Chief Minister KP

Directions

Chief Minister KP Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Chief Minister KP, Government Official, Peshawar.

30/09/2026

دو باتیں ہیں۔ یہ جو مسخرے اور کارٹونز آپ لوگ ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں، ایک ٹیم کو لانچ کیا گیا ہے، جن کا پٹا کھولا گیا ہے اور جو زبان درازی کر رہے ہیں، ان کا مقصد کچھ اور نہیں ہے، صرف دو چیزوں سے دھیان بھٹکانا ہے۔

پہلی بات، 4 اکتوبر کا لانگ مارچ جو طے ہو گیا ہے، ان شاء اللہ۔ تو لوگوں کو اس سے ہٹانے کے لیے فضول چیزیں، فضول باتیں اور من گھڑت الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

دوسری اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ جو کرپشن کر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اسے چھپانے کے لیے لوگوں کا ذہن دوسری طرف ڈائیورٹ کیا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے جو سرکاری جہاز برطانیہ گیا تھا اور پوری میڈیا نے اس پر بات کرنا شروع کی تو اس سے دھیان بھٹکانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔

اور وفاقی حکومت کی جو پوزیشن ہے، وہ کسی بھی طریقے سے پرفارم نہیں کر پا رہے، اور ان کو لانے والے یہ جان چکے ہیں اور مان چکے ہیں کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے کہ وہ انکو وفاق پر مسلط کرچکے ہیں۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

30/09/2026

2022 میں جب رجیم چینج آپریشن ہوا اور عمران خان صاحب کی حکومت گرائی گئی، اُس وقت پاکستان کی جی ڈی پی 6.1 فیصد سے گرو کر رہی تھی۔ آج جی ڈی پی گروتھ ان چار سالوں کی اوسط 2.3 فیصد ہے۔ مطلب پاکستان کی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہماری جی ڈی پی گروتھ ان چار سالوں میں آئی ہے۔

جو فی کس آمدنی (Per Capita Income) عمران خان صاحب کے دور میں 1,700 ڈالر تھی، چار پانچ سال سے مکمل یہ کہتے تھے کہ ہمیں 30 فیصد بھی سپورٹ ملا تو ہم انقلاب میں آئیں گے۔ آج ان کو اس طرح سپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ان کے لیے گولی بھی چلائی جا رہی ہے اور گالی بھی دی جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان کی جو 1,700 ڈالر فی کس آمدنی تھی، آج 1,300 ڈالر تک گر چکی ہے۔

افغانستان، جو ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور مسلسل چار دہائیوں سے جنگ کی حالت میں ہے، وہ 4.3 فیصد سے گرو کر رہا ہے۔ ان کی جی ڈی پی گروتھ 4.3 فیصد ہے۔ پاکستان کی اوورآل گروتھ تو یہ کہتے ہیں کہ 3.7 فیصد ہے، لیکن جو آزاد ذرائع ہیں، وہ اوورآل 3 فیصد کا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ جو موجودہ حکومت مسلط کی گئی ہے، ان چار پانچ سالوں میں یہ 2.3 فیصد پر گرو کر رہے ہیں۔

30/09/2026

ہمارا جو اندرونی اور بیرونی قرضہ تھا، وہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا۔ پاکستان کا ان پانچ سالوں میں وہ 99.5 ٹریلین تک پہنچ چکا ہے، جو ابھی 100 ٹریلین کراس کرے گا۔ پاکستان کی ٹوٹل جی ڈی پی ایک لاکھ 24 ہزار ارب روپے ہے، اور ہمارا قرضہ یہاں پر آپ ایک لاکھ ارب کراس کر چکا ہے۔ تقریباً ابھی جو نئی رپورٹس آئیں گی تو ٹوٹل جی ڈی پی اور آپ کا اندرونی اور بیرونی قرضہ تقریباً برابر آ رہا ہے۔

اور جس دن برابر آئے گا تو آپ اپنے تمام جتنے بھی یہاں پر وسائل ہیں اور جتنے بھی آپ کے اثاثے ہیں، وہ سب گروی رکھیں گے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

30/09/2026

جن مسخروں کو کارٹون نیٹ ورک کی طرح میڈیا پر بٹھا کر چلایا جاتا ہے، یہ ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں؟ کیا قوم کو یہ بتانا ہے انہوں نے کہ ہم نے جو غلطی کی ہے، جو ملک کا بیڑا غرق کیا ہے، جو ملک کا قرضہ ایک لاکھ ارب روپے تک پہنچا دیا ہے، یہ غلطی ہم بار بار کریں گے، لیکن آپ لوگوں نے نکلنا نہیں ہے، آپ لوگوں نے آواز نہیں اٹھانی۔

ہم نے ہر نوجوان کو بے روزگار رکھنا ہے، لیکن کسی نے آواز نہیں اٹھانی۔ ہم نے پاکستان کے عوام کو، جو ابھی 44.5 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، اس کو 70 فیصد تک پہنچانا ہے، لیکن کسی نے آواز نہیں اٹھانی۔

ہم نے 11، 11 ارب روپے کے جہاز اپنے لاڈلوں کو لینے دینے ہیں، لیکن کسی نے آواز نہیں اٹھانی۔ ہم نے یہاں پر ظلم، جبر اور فسطائیت کرنی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنوں کو گرفتار کر کے، اغوا کر کے وہاں پر آئسولیشن میں رکھنا ہے، ان سے ڈاکٹروں کو ملنے نہیں دینا، ان کی دوائی یا علاج کا بندوبست نہیں کروانا، لیکن کسی نے بولنا نہیں ہے۔

عمران خان صاحب، جو 8 فروری 2024 کو الیکشن جیت چکے ہیں، ان کو جیل میں رکھنا ہے، لیکن کسی نے بولنا نہیں ہے۔ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی صاحبہ کو جیل میں رکھنا ہے، لیکن کسی نے بولنا نہیں ہے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہییل خان آفریدی

30/09/2026

سب سے پہلے ہمارا جو غریب طبقہ ہے، جو غربت کی لکیر سے نیچے لوگ ہیں، وہ 44.5 فیصد ہیں۔ مطلب آپ کے پاکستان کے تقریباً 12 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، جو دو وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے۔

اور دوسری طرف 11، 11 ارب روپے کے جہاز خریدے جا رہے ہیں، اور ابھی 28، 28 کروڑ کی وہ مرسیڈیز گاڑیاں، جن کا انٹیریئر پرپل ہو، یہ بھی ڈیسائیڈ کیا ہوتا ہے کہ مطلب جن کا انٹیریئر پرپل ہو، وہ منگوائی جا رہی ہیں۔

ایک طرف دو وقت کا کھانا ہمارے غریب عوام کو نہیں ملتا، دوسری طرف ان کی یہ شاہ خرچیاں ہیں۔ ہمارے جو ابھی ایکسپورٹس ہیں، وہ 30 بلین ڈالرز ہیں، امپورٹس 70 بلین ڈالرز ہیں، مطلب 40 ارب ڈالر آپ کا تجارتی خسارہ ہے۔

جب نیشنل اکنامک کونسل میں میں نے یہ سوال ان سے کیا تو مجھے کہتے ہیں کہ ریمیٹنسز تو آ رہے ہیں۔ مطلب یہ ریمیٹنسز کے لیے بیٹھے ہیں، ان کے پاس ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے کوئی پالیسی ہے ہی نہیں۔ بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

آپ کے 28 لاکھ پروفیشنل نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔ برین ڈرین ہو چکا ہے، لیکن ان کے بقول تو یہ برین ایکسپورٹ ہے کہ ہم قیمتی لوگ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ تو جن کو یہ علم نہیں ہو کہ یہ برین ڈرین ہوتا ہے یا برین ایکسپورٹ کرنا ہوتا ہے، تو وہ آپ کا ملک ابھی اس وقت سنبھال رہے ہیں۔

بجلی بھی مہنگی، پٹرول اور ڈیزل بھی مہنگا، غربت بھی بہت زیادہ، روزگار کے مواقع بھی نہیں۔ جن لوگوں نے رجیم چینج کرکے چوروں کا ٹولہ مسلط کیا انہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں کیا حاصل کیا۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

30/09/2026

لوگ بولیں گے ابھی جو 4 اکتوبر ہے، اس دفعہ نکلیں گے اور اتنی تعداد میں، ان شاء اللہ تعالیٰ، نکلیں گے کہ کسی کی سوچ بھی نہیں ہوگی۔

ایک میں جانتا ہوں، جس طرح لوگ نکلیں گے۔ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ عوام کی نبض جانتی ہے۔ ان کو پتہ ہے کہ اس دفعہ لوگوں نے کتنی تعداد میں نکلنا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں 4 اکتوبر کو لکھا جائے گا۔ 27 ستمبر کو بھی ان کو پتہ تھا، اسی لیے وہ اس لیول کے کنٹینرز لگا رہے تھے اور اس لیول کی سیکیورٹی دے رہے تھے۔ لیکن 4 اکتوبر کو، ان شاء اللہ تعالیٰ، 27 ستمبر سے بھی زیادہ لوگ ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی

30/09/2026

کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی، ملک کے حالات زبردستی خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو پبلک کا رسپانس آئے گا، اور پھر کسی کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ خیبرپختونخوا واحد پاکستان کا صوبہ ہے جہاں پر عوامی مینڈیٹ سے منتخب شدہ حکومت آئی ہے۔ کسی کے بندوبست یا سازشوں پر نہیں آئی، اپنے زورِ بازو سے، عوام کی طاقت سے آئی ہے۔

باقی پورے پاکستان میں کسی بھی صوبے، ریجن یا وفاق میں عوامی مینڈیٹ کی حکومت نہیں ہے۔ یہاں پر کسی غلطی کا سوچنا بھی نہیں، کیونکہ عوام بھرپور رسپانس کریں گے، اور عوام جس طرح 8 فروری کو اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے تھے، اسی طرح اپنی حکومت کی بھی حفاظت کریں گے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

30/09/2026

یہ جو کارٹون نیٹ ورک، یہ جوکرز اور مسخرے آپ لوگ ٹی وی پر بٹھا رہے ہیں، یہ بہت غلط باتیں کر رہے ہیں۔ یہ پوری پاکستانی قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ لوگ کیڑے مکوڑے ہیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون جیتا ہے، کون مرتا ہے، جی ڈی پی کہاں گرتی ہے، انفلیشن کتنی بڑھتی ہے یا بے روزگاری کتنی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم پھر بھی اس منصب پر موجود رہیں گے۔

لیکن ہمارے پیچھے کون ہے؟ ہماری پشت پر اسٹیبلشمنٹ ہے۔ یہ آپ کے بل بوتے پر بدمعاشی کر رہے ہیں، آپ کے بل بوتے پر غلط الزامات لگا رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کی عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ یہ جو مسخرے، یہ کارٹون نیٹ ورک، جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں، اس سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔ یہ پاکستان کو توڑنے اور خدانخواستہ ملک میں نفرتیں بڑھانے کا سبب بنے گا۔

ان کو لگام ڈالیں، ان کا پٹا باندھ کر رکھیں، اسے کھولنے کی اجازت نہ دیں۔ کیونکہ اگر آپ نے ان کا پٹا کھول دیا تو پاکستانی عوام بھی زبان کھولے گی۔ پھر یہ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے، بلکہ جن کے بل بوتے پر یہ اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں، عوام ان سے سوال کرے گی، اور پھر صورتحال بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ان کو پٹا بھی ڈالیں اور ان کی زبان کو لگام بھی دیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی

30/09/2026

ان کی باتوں کے جواب میں، میں پوری پاکستانی قوم اور تمام اداروں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پی ایم ایل نون پاکستان میں انتشار پھیلانے کی سازش کر رہی ہے۔ ہم پُرامن تھے، ہم پُرامن ہیں اور پُرامن رہیں گے۔ چار اکتوبر کے حوالے سے آج میں نے اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور تنظیمی دوستوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم نے نہایت پُرامن انداز میں آنا ہے اور صرف دو ہاتھوں اور دو پاؤں کے ساتھ اس لانگ مارچ میں شرکت کرنی ہے۔

کوئی بھی شخص جس کے ہاتھ میں ایسی کوئی چیز ہو جو نقصان پہنچا سکتی ہو یا انتشار پھیلا سکتی ہو، آپ نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنا ہے، کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں ہوگا۔ وہ نون لیگ کا ہوگا یا ان لوگوں کا ہوگا جو پی ایم ایل نون کو لے کر آئے ہیں۔ لہٰذا ہم نے ایسے لوگوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنا ہے اور کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینی۔

جو لوگ ابھی مجھے سن رہے ہیں، انہیں ایک دفعہ پھر واضح پیغام دیتا ہوں کہ پی ایم ایل نون کا ارادہ ہے کہ اپنے بندوں یا اپنے لائے ہوئے لوگوں کو ہماری صفوں میں شامل کرکے انتشار پھیلایا جائے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم پُرامن ہیں اور پُرامن رہیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔ یہ لانگ مارچ ہر صورت ان شاء اللہ تعالیٰ ہوگا اور پُرامن ہوگا۔

لیکن اگر کوئی دوسرا 9 مئی کروانے کی سازش کی گئی تو اس دفعہ، ان شاء اللہ تعالیٰ، ہم مکمل طور پر تیار ہوں گے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

30/09/2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ضلع خیبر میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر ردعمل

ضلع خیبر میں پولیس حراست کے دوران دو افراد کو قتل کیا گیا، جبکہ ہمارا ایک ایس ایچ او بھی شہید ہوا۔ یہ کنفرم نہیں تھا کہ پولیس حراست میں مارے گئے دونوں افراد نے ایس ایچ او کو شہید کیا ہے۔

ان میں سے ایک لڑکا گرفتار ہوا تھا جس کے بارے میں دعویٰ تھا کہ اس نے ایس ایچ او کو شہید کیا، جبکہ دوسرا اس کے پیچھے گیا تھا اور اسے بھی بٹھا دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈی پی او کی غلطی تھی کہ وہ اپنے اسٹاف کو روک نہیں پایا، بہرحال اس واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جس کی بھی غلطی ثابت ہوئی، ان شاء اللہ تعالیٰ قانون کے مطابق ان سب کو سزا دی جائے گی۔

Address

Peshawar

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chief Minister KP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share