ANP Culture Unit

Directions

ANP Culture Unit The basic theme of this page is to promote and preserve Tangible and Intangible Cultural Heritage.

محترم قاسم علی شاہ صاحب سے ملنے یا جلنے کا ایک فائدہ تو یقینی ہے کہ یا تو کوئی خوبصورت تحفہ ملے گا، یا شاندار کھانا، چائ...
01/10/2026

محترم قاسم علی شاہ صاحب سے ملنے یا جلنے کا ایک فائدہ تو یقینی ہے کہ یا تو کوئی خوبصورت تحفہ ملے گا، یا شاندار کھانا، چائے حلوہ، یا پھر کسی جاندار اور قابلِ ذکر شخصیت سے ملاقات۔ غرض یہ کہ خالی ہاتھ تو آپ واپس نہیں آئیں گے!

میرے قریبی دوست محمد شبیر خان کی مرتب کردہ کتاب ’’میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل‘‘ میں میرا ایک مختصر سا مضمون بھی شامل ہے۔ اس پر بھی مجھے ایک انرجی بوسٹر انعام کی صورت میں ملا، جسے دیہاتی زبان میں سونف والی پنجیری کہتے ہیں۔

قاسم علی شاہ صاحب اور محمد شبیر خان صاحب، دونوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنی محبت، شفقت اور خلوص سے نوازا۔

بہت شکریہ!

والسلام ساجد خان باتور

کتاب کی اصل برکت ! میں تحائف سنبھال کر رکھنے کے معاملے میں ہمیشہ کمزور رہا ہوں۔ زندگی بھر جو بھی اچھی چیز ملی، اکثر آگے ...
27/09/2026

کتاب کی اصل برکت !

میں تحائف سنبھال کر رکھنے کے معاملے میں ہمیشہ کمزور رہا ہوں۔ زندگی بھر جو بھی اچھی چیز ملی، اکثر آگے کسی نہ کسی کو دے دی۔ پھر کسی نے سمجھایا کہ تحائف تبرک ہوتے ہیں، انہیں اپنے پاس رکھنا بھی ایک برکت ہے، تو یہ عادت بھی کچھ بدل گئی۔

کتابوں کا معاملہ البتہ ہمیشہ مختلف رہا ہے۔ میرا یقین ہے کہ کتاب کی اصل برکت اسے پڑھنے اور آگے پہنچانے میں ہے۔ اسی لیے جب کوئی ساتھی یا دوست کتابوں کی فرمائش کرتا ہے تو میں خوشی سے دے دیتا ہوں، اگرچہ اکثر بعد میں یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ کتابیں واقعی پڑھی بھی گئیں یا نہیں۔

میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اچھی کتابیں خریدوں، اپنی لائبریری میں جمع کروں اور پھر انہیں ایسے لوگوں تک پہنچاؤں جہاں ان سے کسی کو پڑھنے، سیکھنے اور سوچنے کا موقع مل سکے۔ شاید کتاب خریدنے سے زیادہ خوبصورت عمل اسے کسی ایسے شخص تک پہنچانا ہے جو اسے پڑھ سکے۔

اس بار مردان کے قریبی دوست اکبر ہوتی نے ایک لائبریری قائم کرنے کا ارادہ کیا تو مجھے ایک اچھا موقع نظر آیا۔ ان سے یہ وعدہ لے کر کہ وہ اس کام کو جاری رکھیں گے، میں نے اپنی ذاتی لائبریری سے تقریباً ایک سو کتابیں اس مقصد کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کتابوں میں علامہ اقبال، سعادت حسن منٹو، قاسم علی شاہ، پشتو کے ادیبوں اور دیگر موضوعات پر اچھی اور منتخب کتابیں شامل ہیں۔

اب دیکھتے ہیں اکبر ہوتی ان کتابوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ کتابیں صرف الماریوں کی زینت نہ بنیں بلکہ بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں جائیں، پڑھی جائیں، سوچ پیدا کریں اور علم آگے منتقل کریں۔

میری سب سے گزارش یہی ہے کہ اچھی کتابیں خریدیں، خود پڑھیں اور جب ممکن ہو انہیں دوسروں تک پہنچائیں۔ کتاب کی سب سے بڑی برکت یہی ہے کہ اس کا علم ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا رہے۔

اکبر بھائی کا شکریہ کہ انہوں نے ایک ایسے کام کا آغاز کرنے کا ارادہ کیا جس سے کتاب اور مطالعہ کو فروغ مل سکتا ہے۔ امید ہے یہ لائبریری آنے والے وقت میں بہت سے لوگوں کے لیے علم اور مطالعے کا ذریعہ بنے گی۔
والسلام
ساجد خان باتور
لاھور
27 ستمبر 2026

آج معروف ماہرِ اقبالیات، محقق، مصنف اور ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان، ستارۂ امتیاز یافتہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی صاحب میرے...
14/09/2026

آج معروف ماہرِ اقبالیات، محقق، مصنف اور ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان، ستارۂ امتیاز یافتہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی صاحب میرے دفتر تشریف لائے۔

ڈاکٹر صاحب اردو، فارسی اور پشتو زبان و ادب کے ممتاز محقق ہیں اور اقبالیات کے میدان میں طویل عرصے سے گراں قدر علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی متعدد کتب اور تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں، جبکہ اقبال کے فکر و پیغام کو پاکستان اور بیرونِ ملک اجاگر کرنے کے حوالے سے بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔

آج کی ملاقات میرے لیے اس لحاظ سے بھی خاصی خوشگوار رہی کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی قیمتی کتب عنایت فرمائیں۔ فکرِ اقبال، ادب، زبان و ثقافت اور علمی و تحقیقی موضوعات پر ان کے ساتھ نہایت سیر حاصل اور بصیرت افروز گفتگو ہوئی۔ ان کے وسیع مطالعے، علمی گہرائی اور شگفتہ اندازِ گفتگو سے بہت استفادہ ہوا۔

ایک ایسی علمی و ادبی شخصیت کی میزبانی میرے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت عنایت فرمایا اور اپنی کتب سے بھی نوازا۔
والسلام
ساجد خان باتور
پریذیڈنٹ ڈائیوو فاسٹیکس پاکستان

شخصیاتِ پختونخوا: دوسروں کو پہچاننے والے شخص کی اپنی پہچانکسی شخصیت پر لکھنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا کسی دوسری شخصیت کی...
07/09/2026

شخصیاتِ پختونخوا: دوسروں کو پہچاننے والے شخص کی اپنی پہچان

کسی شخصیت پر لکھنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا کسی دوسری شخصیت کی خوبی کو دل سے تسلیم کرنا ہے۔ اپنے عہد کے لوگوں کی خدمات، صلاحیتوں اور خوبیوں کا اعتراف کرنا، انہیں تلاش کرنا اور پھر ان پر ایک مکمل کتاب لکھ دینا ایک ایسے ظرف کا تقاضا کرتا ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

روخان یوسفزئی کی تازہ تصنیف ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ اسی بڑے ظرف اور کشادہ نظر کی ایک مثال ہے۔ کتاب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام رکھنے والی تقریباً ساٹھ شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب محض چند افراد کے حالاتِ زندگی کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ اپنے اندر پختونخوا کے ایک عہد کی علمی، ادبی، سیاسی، سماجی اور انسانی تصویر بھی سمیٹ لیتی ہے۔

اس کتاب کی سب سے خوبصورت بات میرے نزدیک یہ ہے کہ روخان یوسفزئی نے دوسروں کو موضوع بنایا ہے۔ ہمارے ہاں عموماً ہر شخص اپنی ذات، اپنی کامیابی اور اپنے کارنامے کے گرد ایک داستان تعمیر کرنے میں مصروف رہتا ہے، مگر کسی دوسرے کے کام کو تلاش کرنا، اسے سراہنا اور اس کے اعتراف کے لیے اپنی توانائی صرف کرنا ایک مختلف مزاج کی علامت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ کو میں صرف ایک کتاب نہیں بلکہ اعترافِ خدمت کی ایک روایت سمجھتا ہوں۔ جن لوگوں نے اپنے اپنے میدان میں کچھ کیا، چاہے وہ شہرت کے بڑے ایوانوں تک پہنچے ہوں یا خاموشی سے اپنے حصے کا کام کرتے رہے ہوں، ان کے کام کو محفوظ کرنا بذاتِ خود ایک خدمت ہے۔

روخان یوسفزئی کی اپنی شخصیت کو اس کتاب سے الگ کرکے دیکھنا بھی شاید ممکن نہیں۔ وہ محض صحافی نہیں، شاعر بھی ہیں، ادیب بھی، نقاد بھی اور سیاست و سماج کے مشاہد بھی۔ ان مختلف حوالوں نے ان کی نظر کو کئی زاویے عطا کیے ہیں۔ شاید اسی لیے وہ کسی شخصیت کو صرف اس کے عہدے، شہرت یا ظاہری شناخت سے نہیں دیکھتے۔

مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ روخان یوسفزئی کے پاس مختلف قسم کے کئی عدسے ہیں۔ صحافت کا عدسہ، ادب کا عدسہ، شاعری کا عدسہ، سیاست کا عدسہ اور زندگی کے تجربے کا عدسہ۔ وہ ان سب کو ملا کر کسی شخصیت کا صرف ایکسرے نہیں کرتے بلکہ اس کا ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کر لیتے ہیں۔

اور یہی شخصیت نگاری کا اصل کمال ہے۔

کسی شخص کا عہدہ بتانا آسان ہے، اس کے کارنامے گنوانا بھی آسان ہے، مگر اس کے پیچھے موجود انسان کو دیکھنا مشکل ہے۔ اس کی کمزوریوں، خوبیوں، تضادات، محرومیوں، جدوجہد اور کردار کو سمجھنا ایک طویل مشاہدے کا تقاضا کرتا ہے۔ روخان یوسفزئی نے زندگی کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو قریب سے دیکھتے اور پرکھتے گزارا ہے۔ اسی لیے ان کی نظر صرف چہرے پر نہیں رکتی بلکہ چہرے کے پیچھے موجود شخصیت تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔

سعد اللہ جان برق نے بھی کتاب پر اپنے تبصرے میں اسی پہلو کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ ان کے مطابق روخان یوسفزئی نے بہت سی شخصیات کو ’’کتابوں‘‘ کی طرح پڑھا ہے اور ان کے ظاہری سرورق کے پیچھے موجود مواد کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ ان کے نزدیک روخان کی عمر ہی چہروں کو پڑھنے میں گزری ہے۔

یہاں ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ کتاب میں صرف وہ لوگ اہم نہیں جنہیں دنیا پہلے سے جانتی ہے، بلکہ ان لوگوں کی تلاش بھی دکھائی دیتی ہے جو بظاہر معمولی، خاموش یا غیر نمایاں ہیں مگر اپنے کردار اور خدمت میں غیر معمولی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں سعد اللہ جان برق نے بھی لکھا کہ بعض لوگ بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں بہت خاص ہوتے ہیں۔

روخان یوسفزئی کے حوالے سے ایک بات مجھے ہمیشہ دلچسپ محسوس ہوتی ہے کہ ان کی زبان پشتو ہے، ان کی تہذیبی اور فکری جڑیں پشتون معاشرے میں ہیں، لیکن وہ اردو کو بھی اپنی زبان سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے وہ اپنی تہذیبی شناخت کو ایک محدود دائرے میں بند نہیں کرتے بلکہ اسے اردو کے وسیع تر قارئین تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ کا اردو میں شائع ہونا اسی وسعتِ نظر کی علامت ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شخصیت نگاری روخان یوسفزئی کے لیے کوئی نیا میدان نہیں۔ اس سے پہلے ان کی ’’سلیم راز: شخصیت اور فن‘‘ شائع ہو چکی ہے، جس میں انہوں نے معروف پشتو ادیب و دانشور سلیم راز کی زندگی، فکر اور فن کو موضوع بنایا۔ اس پس منظر میں ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ ان کے اسی طویل مطالعاتی اور شخصیت نگارانہ سفر کی ایک وسیع تر صورت محسوس ہوتی ہے۔

میرے نزدیک اس کتاب کی اصل قدر صرف اس میں شامل ناموں کی تعداد نہیں بلکہ ناموں کے پیچھے موجود انسانوں کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ چلے جاتے ہیں، عہد بدل جاتے ہیں، مگر اگر کسی نے اپنے قلم سے کسی شخص کی خدمات، جدوجہد اور کردار کو محفوظ کردیا تو وہ شخص ایک طرح سے آنے والی نسلوں کے لیے دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔

اور شاید یہی اس کتاب کا سب سے بڑا جواز ہے۔

روخان یوسفزئی نے دوسروں کو یاد رکھا ہے۔ ان کے کام کو اہم سمجھا ہے۔ ان کی شخصیت کو اپنے قلم کے ذریعے محفوظ کیا ہے۔ میرے خیال میں دوسروں کی قدر کرنے کی یہ صلاحیت خود ایک قابلِ قدر صفت ہے۔

اس لیے ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے صرف ان شخصیات کا ذکر کافی نہیں جنہیں روخان یوسفزئی نے کتاب میں جگہ دی ہے۔ ہمیں خود روخان یوسفزئی کے اس انتخاب، اس مشاہدے اور اس ظرف کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے قلم اٹھایا۔

شاید اس کتاب کا ایک خوبصورت خلاصہ یہی ہے:

جو شخص دوسروں کی شخصیت دریافت کرنے کا ہنر جانتا ہو، وہ خود بھی ایک مطالعے کی شخصیت بن جاتا ہے۔

اور ’’شخصیاتِ پختونخوا‘‘ شاید روخان یوسفزئی کی طرف سے صرف پختونخوا کی شخصیات کا تعارف نہیں، بلکہ خود ان کی اپنی شخصیت کا بھی ایک آئینہ ہے۔

والسلام
ساجد خان باتور
پریذیڈنٹ ڈائیوو فاسٹیکس پاکستان
7 ستمبر 2026 - لاھور

د خپل قد سیوري ته کېنمه دمه شم په تسنيم نشته د ونو احسانونه **لکه د کونډې په پلو پورې تړلې روپۍتسنیمه خلک په احتیاط زړه ...
01/09/2026

د خپل قد سیوري ته کېنمه دمه شم
په تسنيم نشته د ونو احسانونه
**
لکه د کونډې په پلو پورې تړلې روپۍ
تسنیمه خلک په احتیاط زړه کې ساتي خوبونه
**
غم، ابدي پریشانۍ، تورې تیارې، زخمونه
تسنیمه! دا مو د لاس نخښې د نیکونو پاتې
**
ااااه تسنیم لکه صابر او صابر لکه تسنیم په زړه ، ساړه اسویلي ، دردونه یوړل
ارواه یې د انسانانو په هجوم کې له هر څه ستړې شوې وه، له غربت، دروغجنو خلکو، فریبکارو ملګرو، جنګ، ناخوالو، سیاسي کاذبو څهرو او تورو شپو خوړلی تسنیم ډېر په زړه داغ دار و. او همداسې داغ دار لاړ .

په خپل یو لیک "من آنم" کې یې لیکلي
"یو سړی دی او هغه د یو داسې قام فرد دی څوک چې په دې نه دي خبر چې د دوی په لاسونو کې چې کومه جهنډه ده، دا د چا ده؟ او دوی په چا پسې روان دي؟ څوک چې صرف او صرف د ماضي په ټالونو جوټې خوړل عین عظمت ګڼي، او چا چې د تېرو دریو لسیزو راهیسې د اجتماعي خودکشۍ عالمي رېکارډ قایم کړو او چا ته چې هره بې ستره ښځه کې فحاشي د زرګونه میله لرې نه ښکاري خو خپل عیبونه، کمزورۍ او جهل بېخي نه ویني."

ناهیلی و یو ځای لیکي...
دا دومره لار وهل، یاره وړه خبره نه وه
ځان تاته رسول، یاره وړه خبره نه وه

ځانونه مو په لار لکه د رېګ دڅلو باد کړه
خپل څلي بادول، یاره وړه خبره نه وه
----
ارواښاد تسنیم په وطن مئین شخصیت و خلقو به رامبیل چامبیل بویول خو ده به د وطن خړې نمجنې خاورې بویولې.

نور د وطن د مینې غټ ثبوت له کومه راوړم
خلقو رامبېل لټول ما یې بویولې خاورې
-----
خلکو ته یې ویل، مینه وکړﺉ د مینې ژوند له رنګونو ډک دی. له کرکې خپلې لمنې راټولې کړﺉ

ملګري یې سوداګر وه. دده په زخمونو یې تجارت کوه

دا ځل را ګیر یم د یارانو سوداګرو مینځ کې
خدای زده که دا ځل سلامت له دې بازاره وځم
----

نه دي هغه نرخونه پاتې، نه هغه سوداګر
اوس به یاران په کوم دوکان کې خرڅوي زخمونه
----

رښتیا چې د ده په قول خلکو سل نقابونه په مخ کړي، دزړه او خولې خبرې یې سره یو شان نه دي. د دغو خلکو له سترګو حیا الوتې .

نه مخ دی مخ، نه سترګې سترګې پاتې
قسم په خدای که پېژنده شي سړی
---
تسنیم ته ژوند ډېر سخت شوی و، ځکه خو لیکي

ژوند تېرول، لکه د غره کیناستل
خودکشي څومره ده اسانه، یاره
-----
یواځې ما لپاره نه زیاتره ملګریو ته ښه شعر/شاعر هغه دی، چې هغه په شاعري کې ځان وویني او د تسنیم شاعري آيينه ده ، هر وګړی پکې ځان ویني.

سترګې مو وې خو زمونږ دومره نصیبونه نه وو
د کور نه څه له راوتو، چې منظرونه نه وو

خلقو رښتیا د سمندر غوندې سینې لرلې
وې سمندر غوندې سینې خو پکې زړونه نه وو

خود یې دعوې د قامتونو د زوال په وخت کړې
چې د خپل سیوري برابر د دوی قدونه نه وو

د یو زړګي په قېد خانه کې زندګي وه تېره
رانه چاپېره قلاګانې، دېوالونه نه وو

دې آېینو کې مو تل خپله نیمګړتیا ژړلې
یا به مو پښې وې شلې یا به مو لاسونه نه وو

تسنیمه! یو ماښام مې داسې پېښور پرېښوده
لکه چې هلته مې د پلار نیکه هډونه نه وو
***

سپوږمۍ د خپل ګرېوان تمامې تڼۍ پرانستلې
او بې موسمه سپرلو
څومره په شوق پرې د ګلابو پاڼې وشیندلې
تورو لونګو د فضا په ساه قبضه وکړله
د ز لمیتوب د بدن هر اندام میږی میږی شهَ
د عمر تږې آرزو
په هوَسي سترګو چاپېر وکتل
خو د تمامو نظارو جواب کې
زندګۍ یو چونګ وینه وتوکله
***
ارواښاد تسنیم رښتیا چې په داسې خوب ویده شو، چې اوس یې هیڅوک نه شي راویښولی

پري زاده زه که دا وارې اوده شوم
هیڅ یو شور به مې راویښ نه کړي له خوابه
**
بل ځای یې وخت ناوخت ځان ته داسې کاذب ډاډ هم ورکاوه
زما یقین دی، زه به بیا غوړېږم پاڼه پاڼه
زما د برخې ټول بادونه د شمال وساته

ارواښاد ریاض تسنیم په پښتو ژبه کې د نوو خبرو او ترکیبونو شاعر دی

درځئ بل غزل یې هم لولو

دروېشه خدا مسته! د جهان پۀ زړۀ کښې څۀ دي؟
وئیل ئې ، پۀ خــلا کښې تر مطلبه رســـــیدۀ دي

دروېشه خدا مسته! د وجود نـــه مې شغلې ځي
وئیل ئې، محبت خو رنګ اؤ نور کښې ورکېدۀ دي

دروېشه خدا مسته! جدائۍ تـــه مې زړۀ کېـــــږي
وئیل ئې، جدائي خو پۀ ســـــکروټو ګډېــــډۀ دي

دروېشه خدا مسته! د حــدونو حــد هم شته دے ؟
وئیل ئې، د حــدونو حــد نه اخوا ته هم څۀ دي

دروېشه خدا مسته! قنـــــــــدهار دے اؤ انــــــار دي
وئیل ئې، دغه خوب دې پۀ جلوه کښې ورکېدۀ دي

دروېشه خدا مسته! حــــــال د عشق د وطن وایـــه
وئیل ئې، سینه داغ وړي کۀ ځوانان دي کۀ زاړۀ دي

دروېشه خدا مسته! پۀ صدیـــو باندې محیــــط یم
وئیل ئې، صدۍ څـــۀ دي خو د شګو رژېــــدۀ دي

دروېشه خدا مسته! لعل د هر سړي نــــۀ ورک دے
وئیل ئې، زنـــــدګي خو د بــــاړې خړې اوبـــــۀ دي

دروېشه خدا مسته! د تسنیم ستـرګې نـرګس شوې
وئیل ئې، د عشق رنځ خو د عشاقو د مخ سرۀ دي
**
تسنیم نه یواځې خپل درد اظطراب ، اذیت د شعر په ژبه زموږ تر زړونو رالیږل د پښتانه ولس غم یې د ذات درد وو خوږېده به ،د پښتون د مړي وارث نه وو په ژوند د حق غوښتنې پوښتنه خو یې لا څه کوې .
( د مشرق سوءټزرلېنډ که دوزخ)

خبر یې ؛ پرون دسوات سیند مړي په سر راخستي وو
او خلکو یو یو بهر ته راویسته
څوک وو؟
افسر وو
څوک وو
پښتون وو
بل؟
د بل اوږدې څڼې وې طال-ب معلومېده
څوک وو؟
پښتون وو
بل؟
د چا زنانه وه
خلکو ویل چې د جینکو د مکتب استاده ده
څوک وه؟
پښتنه وه
اوبل؟
بل زړې شلیدلې جامې اغوستې مزدورکار وو
څوک وو؟
پښتون وو
وارثان یې پیداشول؟
(ساده سواتیه ! د پښتون وارثان چرته وي)
**
تسنیم صاحب به ويل : ژوند کښې مې صرف دا یو نعت لیکل نصیب شوی دی .

دومره بخت چرته دے خو ستا پۀ دروازې ولاړيم
ستا د نامې نه د خپل زړۀ تر مدينې ولاړيم

دا چې د ډېرو خدايانو عبادت نۀ کؤم
دا ستا کرم دے چې بس يو مخ پۀ قبلې ولاړ يم

ستا د وقار اؤ د جامو د پېوندونو نه ځار
د ابوذر‌‌ پۀ خوا کښې ستا پۀ تماشې ولاړيم

زۀ به درځم - د فقيرانو لارې چا نيولي
زۀ به ترکومې قلابند د تورې شپې، ولاړيم

تۀ د کوثر نه لپې پاشه پۀ څلور اړخه
زۀ کۀ ولاړ يمه خوستا پۀ تماشې ولاړيم

چرته تسنيم،چرته د نعت دردانې لفظونه
ستا د نظر اؤ ستا د مينې پۀ سائې ولاړيم
**

غزل
چاته خو مو عېب اؤ هنر نۀ ښکاري
ښۀ ده چې اثار د سحر نۀ ښکاري

وائي د کوم سېل نۀ پاتې شوے ئې؟
چاته مې دا سوي وزر نۀ ښکاري

ښۀ شوه ، لۀ احتياطه تنګ راغلے ؤم
اوس مې دغه پېټے پۀ سر نۀ ښکاري

يا زما خبر کښې واقعه نشته
يا مې واقعه کښې خبر نۀ ښکاري

دا د کوم سفر نۀ په ستنه راغلم
نخښې مې پۀ مخ د سفر نۀ ښکاري

يو عجيبه داغ مې پۀ دې زړۀ کښې دے
غواړم چې ښکاره شي مګر نۀ ښکاري

هر څۀ نه بهر شولو تسنيم ولې
ستا د دائرو نه بهر نۀ ښکاري
**

زما ستا نه هم ګیله ده خو دا وارې
نور د زړه د بربادۍ دي سببونه

شور دی ښه له خاموشۍ خو دومره هم نه
چې د خپل زړګي هم نه اورئ غږونه

د لیلا ناقه په دشت کې نه ورکېږي
دي د عشق واړه معلوم معلوم حدونه

سپوږمۍ ستا د ګرېوانه په لار راخېژي
ځکه پاشي د رڼا برکتونه
**
څانګې! دومره مې خاورو خوند اخیستی
څانګې، خوند مې د خولې خاورې، خاورې کېږي

څانګې! یاد باندې مې څۀ بلا پرېوتې
څانګې، ګوره خپل خوبونه مې هېرېږي
**

څومره د خوند مرګ دی، څۀ د خوند بلا وژلی يم
زۀ د محبت وړې وړې ادا وژلی يم

دا خو مې يقين وۀ چې ځنګل کې شپې اخيستی وم
لږ لږ پوهيدم، چې د سپوږمۍ رڼا وژلی يم

نور خلق به خدای خبر په چا چا باندې ګوته ږدي
زۀ خو تا وژلی وم او زۀ خو تا وژلی يم

دا ځل مې پخپله د خپل رنځ استخاره وکړه
زۀ په‌ دعا ساه اخلم او زۀ دوا وژلی يم

بس دغه د سترګو حېراني مې سلامت راوړه
زۀ د‌ کربلا نۀ--- د‌ کوفې ادا وژلی يم

دا زما نصيب چې د‌ بازار سترګې په ما خوږې
يه تسنيمه! وروڼو خو زۀ ډير پخوا وژلی يم

**
ناقراري ده او اوږده ناقراري تسنيمه!
نه يې زه ووژلم، نه خوله بندوي زخمونه
**
تسنیمه څومره آيينې لرې ته
دلته د ھر سړ‎ي ھزار مخونه
**
تسنيمه! درد مې په رګونو کې موجونه وهل
دا چې هجوم کې ددې واړه دنيا نه راتلمه
**
تلم او راتلم، آخر خالي مکان ته ودرېدمه
زهٔ چې لهٔ ځانه مرور وم، ځان ته ودرېدمه

دا شپه زموږ د بدبختۍ حالونه چاته وایي
یوه شېبه لهٔ ستورو ډک اسمان ته ودرېدمه
**
مونږ خاک نشــــينو هم که کډه وکړه
څوک به ځارېږي بيا له تانه یاره

ګرد يې راځي زمونږ په مخ تسنیمه!
او قافــله د ژوند روانه ياره
**
‏خوشحالي او غم په يو کرښه بېليږي
شمعې اوښکې څڅوي او شغلې خاندي
**
څومره عجبه ده د هجر د ماښام تماشه
تا په هغې لارې وباسي ما په دې وباسي
**
#روح یې ښاد ، ارواښاد خدا مست ریاض تسنیم

16/08/2026
الحمدللہ!سال 2026 کے فخرِ پختونخوا ایوارڈ کے لیے میری نامزدگی میرے لیے ایک عظیم اعزاز اور باعثِ افتخار ہے۔میں اس عزت و م...
23/07/2026

الحمدللہ!

سال 2026 کے فخرِ پختونخوا ایوارڈ کے لیے میری نامزدگی میرے لیے ایک عظیم اعزاز اور باعثِ افتخار ہے۔

میں اس عزت و محبت پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں۔ یہ نامزدگی میرے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ میں اپنی مادری زبان پشتو، اپنی ثقافت اور اپنے پختون بھائیوں سے محبت و وابستگی کو مزید فروغ دوں، اور اپنی بساط کے مطابق ان کی خدمت کرتا رہوں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اخلاص، توفیق اور استقامت عطا فرمائے تاکہ میں اپنی قوم اور معاشرے کے لیے مزید مثبت کردار ادا کر سکوں۔

والحمدللہ۔

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ANP Culture Unit posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share