29/05/2026
Notification: Summer Vacations & Summer Camp
Provincial Coordination Committee (PCC), Education Monitoring Authority Employees, Khyber Pakhtunkhwa
29/05/2026
Notification: Summer Vacations & Summer Camp
29/05/2026
Welcome Sir to the EMA Family!
06/05/2026
To all the EMA staff who are firmly standing with the unity. God bless you. Stay strong, stay united. Nobody can break us Inshallah.
تیرہ سال۔۔۔!
یہ محض ایک عدد نہیں، ایک پوری دہائی کی ریاضت ہے، جو خیبر پختونخوا کے سنگلاخ چٹیلی و برفیلی راستوں سے لے کر دور افتادہ سکولوں کی دہلیز تک پھیلی ہوئی ہے۔ بطور استاد، میں اعتراف کرتا ہوں کہ ہم اساتذہ اور مانیٹرنگ اتھارٹی کا رشتہ ناچاقی کا شاخسانہ رہا ہے۔ کبھی کبھار ان کا تلخ لہجہ، اپنی حدود سے تجاوز اور وہ "حاکمانہ" تیور جن سے ہمارے اساتذہ اکثر نالاں رہے، اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔ مگر آج جب میں اپنی پیشہ ورانہ انا کے حصار سے باہر نکل کر دیکھتا ہوں، تو مجھے اس "سخت گیر پہرے دار" کے پیچھے ایک سہما ہوا انسان نظر آتا ہے، جس کی حقیقتیں دیگر تمام حقائق سے برتر ہیں، اور وہ حقیقت یہ ہیں کہ تیرہ سالہ ریاضت و جدوجہد اور اپنے فرائض منصبی کو تندہی سے ادا کرنے کے بعد بھی ان کا اپنا گھر آج تک مٹی کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔
اس حقیقت سے کون پہلو تہی کر سکتا ہے کہ ان تیرہ سالوں میں تعلیمی جمود کے برفیلے تودے اگر کسی نے پگھلائے ہیں، تو وہ یہی مانیٹرنگ اتھارٹی ہے۔ انہوں نے نظام کو "نظم" سے آگے بڑھ کر "جمالیاتی غزل" بنایا، سکھایا، مگر ریاست نے ان کی اپنی زندگی کو "نثر" بنا کر چھوڑ دیا۔ دوسروں کی حاضری کا حساب رکھنے والے ان ہاتھوں میں تیرہ سال بعد بھی اپنے حق کا کوئی "سروس رولز" نہیں۔ دوسروں کے وقت کی مانیٹرنگ کرنے والوں کی اپنی زندگی کا سورج ڈھلنے کو ہے، مگر ان کے نصیب میں نہ پروموشن کا سویرا ہے، نہ پنشن کی چھاؤں۔
ہنگو کی مٹی نے جب سیف اللہ خان کو اپنے اندر سمویا، تو دراصل اس نے ایک انسان کو نہیں بلکہ ایک "نظام کی بے حسی" کو دفن کیا۔ تیرہ سالہ وفاداری کا صلہ اگر یہ ہے کہ مرنے والے کے کفن کے لیے ساتھیوں کو دستِ سوال دراز کرنا پڑے، تو سمجھ لیجیے کہ ریاست اب "ماں" نہیں بلکہ ایک "بے رحم ساہوکار" بن چکی ہے جو صرف وصولی جانتی ہے، ادائیگی نہیں۔
بعد اس کے اپنے جائز حقوق کیلئے مانیٹرنگ آتھارٹی کے نمائندوں کی طرف سے ایک منظم مگر دھیما احتجاج شروع ہوا، حق مانگنے والے انہی ہاتھوں میں آدھی رات کو شوکاز اور برخاستگی کے پروانے تھمانا شروع ہوئے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ انتظامیہ کے پاس دلیل ختم ہو چکی ہے۔ یہ "شوکاز نوٹسز" ان ملازمین کی توہین نہیں، بلکہ اس قانون کی تذلیل ہے جو کہتا ہے کہ ہر مزدور اپنی اجرت اور تحفظ کا حقدار ہے۔ یاد رکھیے! جس قلم سے آپ دوسروں کا مستقبل مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہی قلم کل تاریخ کے کٹہرے میں آپ کے خلاف کل گواہی دے گا۔
ہم اساتذہ ہیں، ہم نے ان کی سختیاں جھیلی ہیں، مگر ان کی "محرومی" کا تماشائی نہیں بن سکتے۔ کہ یہ چند سو افراد کا نہیں بلکہ سیکنڑوں ہزاروں گھرانوں کا نوحہ ہیں، اور اگر آج ان ہزاروں خاندانوں کے مستقبل سے یونہی کھلواڑ ہوتا رہا، تو کل کو یہ مانیٹرنگ نظام صرف کاغذوں میں زندہ رہے گا، روح اس سے رخصت ہو چکی ہوگی۔
اے ایوانوں میں بیٹھے منصفوں! یاد رکھو کہ "مجبور انسانوں سے مضبوط نظام نہیں بنتے"۔ ان کے مطالبات خیرات نہیں، ان کا لہو پسینہ ہیں۔ انہیں سروس سٹرکچر دیجیے، انہیں تحفظ دیجیے، اس سے پہلے کہ ان کی آہیں تمہارے بنائے ہوئے اس پورے تعلیمی ڈھانچے کو ہی بھسم کر دیں۔
انصاف میں تاخیر دراصل ایک خاموش قتل ہے، اور ہم اس قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے۔
والسلام۔
عبدالواحد سبجیکٹ سپیشلسٹ بنوں
ہم، مانیٹرنگ سٹاف، ملازمین کی ان تمام تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے موقف کی حمایت کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا
#یکم مئی یومِ مزدور (لیبر ڈے)
لوگوں نے ہمیں ایک عام پاکستانی سمجھ کر رشوت ہماری جیبوں میں ڈالنے کی کوشش کی، مگر ہم نے وہ رقم نکال کر واپس کر دی، کیونکہ ہمارا مقصد صرف اپنی ذات نہیں بلکہ اس ملک کو بہتر بنانا تھا۔
سرکاری ملازمین نے ہمارے ساتھ جھگڑے کئے، ہمیں برا بھلا کہا، ہماری تذلیل کی، مگر ہم خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتے رہے، کیونکہ ہم نے تو اس ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔
ہمارے کئی ساتھی دورانِ ڈیوٹی شہید ہوئے، کچھ ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئے، مگر حکومت نے ان کے خاندانوں تک کا حال پوچھنا بھی ضروری نہ سمجھا۔ اس کے باوجود ہم خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے، کیونکہ ہم نے تو اس ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔
جب اعلیٰ حکام نے ضروری سہولیات اور وسائل فراہم کرنے سے انکار کیا تو ہم نے اپنی گاڑیاں استعمال کیں، اپنے آلات خریدے، اپنی جیب سے گاڑیوں میں تیل ڈلوایا، اور سالہا سال تک اپنے فرائض نبھاتے رہے، کیونکہ ہم نے تو اس ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔
ہم ایک مخصوص محکمہ کے لئے بھرتی ہوئے تھے، مگر ہمارے کندھوں پر پورے صوبے کے تمام محکموں کی مانیٹرنگ کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ ہم نے بغیر کسی سوال اور شکایت کے یہ بوجھ بھی اٹھایا، کیونکہ ہم نے تو اس ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔
ہمارے ساتھ بھرتی ہونے والے دوسرے محکموں کے ملازمین دو دو بار ترقی پا کر آج ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں:
“کہاں رہ گئے؟ کیا دیا تمہیں اس ایمانداری نے؟”
اور ہم خاموشی سے سر جھکا کر آگے بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ ہم نے تو اس ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔
پھر یوں ہوا کہ…
ہمارے کام کی وجہ سے سکولوں اور دوسرے اداروں میں بہتری آئی، نظام بہتر ہوا، اور اعلیٰ افسران نے ہماری کارکردگی کی تعریفیں بھی کیں۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ شہید ساتھیوں کے ساتھ ساتھ زندہ ملازمین کی اولاد کی آنکھوں میں بھی سوال دکھائی دیتے ہیں کہ:
“ہماری قربانیوں کے بدلے ہمیں کیا ملا؟”
جب آئینے میں خود کو دیکھتے ہیں تو چہرے پر ابھرتی عمر کی لکیریں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ:
“قوم کے ڈوبتے اداروں کا بوجھ تو اٹھا لیا…
مگر اب اپنی بڑھاپے کی زندگی کا سہارا کون بنے گا؟”
یہ صرف چند ملازمین کی کہانی نہیں، بلکہ اُن تمام خاموش کرداروں کی داستان ہے جو اپنی جوانیاں، اپنی صحت، اپنے وسائل، اور کبھی کبھی اپنی جان تک اس امید پر قربان کر دیتے ہیں کہ شاید ایک دن یہ ملک واقعی بہتر ہو جائے۔
مگر اکثر ہوتا یوں ہے کہ ملک سنبھالتے سنبھالتے ان کی اپنی جوانی برباد ہو جاتی ہے، اور بڑھاپا بے سہارا رہ جاتا ہے۔
از طرف:
ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا ایک بہادر مذدور
جو ملک کے لئے ہر سختی برداشت کرنے کے بعد آج اپنے ہی حقوق کے حصول کے لئے بے بسی سے کھڑا ہے۔
| Monday | 09:00 - 16:00 |
| Tuesday | 08:30 - 16:00 |
| Wednesday | 09:00 - 16:00 |
| Thursday | 08:30 - 16:00 |
| Friday | 08:30 - 16:00 |