پچاس سال پہلے باچا خان بابا نے پشتون قوم کو بتایا تھا کہ یہ جنگ امریکہ اور روس کا جنگ ہیں اور اس کا نقصان پشتون قوم کو ہوگا۔
روس کے خلاف بھی پشتون استعمال ہوا۔
امریکہ کے خلاف بھی پشتون استعمال ہوا۔
آج پشتون دوسرے پشتون کے خلاف استعمال ہو رہا ہیں۔
PSF Islamia University Bahawalpur
🚩
د جنګ نه چه خبر ندی د جنګ چغې د پریږدې
ما وران وطن لیدلې ده د جنګ په خق که نه یم
11/02/2026
ضم اضلاع و بلوچستان کے طلباء کے تعلیمی مسائل، عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹ میں تحریک التواء جمع کرا دی
🟥 تحریک التواء مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے جمع کرائی گئی
🟥 تحریک التواء میں معمول کی کارروائی معطل کر کے اس اہم مسئلے پر بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے
🟥 وفاقی حکومت نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ سابق فاٹا کے طلباء کو 2028 تک میڈیکل کی مخصوص نشستیں فراہم کی جائیں گی
🟥 اعلان کے تحت فاٹا کے طلباء کے لیے مجموعی طور پر 333 نشستیں مختص کی گئی تھیں
🟥 وفاقی حکومت کی جانب سے پانچ سال میں ان نشستوں کو 666 تک بڑھانے کا بھی وعدہ ہوا تھا
🟥 تاہم 2026 تک اس وعدے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا جس کے باعث ضم اضلاع کے طلباء شدید تعلیمی محرومی کا شکار ہیں
🟥 ضم اضلاع اور بلوچستان کے طلباء کو محدود پیمانے پر چند مخصوص میڈیکل اداروں تک محدود رکھا جا رہا ہے
🟥 دیگر صوبوں کے طلباء کو ملک بھر کے سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کی سہولت حاصل ہے
🟥 بلوچستان اور پختونخوا کے طلباء کے ساتھ یہ طرز عمل مساوی تعلیمی مواقع کے اصول کے خلاف ہے
🟥 میڈیکل اسکالرشپ نشستوں کے حوالے سے بھی بے ضابطگیوں اور غیر شفافیت کی شکایات سامنے آئی ہیں،
🟥 شارٹ لسٹ امیدواروں کو نظر انداز کر کے دیگر امیدواروں کو منتخب کیا گیا، جو کہ میرٹ اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے،
🟥 ضم اضلاع کے لیے مختص میڈیکل نشستوں کو فوری طور پر 333 سے بڑھا کر 666 کیا جائے،
🟥 فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ کے لیے ملک بھر کے سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستیں مختص کی جائیں،
🟥 اسکالرشپ اور داخلوں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں،
🟥 ایوان کی معمول کی کارروائی روک کر اس اہم مسئلے پر بحث کی جائے،
🟥 دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کے لیے خصوصی تعلیمی پیکج متعارف کرایا جائے
| |
🚩✌🏽
03/02/2026
وزیرِ اعلیٰ کا طالبہ کے سوال پر الزام تراشی کرنا منصب کی توہین ہے، کارکردگی ہوتی تو نعروں کا سہارا نہ لینا پڑتا : شاروخ وزیر
وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر بیٹھ کر ایک طالب علم کے سوال پر سیاسی وابستگی کا الزام لگانا شرمناک اور اس عہدے کی توہین ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس ہال میں وہ کھڑے ہیں، اسے 2002ء سے 2008ء تک بند رکھا گیا تھا اور یہ اے این پی ہی تھی جس نے اس کے دروازے عوام کے لیے کھولے۔ حقائق سے لاعلمی وزیرِ اعلیٰ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
اے این پی پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے بزدلی کی انتہا کر رہے ہیں۔ ہم نے دہشت گردوں کے خلاف سینے تان کر قربانیاں دیں، جبکہ آپ اور آپ کا لیڈر ان کے سہولت کار بنے رہے۔ اگر ہمارے کارکنوں نے خون نہ دیا ہوتا تو آج آپ اس منصب کے بجائے کسی بِل میں چھپے ہوتے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ آپ کے لیڈر نے ہزاروں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کی بات کی، جس کے خلاف ہماری پٹیشن آج بھی عدالت میں موجود ہے۔
ایک وزیرِ اعلیٰ کو سوال کا جواب کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں سے دینا چاہیے، نہ کہ سیاسی نعرے بازی سے۔ 13 سالہ دورِ حکومت میں آپ کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں، اسی لیے آپ عوام کو 'اڈیالہ' اور 'تبدیلی' کے نام پر ٹرخا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے پاس عوامی سوالات کا کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں۔
حاجی غلام احمد بلور کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور سمجھ نہیں آتا کہ آغاز کہاں سے کیا جائے۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ وفا، استقامت اور نظریاتی پختگی کا وہ پیکر ہیں جنہوں نے پچپن برس تک پشاور سے لے کر تمام پشتونوں اور محکوم قومیتوں کے حقوق کی جنگ بے خوف ہو کر لڑی۔
حاجی صاحب نے کبھی اپنے نظریات پر سودے بازی نہیں کی۔ وقت کے جبر، حالات کی سختیوں اور ذاتی نقصان کے باوجود وہ اپنی جماعت، اپنی سوچ اور اپنے لوگوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ آج وہ محض پارلیمانی سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، مگر اے این پی کے ہر فورم کے وہ کل بھی رکن تھے، آج بھی ہیں اور آنے والے کل میں بھی رہیں گے۔
ہمارے لیے حاجی غلام احمد بلور ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک ایسی درسگاہ جہاں سے ہم جیسے نوجوان نسل در نسل سیکھتے رہیں گے۔ یہ جدوجہد چند برسوں، وقتی مفادات یا محض اقتدار کی سیاست کا قصہ نہیں، بلکہ یہ خون کے رشتوں سے بھی مضبوط تعلق، نظریاتی وابستگی اور بے لوث خدمت کی داستان ہے۔
ہمیں حاجی صاحب کے صاف کردار، بے داغ سیاست اور ناقابلِ شکست حوصلے پر فخر ہے۔ ایسی شخصیات قوموں کی پہچان اور تحریکوں کا سرمایہ ہوتی ہیں۔
21/01/2026
د ستر باچا خان د جنازې روداد
19جنوری باچا خان کی زندگی کی آخری شام سے لیکر ۲۰ جنوری باچاخان کو وفات کے دن اور 21 کو نماز جنازہ اور 22 جنوری کو جلال آباد تک کے سفر آخرت اور شیشم باغ میں تدفین تک کے حالات و واقعات کا آنکھوں دیکھا حال۰
بھول چوک یا بعض شخصیات کے نام اور عہدوں یا بعض واقعات کے آگے پیچھے ھو جانے کے حوالے سے بھول چوک کے لیئے معذرت خواہ ہوں
تصحیح کے لیئے شکر گزار ھونگا
خیر اندیش
محفوظ جان صدر عوامی نیشنل پارٹی برطانیہ
بنام جہاں دار جاں آفریں
حکیم و سخن بر زباں آفریں
یہ منگل ۱۹ جنوری ۱۹۸۸ کی ایک شدید سرد، نہایت بھاری، اداس اور افسردہ شام تھی۰ لیڈی ریڈنگ ھسپتال کے آئی سی یو وارڈ جہاں فخر افغان باچا خان کومے میں پڑے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے۰ ھم ولی خان سمیت پارٹی کے دیگر راھنماؤں جن میں افضل خان لالہ،لطیف لالہ ،عبد الخالق خان جج صیب، حاجی غلام بلور،حاجی عدیل،بشیر بلور شھید،پختون ایس ایف کے مرکزی صدر میاں افتخار حسین ،صوبائی صدر صدرالدین مروت، جنرل سیکٹری حسین شاہ یوسفزئ فرید طوفان،ارباب ظاہر شھید ،حمیدالرحمان لالہ،جہانزیب صیدیق، ارباب ھمایون خان،ارباب سیف الرحمان خان، عبدالرحمان خان کافور ڈھیری، مجید خان لالہ طورو اور دلبر خان ٹکر(کاکا)کے ساتھ پورا دن گزارنے کے بعد جب شام ڈھلے ایک دوسرے سے رخصت ہونے لگے تو سب کے چہروں پر مایوسی ،اداسی اور ایک انجانہ خوف طاری تھا۰ہر طرف ایک خاص افسردگی چھائی ہوئی تھی۰سب مشران ایک دوسرے کو سوالیہ انداز میں دیکھ رہے تھے مگر سوال کی جرات اور جواب کی ھمت شاید کسی میں بھی نہیں تھی
ولی خان پر سکون ضرور تھے مگر آج شام وہ بھی نہایت سنجیدہ اور افسردہ دکھائی دے رہے تھے اور ایک خاص قسم کی رنجیدگی ان کے چہرے سے صاف عیاں تھی۰
میں چونکہ وہاں موجود لوگوں میں سب سے چھوٹا اور کم عمر تھا لہذا میرے لیے پارٹی راھنماؤں کی یہ اداسی ، اترے ہوئے چہرے اور بدلے ہوئے تیور بہت کربناک تھے۰ اسلیئے کہ میں نے اپنی پارٹی کی قیادت خصوصاً ولی خان کو ھمیشہ ھنستے مسکراتے دیکھا تھا مگر آج کا ماحول صریحا اس کے برعکس تھا۰
ایک بات جو اسوقت میری سمجھ آرہی تھی وہ یہ تھی کہ مشران کی مضطرب رویئے بے وجہ نہیں تھے۰اور یہ کہ آج کی رات یقیناَ بہت بھاری ہے اور مشران کو ڈاکٹروں نے ضرور کوئی ایسی بات بتائی ہے جو ان کی اداسی کی وجہ بن رہی ہے۰
میں اپنے اندر کی غیر یقینی اور مشوش کیفیت کو زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا اور رخصت ہوتے ہوئے مشران میں سے دلبر خان کاکا کی طرف لپکا ان کا ھاتھ پکڑ کر سوال کیا “ کاکا سچ بتائیں بابا کو کچھ ہوا تو نہیں؟ سب ٹھیک تو ہے نہ ؟ اور آپ سب لوگ اس قدر پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہو؟ دلبر خان کاکا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے گورنے لگے مگر کوئی جواب دیئے بغیر خاموش رھے۰مجھ سے رہا نہ گیا اور اس مرتبہ (اگر چی)زرا گستاخی سے ان کا ھاتھ جھٹک کر سیدھا سوال پوچھا کاکا آپ خاموش کیوں ہو؟ آپ بتاتے کیوں نہیں؟ سچ بتائیں کیا ھم باچا خان کو دوبارہ دیکھ پائینگے۰ کاکا تو جیسے سکتے میں آگئے۰ منہ سے کچھ بھی نہ کہہ پائے مگر ان کے کانپتے ھاتھ اور لرزتے ہونٹ اور آنکھوں سے رواں آنسوؤں کی نہ رکنے والی لڑیوں میں میرے سارے سوالوں کا جواب موجود تھا۰
( میں شاید اپنی کم عمری اور لا ابالی پن کے سبب اب بھی یہ سمجھ رھا تھا کہ بابا ضرور ٹھیک ھونگے اور ھم ان کے ساتھ پھر سے جلسے جلوسوں میں نعرے لگاتے پھرینگے)۰
حالات اور مشران کے روئیے کو دیکھتے ہوئے میں بھانپ گیا کہ آج کی رات کچھ انھونی ہونے جارہی ہے۰ ولی خان رخصت ہوئے تو خدائی خدمتگاروں کا ایک دستہ سالار رامبیل خان کی قیادت میں جو دن رات وہاں ھسپتال میں قائم کیمپ میں موجود رہتا کے علاوہ ھم سب لوگ رخصت ہونے لگے۰ مجھے اور ارباب ظاہر شھید کو پارٹی کے صوبائی جنرل سیکٹری ارباب ھمایوں خان رات ٹھرنے کے لیئے اپنے ساتھ اپنے گھر تہکال بالا لے آئے۰ راستے میں میں نے ارباب ھمایوں سے بھی وہی سوال کیا کہ کیا باچاخان کی حالت واقعی بہت خراب ہے ؟ انھوں نےمیری طرف دیکھے بغیر گاڑی کے شیشے کی طرف منہ رکھے اثبات میں سر ھلایا۰ اسکے بعد مجھ میں ان سے مذید کوئی سوال کرنے کی ھمت نہ ہوئی ۰ گھر پہنچنے تک گاڑی میں مکمل سکوت چھایا رہا۰
بدھ ۲۰ جنوری ۱۹۸۸ باچا خان نے جان جان آفریں کے حوالے کر کے داع اجل کو لبیک کہہ دیا
چونکہ میں اور ارباب ظاہر رات دیر تک باچاخان کی زندگی اور جدوجہد اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر باتیں کرتے ہوئے دیر سے سوئے تھے لہذا الصبح جب ھم ابھی سو رہے تھے کہ ارباب ھمایون نے آکر ھمارے کمرے کے دروازہ پر زور سے دستک دیتے ہوئے ھمیں جگایا۰ جیسے ہی ارباب ظاہر نے دروازہ کھولا تو ھمایون خان نے یہ اندوھناک خبر سنائی “ ھلکو پاسئی باچا خان حق اورسیدو”ھمیں چند ضروری کام حوالے کرتے ہوئے وہ خود ھسپتال کے لیئے روانہ ہوئے۰
ھمارے نیم تاریک کمرے میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا مجھے اور ارباب ظاہر میں ایک دوسرے سے بات کرنے کی ھمت نہ تھی۰ دماغ سن زبان گنگ اور بدن شل ھو گیا تھا۰کچھ وقت کے لیئے ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ھو اور زندگی جامد ھوگئی ہو۰ تھوڑی دیر بعد میں نے کمرے کی بتی جلائی تو دیکھاکہ ارباب ظاہر فرش پر دو زانوں بیٹھے اپنے چہرے کو ھاتھوں میں لیئے ھچکیاں لیتے ہوئے رو رہے تھے۰وہ لمحے کتنے کربناک تھے کہ مجھ میں ان کو دلاسہ دینے اور چپ کرنے کی ھمت تک نہیں تھی۰مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۰ تھوڑی دیر بعد وہ خود ہی اٹھے اپنے آنسوں پونچھے اور مجھے کہا “ پاسہ چی ځو “
ھم ارباب ھمایوں کے حجرے سے ارباب الطاف لوگوں کے گھر گئے وہاں سے پارٹی کے جھنڈے کچھ بینرز اور ٹوپیاں اٹھائیں اور ھسپتال چل دیئے.
تہکال بالا سے لیڈی ریڈنگ ھسپتال تک کا چند میلوں کا سفر آج سینکڑوں میل کا لگ رھا تھا کوئی گاڑی سامنے آتی تو ایسے لگتا جیسے راستے میں پہاڑ آگیا۰راستے میں ھم نے دیکھا کہ جگہ جگہ باچا خان کی وفات کے ضمیمے بانٹے جا رہے تھے لوگ ٹولیوں کی صورت میں کھڑے ضمیمے پڑھ رہے تھے کوئی ریڈیو کان سے لگائے ہوئے تھا تو کوئی ٹی وی کے گرد جمع تھے۰ پشاور غم و اندوہ میں ڈوب گیا تھا۰ بھر حال اللہ اللہ کرکے ھم ھسپتال پہنچ گئے۰وہاں میں نے دیکھا کہ ھمارے پہنچنے سے پہلے پارٹی کے سینکڑوں کارکن سرخ وردی اور ٹوپیاں پہنے ھسپتال پہنچ چکے تھے۰ بوڑھے اور جوان بابا کے پیروکار ایک دوسرے کو گلے لگا لگا کر دھاڑے مار مار کر رو رہے تھے۰ ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا۰پارٹی کیمپ میں موجود بین کرتی ہوئی باچاخان کے خاندان کی خواتین کی آہ وفغاں اور نسیم بی بی کے رونے کی آوازیں دل دہلا رہی تھی۰
باچا خان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی ۰اخبارات نے خصوصی ضمیمے چھاپ کر ملک بھر میں پھیلا دیئے تھے ۰ ریڈیو پاکستان ، پی ٹی وی، بی بی سی، وائس آف امریکہ،آل انڈیا ریڈیو اور کابل ریڈیو نے معمول کے نشریات روک کر باچاخان کی وفات کے حوالے سے خصوصی بلیٹن چلائے۰
ھسپتال کے اندر بابا کے جسد خاکی کو غسل دینے کفن پہنانے اور تابوت میں ڈال کر باہر لانے تک کا مرحلہ خاصا صبر آزما تھا کیونکہ لوگ بے صبری سے بابا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیئے بے تاب ہو رہے تھے۰ اس دوران ولی خان حاجی غلام بلور، بشیر بلور، عبد الخالق خان جج صیب ، افضل خان لالا اور اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ھمراہ صبر و استقامت کے پہاڑ بنے کھڑے رہے۰ سکون اور خاموشی کے ساتھ لوگوں سے تعزیت لینے میں مصروف تھے۰ لوگ ایک ایک کر کے ان سے لپٹ کر دھاڑے مارتے ہوئے بابا کی رحلت پر اپنے غم کا اظہار کررہے تھے۰ ھم لوگوں کو قطار میں کھڑے ہو کر ولی خان سے ملنے کے استدا کرتے رہے۰میں ولی خان ،عبد الخالق خان( جج صیب) اور افضل خان لالہ سے صرف دو قدم کی دوری پر کھڑا تھا۰ لوگوں کی دل دھلا دینے والی چیخوں سے میرا کلیجہ باھر آرھا تھا
اس دوران جب جب میری نظر ولی خان پر پڑتی تو مجھے محسوس ہونے لگتا کہ میرے اندر کا ضبط اب ٹوٹنے کو ہے،میرے صبر و برداشت کا بندھن ٹوٹنے والا ہے لہذا میں کوشش بسیار کے باوجود اپنے آپ کو روک نہ پایا اور جا کر ولی خان سے لپٹ گیا اور بلک بلک کر رویا۰ ولی خان نے میرا چہرہ اپنے ھاتھوں میں لیتے ہوئے کہا “ نہ بچے ستا سو بابا مڑ نہ دے ستا سو بابا بہ تل ژوندے وی” فضل الرحمان لالہ (صدر سٹی ڈسٹرکٹ پشاور) نے آگے بڑھ کر مجھے کھینچ کر ولی خان سے جدا کیا۰
پھر میں نے بشیر بلور،حمید الرحمان لالہ ( فقیر آباد ) اور فرید طوفان کو دیکھا جو ولی خان سے گلے ملے تو ایسے روئے کہ آسمان لرز پڑا۰ وہاں موجود کوئی ایک آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ تھی
بابا کی جسد خاکی کو ایک خصوصی تابوت میں رکھا گیا۰ اس پر پھولوں کے بڑے بڑے گدستے رکھ دیئے گئے تابوت کو ایمبولنس میں رکھنے سے پہلے وہاں موجود لوگوں کو بابا کا چہرہ دکھایا گیا۰سفید کفن میں لپٹے بابا کا سرخ وسفید چہرہ بہت خوبصرت نظر آرہا تھا۰ ھم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آج تک زندگی میں کسی میت کا اتنا خوبصورت پُر نور و پرسکون اور دمکتا چہرہ نہیں دیکھا۰
پھر اس تابوت کو ایک ایمبولنس میں رکھ کر اندر شہر کی طرف کھلنے والے گیٹ سے ھسپتال کے باہر والی سڑک پر لایا گیا۰ پارٹی قائدین،ھزاروں کارکن اور باچا خان کے وہ پرستار جو اس وقت تک ھسپتال پہنچ چکے تھے ایمبولنس کے ساتھ کننگھم پارک کی طرف روانہ ہوئے۰ ولی خان خود اپنے عظیم باپ کے جنازے کے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے جلوس کے آگے آگے چل رہے تھے۰ھمارے ملنگ بابا کے جنازے کا یہ جلوس ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۰ لوگ فرط جذبات سے زارو قطار رو رہے تھے ۰ جبکه ھم پی ایس ایف کے نوجوان شدید نعرہ بازی کر رہے تھے۰ آہوں اور سسکیوں کے درمیان پی ایس ایف کے نوجوانوں کے یہ فلک شگاف نعرے “ جب تک سورج چاند رہے گا بابا تیرا نام رہے گا” قلعہ بالاء حصار کی بلند و بالا دیواروں سے ٹھکراتے ہوئے گونج کر فضا میں واپس آکر بکھر تے تو ایک عجیب سماں باندھ رھے تھے۰جلوس آہستہ آہستہ کنگھم پارک کی جانب رینگ رہا تھا۰ ھم نے دو فرلانگ کا یہ راستہ پورے دو گھنٹے میں طے کیا۰
کننگھم پارک میں باچا خان کا جسد خاکی آخری دیدار کے لیئے رکھ دیا گیا۰اور ساتھ ہی ایک بڑا شامیانہ لگا دیا گیا جس میں ولی خان پارٹی قائدین کے ساتھ بیٹھ کر تعزیت کے لیئے آنے والے لوگوں سے مل رھے تھے۰اسوقت خود ولی خان کی عمر اکھتر برس تھی مگر وہ برابر کھڑے ہو کر ایک ایک بندے کے ساتھ فرداً فرداً مل رہے تھے۰ان سے زرا فاصلے پر خواتین کے لیئے بھی الگ شامیانہ لگا دیا گیا جہاں نسیم بی بی اپنے خاندان کی دیگر خواتین کے ساتھ بیٹھی تعزیت کے لیئے آنے والی خواتین سے مل رہی تھیں۰غم و اندوہ کے اس ماحول میں جب کبھی بین کرتی ہوئی خواتین کی آوازیں اٹھتی تو ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی۰
موسم سرد اور ابر آلود تھا آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے مگر بارش ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۰
پشاور میں تمام دکانیں اور کاروبار بند کر دیئے گئے۰تمام راستےکننگھم پارک کی طرف آنے لگے۰ ملک بھر سے لوگوں کے آنے کا سلسلہ شروع ھوا۰صوبہ پختونخواہ کے دور دراز شہروں اور قریوں سے لوگوں کا طوفان امڈ آ پڑا اور شام تک پورا کننگھم پارک بھر گیا تھا۰
چونکہ ھمیں بابا کے جسد خاکی کے ساتھ کننگھم پارک میں دو دن اور دو راتیں گزارنے تھے لہذا پارک کے اندر سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کے علاوہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے اور مختلف فرائض کی انجام دہی کے لئے پی ایس ایف کے مرکزی صدر میاں افتخار حسین ، صوبائی صدر صدرالدین مروت صوبائی جنرل سیکٹری حسین شاہ یوسفزئ نے کننگھم پارک کے ایک کونے میں پختون زلمی کے کمانڈروں کے ساتھ پختون ایس ایف کے ساتھیوں کا ایک مشترکہ ھنگامی اجلاس منعقد کیا۰اس اجلاس میں پی ایس ایف کے قائدین نے مختلف ٹیمیں تشکیل دیئے اور ہر ٹیم کو مختلف ڈیوٹیاں تفویض کرتے ہوئے ان کو پختون زلمی کے سالاروں کے زیر کمان کام کرنے کی ھدایت کی۰ میری خوش قسمتی رہی کہ میری شاہ حسین بنگش سابق صدر اسلامیہ کالج اور شھزاد داوڑ سابق صدر گورنمنٹ کالج پشاور کی ڈیوٹی بابا کے تابوت کے ساتھ ہی لگ گئی ۰
ھمارے لیئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ بارش اور سردی کے باعث لوگوں کے رش اور بھیڑ کو کیسے کنٹرول رکھا جائے کیونکہ ملک بھر سے باچاخان کے پرستار قافلوں کی صورت میں پشاور آنا شروع ہو چکے تھے۰پارک کے چاروں طرف سے بابا کا آخری دیدار کرنے کے لیئے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں ھمارے اوسان خطا کرنے کے لیئے کافی تھے۰ ھم نے چاروں اطراف سے بنے ہوئے قطاروں کو بابا کے تابوت تک پہنچنے سے پہلے ایک قطار میں مرکوز کرنا تھا اور پھر ان کو وہاں سے نکالنا بھی تھا تاکہ رش اور دھکم پھیل کے باعث کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو پیش آنے سے روکا جا سکے۰ یہ ایک مشکل اور صبر آزما کام تھا۰
سہ پہر کے وقت ھم نے پارٹی کے مرکزی پریس سیکٹری قیصر خان لالہ کو اعلان کرتے سنا کہ تھوڑی دیر بعد ھندوستان کے وزیراعظم راجیو گاندھی باچا خان کی وفات پر تعزیت اور آخری دیدار کے لیئے بہ نفس نفیس کننگھم پارک تشریف لا رہے ہیں۰ ھمارے لیئے یہ خبر بہت اچانک اور غیر متوقع تھی۰ پارٹی راھنماؤں میں بھی بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ راجیو گاندھی پشاور پہنچنے والے ہیں۰ مگر قیصر خان لالہ نے بھرے مجمع میں یہ خبر بریک کر دی۰پختون زلمی اور پارٹی راھنماؤں کی دوڑیں لگ گئی۰ سب کو سیکیورٹی کی پڑ گئی کیونکہ اتنے بڑے مجمعے اور اور ایسے جذباتی ماحول میں اتنی بڑی اور اھم شخصیت کی سیکیورٹی کسی بڑے چیلنج سے کم نہ تھا
ھمیں بعد میں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی اپنے سرکاری دورے پر امریکہ کے لیئے محو پرواز تھے کہ ان کو دوران پرواز باچا خان کے انتقال کی اطلاع دی گئی تو انھوں نے پرواز کا رخ تبدیل کر کے نیویارک سے پشاور کی طرف موڑ دیا اور انڈین ھائی کمیشن کے زریعے پاکستانی وزارت خارجہ کو وزیر اعظم ھندوستان کی پشاور آمد کی اطلاع دی گئی۰
پشاور ائر پورٹ پر وزیر اعلی سرحد ارباب جہانگیر خان اور گورنر فدا محمد خان، خان عبد الولی خان، افضل خان لالہ، حاجی غلام بلور اور عبدالخالق خان نے راجیو گاندھی کا استقبال کیا اور ان کو پولیس کی کھڑی سیکیورٹی میں پارک تک لایا گیا۰
ادھر پارک میں سیکیورٹی کے انچارج سالار امان خان اور سالار احمد علی، پی ایس ایف اور پارٹی راھنماؤں کی جان پر بنی ہوئی تھی۰کیونکہ اتنے ھائی پرفائل شخصیت کا اتنے بڑے اور جذباتی مجمعے میں آنے پر انکو فول پروف سیکیورٹی فراھم کرنا انکے لیئے بہت بڑا چیلنج تھا۰ قیصر لالا اور فرید طوفان لاؤڈ سپیکر پر لوگوں سے اپنی اپنی جگہ خاموشی کے ساتھ بیٹھنے کی بار بار اپیلیں کر رہے تھے مگر جذباتی ھجوم پر یہ سب اپیلیں اور درخوستیں صدا بہ صحرا ثابت ہو رہے تھے۰ میاں صاحب، صدر الدین مروت اور حسین شاہ یوسفزئی بھی باری باری سٹیج پر آکر پی ایس ایف کے نوجوانوں کو برابر ھدایات دے رہے تھے ۰انھیں ڈر تھا کہ بے پناہ رش ،ھجوم اور دھکم پیل کے باعث راجیو گاندھی کے سامنے کوئی ناخوشگورا واقعہ پیش نہ آئے۰
پھر اچانک سالار احمد علی نے خود جا کر مائیک سمنبھال لیا اورگرجدار آواز میں نہایت جذباتی انداز میں ایک جاندار تقریر کر ڈالی مجھے آج بھی انکے الفاظ یاد ہیں
“ اوہ د باچا خان بابا سپایانو۰ اے د خپل سپین سری ملنگ بابا بچو نن ستا سو د صبر و استقامت د اؤ نظم وضبط امتحان دے۰ د اندرا گاندھی ځوئې راروان دے. د جواهر لال نمسې را روان دے۰ھغہ تاسو سرہ ستا سو د بابا په غم کې شریکیدو له راځي.هغه به د پښتنو د ننګ اؤ غیرت اؤ میلمستیا ډيرې قیصې اوریدلې وې۰ هغه ته به د هغه مور د بابا د ملګرو د تنظیم اؤ ڈسپلن خبرې ضرور کړې وي خو نن به ورته په عمل کې ښایو چې بابا زمونږ څنګه تربیت کړیدې.څوک چې چرته یئ هم هلته کښېنئ،هڅ څوک به د خپله ځایه نه خوځئ اؤ نه به څوک یو نعره وهئ .زمونگ ملگرو سرہ تعاون اوکڑئ۰
بس پھر کیا تھا لاکھوں کے مجمعے پر جیسے سکوت چھا گیا سب لوگ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے صرف ھم ڈیوٹی پر معمور چند لوگ کھڑے نظر آرہے تھے۰ پورا کننگھم پارک ایسے نظر آرھا تھا جیسے سرخ چادر اڑ رکھی ہو۰ ہر طرف سرخ ٹوپیاں اور جھنڈے نظر آرہے تھے۰میں نے دیکھا کہ پارک میں قلعہ بالا حصار کی جانب سے کھلنے والے گیٹ سے راجیو گاندھی اپنی بیوی سونیا گاندھی بیٹے راھول گاندھی اور بیٹی پریانکا گاندھی کے ساتھ ولی خان اور افضل خان لالہ کی معیت میں پارک میں داخل ہوئے۰ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بابا کے تابوت کے پاس آکر رکے۰ راجیو گاندھی گورے چٹے رنگ دراز قد کے نہایت خوبصورت آدمی تھے۰ میں بابا کے تابوت سے صرف پانچ چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑا تھا اسلیئے یہ سب کچھ بڑے قریب سے دیکھ پا رھا تھا۰راجیو گاندھی آگے بڑھے بابا کے چہرے کو دیکھا اور ہاتھ جوڑ کر بابا کو تعظیم و سلام پیش کیا پھر ان کی تابوت پر پھول چھڑائے اور دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے۰ پھر وہ دو قدم پیچھے ہٹ کر جنگ آزادی کے اس عظیم مجاھد اور اپنے نانا جوہر لال نہرو کے ساتھی فخر افغان باچا خان کو آخری عقیدت پیش کرنے کے طور پر ان کے احترام میں تین منٹ تک خاموش کھڑے رہے۰اسکے بعد اخبار نویسوں اور پریس فوٹوگرافروں نے ان کو گھیر لیا اونھوں نے دو چار منٹ ان سے باچاخان کی شخصیت اور انکی خدمات سے متعلق مختصر بات چیت کی۰ پھر ولی خان نے آگے بڑھ کر ان کو مجمعے کے بیچ میں بنے ہوئے راستے سے باھر نکال لائے۰ اس دوران پارک میں مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۰مجال ہےکہ کوئی شخص اپنی جگہ سے ہلا ھو یا کسی نے کوئی نعرہ لگایا ہو یا کسی نے راجیو گاندھی سے ملنے یا تصویر کھنچوانے کی کوشش کی ھو۰ باچا خان کے پیرو کاروں نے آج جس شاندار نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا مجھے یقین ہے کہ دنیا کے مہذب ترین اقوام بھی ایسے موقعوں پر شاید نہ کر پاتے۰خدائی خدمتگاروں کی ایسی بے مثال ڈسپلن کو دیکھتے ہوئے مجھے آج بڑا فخر اور بے حد خوشی محسوس ہو رہی تھی۰
راجیو گاندھی رخصت ہوئے تو ھماری جان میں جان آئی۰ھم نے عوام کے لیئے بابا کے آخری دیدار کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۰ لوگ تھے جو غول کے غول چلے آرہے تھے مغربکے بعد بارش کا نہ رکنے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۰ جس سے سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہونے لگا۰اور ھماری مشکل مذید بڑھنے لگی۰مگر شدید سردی اور بارش کے باوجود لوگوں کی تعداد میں بجائے کمی کے اضافہ ھوتا جا رہا تھا۰
ھم نے دیکھا کہ پارک کے اندر لوگوں نے چائے اور قہوے کے سٹال لگا دیئے تھے جہاں وہ باھر سے آنے والے باچا خان کےمھمانوں کا گرم گرم چائے سے تواضع کر رہے تھے۰ پشاور کے مخیر حضرات نے اپنی طرف سے مفت کھانے تقسیم کرنے کا بھی بندوبست کیا تھا۰ وہ وقتاً فوقتاً گاڑیوں میں کھانے کی دیگیں لاد کر لوگوں میں مفت تقسیم کر رہے تھے۰ملگری ڈاکٹران کے ساتھیوں نے سر شام پارک کے اندر اپنا کیمپ لگا دیا تھا تاکہ کسی بھی ھنگامی صورت میں طبی امداد مھیا کیا جا سکے۰ ڈاکٹر نواز خلیل، ڈاکٹر سالار اور ڈاکٹر لیاقت لوگوں نے بڑی جاں فشانی سے کام کیا۰ وہ اور انکی ٹیم دوائیوں اور ضروری طبی سازوسامان کے ساتھ صبح شام کیمپ میں موجود رہتی۰
غنی خان بھی جو خود بھی ویل چیئر پر تھے اپنے والد گرامی کا آخری دیدار کرنے کننگھم پارک پہنچ گئے۰ ان کی ویل چیئر کو بابا کے تابوت کے پاس لایا گیا۰ وہ تھوڑی دیر بڑے غور سے بابا کے چہرے کو دیکھتے رہے پھر دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے اوردیر تک سر جھکائے دعا فرماتے رہے ۰ پھر اچانک سر اٹھا کر اپنی عقابی آنکھوں سے علی خان کو دیکھا اور ساتھ ہی ہاتھ سے جانے کا اشارہ کردیا۰ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ان کو انکی گاڑی تک لانے میں انکے ڈرائیور کی مدد کرنے کاموقعہ ملا۰ ( میرے ساتھ میری اس دن کی واحد یہی ایک تصویر ہے جو کسی دوست نے غنی خان کے ساتھ کھینچی تھی کیونکہ جلال آباد دھماکوں کے بعد ھمارے دونوں کیمرے ھم سے کہیں گھوم ہو گئے تھے) ھماری ٹیم جو کہ مجھ سمیت شھزاد داوڑ، شاہ حسین بنگش، ایمل خان رشکئ،امجد علی مردان کالج ،ھستم خان شنواری، گورنمنٹ کالج کے ساتھیوں ریاض خٹک،شھاب الدین، ناصر مومند، اقبال مومند، تھانہ کالج کے فضل ربی چند دوسرے ساتھیوں پر مشتمل تھی سالار امان خان آف آدینہ کے زیر کمان تھی ۰ سالار امان خان سرخ وردی میں ملبوس اپنی ٹیم کے ساتھ نہایت تندہی کے ساتھ پورے پارک کی نگرانی میں مصروف رھا کرتے تھے ۰امان خان کا کا مشہور خدائی خدمتگار عمرا خان بابا آف آدینہ صوابی کے بیٹے تھے۰ وہ ھم سب کے ساتھ بہت پیار اور شفقت سے پیش آتے تھے۰کیونکہ انھوں نے اگست ۱۹۸۷ میں جب باچا خان کو کومے میں جانے کے بعد دہلی سے پشاور لیڈی ریڈنگ ھسپتال لایا گیا۰ تو انھوں نے اسی کننگھم پارک میں تقریباُ ایک مہینے تک کیمپ لگایا تھا جس میں پارٹی قائدین اور کارکنان روز آیا کرتے تھے۰ جہاں وہ ھم سے شام کو پریڈ بھی کروایا کرتے تھے۰ وہ بڑی چابکدستی کے ساتھ پورے کننگھم پارک میں گھومتے رہتے تھے اور سب کی خبر اور ہر چیز پر نظر رکھتے تھے۰ وہ ھم سب کے لیئے ڈیوٹی کے دوران کہیں سے خیراتی کھانا پکڑ کر لاتے اور وقفے وقفے سے چائے وغیرہ بھی لا کر پلاتے رہتے تھے۰
قیصر خان لالہ اور فرید طوفان جو پارٹی کے مرکزی اور صوبائی پریس سیکٹریز تھے لاؤڈ سپیکر پر مسلسل لوگوں سے ھمارے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے رہتے تھے اور اعلانات کے زریعے مختلف ھدایات اور اطلاعات بہم پہنچاتے رہتے تھے ۰
رات بھر بارش برستی رہی مگر لوگوں کا تانتا بندھا رھا۰ دور دراز سے لوگ جوق در جوق کننگھم پارک پہنچ رہے تھے۰باچا خان کے تابوت کے سرھانے افضل خان لالہ بشیر خان اور باچاخان کے چھوٹے فرزند عبد العلی خان رات گئے تک کھڑے رہے۰ رات گئے امان خان کا کا نے ھم سب کو جا کر آرام کرنے کو کہا اور صبح نو بجے دوبارہ حاضر ہونے کو کہا۰ مگر ھم گھر جانے کی بجائے اپنے دوستوں صادق امین مرحوم ،نور محمد مرحوم،(نور بابو)نصراللہ کبیر، اورنگزیب اور سید نذیر باغی کے ساتھ میاں صاحب کی قیادت میں پشاور کی گلی کوچوں میں پڑے دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کا حال معلوم کرنے شہر کا چکر کاٹنے نکلے۰ اگلے روز یعنی ۲۱ جنوری کو باچا خان کا جنازہ تھا لہذا ملک کے طول و عرض سے باچا خان کے پیروکار اور سیاسی کارکن آج ہی پشاور پہنچ چکے تھے۰ ھم نے دیکھا کہ پشاور کے تمام ھوٹل اور سرائے لوگوں سے بھر گئے تھے۰ کوئی اپنے دوست رشتہ داروں کے ہاں مقیم تھے تو کسی نے پشاور کے مضافاتی علاقوں اور قریبی شہروں چارسدہ مردان نوشہرہ وغیرہ میں اپنے دوست رشتہ داروں کے ہاں ڈھیرے جما لیئے تھے۰ اس کے باوجود ھزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کننگھم پارک سےملحقہ مساجد، بازاروں سڑکوں دکانوں کے تھڑوں پر رات جاگ کر گزاری۰میں نے اپنی آنکھوں سے جی ٹی روڈ، چوک یاد گار، قصۂ خوانی بازار ،خیبر بازار،سوئیکارنو چوک، ھشتنگری کریم پورہ رام پورہ گیٹ، چارسدہ روڈ پر بے شمار لوگوں کو دیکھا جو دکانوں بازاروں کے سامنے تھڑوں اور مارکیٹوں میں پلاسٹک کے عارضی سائبانو تلے بیٹھے کل کے دن کا انتظار کر رہے تھے۰
پشاور اگر ایک طرف سوگ میں ڈوبا ہوا تھا تو دوسری طرف پشاور کے شہریوں کی روایتی مھمان داری اور کشادہ دلی بھی دیدنی تھی۰لوگوں نے اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے باچاخان کے مھمانوں کے لیئے کھول دیئے تھے،لوگوں نے گلی محلوں میں دیگیں چھڑائی ہوئی تھیں۰ کھانے چائے اور روٹیاں پک رہی تھیں۰ آفرین ہو اے این پی پشاور سٹی ڈسٹرکٹ کی تنظیم، اور کارکنان پر جن میں حاجی طاہر مرحوم ، حبیب الرحمان لالہ مرحوم ، فضل الرحمان لالہ مرحوم، حمید الرحمان لالہ اور ان کے ساتھی شامل تھے اور خصوصا حاجی عدیل اور بلور فیملی کے افراد پر جو رات بھر شھر کی گلی کوچوں میں گھومتے رہے اور باچاخان کے مھمانوں کو کھانا اور چائے فراھم کرنے کے ساتھ ساتھ انکی خبر گیری کرتے رہے۰ بارش اور شدید سردی کے باوجود پشاور اس رات جاگ رہا تھا شھر ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۰دوستی، امن ، پیار و محبت اور بھائی چارے کی تاریخ رقم ھو رہی تھی۰
ھم رات گئے تک پارک میں رہنے اور بارش کے دوران شہر میں گھومنے کے باعث مکمل طور بھیگ چکے تھے۰ رات کے تین بجے قریب مجھے میرے بدن میں شدید درد محسوس ہونے لگا اور ایسے لگا جیسے میری ٹانگوں میں مذید کھڑے رہنے کی سکّت نہیں رہی۰حمید الرحمان لالہ میری حالت بھانپتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ فقیر آباد اپنے گھر لے گئے۰اپنی کیمسٹ کی دکان کھولی اور میرا بخار چیک کیا تو ۱۰۲ کا بخار چھڑا ہوا تھا ۰ میں نے حمید لالہ کے ھاتھ جوڑے کہ لالہ کوئی ایسی دوائی دیں کہ میں صبح تک ٹھیک ہو جاؤں کیونکہ میں کسی بھی قیمت پر باچا خان کے جنازے میں شرکت اور جلال آباد جانا مس نہیں کر نا چاہتا۰ حمید لالہ نے مجھے دوائیاں دی اور جا کر آرام کرنے کو کہا۰ادھر میرے دوست شھزاد کے والد گرامی انجنیئراسلم خان( آغہ گل مرحوم ) ھم کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے۰ کیونکہ ان کو بھی ھماری فکر ھو رہی تھی۰انھوں نے پارک کے باھر شھباز اخبار کے دفتر کے سامنے سے ھمیں اٹھایا اور گھر لے گئے۰ جہاں ھم نے دوائی لیکر چند گھنٹے آرام کیا۰
۰
۲۱ جنوری ۱۹۸۸ باچا خان کی نماز جنازہ
دوائی اور آرام سے میرا کافی افاقہ ھو چکا تھا لہذا تیار ہوکو جلدی جلدی کننگھم پارک پہنچے۰بارش مسلسل برس رہی تھی۰ انسانوں کا سمندر تھا جو بابا کے جنازے میں امڈ آیا تھا۰ ہر طرف سر ہی سر نظر آرہے تھے پارک کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۰ پارک کے باھر چاروں اطراف کی سڑکیں تا حد نگاہ لوگوں سے اٹ چکی تھی۰جنازے کا انتظارہو رھا تھا۰ ادھر امان خان کاکا ھمیں ڈھونڈ رہے تھے ھم بڑی مشکل سے بابا کے تابوت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۰ افضل خان لالہ، جج صیب ، بشیر بلور اور باچاخان کے چھوٹے بیٹے علی خان بابا کے سرھانے کھڑے تھے۰
اب تین بجے نمازے جنازہ کا انتظار ھو رہاتھا۰ گھنٹوں پہلے صفحیں درست کی جارہی تھی۰ پختون زلمی کے باوردی اھلکاروں نے چند اھم ترین شخصیات جن میں جنرل ریٹائرڈ فضل حق، مولانہ فضل الرحمان،خورشید محمود قریشی،سردار شوکت حیات،اور دیگر اعلی حکومتی ارکان سول عہدیدارن اور معززین کو پہلی صف تک پہنچانے میں مدد کی۰
پھر اچانک ھم نے دیکھا کہ صدر مملکت جنرل ضیاء الحق،وزیر اعظم محمد خان جونیجو، گورنر فدا محمد خان سٹیج پر آپہنچے۰ کسی کو معلوم نہ ھو سکا کہ صدر اور وزیراعظم کیسے پہلی صف تک پہنچے کیونکہ آخر تک ان کے جنازے میں شرکت کی کوئی اطلاع نہیں تھی۰
اس دوران اس وقت بڑی عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب نمازجنازہ بلکل تیار تھا صفیں تیار کھڑی تھی۰ رجڑ کے صاحبِ حق صاحب جنازے کی امامت کے لیئے آگے کھڑے تھے مگر ولی خان کہیں نظر نہیں آرہے تھے۰ وہ کہیں لوگوں کی بھیڑ میں پھنس گئے تھے اور بھیڑ اتنی کہ پختون زلمی کے کمانڈروں کو ان کو پہلی صف میں لانے کے لیئے بہت محنت کرنا پڑی۰ فرید طوفان لالہ بیچارہ لوگوں سے ولی خان کو راستہ دینے کی اپیلیں دھرا رھا تھا۰ آخر خدا خدا کر کے پختون زلمی کے کمانڈران ولی خان کو پہلی صف تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۰
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد بھی لوگ بجائے منتشر ہونے کے بابا کی دیدار کے لیئے ٹوٹ پڑے۰ لوگوں کا رش کسی طور کم ہونے اور بارش رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۰
لاکھوں لوگ آج رات بھی شدید سردی اور بارش میں وہاں ٹھرے رہے اور اگلے دن ۲۲ جنوری کو بابا کے جسد خاکی کے ساتھ جلال آباد جانے کا انتظار کر رہے تھے۰
رات گئے ھمارے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر میاں افتخارحسین صاحب نے ھمیں بلایا اور ھم کو یونیورسٹی جا کر اجمل خان لالہ( سابق وائس چانسلر اسلامیہ کالج یونیورسٹی ) جو اسوقت پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پرووسٹ تھے کے گھر سے کچھ خصوصی بینرز اور جھنڈے جو باچا خان کے جنازے کو لے جانے والے ٹرک کو سجانے کے لیئے خصوصی طور پر بنوائے گئے تھے کو لانے کے لیئے بھیجا۰ میں اور شھزاد داوڑ ان گاڑی میں یونیورسٹی گئے اور اجمل خان لالہ کے گھر سے وہ سامان اٹھایا۰ اجمل خان لالہ کا شکریہ کہ انھوں نے ھمیں کھانے کے لیئے روک دیا جسکی ھمیں اسوقت شدید ضرورت تھی کیونکہ دن بھر ھمیں کچھ کھانے کا موقعہ نہیں ملا تھا۰ کھانا کھا کے بعد ھماری جان میں جان آئی۰ واپس کننگھم پارک آکر وہ سب سامان میاں صاحب کے حوالے کیا جو وہ جنازے کے ٹرک کو سجانے کے لیئے لے گئے۰
یہ باچا خان کی ھمارے درمیاں آخری رات تھی کل ان کو انکی وصیت کے مطابق جلال آباد میں تدفین کے لیئے لے جانا تھا اور اس کے بعد عمر بھر کے لیئے ھمیں انکو دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ھونا تھا
گذشتہ دو دنوں سے ھم لوگوں کو بابا کا دیدار کرواتے رہے تھے اور اپنی مصروفیت،رش اور دھکم پیل کے باعث میری نظر کبھی کبھار ہی بابا کے چہرے پر پڑتی۰ مگر آج رات دو بجے کے قریب جب لوگوں کا رش زرا کم پڑ گیا اور ھم چند ہی لوگ بابا کے تابوت کے گرد کھڑے تھے تو مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۰ میں نے بابا کو ۱۲ سال کی عمر میں پہلی بار ۱۹۷۷ میں اسوقت دیکھا تھا جب وہ پشاور کے قریب تارو جبہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرنے آئے تھے۰ پھر سولہ سال کی عمر میں اسوقت دیکھنا نصیب ہوا جب میں فرسٹ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا۰پھر ۱۹۸۱ میں رشید ستار ھاؤس میں پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ان سے دوسری ملاقات ہوئی۰ جہاں میں نے پہلی بار بابا کو اتنے قریب سے دیکھا۰ پھر ان کے ساتھ اینٹی کالا باغ ڈیم کمپئین میں جلسوں میں شرکت اور پھر ۱۹۸۶ میں لیڈی ریڈنگ ھسپتال کے بولٹن بلاک میں جہاں وہ فرید طوفان لالہ کے زیر تیمار داری زیر علاج تھے۰اور جب تک وہ ہسپتال میں زیر علاج رہے ھم دن میں ایک بار ضرور ان سے ملنے ضرور جاتے ، ان کے ساتھ ان کے بیڈ پر بیٹھ کر انکے پاؤں دباتے۰ ان کو کھانا کھلانے اور دوائی کھلانے اور انکے کمرے کی صفائی ستھرائی میں فرید طوفان لالہ کا ہاتھ بٹھاتے تھے۰ یہ سارے مناظر ایک لمحے کے لیئے فلم کی سکرین کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۰
میں وہاں کھڑا جتنی دیر بابا کے چہرہ مبارک کو دیکھتا ان کا چہرہ مذید دھمکتا ھوا نظر آتا اور میری اندر کی کیفیت مذید مضطرب اور جذبات سے مغلوب ہوتی جا رہی تھی لہذا اسی کیفیت میں ایک وقت ایسا آیا کہ میں دوڑ کر بابا کے تابوت پر لگے شیشے کو جس میں سے بابا کا چہرہ نظر آرھا جا کر چھومنے لگا۰ میرا دل چاہ رھا تھا کہ شیشہ کھول کے بابا کے چہرے پر بوسہ دوں مگر ایسا ممکن نہ تھا۰میری یہ حالت دیکھ کر فضل الرحمان لالہ نے وہاں موجود ایک کمانڈر سے کہا” دا ھلک ترے نہ رادیخوا کڑہ “ جسپر وہاں کھڑے باچاخان کے بیٹے عبدالعلی خان نے برجستہ کہا “ پریگدہ پریگدہ چی زڑہ تش کڑی دا د بابا پتنگان دی بیا دویئ چرتہ اؤ بابا چرتہ”
رات تین بجے حسین شاہ یوسفزئ ( صوبائی جنرل سیکٹری پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن) نے آکر مجھے اور شھزاد کو زبردستی گھر بھیج دیا اور کل صبح سویرے پہنچنے کی تلقین کی
۲۲ جنوری ۱۹۸۸ باچا خان کا سفر آخرت(روانگی جلال آباد افغانستان)
ھم رات بھر جاگتے رہے بمشکل گھنٹہ ڈیڑھ ہی سوئے۰الصبح اٹھے تیار ہوئے تو میں شھزاد اور ان کے والد ان کی گاڑی میں کننگھم پارک کے لیئے نکلے۰ہر طرف گاڑیوں کے لمبی لمبی قطاریں کھڑی تھی ہر گاڑی پر سرخ جھنڈے لہرا رہے تھے ۰ ملک کے طول وعرض سے گاڑیوں کے قافلے جو کل رات سے ہی پشاور پہنچے تھے آج جلال آباد کے لیئے رواں دواں تھے ۰رش اور ٹریفک جام کی ڈر سے اکثر لوگ بابا کی جنازے کے جلوس سے بھی بہت آگے طورخم کے لیئے روانہ ہو چکے تھے جہاں انھوں نے تورخم پر جلوس کے پہنچنے تک کا
انتظار کرنا تھا۰
کننگھم پارک سے بابا کے تابوت کو خصوصی طور پر تیار کیئے گئے سرخ رنگ کے ٹرک پر رکھ دیا گیا۰ جس کے فرنٹ پر اناللہ و انا علیہ راجعون کا بینر لگا ہوا تھا۰ ٹرک کے دائیں جانب کالا جھنڈا،درمیان میں سفید اور بائیں جانب سرخ جھنڈا لہرا رھا تھا۰ اس ٹرک پر پختون زلمی کے کمانڈروں اور پارٹی قائدین کے علاوہ عبد العلی خان بھی کھڑے نظر آرہے تھے۰
ھزاروں گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ یونیورسٹی روڈ ،خیبر پاس اور لنڈی کوتل سے گذرتا ہوا طورخم پہنچا۰کننگھم پارک سے طورخم تک باچاخان کی تصاویر والے بڑے بڑے بینر لگے ہوئے تھے جگہ جگہ دیواروں پر چاکنگ بھی ہوئی نظر آرہی تھی جسپر نمایاں طور پر باچاخان کو خراج عقیدت کے کلمات درج تھے
ھم سہ پہر کے وقت جلال آباد پہنچے۰ شیشم باغ سے کافی فاصلے پر گاڑیوں کے لیئے پارکنگ کا انتظام کیا گیا تھا جہاں افغان فوج کے جوان گاڑیوں کو قطار در قطار کھڑی کرنے میں ڈرائیور حضرات کی رھنمائی فرما رہے تھے
انسانوں کا سمندر تھا جو بابا کے جنازے کے آگے پیچھے شیشم باغ کی طرف آہستہ آہستہ حرکت کر ہا تھا۰ کابل ٹی وی جنازے کے جلوس کے مناظر براہ راست نشر کر رہا تھا۰ ایک بکتر بند گاڑی سے دل کو چھونے والی ایک خاص قسم کی ماتمی بانسری بجائی جا رہی تھی۰ کمینٹیٹر جو رواں تبصرہ کر رہا تھا بار بار یہ شعر دھرا رہا تھا” لاڑلو دنیا نہ باچا خان د پختنو۔ ژاڑی ورپسے زمکہ آسمان د پختنو ”
ھم نے بھی جلدی جلدی اپنی گاڑی ایک جگہ پارک کی اور شیشم باغ کی طرف ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک پر پیدل روانہ ہوئے۰ سڑک کے بلکل کنارے ایک بہت بڑی نہر تھی جو بلکل خشک تھی۰ لہذا سڑک تنگ ہونے اور لوگوں کا جم غفیر ہونے کے باعث ھزاروں لوگ اس نہر میں کود کر چلنے لگے۰
جلال آباد پہنچتے ہی بابا کے جنازے کا کنٹرول افغان انقلابی گارڈ نےاپنے ہاتھ میں لیا۰ بابا کے جسد خاکی کو ٹرک سے اتار کر اس توپ پر رکھ دیا جسپر غازی امان اللہ خان کا تابوت رکھا گیا تھا۰افغان انقلابی گارڈ کے چاق وچوبند نوجوان بڑی جان فشانی اور چابکدستی سے ھجوم کو کنٹرول کرنے میں لگے ہوئے تھے۰ توپ جس کو ایک خوبصورت ٹرک کھینچ رہی تھی پھولوں کے گلدستوں سے سجی ہوئی تھی۰ پارٹی راھنما،ولی خان بیگم،نسیم ولی خان اور افغان قیادت اس کے پیچھے پیچھے پیدل جا رہے تھے۰ ھم بلکل اس گاڑی کے پیچھے اور قائدین کے بلکل دائیں جانب افغان انقلابی گارڈ کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۰ایک خوبصورت نوجوان غنی خان کی ویل چیئر کو توپ کے پیچھے چلا رھا تھا۰ اس دوران ھم نے دیکھا کہ اافغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ بلیو سوٹ میں ملبوس جلوس کے بلکل سامنے سے اچانک نمودار ہوئے ۰تیزی سے ولی خان کے ساتھ بغل گیر اور ان کے ساتھ جنازے کے جلوس میں چلنے لگے ۰میں نے ڈاکٹر نجیب کو پہلی مرتبہ اتنے قریب سے دیکھا۰ دراز قد اور سرخ و سفید رنگ رکھنے والے بے حد بارعب شخصیت تھے۰
جگہ کی تنگی اور سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر شیشم باغ میں صرف چند اھم لوگوں کو اندر جانے کی اجازت تھی۰ لہذا ھم نے تدفین کی کارروائی اور وہاں مزار پر منعقدہ تعزیتی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال لاؤڈ سپیکر پر سماعت کیا۰
بابا کے تدفین کے موقعہ پر افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کے علاوہ افغان حکومت کے اعلی حکام جن میں سلیمان لائق،انقلابی گارڈز کے جرنیل، سویت یونین اور بھارت کے سفیروں نے شرکت کی جنھوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات سنائے اور مزار پر پھولوں کے گلدستے چھڑائے۰ ان کے علاوہ کشمیری راھنما فاروق عبد اللہ نے بھی شرکت کی۰
شیشم باغ کے اندر جب بابا کی تدفین ہو رہی تھی تو عین اسی وقت تین زور دار دھماکے ہوئے۰ دھماکوں کی شدت اس قدر شدید تھی کہ ھمارے پیروں تلے زمین ہل گئی۰ بعض لوگ اس کو توپوں کی سلامی سمجھ رہے تھے۰ مگر دھماکوں کی آواز سے پتہ چلتا تھا کہ یہ بہت ہی بڑے بم دھماکے تھے۰ کسی کو کچھ معموم نہیں تھا کہ ہو کیا گیا۰ پتہ تب چلا جب پارکنگ ایریا کی طرف سے ایمبلنسوں کے سائرن کی آوازیں آنے لگیں۰ اتنی دیر میں باچا خان کی تدفین کا مرحلہ احتتام پذیر ھو چکا تھا۰اور لوگ واپس جانے لگے۰ھمارے سامنے سے بے شمار ایمبولنسز فراٹے بھرتے ہوئے ھسپتال کی جانب دوڑ رہی تھیں ہر کسی کو اپنی گاڑی سے زیادہ اپنے ساتھ آنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کی فکر ہونے لگی۰سب ایک دوسرے سے واقع کی شدت اور جانی و مالی نقصان کے بارےمیں پوچھتے رہے۰ ھم بھی آہستہ آہستہ پارکنگ کی جانب پیدل چل رہے تھے ۰ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک قیامت صغری کا عالم تھا دھماکوں کی وجہ سے وہاں زمین پر بڑے بڑے گہری گڑے بن چکے تھے جس کی مٹی اڑ کر چاروں طرف گاڑیوں پر پڑ چکی تھی۰ زیادہ تر گاڑیاں ناقابل شناخت ہو چکی تھی۰ ہر طرف لاشیں اور زخمی بکھرے پڑے درد سے کراہ رہے تھے۰ وہاں پر پانی کا ایک چھوٹا سا نالہ تھا جو دھماکے سے پھٹ گیا تھا اور اسکا پانی زمین پر پڑے لاشوں اور زخمیوں پر چھڑ رھا تھا ۰ھم نے وہاں موجود لوگوں کو آواز دی کہ ھمت کرو اور آؤ کہ اپنے ساتھ آنے والے ساتھیوں کی لاشوں کو اٹھا لیں۰ لہذا ھم سب نے مل کر لاشوں اور زخمیوں کو اٹھا کر محفوظ جگہ پر رکھ دئیے ۰زخمیوں کا خون روکنے کے لیئے لوگوں سے چادریں مانگ کر ان کے زخموں کے گرد لپیٹ دیئے۰ اس دوران شام ہو چکی تھی اور اندھیرا چھانے لگا تھا مگر جب تک یہ تمام لاشیں اور زخمی ایمبولنسز کے زریعے ھسپتال پہنچائی نہیں گئی ھم اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں موقعہ پر موجود رہے۰
اس دن ھم سب لوگ دوہرے غم سے دو چار ہوئے ایک فخر افغان باچا خان کی جدائی کا غم تو دوسری طرف آج کے بم دھماکوں میں جانی نقصان کی وجہ سے جن میں بے گناہ لوگ شھید ہوئے۰ بعد میں پتہ چلا کہ وہ دھماکے پشاور یونیورسٹی کی بسوں میں ہوئے تھے۰
افغان حکومت کے کارندے ایک طرف اگر لاشوں کو اٹھانے میں مصروف تھے، زخمیوں کو ھسپتال پہنچانے اور انکو طبی امداد پہنچے میں لگے تھے تو ساتھ ہی حکومت نے سرکاری سطح پر پشاور سے آنے والے لاکھوں مھمانوں کے لیئے وافر مقدار میں کھانے کا بھی بندوبست کیا تھا۰ بکتر بند گاڑیوں اور ھیلی کاپٹروں کے زریعے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے جا رہے تھے۰ اس پیکٹ میں چاول ،گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا، روٹی، دو کیلے اور ایک سیب شامل تھا۰یہ کھانا اتنی وافر مقدار میں تھا کہ کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جس کو نہ ملا ھو۰ غریب اور جنگ زدہ افغانستان نے اپنے بھائیوں کی ایسی مھمان نوازی کی جسکی مثال نہیں ملتی۰
ھماری گاڑی چونکہ پارکنگ کے بلکل شروع کے حصے میں کھڑی تھی اور دھماکے پارکنگ کے درمیان میں ہوئے تھے لہذا ھماری گاڑی گرد اور مٹی سے تو اٹ چکی تھی مگر نقصان سے بچ گئی تھی۰ ھم نے وہاں دیکھا کہ ھزاروں گاڑیاں بسیں اور موٹریں مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی ہر طرف ایک ویرانی ہی ویرانی تھی۰
بہت سارے لوگ اپنی تباہ شدہ گاڑیاں وہی چھوڑ کر جانے لگے۰ھم نے بھی اپنے ساتھ سی اینڈ ڈبلیو کے ایک ریٹائرڈ ایکسیئن کو ان کے دو جوان بیٹوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں بٹھا لیا جن کی نئی چھیاسی ماڈل کی کرولا گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۰
افضل خان لالہ اور لطیف لالہ سمیت پارٹی قائدین اور پی ایس ایف کے راھنماء زخمیوں کی تیماردای اور لاشوں کو پشاور لانے کا بندوبست کرنے کے لیئے جلال آباد ہی میں رہ گئے۰
واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا لوگ تھک چکے تھے سڑک چھوٹی ہونے کے باعث بہت سخت ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۰ افغان فوجی ٹریفک کا کلئیر کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے۰ ایک جگہ ھماری گاڑی کے بلکل سامنے سڑک کے بیچوں بیچ ایک ۷۳ ماڈل کی کرولہ گاڑی کھڑی تھی جسکا رجسٹریشن نمبر DIR 1313 مجھے آج بھی یاد ہے ۰لوگ اس گاڑی کو دیکھ کر اس ڈر سے کہ اس میں بھی بم نہ رکھے ہوں اپنی گاڑیاں سڑک کے بیچ چھوڑ کر بھاگنے لگے دو افغان عسکر آئے اور انھوں نے بندوق کے بٹ مار کر شیشے توڑے اور یہ کنفرم کرنے کے بعد کہ اس گاڑی میں کوئی بم نہیں ھم کو اس گاڑی کو سڑک سے ھٹانے میں ان کی مدد کرنے کو کہا۰ لہذا ھم نے بہ آواز بلند لوگوں کو بتایا کہ واپس آجائیں گاڑی میں کوئی بم نہیں ہے۰پھر ھم نے مل کر اس گاڑی کو سڑک سے اٹھا کر کنارے لگا دیا ۰ٹریفک کھل گئی تو یہ نوجوان افغان عسکر ھمارے ساتھ ساتھ آخر تک دوڑتے ہوئے چلے جا رہے تھے۰ھمارے واپسی کی کانوائے پر اوپر ھیلی کاپٹر چل رہے تھے اور ان سے دور جنگی جہاز تواتر سے فضا میں روشنی کے گولے چھوڑ رہے تھے۰ ھم کو اس وقت تو اس روشنی کے گولوں کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیوں چھوڑے جا رہے ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ یہ ھماری کانوائے کو سٹنگر میزائلوں کے حملے سے بچانے کے لیئے فضا میں چھوڑے جا رہے تھے کیونکہ ان دنوں امریکہ نے گلبدین حکمت یار کو سٹنگر میزائل کی فراھمی شروع کی تھی۰ افغان حکومت کو ڈر تھا کہ کہیں ھماری کانوائے کو سٹنگر میزائل سے نشانہ نہ بنایا جائے۰
بلاخر ھم رات تین بجے کے قریب پشاور پہنچ گئے۰پارٹی قائدین جن میں افضل خان لالہ بھی شامل تھے اگلے دن شھدا کی لاشیں لیکر پشاور پہنچے۰پارٹی قائدین نے مختلف جھگوں پر شھداء کی نماز جنازوں میں شرکت کی ۰ ھم نے بھی پارٹی کے سابق صوبائی جنرل سیکٹری تاج الدین خان کے بھائی جو جلال آباد میں شھید ہوئے تھے کی نماز جنازہ میں ان کے گاؤں نحقی جا کر شرکت کی۰ پورا پختونخواہ سوگ میں ڈوبا ھوا تھا۰ جلال آباد سے
بہت سارے لوگ اگلے دو تین دن بعد پہنچے جن میں میرا چھوٹا بھائی شاہ فیصل ایڈوکیٹ (حال فنانس سیکٹری ملگری وکیلان) بھی شامل تھا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Peshawar
