کی تعیناتی اور ان کی انتظامی صلاحیت کا نتیجہ ہے، تاہم اس کے باوجود سی بی اے یونین کی جانب سے کریڈٹ لینے کی کوشش کو گمراہ کن قرار دیا گیا۔
گاڑیوں اور بیٹریوں کے الزامات: پسِ پردہ حقائق
اجلاس میں کہا گیا کہ گاڑیوں کی مرمت اور نئی بیٹریوں کے حوالے سے الزامات اس وقت سامنے آئے جب بلوں کی منظوری میں یونائٹڈ یونین کے عہدیداران کے دستخط ختم کیے گئے۔ جیسے ہی ناجائز مفادات کا راستہ بند ہوا، من گھڑت الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔
فلاحی حقوق سے غفلت
شرکاء نے افسوس کا اظہار کیا کہ یونائٹڈ یونین کے دور میں نہ کسی ملازم کو حج پر بھیجا گیا اور نہ ہی قرعہ اندازی کرائی گئی، جو ملازمین کے فلاحی حقوق سے لاتعلقی کا واضح ثبوت ہے۔
آخر میں چیئرمین ریاض خان نے کہا کہ آل میونسپل ورکرز یونین شفافیت، میرٹ اور ملازمین کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی دباؤ کے بغیر حقائق پر مبنی مؤقف پر قائم رہے گی۔
اسی تناظر میں اجلاس میں یونائٹڈ یونین کی جانب سے ملازمین سے 120 روپے ماہانہ چندہ وصول کرنے کی واضح الفاظ میں مخالفت کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ کسی بھی صورت اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شرکاء نے بتایا کہ میٹروپولیٹن میں برسوں سے چندہ وصول کیا جا رہا ہے، مگر اس کے شفاف استعمال کے بجائے یونائیٹڈ یونین کے عہدیداران پر ذاتی مفادات اور غیر ضروری ضیافتوں کے الزامات ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ملازمین کی محنت کی کمائی کا اس طرح استعمال اخلاقی اور پیشہ ورانہ اصولوں کے سراسر خلاف ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
جاری کردہ:
شہزاد گل
پریس سیکرٹری
آل میونسپل ورکرز یونین WSSP رجسٹرڈ پشاور
17/12/2025
TikTok · Fajar fajar 3515 likes, 45 comments. “ #فپ #فوریو #فوریوپیج ”
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000
